گزشتہ دو دہائیوں سے چل رہا جنگ بندی سمجھوتہ اب آخری مرحلے میں ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اب دونوں فریق این ایس سی این (آئی ایم ) اور مرکزی سرکار ایک د وسرے کو بہتر طریقے سے سمجھ پارہے ہیں۔ ہندوستان میں ریاستوں کا ڈھانچہ حکومتی نظام کا ڈھانچہ ہے، جس میں ایک جمہوریہ کے تحت سبھی ریاستوں کی ایسوسی ایٹ حکمرانی برقرار ہے۔ پھر بھی اس سے آگے جاکر سرکار نے یہ قبول کیا ہے کہ آئین کے موجودہ ڈھانچے میں مزید نظم کرکے ناگائوں کی انوکھی شناخت کو ایک الگ منظوری دی جائے گی۔
ابھی حال ہی میں سمجھوتے کی بات چیت میں شامل آر این روی نے 6 ناگا تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جلد سے جلد ناگا شناخت کو لے کر آپسی رضامندی بنا لیں تاکہ ناگا سمجھوتے کو آخری شکل دی جاسکے۔ ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ ٹی آر جولیانگ نے حال ہی میں ایک اخبار کو دیئے انٹرویو میں کہا کہ مرکزی سرکار اور این ایس سی این (آئی ایم ) کے درمیان چل رہی بات چیت جلد ہی نتیجے پر پہنچ جائے گی۔اگست 2015 کو ہوئے فریم ورک اگریمنٹ نے اس بات چیت کو آخری شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ جولیانگ کو امید ہے کہ آگے این ایس سی این (کے ) کوبھی اس بات چیت میںشامل کیا جاسکتاہے۔ کیونکہ کھاپلانگ گروپ کے علاوہ باقی لیڈروں کی 6 زمینی سطح کی تنظیمیں اس بات چیت میں شامل ہو چکی ہیں۔
دوسری طرف منی پور میں ریاست کے اتحاد اور سرحد کو لے کر سبھی سیاسی پارٹیوں کی ایک میٹنگ ہوئی تھی ۔اس میٹنگ میں ریاست کی بی جے پی سرکار میں شامل پارٹی این پی ایف ( ناگا پیپلس فرنٹ) نے شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ این پی ایف کا کہنا ہے کہ اپنے انتخابی منشور میں شامل وعدوں پر ان کا سپورٹ ابھی بھی برقرار ہے۔ منشور میں یہ لکھا تھاکہ سبھی ناگا اکثریتی علاقوں کو ایک ساتھ کرنے میں این پی ایف کام کرے گا۔ این پی ایف کے اس فیصلے سے ریاست کے لوگوں کو زیادہ فکر ہورہی ہے۔ کانگریس کے ایم ایل اے سابق وزیرا علیٰ اوکرم ایبوبی سنگھ نے کہا کہ این ایس سی این (آئی ایم ) اور مرکزی سرکار کے درمیان چل رہی امن بات چیت 2018 کی شروعات میں ہونے والے ناگالینڈ اسمبلی انتخابات کے پہلے ختم ہو سکتی ہے۔ امن بات چیت نتیجے پر پہنچ رہی ہے، اس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں لیکن تشویشات یہ بھی ہیں کہ کہیں اس بات چیت کا نتیجہ منی پور، آسام اور اروناچل پردیش کے عوام کے حق کے خلاف نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے اتحاد اور اٹوٹ ہونے کو نبھانا سبھی کی ذمہ داری ہے۔

 

 

 

 

 

وزیر اعلیٰ کی دھمکی
آسام کے وزیر اعلیٰ سروانند سونووال نے کہا کہ ناگالم بنانے میں آسام کی زمین کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دیں گے۔ 2015 میں مرکزی سرکار اور این ایس سی این (آئی ایم )کے درمیان ہوئے فریم ورک اگریمنٹ میں شامل نکات کو آسام کے لوگوں پر بتاناہوگا۔ جس طرح سے منی پور میں اس سمجھوتے کو لے کر لوگوں میں ہلچل اور بے چینی ہے، اسی طرح آسام کے لوگوں میں بھی تشویشات ہیں۔ امن سمجھوتہ ایسا ہو کہ باقی پڑوسی ریاستوں کا نقصان نہ ہو۔
ترنمول کانگریس کا موقف
مرکزی سرکار اور این ایس سی این (آئی ایم ) کے بیچ چل رہی امن بات چیت کو لے کر علاقائی اتحاد پر کوئی آنچ نہیں آنا چاہئے۔ ترنمول کانگریس ، منی پور پردیش کے صدر مناوتون سورائسم نے کہا کہ ناگاامن سمجھوتہ کیجئے اور کامیاب نتیجے پر پہنچئے لیکن بات چیت میں ریاست کے اتحاد کو نقصان پہنچانے والے نکات شامل نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا ہونے پر پارٹی ہمیشہ مخالفت کرے گی۔ ترنمول کانگریس آج بھی ریاست کے اتحاد کو لے کر سنجیدہ ہے ۔ایسے میں مرکزی سرکار کو بھی اپنا موقف بتانا چاہئے۔
لوک جن شکتی پارٹی کی رائے
لوک جن شکتی پارٹی، منی پور پردیش کے ترجمان این ابروہل نے کہا کہ اس بات چیت کے آخری شکل میں آنے میں جن شکتی پارٹی رضامندی کااظہار کرتی ہے لیکن منی پور ریاست کی سرحد اور سیاسی علاقے میں رکاوٹ نہیں آنا چاہئے۔ این ایس سی این (آئی ایم ) ناگالینڈ میں موجود تنظیم ہے، اس لئے مرکزی سرکار ناگالینڈ کو جو دینا چاہتی ہے ، اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن سرحدوں کا ا تحاد ٹوٹنا نہیں چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سمجھوتے سے متاثر تین ریاستوں منی پور، آسام اور ارونا چل پردیش میں بی جے پی کی سرکار ہے۔ تینوں ریاستوں کے وزراء اعلیٰ کو مرکزی سرکار کو صاف طور پر بتانا چاہئے ، لوگوں کی تشویشات تبھی دور ہوں گی جب تینوں وزراء اعلیٰ فیصلہ لے کر عوام کو بتا دیں۔

 

 

 

 

 

سرکاری افسروں پر این آئی اے کا الزام
ناگالینڈ سرکار کے افسروں نے چار سال کے عرصے میں ناگالینڈ کی غیر قانونی تنظیم این ایس سی این (کے ) کو ریاست کے خزانے سے 20کروڑ روپے دیئے۔ یہ خلاصہ این آئی اے (نیشنل انوسٹمنٹ ایجنسی ) نے ایک اخبار کے سامنے کیا۔ رپورٹ میں لکھا کہ اس معاملے سے متعلق کاغذات اور پیمنٹسلیپ این آئی اے کے پاس موجود ہیں۔
اس بات سے صاف ہو گیا کہ گرفتار افسروں اور این ایس سی این (کے ) بیچ غیر قانونی ٹیکس وصولی کا ریکٹ چل رہاتھا۔ یہ پہلا معاملہ نہیں ہے کہ اس طرح سے ناگالینڈ سرکاری افسروں کے اوپر این ایس سی این (کے ) کو پیسہ دینے کا الزام لگ رہا ہو۔ 13اکتوبر 2017 کو این آئی اے نے ناگالینڈ سرکار کے چار افسروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار افسروں میں وزارت محکمہ زراعت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر بھیلوپرل اجا ، سیاحتی محکمہ کے سابق ڈائریکٹر پوراکھو انگامی، فش ڈپارٹمنٹ کے سپرنٹنڈنٹ کیکھرسٹوپ اور سینچائی اور سیلاب کنٹرول محکمہ کے ایگزیکٹیو انجینئر کے ہیتوئی سوما شامل ہیں۔
رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ این آئی اے کے پاس موجود کاغذات اور پیمنٹ سلیپ میں ان افسروں کے دستخط موجود ہیں۔ گاندھی نگر میں موجود سینٹرل فورنسک سائنس لیبارٹی کے ماہرین دستخط نے اس بات کی توثیق کی ہے۔ کاغذات کے مطابق یہ معلوم ہوا کہ ان افسروں کے ذریعہ 2012 سے لے کر این ایس سی این (کے ) اور دیگر گروپوں کو 20سے 25 کروڑ روپے دیئے گئے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here