مظفر نگر کیمپوں میں معصوم بچوں کی موت: سردی سے کوئی نہیں مرتا، شرم آنی چاہئے اس بیان پر

Share Article

وسیم راشد 
دہلی اور اطراف میں کڑاکے کا جاڑا پڑ رہا ہے ۔ایسا جاڑا کہ بند کمروں میں بھی ہڈیاں چٹخی جارہی ہیں۔دل سردی سے بیٹھا جارہا ہے اور موٹی رضائی اور روئی کا لحاف اور موٹے موٹے گدوں کے باوجود ہاتھ پیر سن ہوئے جارہے ہیں۔ کمروں میں ہیٹر جل رہے ہیں۔ غریب لوگ بھی اپنی بند جھگی جھونپڑیوں میں آگ جلا کر سورہے ہیں ۔ایسے میں کچھ ایسے بد نصیب بھی ہیں جنہیں نہ گھر کی چہار دیواری نصیب ہے اور نہ ہی بند جھگی جھونپڑی۔بس ان کے پاس ہے تو رہنے کے لئے کیمپ۔ وہ کیمپ جس میں سرکاری اعدا د و شمار کے مطابق اس کڑاکے کے جاڑے میں اب تک 34 بچوں کی موت ہو چکی ہے۔ گزشتہ 7 ستمبر سے 20 دسمبر کے درمیان 12 سال سے کم عمر کے کل 34 بچے مرچکے ہیں۔کئی دن سے میڈیا برابر مظفرنگر کے کیمپوں میں پناہ گزیں افراد کی حالت زار بتا رہا ہے جس میں بار بار بچوں کی اموات اور بیمار بچوں پر پوری رپورٹ پیش کی جارہی ہے لیکن اکھلیش سرکار جیسے بہری ہوگئی ہے۔

100 سے زیادہ فسادات اور ایک ہزار سے زیادہ لوگ تقریبا ً 192 گائوں سے رفیوجی کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور یہ ہندوستان کے بد ترین فساد وں میں سے ایک ہے۔ایسی حالت میں مرکزی حکومت کو چاہئے کہ اب یا تو یو پی حکومت سے براہ راست جواب طلب کرے یا پھر اتنے زیادہ فساد ہونے کے بعد اور ریاست میں بڑھتی غنڈہ گردی اور لا قانونیت کی وجہ سے صدر راج نافذ کرے اور اگر کچھ نہیں کرسکتی تو ان 39 بچوں کی موت کی کم سے کم باز پرس تو کرلے جو موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔

ایک ٹی وی چینل کا رپورٹر جس نے دو راتیں مظفر نگر میں گزاریں ۔24دسمبر کی رات بے حد خطرناک ہڈیوں کو پگھلادینے والی سردی میں یہ رپورٹر پوری رات کیمپ میں رہا اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ آگ جلا کر بیٹھا رہا ۔ اس کی آنکھوں نے ایسے ایسے منظر دیکھے جو بیان سے باہر ہیں۔ وہاں ایسے بچے بھی تھے جو بخار میں تپ رہے تھے،جن کے ماں باپ کے پاس ان کو سردی سے بچانے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔ اس رپورٹر نے بتایا کہ کچھ بچے ٹھنڈے فرش پر صرف ایک چادر بچھائے ہوئے سورہے تھے اور کبھی کبھی وہ سرک کر فرش پر آجاتے تھے۔یہ وہ بچے تھے جنہیں بخار تھا۔ رپورٹر کی مانیں تو یہ لوگ اتنے خوف میں ہیں کہ اپنے گھر واپس جانے کی سوچ ہی نہیں رہے۔بچے بھی نفسیاتی مریض بن رہے ہیں۔ کچھ بچے پھوڑے پھنسیاں اور زخموں کا شکار ہیں۔ دھول مٹی میں یہ بچے گندگی میں کھیلتے رہتے ہیں اور اس طرح بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ابھی کچھ دن پہلے ہی ملائم سنگھ نے بیان دیا تھا کہ کیمپوں میں جو لوگ رہ رہے ہیں وہ فساد متاثر نہیں ہیں بلکہ بی جے پی اور کانگریس کے ایجنٹ ہیں جو سازش کے تحت وہاں پر رہ رہے ہیں۔ رپورٹر نے بتایا کہ یہ سب بے گھر و بے درد ہوئے وہ لوگ ہیں جن کے گھر بار لٹ گئے ہیں یا جلا دیے گئے ہیں اور اگر بچے بھی ہیں تو ان لوگوں پر اس قدر خوف طاری ہے کہ یہ واپس جانا ہی نہیں چاہتے۔ ان کے بچوں کے لئے نہ تو کھانا ہے نہ ہی طبی امداد ہے نہ ہی حکومت کی طرف سے ان کو کوئی معاوضہ دیا گیا۔ ملائم سنگھ یادو ایک بے حد ذمہ دار سینئر لیڈر ہیں ۔ان کو مسلمانوں کا ووٹ ملا ہے تبھی آج ان کا بیٹا وزیر اعلیٰ بناہوا ہے۔ملائم سنگھ نے مسلمانوں سے ہمدردی دکھا کر ان کا ووٹ حاصل کیا ۔ آج جب ان مسلمانوں کو خود ان ہی کی ریاست میں ان کو بے در و بے گھر ہونا پڑا تو ملائم ان کو سازشی اور ایجنٹ کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں۔ لگتا ہے ملائم سنگھ یادو ٹی وی نہیں دیکھتے۔ لگاتار کئی دن سے مختلف چینلز مظفر نگر کے کیمپوں کی حالت زار دکھا رہے ہیں۔ اس وقت مظفر نگر کے لوگ اور شاملی کے مدرسہ تیم اللہ شاہ ، ملک پور برنوی اور عیدگاہ میں کل پانچ کیمپوں میں تقریباً 4783لوگ رہ رہے ہیں۔اگر ہمارے ملک میں سپریم کورٹ نہ ہوں تو شاید یہاں مسلمانوں کا رہنا مشکل ہوجائے۔ سپریم کورٹ ہی ہے جو مسلمانوں کو مودی کے قہر سے بچاتی ہے اور اب سپریم کورٹ نے ہی سخت رخ اختیار کرتے ہوئے یو پی حکومت سے جواب طلب کیا تھا،جس کے بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی جانچ کے لئے میرٹھ کے کمشنر سنجت سنگھ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ لیکن اس کمیٹی نے بھی جس میں مظفر نگر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شامل ہیں کوئی مناسب رپورٹ پیش نہیں کی اور نہ ہی اس کمیٹی نے کیمپوں میں رہ رہے بچوں کی حالت زار کو صحیح ڈھنگ سے پیش کیا۔پرنسپل سکریٹری انل کمار گپتا نے بتایا کہ یہ سب بچے نمونیہ، ڈائیریا،پیچش اور بخار کے شکار ہورہے ہیں اور ایک موت وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کی تھی۔یہاں بھی وہی سیاست کا کھیل جاری ہے۔ آفیشیل رپورٹ 34 بچوں کی موت کی ہے جبکہ میڈیا کے ذرائع اور اندرونی طور پر جو ہم نے پتہ لگایا ہے تقریباً39 بچوں کی موت ہوئی ہے۔خود ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی اکھلیش سرکار سے جواب طلب کیا ہے ۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ صرف پلاسٹک کی ترپال سے تین طرف سے دیواریں بنائی گئی ہیں اور چوتھی طرف سے آنے والی تیز ٹھنڈی ہوائوں سے بچائو کے لئے کوئی دیوار یا پلاسٹک نہیں ہے۔ ایسے کڑاکے کے جاڑے میں بچے تو دور، بڑے بھی نہیں بچ سکتے۔ جس سماجوادی پارٹی کو مسلمانوں نے بڑی ہی امید سے ووٹ دیا تھا، وہی سرکار آج مسلمانوں کا تحفظ تو دور ان کو بی جے پی اور کانگریس کا ایجنٹ کہہ کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کر رہی ہے۔ملائم سنگھ کے نام پر ملائم سنگھ کی آواز پر مسلمانوں نے سماجوادی پارٹی کو ووٹ دیا تھا ۔خود مایاوتی نے بھی اس بات کو مانا تھا کہ مسلمانوں کا پورا ووٹ سماجوادی کو ملا ہے۔اسی لئے سماجوادی پارٹی کی جیت ہوئی ہے۔ آج اسی سماج وادی پارٹی نے مسلمانوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔ مظفر نگر کا فساد کسی بھی طرح گجرات کے فساد سے کم نہیں ہے۔ گجرات میں تو مودی نے کھل کر فسادیوں کا ساتھ دیا تھا اور اس نے مسلمانوں کاکوئی دم نہیں بھرا ۔اس کی مسلم دشمنی سب کے سامنے ہے۔ وہ مسلمانوں سے تعصب کرتا ہے تو وہ بھی کھل کر کرتاہے لیکن ملائم سنگھ جیسے لوگ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کہ بمصداق آستین کا سانپ بنے ہوئے ہیں۔ سماجی کارکن شہزاد پونا والا کی ہمت کی داد دینی چاہئے جنہوں نے قومی اقلیتی کمیشن سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی بات کہی ہے۔ساتھ ہی کھل کر انہوں نے ملائم سنگھ یادو کی مذمت کی ہے۔انہوں نے ہی بتایا ہے کہ مظفر نگر کے پناہ گزیں کیمپوں میں جو امداد پہنچ رہی ہے وہ ناکافی ہے ،اس کی وجہ بھی خود حکومت ہی ہے جس کے افسران غلط رپورٹنگ کرر ہے ہیں۔ ان کے ذریعہ غلط اعدا دو شمار حکومت تک پہنچ رہے ہیں اور جہاں ہزاروں کی امداد چاہئے وہاں صرف سو یا پچاس کی کوئی چیز پہنچائی جارہی ہے۔ اسی سلسلے میں قومی اقلیتی کمیشن کو بھی آگے آنا چاہئے اور ملائم سنگھ سے اس شدید سردی کے موسم میں گرم کپڑے ،کمبل اور رضائیاں تقسیم کرنے کی بات کرنی چاہئے۔موٹے کیمپوں کو پھر سے گاڑا جانا ضروری ہے۔پلاسٹک کی دیواروں والے کیمپ میں ایک دن خود اکھلیش یا ملائم رہ کر دکھائیں تو پتہ چلے کہ اس سخت سردی میں جو لوگ ساری رت ہیٹر جلا کر صبح 10 بجے تک سوتے رہتے ہیں ان کے لئے دوسروں کا دکھ درد جاننا آسان نہیں ہے۔
ایک اور ستم توڑا گیا ان مظلوموںپر کہ سنجت گائوں میں بلڈوزر چلا کر تقریباً 300 لوگوں کو ان کیمپوں سے باہر نکال دیا گیا۔ یہ بے چارے تارپولین کی بنی ہوئی جھونپڑی میں رہ رہے تھے ۔ ان غریبوں نے بڑی مشکل سے اپنی زندگی کی ضروری اشیاء کو جمع کیا اور اس کے بعد یہ قریب کے گھروں میں پناہ کے لئے چلے گئے۔ ان میں سے کچھ کے رشتہ دار تھے اور کچھ کو مسلم مکان داروں نے اپنے یہاں رکھ لیا اس وعدے کے ساتھ کہ جب مستقبلمیں ان کو کوئی کام مل جائے گا تووہ پیسہ ادا کریں گے۔
کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے کہ انسانیت جیسے ختم ہی ہوگئی ہے۔اے کے گپتا اسپیشل ہوم سکریٹری کہتے ہیں کہ سردی سے کوئی نہیں مرتا ۔اگر مرتا تو سائبریا میں کوئی زندہ نہیں بچتا۔ایسے میں عمر عبد اللہ نے جو ٹویٹ کیا ہے وہ بہت صحیح ہے کہ گپتا جی کو بنا کپڑوں کے اس موسممیں باہر بھیج کر دیکھنا چاہئے کہ سردی سے کوئی مرتا ہے یا نہیں۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر سماجوادی پارٹی کو کون چلا رہا ہے ؟کیسے چلا رہا ہے؟ کتنی ناانصاف اور بے حس حکومت ہے کہ اسے معصوم بچوں کی موت سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا ۔
100 سے زیادہ فسادات اور ایک ہزار سے زیادہ لوگ تقریبا ً 192 گائوں سے رفیوجی کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور یہ ہندوستان کے بد ترین فساد وں میں سے ایک ہے۔ایسی حالت میں مرکزی حکومت کو چاہئے کہ اب یا تو یو پی حکومت سے براہ راست جواب طلب کرے یا پھر اتنے زیادہ فساد ہونے کے بعد اور ریاست میں بڑھتی غنڈہ گردی اور لا قانونیت کی وجہ سے صدر راج نافذ کرے اور اگر کچھ نہیں کرسکتی تو ان 39 بچوں کی موت کی کم سے کم باز پرس تو کرلے جو موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *