این آئی اے کی چھاپہ ماری میں گرفتار مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرے گی جمعیۃ علماء ہند :مولانا محمود مدنی 

Share Article
maulana-mahmood-madani
این آئی اے کی حالیہ چھاپہ ماری میں دہلی اور یوپی سے گرفتار مسلم نوجوانوں کے اہل خانہ حیران وپریشان ہیں اور اپنی مفلسی اور غربت میں ہونے والے اس ڈراؤنے حادثہ نے ان کے ارد گرد تاریکی پھیلادی ہے ۔ان حالات کے مدنظر جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ( این آئی اے کورٹ ) میں جمعیۃ کے وکلاء دن بھر موجود رہے اور ملزمین کی طرف سے پیش ہوئے۔ جمعےۃ کے وکیل ایڈوکیٹ نوراللہ نے بتایا کہ وکلاء کی درخواست پر عدالت نے اہل خانہ کو ملزمین سے ملنے کی اجازت دی ، اس کے علاوہ وکلاء کی مخالفت پر این آئی اے ٹیم کے پندرہ روزہ ریمانڈ کو مستر د کرتے ہوئے اسے بارہ یوم میں محدود کردیا ۔
دوسری طرف تنظیم کے ایک وفد نے امروہہ جاکر ان ملزمین کے اہل خانہ سے ملاقات کی ۔امروہہ سے آٹھ کلو میٹر دور سید پور ایما کے رہنے والے سعید اور رئیس گرفتار ہوئے ہیں ، جمعیۃ کے وفد نے وہاں جا کر ان کے والدین سے ملاقات کی جو انتہائی غریب اور مفلس ہیں۔اسی طرح شہر امروہہ میں ملزم مفتی سہیل کے اہل خانہ مفتی حمزہ، مفتی ابرار اور چچا کفیل اور ملزم ارشاد کی والدہ وغیرہ سے بھی ملاقات کی ۔وفد میں مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعےۃ علماء ہند ، مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری مدعو خصوصی مجلس عاملہ جمعےۃ علماء ہند، مولانا مفتی قاری یامین جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء یوپی مغربی زون ، مولانا دلدار، ماسٹر ذاکر، ماسٹر ہدایت وغیرہ شریک تھے ۔
مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ ان کی جماعت بے قصور نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کو پرعزم ہے۔ہمار ے وکلاء ان حالات پر پوری نگاہ رکھے ہوئے ہیں ، ملزمین میں سے بیشتر کے اہل خانہ مزدور پیشہ ہیں ، ان کو قانونی امداد کی سخت ضرورت ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعےۃ علماء ہند دہشت گردی کے خلاف طویل عرصے سے جدو جہد کررہی ہے ،تاہم اس بات کو ہرگز قبول نہیں کرتی ہے کہ دہشت گردی کے نام پر بے قصور افراد کو نشانہ بنایا جائے۔ ہماری جماعت پہلے سے بڑی تعداد میں ایسے نوجوانوں کا مقدمہ لڑرہی ہے جن میں سے بڑی تعداد میں ملزمین باعزت بری ہو ئے ہیں ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *