مسلمانوں کو انا پرستی کے خول سے باہر آنا چاہئے

Share Article
K Rahman Khan

ہندوستان کے معروف مسلم سیاسی لیڈروں میں کے رحمن خاں کا شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے ملک میں قومی اور کرناٹک میں ریاستی سطحوں پر سیاست کو متاثر کیا ہے۔ ملی طور پر بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔ کرناٹک لیجلیچر کونسل کے چیئرمین اور راجیہ سبھا کے چیئر مین کے علاوہ یہ مرکز میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت میں وزیر برائے اقلیتی امور بھی رہے۔ درج ذیل خصوصی انٹرویو میں مسلم امپاورمنٹ پر انہوں نے خاص طور سے ڈسکس کیا ہے۔

 

 

 

 

سوال: یو پی اے سرکار میں وزیر اقلیتی امورکے طور پر مسلمانوں کی مجموعی ترقی کیلئے سچر کمیٹی کی سفارشات کے نفاذ کیلئے آپ کے کیا اقدامات رہے؟
رحمن خان: حکومت میں اقلیتی امور کا قلمدان سنبھالتے ہی میری اولین ترجیح سچر کمیٹی کی سفارشات کو مکمل طور پر روبہ عمل لانے پر مرکوز رہی۔ اس کمیٹی کی سفارشات کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ کل 72سفارشات میں تعلیمی پسماندگی دور کرنے پر خاصی توجہ دی گئی تھی۔ اس ضمن میں ہم نے اقلیتوں میں تعلیمی رجحان کو بڑھاوا دینے، قومی سطح پر اسکالرشپ کا ایک بڑا پروگرام بنایا۔ آغاز میں دس لاکھ بچوں کو اسکالرشپ کے حصول سے جوڑا گیا جوکہ ایک بڑا اقدام تھا۔ پرائمری سے پوسٹ گرایجویشن تک اقلیتوں کے طلباء میں اسکالرشپ کی تقسیم کو قومی سطح پرمنظم طور پر یقینی بنایا گیا۔ دوسری اہم سفارش سچر کمیٹی کی یہ تھی کہ مسلمانوں کے علاقوں میں بلدی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں ملٹی سیکٹورل ڈولپمنٹ پروگرام ترتیب دیا گیا جس کے تحت ملک بھر میں چھ سو ایسے اضلاع کی نشان دہی کی گئی جہاں مسلمان کثرت میں بستے ہیں اور بنیادی انفراسٹکچر سے محروم ہیں۔ ان اضلاع میں90اضلاع کا پہلے مرحلے میں انتخاب ہوا جہاں بڑے پیمانے پر ان علاقوں میں اسکول، پینے کے پانی، اسپتال، سڑکیں اور دیگر تعمیرات پر توجّہ دی گئی۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ ضلع کا پیمانہ اور دائرۂ کار بڑا ہوتا ہے اور اس اسکیم کے نفاذ میں دقتیں درپیش تھیں ، اسلئے مائیکرو لیول پر ہم نے بلاک سطح 800 مسلمانوں کے بلاک کی نشاندہی کی گئی۔ جو رقم مختص کی گئی تھی اس اسکیم میں وہ800 مسلم محلوں کی ترقی کے لئے قومی سطح پر تقسیم کی گئی۔ مذکورہ کمیٹی کی ایک اور اہم سفارش تھی اوقافی جائیدادوں پر غیر قانونی قبضہ جات پر روک لگانا اور ان املاک کی ترقی کے لئے ایک کارپوریشن قائم کیا جائے۔ لہٰذا ہم نے NAWADCOنیشنل وقف ڈولپمنٹ کارپوریشن قائم کیا۔ اقلیتوں کو دیگر طبقات کے ساتھ مساوی مواقع ترقی کے فراہم کئے جائیں، اس سفارش کو عملی طورپر لاگو کرنے کے لئے ایکول آپرچنیٹیس کمیشن کے قیام کے لئے کابینہ سے منظوری حاصل کرلی گئی تھی۔ پارلیمنٹ میں بل پاس کرنے کے دوران حکومت کی میعاد ختم ہوگئی اور یہ معاملہ التوا رہ گیا۔ ان تمام اقدامات کے علاوہ اقلیتوں کی ترقی کے لئے پرائم منسٹرکے 15 پندرہ نکاتی پروگرام کے نفاذ میں تیزی لانے اور اطمینان بخش عمل آوری کے لئے جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر کنڈو جو ماہر معاشیات بھی ہیں، ان کی قیادت میں اس پروگرام کے نفاذ کا جائزہ لینے ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ اس کمیٹی نے سچر کمیٹی کی سفارشات کی عمل آوری کی صورتحال اور اقلیتوں کو اس سے ملنے والی سہولیات پر مفصّل رپورٹ پیش کی ہے۔ جو منظر عام پر آئی ہے۔ اسی طرح ملک کے پانچ علاقوں میں اقلیتوں کے پانچ یونیورسٹیوں کے قیام اور امور حج میں بہتری کے لئے حج فینانس کارپوریشن کے قیام کے لئے کابینہ کی منظوری مل گئی تھی۔ کئی ایک منصوبے حکومت کی میعاد ختم ہونے سے اس طرح ادھورے رہ گئے۔
سوال:ریاست کرناٹک کے مسلمانوں کی مجموعی صورتحال پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟
رحمن خان: ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں ریاست کرناٹک کے مسلمان معاشی، تعلیمی، معاشرتی بلکہ ہر لحاظ سے بہتر اور آگے ہیں۔ ان میں تعلیمی بیداری بھی آئی ہے۔اس طرح ملک کی معاشی ترقی میں وہ بھی حصہ دار بن رہے ہیں، ان میں سیاسی شعور اور بیداری بھی ہے۔عملی سیاست میں سیاسی نمائندوں کا متحرک رول رہا ہے۔ ریاست میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے موازنہ کریں تو مسلمان ترقی اور بیداری کے لحاظ سے پیچھے رہ گئے ہیں ۔ اس پچھڑے پن کیلئے حکومت یا دوسروں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ جمہوری ملک میں سب کو یکساں مواقع حاصل ہیں باوجود اس کے کرناٹک کے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کمزور کیا جارہا ہے۔ یہ میری نظر میں صرف ایک تصور ہے ، حقیقت نہیں ہے۔ مسلمانوں میں پسماندگی کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس پسماندگی کو دور کرنے اور خود اعتمادی پیدا کرنے میں مسلم دانشوران، دینی وسیاسی رہنماؤں نے صحیح رول ادا نہیں کیا ہے۔ یہ سب ایک متحدہ پلیٹ فارم پر نہیں آسکے۔ آپسی اَنا پرستی سے اوپر اٹھ کر انہیں مسلمانوں کی حالت سدھارنے کی جانب توجہ دینا ہے۔ آپسی اختلافات کو ختم کرکے اجتماعیت کو اپنانا ضروری ہے۔میں نے اپنی 45سالہ عوامی زندگی میں سماجی، سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں خاطر خواہ رول ادا کیا ہے۔

 

 

مایا، ممتا اور اکھلیش نے بگاڑا کانگریس کے جشن کا ماحول

 

 

سوال: امانت بینک کی ناکامی کیلئے آپ کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے؟
رحمن خان: دیکھئے، بینک میں بدعنوانی اور فراڈ بینک کے چند ملازمین کی غیرذمہ داری سے ہوا۔چونکہ اْن دنوں میں بینک کا صدر تھا، اس صورتحال کیلئے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے میں بینک کے عہدے سے مستعفی ہوگیا۔
سوال: اکثر آپ مسلمانوں میں مثبت فکر وعمل کی باتیں کرتے ہیں، اس ضمن میں کچھ ٹھوس کام کیا ہے آپ نے؟
رحمن خان: سال 1975 سے مجھے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ایک معیاری اردو اخبار نکالنے کا خیال ہوا۔ میں نے جناب محمود ایاز کا اخبار روزنامہ سالار سال1978 میں ٹیک اُوَر کرلیا۔ اس اخبار کے ذریعہ مسلمانوں کی ذہن سازی کیلئے صداقت پر مبنی غیر جانبدار ، بے لاگ خبرنگاری اور تبصروں اور تجزیات کی روایت کو آگے بڑھایا ۔
سوال: کرناٹک میں مسلم نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی آپ باتیں کرتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں آپکی کوششیں کیا رہی ہیں؟
رحمن خان: جب 1993 میں مجھے کرناٹک اقلیتی کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا میں نے دس لاکھ اقلیتوں کے خاندان کو یعنی پچاس لاکھ افراد کی فرداً فرداً تعلیمی، سماجی اور معاشی صورتحال جاننے کے لئے سروے کروایا۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ ملک کا پہلا’ ڈور ٹو ڈور ‘سروے تھا جس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں پسماندگی، دیگر اقلیتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اقلیتی کمیشن نے اپنی سفارشات میں دستور کے آرٹیکل 14اور 15کے تحت اقلیتوں کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات پر توجہ مبذول کروائی۔سفارشات کو ریاستی حکومت (اسوقت شری ویرپّا موئیلی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے) نے قبول کرتے ہوئے پسماندگی سے دوچار مسلمانوں کیلئے ریاست میں تعلیم اور ملازمتوں میں چار فیصد ریزرویشن کے احکامات جاری کئے۔ اسطرح مسلم نوجوانوں کو ترقی سے جوڑنے کے لئے یہ ایک عہدساز قدم ہے اور اس پر میں مطمئن ہوں کہ میں نے اپنے کام کے ساتھ انصاف کیا ہے۔

 

 

حلف برداری تقریب:اشوک گہلوت بنے سی ایم، سچن پائلٹ ڈپٹی سی ایم

 

 

 

سوال: ملک کا موجودہ منظرنامہ اور ہندوستانی مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں آپ کا کیا تجزیہ ہے؟
رحمن خان: ملک کی آزادی کے 72سالوں میں ہندوستانی مسلمان کبھی بھی اپنے آپ کو اتنا لاچار محسوس نہیں کیا تھا جتنا کہ آج وہ ہے۔ تقسیم ملک اور حصول آزادی کے بعد مسلمان ہندوستان میں آزمائشوں سے گزرتا آیا ہے۔ معاشی، تعلیمی پسماندگی، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں تعصبات، وقتاً فوقتاً فرقہ وارانہ فسادات مسلمان سہتا آیاہے۔ اس کے علاوہ نریندر مودی کے دور حکومت میں احساس عدم تحفظ اور رواداری سے مسلمان دوچار ہے۔ ان چار سالوں میں ملک کی ایک بڑی اقلیت اس طرح کے احساس کا شکار ہے جو ملک کے تحفظ کے لئے بھی خطرہ ہے۔ ان حالات کے پیدا کرنے والے کون ہیں یہ سب جانتے ہیں۔ اس ملک میں مسلمان اقلیت میں تو ہیں مگر کوئی بھی حکومت یا قوم انہیں نظر انداز نہیں کرسکتی ۔ہندوستان میں ہر چھٹواں شہری مسلمان ہے۔ لگ بھگ 20کروڑ اس ملک کے مسلمان کسی بھی طرح اقلیت نہیں ہوسکتے۔
سوال: مسلسل آپ چارمیعادوں کے لئے راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہوئے، مسلمانوں سے جْڑے مسائل کو حل کرنے کے لئے آپ کس حد تک کامیاب رہے ہیں؟
رحمن خان: اقلیتوں اور مسلمانوں کے حوالے سے میں مسائل کی یکسوئی کے لئے مباحث میں برابر حصّہ لیتا رہا۔ دو مرتبہ راجیہ سبھا میں ڈپٹی چیئرمین بھی رہا، اس دوران ملک کے اوقافی اداروں کی کارگر دیکھ بھال ، اوقافی املاک پر غیر قانونی قبضہ جات کے تدارک اور وقف بورڈوں کی بہتر کارکردی کو یقینی بنانے ،اوقاف سے متعلق جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی( JPC)کی تشکیل کیلئے حکومت کو صلاح دی۔ اس مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا رکن رہا اور دو مرتبہ اسکا صدر بھی نامزد ہوا۔ ملک بھر وقف بورڈوں کا دورہ اور ریاستوں میں اہم اوقافی اداروں کا سروے کرنے کے بعد حکومتِ ہند کو اوقافی املاک کا غلط استعمال، غیرقانونی قبضہ جات، اوقافی بورڈ اور اداروں کی ذمہ دارانہ کارکردگی کیلئے سفارشات پیش کیں۔ یہ تمام سفارشات اوقاف ترمیمی ایکٹ 2013میں شامل کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ RTEایکٹ میں دستور کے آرٹیکل 30کے تحت ترمیم کے لئے میں نے کوششیں کی جس کے تحت اب اقلیتی تعلیمی اداروں کو 25فیصد اپنی سیٹیں رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کے تحت مختص کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، اس طرح اقلیتی تعلیمی اداروں کے مفاد کے تحفظ کیلئے جتن کئے۔

 

 

 

بی جے پی کے لیے2019کا چناؤ مشکل

 

 

 

سوال: ملک کے مسلمانوں کو موجودہ تناظر میں کیا ضروری ہے کہ وہ اپنی سوچ بدلیں؟
رحمن خان: اب وقت آگیاہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ یہ مانیں کہ یہ ملک ہمارا بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ دوسروں کا۔ہمارا آئین ہمیں یکساں حقوق دیتا ہے۔ مسلمانوں نے اس عظیم ملک کے لئے قربانیاں دی ہیں، ملک کی ترقی میں حصہ دار ہیں۔ یہ احساس ہمارے نوجوانوں میں ہمیں عام کرنا ہے، شرپسندوں کی سازشوں سے ہمیں ڈرنے کی ضرور ت نہیں ہے، ہمارا آئین ہمارے ساتھ ہے اور ہمارا تحفظ یقینی ہے۔
سوال: ان دنوں مسلمانوں کے مذہبی امور اور شریعت میں بے جا مداخلت سے مسلمان بے چینی محسوس کرتے ہیں اور مسلم لیڈر شپ بے اثر ثابت ہورہی ہے، آپ کیا کہنا چاہیں گے؟
رحمن خان: ہندوستان کثیر المذاہب ملک ہے۔ یہاں ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا دین دیگر مذاہب کے احترام کا بھی درس دیتا ہے، انسانیت کی قدر کرنا سکھاتا ہے، ہمارے مذہبی معاملات میں جب کبھی بھی مداخلت ہوتی ہے تو ہماری عدالتیں فعال ہیں وہ ہر شہری کو اسکا جائز حق دلواسکیں اور اس کی مذہبی آزادی کی بھی حفاظت کرسکیں۔ حال ہی میں جو طلاق ثلاثہ کا تنازعہ کھڑا کیا گیا ہے، جو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے اس پر حکومت اپنے فائدے کیلئے جس طرح مسلمانوں کے شرعی معاملات میں مداخلت کررہی ہے، اس معاملے میں بڑی معذرت کے ساتھ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ انسانیت کے دائرے میں وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھے ہوئے ہم نے صحیح فیصلہ نہیں لیا ہے، قوم کی صحیح رہنمائی نہیں کی ہے۔ اب صورتحال افسوس ناک طور پر یہ آئی ہے کہ آج کورٹ اور حکومت شریعت ہمیں سمجھا رہی ہے۔ کیا یہ کام شریعت کی رہنمائی کرنے کی ذمہ داری جس ادارے پر ہے وہ یہ ذمہ داری انجام نہیں دے سکتے اور شرعی معاملات کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات نہیں کرسکتے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس ضمن میں مزید متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ظاہر ہے مسلم قیادت کو بھی فعال ہونے کی ضرورت ہے۔
سوال: اکثر مسلم عوامی نمائندے اپنے طبقے کی امیدوں پر نہیں اترتے،اس کی کیا وجوہات ہیں؟
رحمن خان: مختلف سیاسی جماعتوں کے مسلم نمائندے یہ سمجھیں کہ وہ جمہوری اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی کررہے ہیں۔ ان کے مفادات کے تحفظ اور ان کے مسائل کی یکسوئی کیلئے اپنے طبقے کیلئے جوابدہ ہیں۔ ان نمائندوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انہیں نمائندگی کے جو مواقع ملے ہیں وہ مسلمان ہونے کے ناطے ملے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کی نمائندگی کیلئے انہیں آزادی ملنا چاہئے۔سیاسی پارٹیوں سے وابستہ ہمارے مسلم نمائندوں میں جب یہ احساس جاگ اٹھے گا کہ ہمیں بلا خوف ہمارے معاشرے کی نمائندگی کرنی ہے تو مسلمانوں کے مسائل کا تدارک ممکن ہوسکے گا۔ مسلمانوں کو بھی یہ چاہئے کہ اپنے اداروں کے زیر اہتمام اپنے نمائندوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے جواب دہی کے اجلاس منعقد کریں۔
سوال: ملک میں آئے دن ہجومی تشدد نے مسلمانوں میں دہشت عام کردی ہے۔ آپ کے تاثرات ؟
رحمن خان: آنے والے الیکشن کے مد نظر حکومت ہجومی تشدد کو روک نہیں پارہی ہے، یہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے۔ جہاں ملک میں سیکولرزم کو کمزور کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، میرا یہ مشورہ ہے کہ پورے ملک میں مسلمان دوسرے قوموں کے مثبت اور اچھی سوچ رکھنے والے لوگوں کے ساتھ مل کر ان عناصر کا مقابلہ کریں۔ صرف قانون کے ذریعہ ہی اس ماحول کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ماحول کو بدلنا ہے تو صحیح سوچ رکھنے والے دیگر برادران وطن کے ساتھ ملکر ہمیں یہ لڑائی لڑنا چاہئے۔ ہماری بڑی بڑی تنظیموں کو آگے آنا چاہئے اور باہمی یگانگت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔
سوال: مسلمان کو آج بھی ووٹ بینک سمجھا جاتا ہے، ایسا کیوں ہے۔؟
رحمن خان: ہم میں انتشار ہے، ہم سیاسی پارٹیوں کے غلام ہوگئے ہیں، ہمارے ووٹ خود ہم بٹنے دیتے ہیں۔پولرائزیشن کے شکارہم خود ہوتے رہے ہیں، سیاسی حیثیت کوہماری منوانے کیلئے سیاسی ہتھگنڈوں سے ہمیں باز رہنا چاہئے اور متحد ہوکر اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے، ہمارا طرز فکر وعمل اس طرح سنجیدہ اور دور اندیش ہو، کوئی بھی سیاسی پارٹی ہمیں برائے نام اپنے مفاد کے لئے آلہ کار نہ سمجھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *