مسلمانوں کی ترقی کے بغیر ، ہندوستان مضبوط نہیں ہو سکتا

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
بہار میں حیرت انگیز کارنامے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے مسائل پر سیمینار ہو، مقررین سیاسی جماعتوں کے لیڈر اور سماجی کارکن ہوں اور کوئی آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کی بات نہ کرے، اگر کوئی سنگھ پریوار اور بجرنگ دل کو قصوروار اور مجرم نہ بتائے، اگر بابری مسجد کا ایشو نہ اٹھے، اگر کوئی جذباتی تقریر نہ کرے، اگر مولانا اور مولوی اسلام پر آنے والے خطرات کو چھوڑ کر، تعلیم اور نوکری کی باتیں کرنے لگیں، تو حیرانی ہوتی ہیہے اور ہونی بھی چاہیے۔ حیرت کی وجہ سنگھ پریوار کا نام نہ لیا جانا نہیں ہے۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ اپنے تیسرے سیمینار میں ہی ای ٹی وی نے پوری دنیا کے سامنے مسلم سماج کی بدلتی تصویر کو بڑی صفائی سے پیش کیا ہے۔
’مسلمانوں کو درپیش مسائل‘، اس موضوع پر پٹنہ کے رویندر بھون میں ایک سیمینار ہوا۔ اس میں ملک بھر سے لیڈر، صحافی اور مولوی شامل ہوئے ۔ اس سیمینار کو ای ٹی  وی اردو نے منعقد کیا تھا۔ ای ٹی وی ملک کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجز کو لے کر سیمینار کرا رہا ہے۔پٹنہ سے پہلے جے پور اور ممبئی میں ایسے  ہی سیمینار ہو چکے ہیں۔پٹنہ کے سیمینار کی صدارت بی جے پی کے لیڈر اور بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی نے کی۔ اس سیمینار کے مہمان خصوصی بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار تھے۔ اس سیمنار میں رام ولاس پاسوان بھی تھے اور اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر عبد الباری صدیقی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سیمینار میں بہار کے مسلم سماج کی معروف شخصیات موجود تھیں۔ ساتھ ہی اس پروگرام کو ای ٹی وی کے تمام ہندی اور اردو چینلوں پر لائیو دکھایا گیا۔ اس سیمینا رکے ذریعہ مسلم سماج نے واضح پیغام دیا کہ اب کوئی جھانسہ دے کر مسلمانوں کے ووٹ نہیں لے سکتا۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی کا ڈر دکھا کر کوئی ووٹ نہیں لے سکتا۔ جو مسلمانوں کی تعلیم ، صحت اور روزگار کے لیے کام کرے گی، وہی پارٹی مسلمانوں کی حمایت کی مستحق ہوگی۔
اس سیمینار کی شروعات بہاراسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر عبد الباری صدیقی نے کی۔ ویسے مسلمانوں میں وہ کافی عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں، لیکن ایسے موقع پر ان کے پاس بھی کچھ خاص بولنے کو نہیں تھا، کیونکہ پندرہ سالوں کے لالو راج میں مسلمانوں کا ہی سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ حضرت مولانا نظام الدین نے کہا کہ اکثریت اور اقلیت تو سیاستدانوں کے لیے ایک اوزار ہیں، جس سے وہ سیاست کرتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی تعداد کم ہے۔ اس کے لیے انھوں نے اسٹیج پر بیٹھے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بھی صلاح دے ڈالی کہ وہ ایسے مسلم لیڈران سے گھرے ہیں، جو چمچہ گیری میں مصروف ہیں۔ ایسے لوگ مسلمانوں میں کوئی اثر نہیں رکھتے ہیں۔ جو لوگ مسلم سماج میں کام کرتے ہیں، حکومت کو ان کی باتوں پر غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری نوکریوں میں آبادی کے مطابق مسلمانوں کو نوکری ملے، اس کے لیے ہربچے اور بچیوں کو تعلیم کی ضرورت ہے۔
سیمینار مسلمانوں کو درپیش مسائل پر تھا، لیکن کانگریس کے ترجمان شکیل احمد نے میڈیا کو ہی سبق دینا مناسب سمجھا۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی بلاسٹ کے تین منٹ بعد ٹی وی چینلوںکو نام کا پتہ کیسے چل جاتا ہے۔ کیسے یہ چلنے لگتا ہے کہ فلاں امام، فلاں محمد، فلاں ہاشمی اس بلاسٹ کے پیچھے ہیں۔ انھوں نے بلا جھجک کہا کہ میڈیا کا رول بہت ہی منفی ہوتا جا رہا ہے۔ شکیل احمد حکومت چلانے والی پارٹی کے ترجمان ہیں۔ انھیں یہ سوال حکومت سے پوچھنا چاہیے، کیونکہ جو نام آتا ہے، اسے پولس اور خفیہ ایجنسی کے لوگ ہی بتاتے ہیں۔ انہیں یہ سوال وزیر داخلہ سے پوچھنا چاہیے کہ ان کے افسران میڈیا کے ساتھ مل کر اس طرح کی افواہیں کیوں اڑاتے ہیں۔ اگر کوئی چینل غلط خبریں دیتا ہے تو اسے سزا دینے سے کس نے روکا ہے؟ ویسے بھی کانگریس پارٹی کی ایک دقت ہے کہ جب بھی مسلمانوں کی ترقی پر کوئی بحثہوتی ہے تو وہ تھوڑا بے چین ہو جاتی ہے۔ 63سالوں کے بعد بھی اگر مسلمان سماج کے سب سے پسماندہ طبقہ میں شامل ہو گیا ہے تو اس کے لیے ذمہ دار تو حکومت ہی ہے اور ان 63سالوں میں ایک دو بار کوچھوڑ کر کانگریس کی ہی حکومت رہی ہے۔
کانگریس کی لائن پر ہی لالو یادو کی پارٹی آر جے ڈی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس سیمینار میں لالو یادو کو بھی شامل ہونا تھا، لیکن وہ نہیں آئے۔ کیا وجہ رہی ہوگی، یہ پتہ نہیں، لیکن یہ توکہا ہی جا سکتا ہے کہ پٹنہ میں بہار کے تمام بڑے مسلم لیڈر مسلمانوں کے مسائل پر غور کر رہے تھے، بہار کے باہر سے آئے لیڈران اور سماجی خدمت گار شرکت کر رہے تھے، ایسے میں جس لیڈر کو 15سالوں تک مسلمانوں نے اپنا مسیحا سمجھا، اپنی حمایت دی، وہ لیڈر کیسے اس طرح کے جلسے کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ لالو یادو اگر اس سیمینار میں آتے تو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان بنی دوریاں تھوڑی کم ضرور ہوتیں۔ لالو یادو نہیں آئے، لیکن رام ولاس پاسوان آئے۔ انھوں نے اپنی تقریر سے بہار کے مسلمانوں کے دلوں کو جیتا۔ انھوں نے سیاسی تقریر کرنے کی بجائے مسلمانوں کے درد کو بتایا ۔ انھوں نے کہا کہ دلتوں اور مسلمانوں کے مسائل یکساں ہیں، ان کا درد ایک ہے، یہ ان کا پیغام تھا۔
نتیش کمار کی تقریر ایک وزیر اعلیٰ کی تقریر تھی، سیاسی تقریر۔ شروعات میں انھوں نے بہار کے اپوزیشن لیڈر پر چٹکی لی، پھر اپنی حکومت کی حصولیابیاں شمار کرانے لگے۔ بھاگلپور کے فسادیوں کو سزا دلانے کا شرف لیا۔ اس کے بعد اعداد و شمار کے ساتھ انھوں نے بتایا کہ کس طرح بہار حکومت نے مسلمانوں کے لیے خصوصی اسکیم نافذ کی اور کس طرح وہ کامیاب رہی۔علاوہ ازیں انھوں نے مرکزی حکومت پر نشانہ لگایا۔ مرکزی حکومت کی ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ پروگرام کی خامیاں اجاگر کیں اور بہار حکومت کی طرف سے صفائی دی۔ یہ پروگرام ملک کے کثیر اقلیتی اضلاع کی ترقی کے لیے بنایا گیا ہے۔ ویسے اقلیتوں کے درمیان نتیش کمار کی شبیہ کافی اچھی ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلیٰ سنتوش بھارتیہ نے نتیش کمار کی حکومت کو یہ چیلنج دیا کہ اس مرتبہ الیکشن میں مسلمانوں نے نتیش کمار کا چہرہ دیکھ کر بھروسہ کے ساتھ این ڈی اے کو ووٹ دیا ہے۔ اس یقین کو بچائے رکھنے کا کام حکومت کا ہی ہے۔ انھوں نے دو ٹوک کہا کہ اگر مسلمانوں کی ترقی کے لیے حکومت نے کچھ نہیں کیا تو نتیش کمار کی حالت بھی لالو پرساد کی طرح ہو جائے گی۔
مولانا ولی رحمانی نے جب بولنا شروع کیا تو نتیش سرکار کی پول پرت در پرت کھل گئی۔ مولانا ولی رحمانی کی تقریر سن کر ایسا نہیں لگا کہ وہ کوئی مولانا ہیں، بلکہ وہ ایک وکیل کی طرح اپنی دلیلیں دے رہے تھے، حزب اختلاف کے ایک لیڈر کی طرح بول رہے تھے۔ جب وہ بول رہے تھے، تب نتیش کمار جا چکے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اسٹیج پر اچھی اچھی باتیں سننے کو ملتی ہیں، لیکن اصلیت یہ ہے کہ چاہے وہ بہار سرکار ہو یا پھر مرکزی حکومت، اس نے مسلمانوں کے ساتھ صرف دھوکہ کیا ہے۔ تعلیم کے میدان میں جب مسلمان آگے بڑھتے ہیں تو ان کی ٹانگ کھینچ دی جاتی ہے۔ معاملہ قبرستان کی گھیرابندی کا ہو، مسلمانوں کے لیے کٹیہار میڈیکل کالج کا ہو یا پھر مسلمانوں کے درمیان کام کرنے والے این جی او یا مرکزی حکومت کی اسکیموں کا، مولانا ولی رحمانی نے پوری تحقیق اور اعداد و شمار کے ساتھ حکومت کی ناکامی کو اجاگر کیا۔ شیعہ رہنما اور اسلامک اسکالر کلب روشید رضوی نے سب سے زیادہ تالیاں بٹوریں۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ ان میں اتحاد نہیں ہے، کیوں کہ سیاست نے پورے سماج کو تقسیم کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کر سکیں۔
بنگال سے آئے ترنمول کانگریس کے لیڈر اور مرکز ی وزیر مملکت برائے سیاحت  سلطان احمد نے کہا کہ مسلمانوں کی چنوتیاں وہی ہیں جو ملک کی چنوتیاں ہیں۔ ساٹھ سالوں کے بعد بھی اگر ہمیں خط افلاس کھینچنی پڑے، روٹی، کپڑا، مکان، سڑک، بجلی اور پانی کے لیے جدوجہد کرنی پڑے تو ہمارے سامنے چنوتیاں ہی چنوتیاں ہیں۔ انھوں نے حکومت کو جوابدہ بنانے میں عوامی حصہ داری کی بات کہی اور بتایا کہ اقلیتوں کے لیے مرکز سے صوبوں میں پیسہ آتا ہے، لیکن ضلع کلکٹر اسے خرچ نہیں کرتا ہے، پیسہ واپس چلا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ضلع کے افسروں سے جواب طلب کرنا چاہیے کہ اس پیسے کا کیا ہوا۔ جب تک مسلمان متحد ہو کر حکومت اور سرکاری اہل کاروں پر دباؤ نہیں بنائیں گے تب تک مسلمانوں کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ نہیں ملنے والا۔ اتر پردیش کی پیس پارٹی کے صدر ڈاکٹر ایوب نے مسلمانوں کی چنوتیوں سے نمٹنے کا راستہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو آزادی کے بعد سے آج تک گمراہ ہی کیا جاتا رہا۔ گمراہ کرنے والی سیاسی پارٹیوں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ان کے چہرے الگ ہیں، زبان بہت میٹھی ہے، مگر دل بہت کالا ہے۔ عمل بالکل نہیں ہے۔ ان سے  گمراہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر سرکاروں نے مسلمانوں کو گمراہ نہ کیا ہوتا تو 63 سالوں میں ان کی حالت بد سے بدتر نہ ہوتی۔ انھوں نے مسلمانوں کی چنوتیوں سے نمٹنے کے لیے سیاسی اتحاد کا راستہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ جب تک سیاسی اقتدار میں حصہ داری نہیں ملتی، تب تک مسلمانوں کی ترقی نہیں ہوگی۔ ڈاکٹر ایوب کی دلیل صحیح اس لیے ہے کیوں کہ جمہوریت کا مطلب ہی یہی ہے کہ لوگ اپنی ترقی کے لیے سیاسی اقتدار کا استعمال کریں۔ مسلمانوں نے اب تک اس کا استعمال کرنا نہیں سیکھا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے اگر مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے تو اس کے لیے جتنی ذمہ داری یہ پارٹیاں ہیں، اتنے ہی ذمہ دار مسلمان بھی ہیں۔
سابق رکن پارلیمنٹ اعجاز علی نے مسلمانوں کے اندر موجود الگ الگ فرقوں کی وضاحت کی۔ انھوں نے کہا کہ غریب مسلمانوں کی چنوتیاں الگ ہیں اور امیر مسلمانوں کی چنوتیاں الگ ہیں۔ انھوں نے یہ دلیل دی کہ آج مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی خراب ہے، اس لیے مسلمانوں کو بھی دلتوں کی طرح ہی سہولتیں دی جائیں۔ دلتوں کی طرح ہی غریب مسلمانوں کو بھی ریزرویشن ملے۔ یہ مسلمانوں کا حق ہے۔ پس ماندہ مسلمانوں کے رہنما اور جے ڈی یو لیڈر علی انور جب بولنے آئے تو ہنگامہ ہوگیا۔ علی انور نے کہا کہ اگر مذہب کے نام پر ریزرویشن کا مطالبہ کیا گیا تو عدالت ایسے قانون کو رد کر دے گی، اس لیے ریزرویشن کی بنیاد سماجی پس ماندگی ہونی چاہیے۔ حالانکہ علی انور مدلل بات کر رہے تھے۔ یہی بات اعجاز علی نے کہی اور ان کے بعد رام ولاس پاسوان نے بھی یہی کہا، لیکن بہار کے عوام ہیں کہ بغیر کسی ہنگامہ کے کسی پروگرام کو وہ کامیاب ہی نہیں مانتے، اس لیے ہنگامہ ہوا، پروگرام کامیاب ہوگیا۔ ایک بات جو سمجھ میں نہیں آئی کہ اس سیمینار میں کچھ ایسے مقررین کو بھی بولنے کا موقعہ دیا گیا جو موضوع پر کم بولے اور انھوں نے اس سیمینار کو اپنی سیاست چمکانے کا ایک ذریعہ بنایا۔ بیگوسرائے کے لیڈر مناظر حسن نے اپنا سارا وقت نتیش کمار کی تعریف میں لگا دیا۔ مسلمانوں کی چنوتیوں پر کچھ نہیں کہا۔ شاید انھیں مسلمانوں کی چنوتیوں کے بارے میں کوئی اندازہ نہ ہو یا پھر انھوں نے اس سیمینار کے ذریعہ نتیش کمار کی نظروں میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو پھر سے مضبوط کرنے کی کوشش کرنا مناسب سمجھا۔
اس سیمینار کا ماسٹر اسٹروک بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سشیل کمار مودی نے مارا۔ ان کی سادگی کی تعریف ہونی چاہیے۔ کہاں ایسا لیڈر ملتا ہے آج کل، جو دن بھر بیٹھا رہے اور لوگوں کی فقرہ کشی پر مسکراتا رہے۔ وہ اس سیمینار میں سب سے پہلے آئے اور سب سے آخر میں بولے۔ درمیان میں انھیں بھوک بھی لگی، فوراً کھانا کھاکر واپس اسٹیج پر آکر بیٹھ گئے۔ وہ اس سیمینار کے صدر تھے، اس لیے ان کی تقریر فیصلہ کن تھی۔ انھوں نے ایک ایسی بات کہی، جسے سن کر ایسا نہیں لگا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک کے مسلمانوں کو اپنی حب الوطنی کا امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ 1947 میں جب بٹوارہ ہوا، جن لوگوں نے یہاں رہنا قبول کر لیا، وہ امتحان میں پاس ہوگئے۔ اب ہر پانچ سال پر ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ نئی نسل نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انھیں تو پتہ بھی نہیں کہ بٹوارہ کیا تھا۔ وہ پچھلی باتوں کو بھول کر آگے بڑھنا چاہتی ہے، نئی تاریخ رقم کرنا چاہتی ہے، اس لیے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے ایسا ماحول دیں، جس میں وہ ہندوستان کو آگے لے کر جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ اگر مسلمانوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ نہ دیا ہوتا تو ہم انتخاب نہیں جیت پاتے۔ ہم کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں دیں گے کہ سشیل کمار مودی یا این ڈی اے کی سرکار نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں کوئی امتیاز برتا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک ایسی بات کہی جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے کسی بھی لیڈر کے منہ سے سننے کو نہیں ملتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیس کروڑ سے زیادہ اقلیتی طبقہ اگر کمزور رہ گیا، تعلیم میں پیچھے رہ گیا، اگر وہ مالی اعتبار سے پس ماندہ رہ گیا تو یہ ملک کبھی مضبوط نہیں بن پائے گا اور کوئی بھی سیاسی پارٹی اس بیس کروڑ کی آبادی کی اندیکھی کرکے، اس کے ساتھ امتیاز کرکے سیاست نہیں کر سکتی ہے۔ اب پتہ نہیں کہ سشیل کمار کے ان نظریات کو دہلی میں بیٹھے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سن پاتے ہیں یا نہیں۔
اس پروگرام کو 11 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر دیکھا۔ انھوں نے ان لیڈروں کے بارے میں اندازہ لگایا ہوگا کہ ہمارے لیڈران مسلمانوں کی چنوتیوں سے واقف ہیں بھی کہ نہیں۔ وہ جو بولتے ہیں اور جو کرتے ہیں، اس میں کیا فرق ہے۔ ای ٹی وی کی اس مہم کی ستائش ہونی چاہیے۔ اتنا ضرور کہنا پڑے گا کہ اس سیمینار نے مسلمانوں کو بیدار کیا ہے۔ مسلم سماج بدل گیا ہے۔ اسے اب جذباتی مدعوں سے زیادہ تعلیم، روزگار، اختیار اور ترقی کی فکر ستا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہار میں تبدیلی کی ہوا چلی تو مسلمان بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی ووٹ دینے میں نہیں ہچکچائے۔ کیرالا، آسام اور تمل ناڈو میں بھی مسلمانوں نے اس دفعہ الگ سوچ کے تحت ووٹنگ کی۔ بنگال میں تو مسلمانوں نے کمال ہی کر دیا۔ ایک ہی جھٹکے میں 35 سال سے اقتدار پر قابض حکومت کو دھول چٹا دی۔ مسلمان اپنے ووٹ کی قیمت کو سمجھنے لگا ہے۔ پہلے وہ ٹھگا جاتا تھا، سیکولر- کمیونل کی دیوار میں پھنس جاتا تھا، لیکن مسلم سماج اب بدل چکا ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *