مسلمانوں اور یوپی کے لوگوں کے خلاف بولنے والے بال ٹھاکرے کے رول کا کیوں انتخاب کیا؟ نواز نے دیا یہ جواب

Share Article

نواز نے کہا کہ جس دوران مہاراشٹر میں میلیں بند ہو رہی تھیں، اس دوران کئی ہزار مراٹھی لوگ بے روزگار ہو گئے تھے۔ اس دوران بالا صاحب نے مراٹھیوں کے دکھ درد کو سمجھا۔

 

 

نواز الدین صدیقی کی فلم بال ٹھاکرے باکس آفس پر اچھی کارکردگی کر رہی ہے۔ شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کی زندگی پر بنی فلم میں نواز کو اپنے رول کے لئے کافی تعریفیں مل رہی ہیں۔ کمرشیل اور آفبیٹ فلموں میں توازن بنا کر چلنے والے نواز کی پچھلی فلم منٹو نے خاص کارکردگی نہیں کیا۔ اگرچہ بہت نقادوں نے اس فلم کی تعریف بھی کی تھی۔بال ٹھاکرے جہاں مراٹھی لوگوں کے درمیان بہت مقبول رہے، وہی اپنے بیانات کے سبب کافی متنازعہ بھی رہے۔ اسی متنازعہ تصویر کے بارے میں نواز نے بات چیت کی۔

Image result for nawazuddin bal thackeray

 

ایک انٹرویو میں نوازالدين صدیقی سے جب پوچھا گیا کہ بال ٹھاکرے اترپردیش کے لوگوں کے خلاف بولتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف بولتے تھے اور آپ تو اتر پردیش کے مسلم ایکٹر ہیں تو اس رول پر آپ کی رائے کیا تھی؟ اس پر نواز نے کہا کہ ‘اس بات کو ایسے بھی تو دیکھا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں نے میرے جیسے اداکار کو کاسٹ کیا ہے، اس کے لئے آپ لوگوں کو ان لوگوں کی تعریف کرنی چاہئے۔جب نواز سے پوچھا گیا کہ ‘کیا ایک اداکار کے طور پر آپ نے اس رول کو کس کیٹیگری میں ڈالا یا آپ کی کوئی نظریہ ہی نہیں ہے؟ اس پر نواز نے کہا کہ ‘میری کوئی نظریہ نہیں ہے۔ نہ ہی میری کوئی فلوسپی ہے۔ میں اگلے جنم میں اپنے لئے کوئی نہ کوئی نظریہ ڈھونڈ لوں گا لیکن اس جنم میں میں نے صرف آرٹسٹ رہنا چاہتا ہوں۔

نواز نے کہا کہ ‘جس دوران مہاراشٹر میں میلیں بند ہو رہی تھیں، اس دوران کئی ہزار مراٹھی لوگ بے روزگار ہو گئے تھے۔اس دوران بالا صاحب نے مراٹھیوں کے دکھ درد کو سمجھتے ہوئے اپنا سارا زندگی مراٹھیوں کی زندگی کی بہتری کے لئے لگا دیا تھا، تو بالاصاحبکے اس خیال کے بارے میں بھی تو لوگوں کو سوچنا چاہئے۔ یہ ضرور ہے کہ ان کی تصویر متنازعہ رہی ہے۔غور طلب ہے کہ نوازالدین کی فلم ٹھاکرے باکس آفس پر اچھی کارکردگی کر رہی ہے۔ تقریبا 20 کروڑ کے بجٹ میں بنی اس فلم نے اپنی ریلیز کے دو دنوں کے اندر ہی تقریبا 14 کروڑ کی کمائی کر لی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *