میانمار پر امریکی اقتصادی پابندی میں نرمی بدھسٹ خوش، مسلمان مایوس

Share Article

وسیم احمد
p-8ابھی کچھ دنوں پہلے نوبل انعام یافتہ اور میانمارکی سب سے طاقتور سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کی وہائٹ ہائوس میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں سوچی نے امریکہ سے اپنے ملک پر عائد پابندی کو نرم کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ۔اس کامیابی کے بعد سوچی کی میانمار میںتو خوب تعریف ہورہی ہے، لیکن اوبامہ کی دنیا بھر میں تنقید ہورہی ہے اور یہ پوچھا جارہا ہے کہ عراق و شام سے لے کر یمن اور لیبیا میں حقوق انسانی کی بات کرنے والا امریکہ میانمار میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کو کیسے بھول گیا جبکہ وہاں بڑے پیمانے پر حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور 1989 میں امریکی تجارتی قانون کے مطابق میانمار کو ’’ بینیفشری ڈویلپنگ کنٹری‘‘ کی بنیاد پر اس وقت اقتصادی پابندی عائد کی گئی تھی جب وہاں فوجی آمریت قائم تھی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بڑے پیمانے پر ہورہی تھی۔اب گرچہ وہاں فوجی آمریت کی جگہ جمہوریت نے لے لی ہے مگر مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ہندوستان اور یوروپین ممالک میں جان بچا کر بھاگنے والے پناہ گزینوں کے لئے آج بھی وطن لوٹنے کا راستہ بند ہے، اس کے باوجود اس پابندی میں نرمی کیسے دی گئی ؟۔شرم وہار نئی دہلی میں میانمار کے پناہ گزیں بڑی تعداد میں بسے ہوئے ہیں۔ ان سے ’چوتھی دنیا‘ کے نمائندہ نے حالیہ اقتصادی پابندی کے تعلق سے بات کی تو بیشتر نے کہا کہ اب تو بدھسٹوں کے حوصلے اور بھی بڑھ جائیں گے۔کیونکہ انہیں عالمی برادری کے دبائو کا کوئی خوف نہیں رہے گا۔
سوچی کی سیاسی جماعت نیشنل لِیگ فار ڈیموکریسی میانمار میں بر سر اقتدار ہے۔سوچی اپنی پارٹی کی سربراہ ہیں اورسیاست میں قدآور شخصیت مانی جاتی ہیں۔ کچھ آئینی رکاوٹوں سے وہ اپنے ملک کی سربراہ نہیں بن سکیں لیکن حکومت کے نظم و نسق میں ان کی منشا کو ترجیحی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔سوچی کو 1991میں امن کا نوبل انعام بھی مل چکا ہے۔ یہ انعام انہیں میانمار میں فوجی آمریت کے خلاف طویل جدوجہد پر دیا گیا تھا۔گزشتہ سال سوچی نے فوجی حکومت کے خلاف ملک میں بہترین فتح حاصل کرکے جمہوری حکومت قائم کرلی ۔چونکہ میانمار آئین کے مطابق کوئی ایسا شخص ملک کا سربراہ نہیں بن سکتا ہے جس کا شوہر یا بچہ غیر ملکی نژاد ہو، جبکہ سوچی کے دو بیٹے غیر ملکی نژاد ہیں لہٰذا وہ خود سربراہ نہیں بن سکیں لیکن اپنی پارٹی کو فتح دلا کر ملک میں جمہوریت کو بحال کردیا۔ یہ ان کا ایک عظیم کارنامہ ہے اور اسی وجہ سے امریکہ نے عائد پابندی میں نرمی لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس فیصلے کا نفاذ 13نومبر 2016 سے ہوجائے گا۔
اس فیصلے سے میانمار کی بدھسٹ اکثریت میں خوشی پائی جارہی ہے جبکہ مسلمانوں میں مایوسی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پابندی میں نرمی لانے سے پہلے ان مسلمانوں کو جمہوریت میں شریک کرنے اور ان کا حق شہریت واپس دلانے کی شرطوں کے ساتھ حقوق انسانی بحال کرنے کی شرط لگادیتا تو امریکہ کے اس قدم سے سوچی نہ صرف میانمار میںحقوق انسانی کو بحال کرنے پر مجبور ہوتیں بلکہ مسلمانوں کو جو حق شہریت سے محروم کردیا گیا ہے، اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرتیں اور پناہ گزینوںکو واپس لانے کا راستہ ہموار کرتیں۔ لیکن یہ سب نہ کرنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے دفاع کے بارے میں امریکہ کی پالیسی دورخی ہوتی ہے۔

اس فیصلے سے میانمار کی بدھسٹ اکثریت میں خوشی پائی جارہی ہے جبکہ مسلمانوں میں مایوسی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ پابندی میں نرمی لانے سے پہلے ان مسلمانوں کو جمہوریت میں شریک کرنے اور ان کا حق شہریت واپس دلانے کی شرطوں کے ساتھ حقوق انسانی بحال کرنے کی شرط لگادیتا تو امریکہ کے اس قدم سے سوچی نہ صرف میانمار میںحقوق انسانی کو بحال کرنے پر مجبور ہوتیں بلکہ مسلمانوں کو جو حق شہریت سے محروم کردیا گیا ہے، اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرتیں اور پناہ گزینوںکو واپس لانے کا راستہ ہموار کرتیں۔ لیکن یہ سب نہ کرنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے دفاع کے بارے میں امریکہ کی پالیسی دورخی ہوتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ میانمار سمیت دوسرے ممالک میں اپنے مفادات کے مطابق آزادی اور جمہوریت کی تشریح کرتا ہے اور اپنی منشا کے مطابق اس پر عمل درآمد کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ میانمار میں تیل وگیس نیز معدنیات کی فراوانی اور نئی منڈی کے پیش نظر امریکہ نے اپنی تمام تر توجہ اس ملک پر مرکوز کررکھی ہے۔ اس کے علاوہ میانمار جغرافیائی لحاظ سے جنوب ایشیااور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔ نیز امریکہ جنوبی چین کی طرف سے اپنی قومی موجودگی کا خواہاں بھی ہے۔اسی لئے میانمار پر مدتوں سے اس کی نظر جمی ہوئی ہے جس کے پیش نظر وہ میانمار میں اقلیتی مذاہب خاص طورپر مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند بدھسٹوں کی طرف سے کئے جانے والے مظالم آمیز کاروائیوں اور امتیازی پالیسیوں کو نظر کرکے اس پر عائد پابندی کو نرم کرنے کی حامی بھرلی۔
مطلب یہ ہے کہ امریکہ حقوق انسانی کی تشریح اپنی مرضی کے مطابق طے کرتا ہے۔ورنہ میانمار میں مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی کو نظر انداز کرنا کسی بھی صورت میں جواز پیدا نہیں کرتا ہے۔ میانمار میںمسلمان کل آباد ی کا محض 4 فیصد ہے۔ یہ لوگ مرکزی ریاست روہنگیا میں صدیوں سے آباد ہیں۔لیکن حکومت کی طرف سے ان پر جو مظالم ہورہے ہیں ان کو دیکھنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔امریکی تھینک ٹینک ’’واشنگٹن اسٹڈی سینٹر برائے ایشیا‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق برما میں مسلمانوں پر مظالم نئے نہیں بلکہ صدیوں سے مقامی مسلمان آبادی حکومتوں کے مظالم سہتے چلی آرہی ہے، لیکن مسلمان آبادی کے اجتماعی قتلِ عام کا آغاز 1970 کی دہائی میں اْس وقت ہوا، جب برما اور بنگلہ دیش کے درمیان مسلمانوں کو ایک دوسرے کی حدود میں دھکیلنے پر ایک تنازع پیدا ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بنگلہ دیش تازہ تازہ پاکستان سے جدا ہوا تھا۔بنگلہ دیشی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ برما کے مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی، لہٰذا برمی مسلمان تارکینِ وطن واپس اپنے ملک جائیں جبکہ برمی حکومت مسلمانوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھی۔ 1992 میں دونوں ملکوں کے درمیان اقوامِ متحدہ کے ذریعہ ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت بنگلہ دیش میں موجود تمام مسلمان مہاجرین کو واپس میانمار منتقل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے وقت بنگلہ دیش میں ڈھائی لاکھ برمی مسلمان پناہ لیے ہوئے تھے۔برما نے اعتراض کیا کہ ہجرت کرکے بنگلہ دیش آنے والے مہاجرین کے بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والے بچے بنگالی شہری ہوں گے جن کا برما سے کوئی تعلق نہیں۔ اس بہانے کی آڑ میں میانمار حکومت نے 12 ہزار بچوں کو بنگالی شہر ی قرار دے کر انہیں ان کے والدین سمیت لینے سے انکار کر دیا۔
یہ بات اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ’’ریڈ کراس‘‘ اور ’’ہیومن رائٹس واچ‘‘ بھی اپنی رپورٹس میں ثابت کر چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق روہنگیا میں روز مرہ کی بنیاد پر مسلمانوں کو قتل اور گرفتار کیا جاتا ہے۔ قتلِ عام میں نہ صرف بودھ مذہب کے انتہا پسند شامل ہیں بلکہ فوج، پولیس اور ریاستی ادارے بھی اس جرم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
یہ ظالمانہ رویہ جاری ہے اور عالمی ادارے اس کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام ہیں، شاید اس لیے بھی کہ مظلوم قوم کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ ویسے بھی دنیا بھر میں مسلمان ہی اس نوعیت کے مظالم سہتے چلے آرہے ہیں۔ فلسطین، چیچنیا، سنکیانگ اور روہنگیا کے مسلمانوں کی ایک ہی جیسی داستان الم ہے۔ ہر طرف مسلمانوں کا خون ارزاں ہے۔ فلسطین میں ہزاروں معصوم شہری شہید کردیئے گئے لیکن عالمی برادری اسرائیل کی ہی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے۔ لیکن برما نے تو صہیونی ریاست کو بھی مات دے دی ہے۔لیکن اس کے باوجود امریکہ جس طرح اسرائیل کی کھل کر حمایت کرتا رہا ہے اسی طرح اس نے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو نظر انداز کرکے برما کی اقتصادی پابندی میں نرمی کرکے مسلمانوں کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *