نئی حکومت کو ہوشیار رہنا ہے

Share Article

میگھناد دیسائی
p-8جب ایک سابق برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈمیک میلن سے پوچھا گیا کہ ان کے نزدیک سب سے تشویشناک بات کیا ہے، تو ان کا برجستہ جوا ب تھا کہ’’ واقعات، پیارے بچے، واقعات‘‘۔نئی حکومت تو ابھی محض 4ہفتے پرانی ہے اور یہ اب خود تجربہ کر رہی ہے کہ اس کے اردگرد دنیا کیسی ہو سکتی ہے۔ گوپی ناتھ منڈے کا اچانک انتقال ہوا ہے،میگھوال کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ پھر سے شروع ہوا ہے ، پیاز کی قیمت میںاچانک بڑھوتری ہوئی ہے اور اب مشرق وسطیٰ میںپھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی پریشانیوں کے اثرات کا معاملہ ہے۔ نئی حکومت ٹھوس ایکشن کی بہت ہی بلند توقعات کے ساتھ منتخب ہوئی تھی۔ وزیر اعظم نے اس وقت سب کومتحیر کر دیا جب انھوں نے سارک ممالک کے تمام سربراہان کو مدعو کیا ۔ ان کی اس بات میں اور بھی زور پیدا ہوا جب انھوں نے اس کے ساتھ ہی 24×7اسٹائل کی حکومت کی بات کی، صرف کابینی عہدوں پر کھل کر لڑتے ہوئے اپنے رفقاء کے ذریعے نظم و ضبط کی پابندی کرائی اور ابھی حال میں اپنے بھوٹان دورہ کے دوران جومظاہرہ کیا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر جمہوریہ ہند کے خطبہ پر بحث کوسمیٹتے ہوئے وزیر اعظم کی تقریر بہت ٹھوس تھی۔ اس وقت یہاں ایک ایسا وزیر اعظم تھا جو کہ صرف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے ہی نہیں، بلکہ ملک سے بات کر رہا تھا۔
وہ بھی ایسے وقت جب توقعات اتنی اونچی ہوں کہ حکومت کا مسئلہ عوام کو یہ اطمینان دلاتا ہو کہ دنیا میں بہترین خواہش کے ساتھ بھی چیزوں کو پایہ تکمیل تک پہنچنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ افراط زر جلد نہیں، بلکہ آئندہ 6سے 9ماہ میں نیچے آئے گا۔ جمع خوروں کی ملامت ایک پرانا راہِ فرار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ویئر ہاؤسیز سے اناج کے دانوں کو ریلیز کرنے کے لیے حقیقی پالیسی پرعمل کرنا ہوگا، مقررہ وقت میں کم ہوتی ہوئی اشیاء کو درآمد کرنا ہوگا اور لمبے وقت سے چلے آرہے مسائل کے حل کے لیے سپلائی سے متعلق دشواریوں کودور کرنا ہوگا۔ چونکہ گزشتہ حکومت نے اپنے پیچھے سوکھی ہوئی زمین چھوڑی ہے، اس لیے بجٹ جو کہ نئی حکومت کا رخ تعین کرے گا، کو سخت ہونا ہوگا۔ رعایتیں تو درکنار، روٹین کے اخراجات کی بھی بہت گنجائش نہیں ہے۔ حکومت کو بلّیٹ کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور کنزیومرس کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت سے گزارنا پڑے گا۔ اگر یہ ابتداء ہی میں اس سے نہیں نمٹ پاتی ہے، تو یہ کبھی بھی پیش رفت سے باہر نکل نہیں پائے گی۔ پیٹرول استعمال کرنے والے ہرگز کسی بھی تشریح سے لائق غربا اور نیو مڈل کلاس نہیں ہیں۔ بہتری کے لیے دی جانے والی سبسڈی کا ہر ایک روپیہ جوکہ خسارہ (Deficit) میں جاکر جڑتا ہے، وہ افراط زر کو بڑھائے گا ہی۔ قیمتوں پر سبسڈیز افراطِ زر کا جواب نہیں، بلکہ اس کے برعکس ہے۔
مشرق وسطیٰ سے اصل خطرہ تیل کی قیمتوں میں بڑھوتری سے متعلق نہیں ہے۔ قدیم سلطنت عثمانیہ کے حدود میں شیعوں و سنیّوں کے درمیان بہت ہی سنگین اور لمبی سول وار ہو رہی ہے۔ 19ویں صد ی میں جنوبی ایشیا کے مسلمان استنبول میںخلیفہ کو روحانی پیشوا کے طورپر دیکھتے تھے۔مسلمانوں کے درمیا ن برطانیہ مخالف جذبات سلطان سے برطانیہ کی دشمنی کو لے کر برہمی پر مرکوز تھے۔ جب سلطنت عثمانیہ پہلی جنگ عظیم ہار گئی، تب اتحادیوں کے ذریعہ نئی حد بندیاں کھینچی گئیں، جو کہ اب پھر سے کھینچی جارہی ہیں۔شام، عراق، لبنان، اردن کے بجائے اب ہمارے پاس ایک نئے کردستان کے ساتھ علیحدہ شیعہ او رسنّی ممالک ہوں گے۔ یہ نئے ممالک پرانی حد بندیوں سے گزر جائیں گے۔ ایران اور عراق کا جنوبی نصف حصہ شیعہ یونین بن سکتا ہے۔اسی طرح شام بھی منقسم ہوگا، جس میں سے ایک حصہ اسد کے تحت ہوگا، تو بقیہ دوسرا اور عراق کا کچھ جز سنّی اسلام پسندوں کے ذریعہ کنٹرول کیا جائے گا۔ شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے گزشتہ تین برسوں سے یہ تنازع چل رہا ہے۔ اب یہ عراق میں بھی داخل ہو چکا ہے۔
اسلام پسند بنیادی طور پر مسلم اکثریتی ممالک کے دشمنان ہیں۔ یہ لوگ کسی بھی موجودہ جمہوری حتیٰ کہ مطلق العنان حکومتوں کو ہٹا کر بنیاد پرست حکومتیں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا اس وقت بھی ہوتا ہے، جب دونوں فریقین ایک ہی نسل کے ہوتے ہیں، جیسے سنّی یا شیعہ۔ علاوہ ازیں ہمارے نزدیک دو بڑے مکاتیب فکر کے درمیان 1300سالہ قدیم تنازع کے احیاء کا مسئلہ بھی ہے۔ پاکستان ان دونوں تنازعات میںالجھا ہوا ہے۔ وہاں طالبان حکومت سے لڑ رہے ہیں اور شیعہ آبادی کا قتل کر رہے ہیں۔
حکومت کواس بات سے ہوشیار رہنا چاہیے کہ آئندہ ہندوستانی فساددومسلم مکاتیب فکر کے درمیان بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کے ناقدین اس پر انتخابات کے دوران مسلم مخالف جذبات کو ابھارنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ناقدین جو کچھ بھی کہیں، انھیں تمام ہندوستانی زندگیوں کی حفاظت کرنی ہے اور اگر ایسا کوئی فساد بھڑک اٹھتا ہے، تو اسے پرزورانداز میں مداخلت کرنا ہے اور یہ دکھانا ہے کہ یہ حکومت تمام ہندوستانیوںکے لیے ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *