نکسلیوں سے بات چیت کی پہل کرے مرکزی حکومت

Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ 

نکسلیوں کے مسائل مرکز کی پچھلی کئی سرکاروں کے لئے پریشانی کا سبب رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنے دس سالہ دور میں ان مسائل سے نمٹنے کے لئے کئی اعلیٰ سطحی نشستیں کیں اور نکسل متأثرہ ریاستوں کے وزراء اعلیٰ سے بات چیت کرکے اس کا حل تلاش کرنے کی کوششیں کیں، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ یو پی اے سرکار میں کئی بڑے نکسلی حملے ہوئے، جن میں سیکورٹی فورس کے سینکڑوں جوان مارے گئے۔ گزشتہ سال بستر ضلع کی دربھا گھاٹی میں ہوئے ایک نکسلی حملے میں کانگریس کے کئی سینئر لیڈر مارے گئے، لیکن منموہن سرکار نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔

p-4مرکزی مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پچھلے دنوں کہا کہ این ڈی اے حکومت نکسلواد کے مسائل کا پُر امن حل چاہتی ہے۔ راجناتھ سنگھ کے مطابق، نکسلواد اندرونی سیکورٹی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ لہٰذا نکسل متأثرہ ریاستوں میں ترقیاتی کام کو بڑھا کر اس مسئلے کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ترقی سے نکسلواد کے مسائل حل ہوں گے، ایسی دلیل دینے والے لیڈروں اور نکسل شاہوں کی آج کمی نہیں ہے۔ دراصل نکسلواد کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ یہی نام نہاد ترقی ہے جس نے دلت اور آدیواسیوں کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا ہے۔ آخر یہ ترقی ہے کیا اور اس کا ماڈل کیا ہے؟ کیا زمین میں دبے خزانوں کو نکالنا، جنگلوں کو ختم کرنا، پہاڑوں کو ڈائنامیٹ لگا کر اڑانا، آدیواسیوں کی زمین پر کارخانے لگا کر انہیں یومیہ مزدور بنا دینا ہی ترقی ہے؟اگر سرمایا داروں کی بھلائی کے لئے ترقی کا یہ راستہ ہی ترقی ہے تو یہ نقصان دہ ہے ،یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے، لیکن افسوس کہ مرکز اور ریاست کی سرکاروں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔
60 19کی دہائی میں جب مغربی بنگال کے نکسلوادی کے ذریعہ زمین اصلاحات اور استحصال کے خلاف تحریک شروع ہوئی تھی تو اس کے اثرات کو اس وقت بھی بہت سے لوگ کم کرکے اندازہ کر رہے تھے۔ ان کی یہ سوچ غلط ثابت ہوئی، کیونکہ نکسلواد تحریک کی وجہ سے ہی کئی ریاستوں میں زمینی اصلاح کی سمت میں با معنی پہل ہوئی اور یہ تحریک مغربی بنگال سے نکل کر بہار اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں پھیل گئی۔
نکسلو ادی تحریک کے وقت ملک میں نئی اقتصادی پالیسی نافذ نہیں ہوئی تھی۔ اس تحریک کا ہدف صرف زمین کی مساوی تقسیم اور ساہوکاروں سے کسانوں اور مزدوروں کی نجات تھی۔ اقتصادی اصلاحات کے بعد حالات بدلنے لگے اور بڑے زمینداروں کی جگہ کارپوریٹ نے لے لی۔ یہ بے حد خطرناک صورت حال بن کر ابھری، کیونکہ ان سرمایا داروں کی حمایت اب سرکار کرنے لگی ہے۔ پچھلے 15-16 برسوں میں پانی، جنگل اور زمین کی چوطرفہ لوٹ مچی اور اس لوٹ کو جائز بنانے میں مرکز اور ریاست کی سرکاروں نے بڑا کردار ادا کیا۔
اس وقت ملک میں پانی، جنگل اور زمین بچانے کی خاطر تقریباً ڈھائی ہزار تحریکیں چل رہی ہیں۔ ان تحریکوں کو کچلنے کے لئے سرکار پوری طرح آمادہ ہے۔ ایک جائزے کے مطابق، پچھلے 25 برسوں میں 30 سے 40 ہزار تحریک چلانے والوں کی موت پولیس کی گولیوں سے ہوئی۔ اس کے علاوہ تقریباً 3 لاکھ لوگوں کے اوپر تھانوں اور عدالتوں میں چھوٹے بڑے مقدمے درج ہیں۔ فلاحی مقصد کے نام پر تحویل اراضی کا معاملہ بڑھتا جارہا ہے۔ نتیجتاً ملک میں چھوٹے اور درمیانی کسان بے زمین ہو چکے ہیں۔ راقم الحروف پچھلے سال نکسل متاثرہ چھتیس گڑھ کے بستر علاقے میں تھا۔ یہ علاقہ پوری طرح جنگلوں سے بھرا ہے اور یہاں کی زمین میں قیمتی خزانے دبے پڑے ہیں۔ نکسل متأثرہ علاقہ ہونے کی وجہ سے ریاستی سرکار چاہ کر بھی اس علاقے میں کانکنی کا کام شروع نہیں کرپارہی ہے۔ اس لئے یہ پورا علاقہ ابھی تک محفوظ ہے۔ ان جنگلوں میں مختلف آدیواسی طبقے کے لاکھوں لوگ رہتے ہیں۔ یہ لوگ زندہ رہنے کے لئے کھیتی کرتے ہیں، جنگلوں سے مہوا، کروجی اور تیندو کے پتے اکٹھا کرتے ہیں۔ فضائی آلودگی کے لحاظ سے بھی بستر کا علاقہ ابھی تک محفوظ ہے، کیونکہ یہاں کوئی کار خانے نہیں ہیں۔ یہی بات مرکزی اور ریاستی سرکاروں کو پسند نہیں ہے۔ بستر علاقے کی جس زمین پر آدیواسی رہ رہے ہیں، وہاں خزانوں کا بڑا ذخیرہ ہے۔اگر اس علاقے سے آدیواسیوں کو ہٹا دیا جائے تو سال دو سال کے اندر یہاں درجنوں کارخانوں کی بنیاد رکھی جا ئے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اپنی ہریالی اور قدرتی حسن کے لئے مشہور یہ علاقہ دھول اور بڑے بڑے مشینوں کی آواز سے برباد ہو جائے گا۔ منموہن سنگھ کی سرکار کے وقت میں چھتیس گڑھ ، مہاراشٹر، بہار اور جھارکھنڈ جیسے نکسل متأثرہ ریاستوں میں کئی بڑے نکسلی حملے ہوئے، جن میں سیکورٹی فورس کے سینکڑوں جوانوں کی موت ہوئی۔ یو پی اے سرکار میں وزیر داخلہ رہے پی چدمبرم نے نکسلیوں سے نمٹنے کے لئے فوجی کارروائی کرنے کا سوچا تھا۔ لیکن فوج کے بڑے آفیسر ان کے اس منصوبے سے متفق نہیں ہوئے۔ لہٰذا وزیر داخلہ اپنے اس منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے نکسلواد کو ختم کرنے کے لئے جو منصوبہ بنایا تھا، اگر اسے عمل میں لایا جاتا تو یقین مانئے اس ملک میں چاروں طرف لاقانونیت کی صورت حال پیدا ہو جاتی ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نکسلواد کا مسئلہ انتہائی سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کا مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی ہونا چاہئے۔ لیکن نکسلواد پنپنے کی اصل وجہ کیا ہے، اسے آج تک سرکار نہیں سمجھ پائی ہے۔ سرکار کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ نکسلوادی تحریک میں شامل لوگ اسی ملک کے شہری ہیں۔ ان کا موازنہ لشکر طیبہ یا طالبانیوں سے نہیں کیا جا سکتاہے۔ ملک میں نکسل واد کو فروغ سرکار سے مایوسی اور غیر برابری سے ہوا ہے۔ اس غیر برابری کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ اگر سرکار اس سمت میں سنجیدہ ہو تو پچھلے دنوں اقتدار میں آئی ریاستی سرکار کو چاہئے کہ وہ پچھلی یو پی اے سرکار کی ان پالیسیوں سے الگ ہٹ کر کام کرے، کیونکہ نکسلواد کے مسائل اقتصادی ترقی سے ختم نہیں ہوں گے ۔ اقتصادی ترقی کا سیدھا فائدہ سرمایاداروں کو ہوتا ہے اور اس سے استحصال اور عدم مساوات کو بڑھاوا ملتاہے۔ نکسلواد کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال سے نہیں ہوگا، اس لئے این ڈی اے سرکار کو چاہئے کہ وہ اقتصادی ترقی کی رٹ لگانا چھوڑ کر پُر امن بات چیت کی پہل کرے۔ سرکار اور نکسلیوں کے بیچ پہلے بھی بات چیت ہو چکی ہے، لیکن نکسلیوں کا الزام ہے کہ سرکار نے بات چیت کے بہانے ان کے لیڈروں کا قتل کرایا ہے۔ نکسلی لیڈروں کے ان الزاموں کو خارج بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے نکسلواد کے مسائل حل کرنے کے لئے جو خواہش جتائی ہے، یقینی طور سے وہ قابل ستائش ہے۔ مرکز ی سرکار کے لئے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ سینئر نکسلی لیڈروں سے صاف صاف بات چیت کرے اور ان کے ایک ایک مطالبے پر غور کرے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اسے ناک کی لڑائی نہ سمجھا جائے، بلکہ سرکار اور نکسلی لیڈروں کو حل کی طرف آگے بڑھنا چاہئے۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *