ندیاں تھم گئیں لیکن سیاست عروج پر

Share Article

سروج سنگھ
9راجدھانی پٹنہ سے تقریباً 20 کلو میٹر دور ویشالی ضلع ہیڈ کوارٹر حاجی پورکے پاس سیلاب متاثرین کے ایک ریلیف کیمپ میں تقسیم کے لئے غذائی سامان جارہا تھا،لیکن ریلیف کیمپ میں اس کے پہنچنے سے پہلے ہی سیلاب متاثرین کے ایک گروپ نے اسے لوٹ لیا۔ یہ سامان سرکاری ایجنسی کے نہیں،کسی رضاکار تنظیم کے تھے۔ اسی طرح کٹیہار ضلع کے سیلاب متاثرین کے درمیان تقسیم کے لئے کچھ غذائی سامان جارہاتھا،لیکن سڑک کی گڑبڑی کی وجہ سے گاڑی سے کچھ بورے گر گئے ، پھر کیا تھا،ان کی لوٹ مچ گئی۔ دوسری طرف سیلاب متاثرین کو ریلیف فنڈ دینے کا سہرا اپنے سر لینے میں بھی دبنگوں کے بیچ ہوڑ رہتی ہے۔ ایسی ہی ہوڑ میں بھوجپور میں دو مقامی دبنگوں کے حامیوں میں گولی چل گئی۔ کہتے ہیں اس گولی باری میں ایک کی موت بھی ہو گئی ہے۔ حالانکہ انتظامیہ نے اس خبر کی توثیق نہیں کی ہے،یہ تو بطور مثال ہے، لیکن اس تعلق سے ریاست کی سیاست ابھی خاموش ہے۔ سیلاب راحت کے نام پر ایک ہفتہ پہلے تک سیاسی پارٹیوں میں جو جوش دکھائی دیتا تھا ،وہ پانی اترنے کے ساتھ ختم ہو گیا ہے۔بھری ندیوں کے پانی کو فی الحال اترنے کے لئے ڈھلان مل گیا تو سیاست کو کوئی نیا مسئلہ۔
بہار میں سیلاب آتا ہے تو ندیوں میںہی نہیں ، سیاست میںبھی ابال آجاتا ہے۔ سیلاب کے پانی میں سب کچھ بہہ جاتا ہے تو سیاست میں بھی ساری مریادا تار تار ہوجاتی ہے۔ سیلاب کی بہتی گنگا میں ہر لیڈر اپنے ہاتھ دھوتا ہے اور اس طرح سے سیاست کے پانی کو تھوڑا اور آلودہ کردیتا ہے۔ سیلاب متاثرین کا حال چال اور ریلیف کیمپ کا جائزہ لینے گئے مرکزی وزیر برائے قانون روی شنکر پرساد ایک کیمپ میں گئے اور وہاں کچھ کھایا ۔ان کے اس عمل پر جنتا دل( یو )کے ترجمان نے انہیں بے شرم قرار دے دیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ’ کھاتے ہیں بہار کا، گاتے ہیں مرکزی سرکار کا‘۔ اب ترجمان صاحب کو کون بتائے کہ پیسہ تو آخر عوام کی گاڑھی کمائی کا ہی ہے، وہ چاہے ریاستی سرکار کے ذریعہ آئے یا مرکزی سرکار کے۔ سیلاب متاثرین کو راحت دینے میںتاخیر کی بات کرتے ہوئے ایک مرکزی وزیر نے کہا کہ ریاستی سرکار ناکام رہی، تو جنتا دل( یو )کے ترجمان نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر خصوصی راحتی امداد کے بغیر بہار آئیں گے تو کسی کو ریاست میں گھسنے نہیں دیا جائے گا۔ ترجمان کو اپنی حلف برداری کی یاد بھی نہیں رہی کہ انہیں کیا بولنا چاہئے اور کیا نہیں۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر جو دل چاہے بول لیتے ہیں۔ بھلے ہی بے بنیاد ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی ایک مثال رام ولاس پاسوان کی ہے۔ رام ولاس نے بار بار کہا کہ بہار سرکار غیر ذمہ دار ہے اور سیلاب متاثرین کی راحت کے لئے اب تک کچھ بھی نہیں مانگا ہے۔ پھر بھی انہوں نے بہار کو20 لاکھ ٹن اناج بھیجنے کا دعویٰ کیا ہے۔یہ کسی کی بھی سمجھ سے باہر ہے کہ بغیر ریاستی سرکار کی مانگ کے راحت کے نام پر اناج کیسے بھیج دیا گیا۔ سرکار تو کسی قاعدہ قانون سے ہی چلتی ہے،کسی کی من مرضی سے تو نہیں ۔
نام کمانے کی ہوڑ میں ڈیزاسٹر ریلیف کے سلسلے میں صحیح جانکاری کوئی نہیں دینا چاہتاہے۔ ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ کا ایک نظام ہوتا ہے جس کے تحت کسی ریاست کو قدرتی آفت کی صورت میں مدد ملتی ہے۔ بہار کے لئے یہ فنڈ 370 کروڑ روپے ہے۔یہ رقم خرچ ہوگئی ہے، اس کا ابھی تک خلاصہ نہیں ہوا ہے۔ پھر اسپیشل ریلیف فنڈ کے لئے ریاست کو خصوصی میمورنڈم دینا ہوتا ہے اور یہ مانگ نقصانات کے تخمینہ کے بعد ہی کی جاسکتی ہے۔اس سال کے سیلاب کے نقصان کا تخمینہ لگانا ابھی باقی ہے اور اس تخمینے پر مرکز کی رضامندی کے بعد ہی کچھ مزید ہو سکتاہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے تخمینہ لگانے کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے بعد وہ مرکز کے سامنے اپنی مانگ پیش کریں گے ۔
بہار کو کوسی ٹریجڈی (2008) کا تجربہ ہے۔ ان دنوں لالو پرساد مرکز میں وزیر تھے اور اپنی پہل پر وزیر اعظم کو بہار کے سیلاب کا منظر دکھانے لے کر آئے تھے۔ اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اعلان بھی کیا تھا ۔لیکن اس بار بہار کے کسی لیڈر نے ایسی کوئی پہل اب تک نہیں کی ہے جس سے بہار کو خصوصی راحت دلوائی جا سکتی ہے۔ ایسی پہل تو این ڈی اے کے لیڈروں کو ہی کرنی چاہئے۔
بہار میں سیلاب کا یہ دور تھم گیا ہے۔ اس دوسرے مرحلے کے سیلاب میں گنگا کے دونوں طرف کے کوئی ڈیڑھ درجن ضلعوں میں تباہی مچانے کے بعد سون ندی سمیت گنگا اور اس کی ذیلی ندیاں اپنے دائرے میں سمٹ سی گئی ہیں۔ اگست کے دوسرے نصف آخر میں ندی میں ابال نے ریاست کے کئی علاقوں میں سیلاب جیسی صورت حال پیدا کردی تھی۔ صرف اس دور کے سیلاب میں تقریبا 37 لاکھ کی آبادی سنگین طور سے متاثر ہوئی۔ بکسر سے لے کر بھاگل پور سے آگے جھارکھنڈ کی سرحد تک اس سیلاب کی وجہ سے ہی100 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئی۔5 لاکھ سے زیادہ کی آبادی بے گھر ہو گئی۔ ریاستی سرکار کے افسروں پر بھروسہ کریں تو پانی سے گھرے لوگوں کو محفوظ نکالنے کے لئے ڈھائی ہزار سے زیادہ کشتیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ سرکار نے 544 ریلیف کیمپ بنائے تھے جن میں 3 لاکھ سے زیادہ بے گھروں کو پناہ دینے کا دعویٰ کیا گیا۔ ان کیمپوں میں ہر ممکن سہولت فراہم کرائی گئی۔ سیلاب متاثرین کے لئے دانا پانی کے ساتھ ساتھ بیمار کے لئے دوا اور بچوں کے لئے پڑھائی کا بھی انتظام کیا گیا۔کٹیہار ، بھاگل پور، پٹنہ، ویشالی، سمستی پور، بیگو سرائے وغیرہ ضلعوں کے کیمپوں کی بات تو جانے دیجئے ، پٹنہ کے ریلیف کیمپوں میںبھی لوگوں کی پریشانی کافی بڑھ رہی ہے۔کئی مقامات سے جو خبریں آرہی ہیں۔وہ راحت کم اور پریشانی زیادہ بیاں کررہی ہیں۔
سیلاب اور ریلیف کیمپ کو لے کر ریاست کی سیاست کا بھی پانی اس بار خوب چڑھا اور اترا ہے۔ حالانکہ بہار کی سیاست کا یہ سالانہ دستور ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے مرکز اور ریاست کی سرکاریں ایک دوسرے کے خلاف رہی ہیں۔ لہٰذا سیلاب آنے پر ریاست کی سیاسی پارٹیاں بھی دوحصے میں تقسیم ہو جاتی ہیں،مرکزی سرکار مخالف اور ریاستی سرکار مخالف۔
یہ الزام تراشیوں کابھی موسم ہوتاہے۔ ریاست میں پانی سے تباہی کے لئے ریاستی حکومت مرکز کو ذ مہ دار بتا تی ہے جبکہ مرکز میں برسراقتدار گروپ ریاستی سرکار کی قیادت کو ۔اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے ۔ شمالی بہار کے مشرقی حصے میں پہلے جب سیلاب آیا تو نیپال کو ذمہ دار بتا دیا گیا۔ دوسرے مرحلے کے سیلاب کے لئے پڑوسی ریاستوں کی بارش کو ۔ یہ دونوں باتیں اپنے تئیں صحیح ہو سکتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان مسائل کو بہار کی حکومت اور انتظامیہ سیلاب آنے کے بعد کیوں دیکھتی ہے؟۔
بہار کا جغرافیہ ایسا ہے کہ یہاں ہر سال سیلاب کو آنا ہے۔یہ بہار کے لئے نئی بات نہیں ہے۔جولائی سے ستمبر تک یہ کبھی بھی آسکتا ہے۔ بار بار آسکتا ہے اور آتا رہتا ہے۔ لہٰذا اس کی تباہی کم کرنے کے لئے ٹھوس انتظام کرنا چاہئے۔ لیکن بہار کی سرکار اور انتظامیہ اس سمت میں سوچنے میں قطعی سنجیدہ نہیں ہے۔ برسراقتدر ہو یا اپوزیشن ،وہ چاہے جس سیاسی پارٹی کی حکومت ہو،اس پر سوچنا نہیں چاہتی ۔ اس کی اس لاپرواہی کا بہار خمیازہ بھگت رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *