نا انصافی اور گھوٹالوں کا سال رہا 2012

Share Article

اشرف استھانوی 
بہار میں سال 2012 کے دوران اگلے لوک سبھا انتخاب میں وزیراعظم کے عہدہ کی امید واری کے سوال پر حکمراں این ڈی اے میں شامل جماعتوں: جنتا دل یو اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں زبردست اٹھا پٹخ اور اس کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی گجرات اسمبلی انتخاب سے مکمل کنارہ کشی، مودی کی ہیٹ ٹرک پر رسمی ردعمل کے اظہار اور حلف برداری تقریب میں شرکت سے گریز، قومی صحت منصوبہ کے تحت خواتین کو رحم مادر سے محروم کرنے کا معاملہ، پٹنہ میں ایک اسکولی طالبہ کی اجتماعی عصمت دری، ایک ماں اور اس کی دو بیٹیوں کا اجتماعی قتل، نسلی تشدد کو نیا موڑ دینے والے اور سینکڑوں افراد کے قتل کے ذمہ دار بر میشور مکھیا کے قتل، مہاتما گاندھی نیشنل روز گار گارنٹی ایکٹ یعنی منریگا میں اربوں روپے کے گھوٹالہ ، یوم بہار کے موقع پر بھی اقلیتوں او ران کے رہنمائوں کو نظر انداز کرنے ، اسکولی نصاب میں اردو اور فارسی کا گلا گھونٹنے ، مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے ساتھ ظلم اور نا انصافی روا رکھنے اور اساتدہ کے تقرر میں تعصب برتے جانے سے ناراض مسلمان اور کنٹریکٹ پر بحال اساتذہ کی طرف سے نتیش کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج اور اس سے حوصلہ پاکر اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل، کانگریس اور لوک جن شکتی پارٹی کی طرف سے پریورتن اور اقتدار میں واپسی کی مہم شروع کرنے جیسے واقعات چھائے رہے۔

احتجاج کی آگ کی آنچ حکومت تک بھی پہنچی، کیوں کہ اس قتل کے لیے حکومت اور انتظامیہ کی لا پروائی کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔ اس کے بعد پٹنہ کے راج ونشی نگر کے ایک فلیٹ میں ایک اسکولی طالبہ کی اجتماعی عصمت دری اور اس گھنائونی حرکت کا ایم ایم ایس بنا کر اسے عام کر دینے کے علاوہ ایک ماں اور اس کی دو بیٹیوں کے بہیمانہ قتل کے معاملے پر بھی کافی سیاست گرمائی ۔ ریاستی قانون سازیہ کے دوران ایوانوں میں اس معاملے پر کافی ہنگامہ ہوا اور اس معاملے میں حکمراں جماعت کے ایک رکن اسمبلی کے ملوث ہونے اور اسے بچانے کی کوشش کا حکومت پر الزام آیا۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار، جو پہلے بہار کے لیے خصوصی درجہ کا مطالبہ کرتے وقت یہ کہنے سے نہیں چوکتے تھے کہ بہار خصوصی درجہ پانے کی تمام شرطیں پوری کرتا ہے، مرکز کی طرف سے شرطوں کا آئینہ دکھائے جانے کے بعد سال 2012 میںاپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کیا کہ بہار اگر کچھ شرطیں نہیں بھی پوری کرتا ہے تو متعلقہ ضابطہ میں ترمیم کرکے اسے خصوصی درجہ عطا کیا جائے، کیوں کہ اس کے بغیر بہار کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے بہار کے ساتھ ساتھ دیگر پسماندہ ریاستوںکو بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر خصوصی درجہ دینے کا مقصد پسماندہ ریاستوں کو ترقی کے مین اسٹریم میں لانا اور علاقائی عدم توازن اور نابرابری کا خاتمہ کرکے ملک کی مجموعی اور ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانا ہے تو بہار اور اس جیسی دوسری پسماندہ ریاستوں کو خصوصی درجہ دینا ہی ہوگا۔ نتیش کا یہ مطالبہ اور موقف بعد میں ان کی ادھیکار یاترا اور ادھیکار ریلی کا سبب بنا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی درجہ پانا بہار کا حق ہے او ریہ حق ہم مرکز سے حاصل کرکے رہیں گے۔ مرکز ہمیں اپنے حق سے اور ترقی یافتہ ریاستوں کی فہرست میں شامل ہونے سے نہیں روک سکتا ہے۔ ادھیکار یاترا کے دوران انہوں نے بہار کے حق کی بات کرتے ہوئے عوام سے اپنے حق کے لیے بیدار او رمتحد ہونے کی اپیل کی اور 4 نومبر کو پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں منعقد ہونے والی ادھیکار ریلی کو کامیاب بنا کر مرکز پر دبائو بنانے کی حکمت عملی پر کام کیا۔یہ حکمت عملی پوری طرح کامیاب رہی اور یاترائوں کی سیاست میں یقین رکھنے والے نتیش نے پہلی بار ریلی کی سیاست میں بھی اپنی پختہ کاری کا ثبوت دیا۔ بہار کے لیے خصوصی درجہ کے مطالبہ پر زور ڈالنے کے لیے کی گئی ادھیکار ریلی حالانکہ لالو یادو کی غریب ریلی کا ریکارڈ توڑنے میں ناکام رہی، لیکن اپنے مقصد کے حصول میں کافی حد تک کامیاب رہی۔ اس دوران حق کے لیے آواز بلند کرنے کی نتیش کی اپیل اس وقت خود ان کے خلاف پڑ گئی، جب نتیش حکومت کے دوران کنٹریکٹ پر بحال اساتذہ نے مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ اور سہولیات کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے خلاف محاذ کھول دیا اور جگہ جگہ ان کی مخالفت ہونے لگی۔ کئی مقامات پر انہیں سیاہ جھنڈے دکھائے گئے اور بعض مقامات پر تو انہیں جوتے، چپل تک دکھائے گئے اور ان کے قافلہ پر حملہ تک ہوا۔ اس موقع پر نتیش کی بوکھلاہٹ اور جھنجھلاہٹ اور اس کے نتیجے میں دیے گئے منفی بیانات نے بھی ان کی ساکھ بگاڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس صورت حال سے حوصلہ پاکر اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل، کانگریس اور لوک جن شکتی پارٹی نے پریورتن اور اقتدار میں واپسی کی مہم چھیڑ دی، لیکن ادھیکار ریلی کی کامیابی اور اس کے بعد مطالبہ منظور نہ ہونے کی صورت میں مارچ میں دہلی کے رام لیلا میدان میں اسی نوعیت کی ریلی کا انعقاد کرکے مرکز کو چیلنج کرنے کی دھمکی نے اثر دکھایا اور پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آخری دن مرکزی وزیر مالیات پی چدمبرم نے بہار سے جنتا دل یو کے رکن پارلیمنٹ این کے سنگھ کے سوال کے جواب میں انہیں اور پورے ایوان کو اس بات کا یقین دلایا کہ ریاستوں کو خصوصی درجہ دینے سے متعلق شرطوں اور ضابطوں میں ترمیم کی جا سکتی ہے اور 14 واں مالیاتی کمیشن اس پر غور کرے گا۔ اسے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنی اور بہار کی آدھی جیت قرار دیا، کیوں کہ پہلی بار مرکز نے خصوصی درجہ سے متعلق شرطوں اور ضابطوں میں ترمیم سے اصولی اتفاق ظاہر کرتے ہوئے اس سمت میں قدم اٹھانے کی بات کہی تھی۔
سال2012 کے دوران سیاسی محاذ پر جو دوسرا سب سے بڑا معاملہ چھایا رہا وہ 2014 لوک سبھا انتخاب میں وزیر اعظم کے عہدہ کی امید واری سے متعلق تھا۔ اس سلسلہ میں نتیش حکومت کی طرف سے پہلا دھماکہ جون2012 میں اس وقت ہوا، جب بی جے پی کے بعض رہنمائوں کی طرف سے وزیر اعظم کا آئندہ امیدوار گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو بنائے جانے کے مطالبہ کے دوران ایک انگریزی جریدہ کو انٹر ویو دیتے ہوئے انہوں نے کسی سیکولر شبیہ والے اور ہر فرقہ اور طبقہ کے لیے یکساں طور پر قابل قبول لیڈر کو وزیر اعظم کا امید وار بنانے کی بات کہہ کر بالواسطہ طریقہ سے نریندر مودی کی امید واری کے امکان کو ہی خارج کر دیا۔ دوسری طرف جنتا دل یو سے تعلق رکھنے والے کچھ رہنمائوں نے انٹر ویو میں بتائی گئی شرطوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے خود نتیش کمار کو این ڈی اے کی طرف سے وزیر اعظم کا امید وار بنائے جانے کی وکالت شروع کردی۔ حالانکہ نتیش نے اپنے انٹر ویو میں یہ بات صاف کردی تھی کہ وزیر اعظم اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی کا ہی ہونا چاہیے، کیوں کہ ایسا نہ کرنے سے اتحاد اور حکومت دونوں کی پائیداری خطرے میں رہتی ہے۔ پھر بھی اس طرح کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد دونوں طرف سے لفظی جنگ شروع ہو گئی اور تلخی اس حد تک بڑھ گئی کہ اپوزیشن اور میڈیا کے بعض طبقے کی طرف سے اتحاد ٹوٹنے اور بہار میں بی جے پی اور جنتا دل یو میں طلاق ہونے کی بھی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ یہ اختلاف اس وقت اور گہرا گیا، جب صدر جمہوریہ کے انتخاب میں نتیش کے جنتا دل یونے بی جے پی سے الگ موقف اپناتے ہوئے کانگریس کے صدارتی امید وار پرنب مکھرجی کی حمایت کا فیصلہ کر لیا۔ حالانکہ نائب صدر کے انتخاب میں نتیش ایک بار پھر این ڈی اے کے ساتھ نظر آئے، لیکن تلخی برقرار رہی اور اس کا اثر مہنگائی کے خلاف بی جے پی کی ریلی اور ریاست کے لیے خصوصی درجہ کے مطالبہ پرہونے والی ادھیکار ریلی پر بھی صاف دکھائی دیا۔ پھر باری آئی گجرات اسمبلی انتخاب کی، تو نتیش نے اس بار خود کو اس معاملے سے بالکل الگ تھلگ رکھا اور گجرات کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کی بجائے پاکستان یاترا پر چلے گئے۔ انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر جنتا دل یو اور بی جے پی کارکنان کا مجوزہ درباربھی ٹکرائو کے پیش نظر ٹال دیا، لیکن اس سے ٹھیک پہلے بی جے پی کے ایک سنیئر رہنما او رنتیش حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی نے یہ کہہ کر ماحول کو ایک بار پھر گرما دیا کہ نتیش کمار میں وزیر اعظم بننے کی پوری صلاحیت ہے۔ سال کے آخری حصہ میں گجرات اسمبلی انتخاب کا نتیجہ سامنے آیا اور حسب توقع مودی ہیٹ ٹرک لگانے میں کامیاب رہے تو بی جے پی اور سنگھ پریوار کی طرف سے اچانک پھر مودی کو وزیر اعظم کا امید وار بنانے کی وکالت شروع ہو گئی۔ اب باری تھی نتیش کمار کی، لیکن نتیش نے کہا کہ ابھی اس معاملے پر بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ وزیر اعظم کی امید واری کا فیصلہ تو این ڈی اے کی میٹنگ میں ہوگا۔ نتیش نے اس معاملے کو طول نہ دینے اور اس کی اہمیت کو بالکل کم کرتے ہوئے گجرات اسمبلی انتخاب کے نتائج اور مودی کی ہیٹ ٹرک پر بھی کوئی رد عمل ظاہر کرنے سے صاف انکار کر دیا اوراین ڈی اے کے دیگر رہنمائوں کے بر عکس مودی کی حلف برداری تقریب سے بھی خود کو الگ رکھا۔
بہار میں 2012 کے دوران صد سالہ یوم بہار تقریب کا بھی شایان شان انعقاد کیا گیا، لیکن نیا ئے کے ساتھ وکاس کا نعرہ دینے والی نتیش حکومت اس موقع پر اقلیتی رہنمائوں اور اقلیتی عوام دونوں کو نظر انداز کر گئی۔یوم بہار کو نتیش نے بہاریت کے جذبہ کو فروغ دینے کا ذریعہ بتاتے ہوئے اسے خوب خوب بڑھاوا دیا اور اس کا سیاسی استعمال بھی کیا۔ اپنے اسی جذبہ کے تحت وہ یوم بہار منانے کے لیے ممبئی بھی گئے۔ حالانکہ اس معاملے میں مہاراشٹر نو نرمان سینا کے ذریعہ انہیں چیلنج کیے جانے کے بعد تنا تنی بھی رہی، لیکن بعد میں نتیش کی ڈپلو میسی حاوی رہی او ریوم بہاربغیر کسی اختلاف اور احتجاج کے کامیابی کے ساتھ ممبئی میں بھی منایا گیا۔ صحت کے محاذ پر 2012 کے دوران دو معاملے بری طرح چھائے رہے۔ پہلا معاملہ پر اسرار دماغی بخار سے سینکڑوں بچوں کی ہلاکت سے متعلق تھا، جب کہ دوسرا معاملہ مرکز کے قومی صحت منصوبہ کے بہار میں غلط استعمال اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں خواتین کے رحم مادرنکال لیے جانے سے متعلق تھا۔ یہ معاملہ چونکہ مرکزی منصوبہ او رخواتین کی صحت سے متعلق تھا، اس لیے اس معاملے پر کافی سیاست گرمائی اور اپوزیشن نے معاملے کی سی بی آئی جانچ کا بھی مطالبہ کیا، لیکن یہ معاملہ پھر دب گیا، کیوں کہ اسی دوران ریاست میں درجنوں اجتماعی اور سینکڑوں قتل کے لیے ذمہ دار رنویر سینا کے سربراہ برمیشور مکھیا کو ان کے گھر کے قریب ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس معاملے پر پٹنہ اور رنویر سینا کے اثر والے بھوجپور، اورنگ آباد،گیا اور جہان آباد جیسے اضلاع میں پر تشدد احتجاج ہوا ۔ احتجاج کی آگ کی آنچ حکومت تک بھی پہنچی، کیوں کہ اس قتل کے لیے حکومت اور انتظامیہ کی لا پروائی کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔ اس کے بعد پٹنہ کے راج ونشی نگر کے ایک فلیٹ میں ایک اسکولی طالبہ کی اجتماعی عصمت دری اور اس گھنائونی حرکت کا ایم ایم ایس بنا کر اسے عام کر دینے کے علاوہ ایک ماں اور اس کی دو بیٹیوں کے بہیمانہ قتل کے معاملے پر بھی کافی سیاست گرمائی ۔ ریاستی قانون سازیہ کے دوران ایوانوں میں اس معاملے پر کافی ہنگامہ ہوا اور اس معاملے میں حکمراں جماعت کے ایک رکن اسمبلی کے ملوث ہونے اور اسے بچانے کی کوشش کا حکومت پر الزام آیا۔
جاتے ہوئے سال میں بہار کے سب سے بڑے آستھا کے تہوار چھٹھ کے موقع پر پٹنہ کے عدالت گھاٹ پر مچی بھگدڑ میں 18 افراد کی ہلاکت، جس میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی تھی، سب کو سوگوار بنا گیا۔ اس معاملے پر بھی جم کر سیاست ہونے کا اندیشہ تھا، لیکن ٹھیک اسی وقت ایک اور مرکزی منصوبہ مہاتما گاندھی نیشنل روز گار گارنٹی قانون منریگا میں اربوں روپے کے گھوٹالہ کے انکشاف نے سیاست کا رخ دوسری طرف موڑ دیا۔ بہار قانون سازیہ کا سرمائی اجلاس پوری طرح اسی معاملے پر اپوزیشن کے احتجاج کی نذر رہا۔ اپوزیشن نے قائد حزب اختلاف عبد الباری صدیقی کی قیادت میں راج بھون مارچ بھی کیا اور اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا، لیکن خصوصی درجہ کے مطالبہ پر ہوئی بہارکی آدھی جیت نے اس معاملے کی سنگینی پر پردہ ڈال دیا۔ جون 2011 میں ہوئی فاربس گنج پولس فائرنگ میں 5 بے قصور مسلمانوں کی ہلاکت کی جانچ رپورٹ 2012 کے آخر تک نہیں آئی، جب کہ اس کی رپورٹ 6 ماہ میں پیش ہونے والی تھی۔ مزے کی بات یہ رہی کہ سال ختم ہونے سے پہلے فاربس گنج کمیشن کی مدت کار میں مزید ایک سال کی توسیع کردی گئی۔ فاربس گنج فائرنگ رپورٹ تو نہیں آئی، مگر اس معاملہ کے ایک اہم ملزم اور بی جے پی ایم ایل سی اشوک اگروال پر قدرت کا عتاب اس طرح نازل ہوا کہ وہ اپنے ہی پٹرول پمپ کے ملازم کے قتل کے معاملے میں ماخوذ ہوئے۔ نتیش حکومت کی طرف سے تشکیل دیے گئے بھاگلپور فساد جانچ کمیشن کی رپورٹ 6 سال پورے ہونے کے بعد بھی نہیں آسکی۔ حالانکہ اس کمیشن کو بھی 6 ماہ کے اندر ہی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
اردو اور فارسی کے ساتھ حکومت کا متعصبانہ رویہ اس سال کے دوران بھی قائم رہا۔ مدارس کے اساتذہ اور ملازمین اور نا انصافی کا سلسلہ بھی حسب دستور جاری رہا اور اردو اساتذہ کے تقرر میں دانستہ رخنہ اندازی کرکے ہزاروں مسلم نوجوانوں کو ملازمت سے محروم رکھا گیا، جس کے خلاف مسلمانوں کا احتجاج مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کی صد سالہ تقریب کے دورن کھل کر سامنے آیا۔ یہ ایک سرکاری پروگرام تھا، مگر اس موقع پر مشہور اسلامی دانشور حضرت مولانا ولی رحمانی کی احتجاجی تقریر سے متاثر ہو کر جس طرح مسلم نوجوانوں نے کھل کر ناراضگی کا اظہار کیا اور نتیش کمار کو سیاہ جھنڈے دکھائے وہ گذشتہ 7 برسوں کے دوران پہلی بار دیکھنے میں آیا۔اردو کے ممتاز نقاد، پروفیسر وہاب اشرفی اور سنی مسلمانوں کے مرکز، ادارہ شرعیہ و جھارکھنڈ کے صدر اور ممتاز عالم دین مولانا جمال احمد قادری کے انتقال کا اثر بھی کافی دنوں تک اہل بہار پر رہا۔ مجموعی طور پر سال 2012 بہار کے عوام کے لیے ملا جلا رہا مگر مسلمانوں کے لیے کئی اعتبار سے مایوس کن ثابت ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *