وزیر اعظم نریندر مودی نے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی فائدہ کے لئے مخالفت کو ہوا دینے والوں کی وجہ سے ملک نے پاکستان کی کرتوتوں کو دنیا کے سامنے لانے کا موقع گنوا دیا۔مودی نے اتوار کو یہاں رام لیلا میدان میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی کی شہریت چھیننے والا نہیں بلکہ شہریت دینے والا قانون ہے۔ اس قانون سے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی بنیاد پر متاثرہ اور ستائے ہوئے لوگوں کو ہندستان کی شہریت دیتا اور انہیں احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ملتا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کام کرکے لوگوں کو تشدد کے لئے بھڑکایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قانون سے دنیا کو پتہ چلتا کہ پاکستان میں کیسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، وہاں انسانی حقوق کی کیا صورتحال ہے اور اقلیتوں پر کس طرح کے مظالم ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر اس کی کرتوتوں کو دنیا کے سامنے لانے کا ملک کو اس قانون سے موقع مل رہا تھا لیکن کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی ووٹ بینک کی سیاست کی وجہ سے ملک نے پاکستان کی کرتوت دنیا کے سامنے لانے کا موقع گنوا دیا ہے۔
وزیراعظم مودی نے کہاکہ اس قانون سے کئی لوگوں کی امید پوری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ اس قانون سے کتنے خوش ہیں اس سلسلہ میں انہوں نے دہلی کے مجنو ٹیلہ علاقہ کی ایک مثال دی اور کہاکہ دو ہفتہ پہلے وہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی اور اس کے والدین نے اس کا نام ’ناگریکتا‘ رکھ دیا۔ مخالفت کرنے والوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس بیٹی کے ماں باپ کی زندگی آسان ہوتی ہے اور ان کا مسئلہ حل ہورہا ہے تو اس میں کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک سے مذہبی بنیاد پر ستائے گئے لوگوں کو ہندستان آنے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ انہیں مجبوری میں اپنا گھر چھوڑ کر آنا پڑتا ہے، اپنی بہوبیٹیوں کی عزت کے لئے ہندستان کا رخ کرنا پڑتا ہے تو اس پر کسی کو دقت نہیں ہونی چاہئے۔
وزیراعظم نے کہاکہ دانشوروں کو سمجھ آنا چاہئے کہ کوئی بھی پناہ گزین اپنے درد کی وجہ سے ہندستان کی سرحد میں پہنچتا ہے تو کہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی بچانے کے لئے آیا ہے۔ وہ کچھ چھپاتا نہیں ہے اور کہتا ہے کہ مجبور ہوکر ہندستان آیا ہوں۔ درانداز کبھی بھی اس طرح کی وضاحت کے ساتھ نہیں آتا۔وہ چھپتا ہے اور اپنی شناخت چھپانے کی مسلسل کوشش کرتا ہے لیکن پناہ گزیں اپنی پہچا ن کبھی نہیں چھپاتا ہے۔مودی نے کہاکہ پاکستان کی طرف انہو ں نے خود دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور جب اپنی پہلی مدت کار کے دوران وہ ملک کے وزیراعظم کے طورپر پاکستان گئے تھے لیکن بدلے میں پاکستان نے ملک کو زخم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر دہشت گردانہ حملے کرائے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here