تلنگانہ میں 40فیصد سیٹوں پر مسلم ووٹ فیصلہ کن

Share Article

تلنگانہ میں 7 دسمبر 2018 کو اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ریاست کے مجموعی ووٹروں میں مسلم ووٹروں کا اوسط 12.7 ہے اور 40 فیصد سیٹوں پر مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کی نظریں مسلم ووٹ پرمرکوز ہوتی ہیں۔ایک طرف کانگریس تلنگانہ میں قدم جمانے کیلئے بے چین ہے اور وہ آندھرا پردیش میں برسراقتدار پارٹی( ٹی ڈی پی)، تلنگانہ جنا سمیتی اور سی پی آئی کے ساتھ ’’پرجا کوٹامی ‘‘ یعنی عوامی اتحاد نامی اتحاد بنا کر کے چندر شیکھر راؤ کو اقتدار سے ہٹانا چاہتی ہے تو چندر شیکھر رائو کی تلنگانہ راشٹر سمیتی اور اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلین کانگریس کے اتحاد کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔چندر شیکھر رائو کانگریس اتحاد کی جیت کو ’’ سیاہ دن ‘‘ سے تعبیر کررہے ہیں۔ریاست میں مسلم ووٹوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ یہاںکے کئی ایسے اضلاع ہیں خاص طور پر حیدر آباد میں رنگا ریڈی، محبوب نگر، نال گونڈہ، میداک ، نظام آباد اور کریم نگر وغیرہ جہاں صرف مسلم ووٹ ہی کسی بھی امیدوار کو جیت دلاسکتے ہیں۔
تلنگانہ سوشل ڈیولپمنٹ رپورٹ 2017 کے مطابق، صرف حیدرآباد میں 1.73 ملین مسلم آباد ہیں جو کہ سٹی کی ایک چوتھائی اور ریاست کی کل آبادی کا 43.5 فیصد ہے۔ دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ سٹی میں کل 24اسمبلی حلقے ہیں اور ان میں سے تقریباً 10 سیٹوں پر مسلمانوں کے ووٹس اکثریت میں ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حیدرآباد میں مسلمان زیادہ تر سٹی میں ہی آباد ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام ووٹرس تقریباً دو دہائی سے مجلس اتحاد المسلمین کے ووٹر رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اس پارٹی کوسٹی کی 7 سیٹوں پر جیت حاصل ہے۔

 

 

 

 

جب ریاست آندھرا پردیش منقسم ہوکر دو حصوں میں بٹ رہا تھا تو اس وقت اتحاد المسلین نے تقسیم کی سخت مخالفت کی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ تقسیم کے بعد پولرائزیشن کی وجہ سے بی جے پی کو تلنگانہ میں سیاسی فائدہ ہوسکتا ہے اور یہ تقسیم باہمی امن کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی سوچ لے کر اتحاد المسلمین نے تقسیم کی مخالفت کی تھی لیکن اس کی کوششوں کے باجود ریاست تقسیم ہوگئی اورایک نئی ریاست تلنگانہ وجود میں آگئی ۔ نئی ریاست میں کے چندر شیکھر رائو کی پارٹی تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس ) کی سرکار بنی۔
تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس ) ایک مضبوط سیاسی پارٹی بن کر ابھری ۔اس پارٹی میں وہ دم خم نظر آیا جو بی جے پی کو روک سکتی تھی لہٰذا اتحاد المسلین نے ان سیٹوں پر اس کی حمایت کردی جہاں اس نے اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے تھے۔ا ویسی کی حمایت نے ان سیٹوں پر چندر شیکھر رائو کو بہت تقویت پہنچائی۔حالانکہ انتخاب جیتنے والے امیدواروں میں زیادہ تر اتحادالمسلین کے ہی امیدوار تھے بلکہ ریاست کے 8 مسلم ایم ایل ایز میں سے 7 اتحاد المسلمین اور ایک ٹی آر ایس کے ایم ایل اے تھے۔لیکن اتحاد المسلمین کی حمایت کی وجہ سے چندر شیکھر رائو کو بہت مسلم ووٹ ملے۔ مجموعی طور پر کے چندر شیکھر رائو کو گزشتہ انتخاب میں مسلمانوں کی بھرپور حمایت حاصل رہی ۔
چندر شیکھر رائو کو مسلمانوں کی حمایت ملنے کی وجہ یہ بھی رہی کہ وہاں مسلمانوں میں کانگریس سے نفرت پائی جارہی تھی۔یہ نفرت بابری مسجد انہدام کے بعد پیدا ہوئی تھی۔مسلمان کسی بھی صورت میں کانگریس کو ریاست میں آنے دینا نہیں چاہتے تھے۔انہیں کوئی ایک متبادل چاہئے تھا جو کانگریس کو روک سکے ۔ اس وقت ان کے سامنے بی جے پی کے اثر ورسوخ کو بڑھنے سے روکنے کے لئے ایک ہی سیاسی طاقت ٹی آر ایس کی تھی جو کہ کانگریس کو روک سکے اور مسلمانوں کو پُرامن ماحول دے سکے۔اس لئے وہاں کے مسلمانوں نے اس پارٹی کو بھرپور حمایت دی۔مزید براںوزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر رائو کی اردو سے دلچسپی نے انہیں مسلمانوں سے مزید قریب کردیا۔رائو کے دور حکومت میں ریاست کے اندر 200 ریسیڈنشیل اسکول اور کالج کھولے گئے۔ان اسکولوں میں بچوں کو نہ صرف 12 ویںتک مفت تعلیم دی جاتی تھی بلکہ دیگر اخراجات جیسے کپڑے اور کھانے بھی فراہم کئے جاتے تھے۔
مسلمانوں کے لئے کئے گئے ان کاموں کی وجہ سے ہی کے سی آر کے بیٹے اور اسٹیٹ آئی ٹی منسٹر کے ٹی راما رائو بار بار یہ دعویٰ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں مسلمان ہماری پارٹی کو بھرپور طریقے پر ساتھ دینے جارہے ہیں۔کیونکہ ہماری پارٹی نے انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا۔ہماری پوری گزشتہ مدت حکومت کے دوران کہیں بھی فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہونے دیا گیا۔حیدرآباد کا پرانا شہر جو کہ کانگریس کے دور حکومت میں کرفیو کے لئے مشہور تھا، یہ آج مکمل طور پر پُرامن ہے۔ آج یہاں کے مسلمان ٹی آر ایس کے ساتھ خوش ہیں اور حالات بتا رہے ہیںکہ یہاں کے مسلمانوں نے اب بھی کانگریس کے دیئے ہوئے زخم کو نہیں بھلایا ہے۔وہ نہ صرف بابری مسجد کو یاد کررہے ہیں بلکہ فرقہ وارانہ فسادات میں اپنے جانی و مالی نقصانات کے درد کو بھی نہیں بھول پائے ہیں۔

 

 

 

کے ٹی رامارائو نے ووٹروں کو ریاست کی تقسیم سے پہلے کی بات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اگر کانگریس اتحاد اقتدار میں آگیا تو ریاست کی تقسیم کا مقصد فوت ہوجائے گا۔وزیر برائے آبپاشی ٹی ہریش رائو نے کانگریس اتحاد کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے کہا کہ آپ چندر بابو نائیڈو اور کے سی آر کے درمیان خود تجزیہ کرلیں کہ کس نے ریاست کے لئے کتنا کام کیا ہے اور پھر ان دونوں کو سامنے رکھ کر سنجیدگی سے فیصلہ کریں اور کسی ایک کو چنیں۔ آج ریاست میں آبپاشی کے لئے جو کام ہوئے ہیں اور آئندہ کے لئے جو بڑے پیمانے پرلائحہ عمل تیار کیا گیا ہے ،اگر اتحاد حکومت میں آگیا تو سب پر پانی پھر جائے گا اور یہ صورت حال ریاست کی ’خود کشی ‘ کے مترادف ہوگی۔
یہ بات اپنی جگہ سچ ہے کہ کے سی آر کے دور حکومت میں مسلمانوں کے لئے بہت سے کام ہوئے ہیں مگر کانگریس نے بھی کچھ ایسے ایشوز کو اچھالنا شروع کردیا ہے جو مسلمانوں کو کے سی آر سے دور کرکے ان کے لئے مشکلیں کھڑی کر سکتے ہیں۔کانگریس کے ریاستی چیف این اتم کمار ریڈی کہتے ہیں کہ چندر شیکھر رائو کانگریس کے اتحاد سے خوفزدہ ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ بے بنیاد باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کانگریس اور اس کے اتحادی حکومت میں آگئے تو تلنگانہ پر آندھرا پردیش کا راج چلے گاجبکہ سچائی یہ ہے کہ چندر شیکھر رائو کے دور میں کچھ کام نہیں ہوا ہے اور اسی وجہ سے گھبراہٹ میں یہ سب باتیں ان کی شہہ سے نکل رہی ہیں۔مثال کے طور پر کے سی آر کی سرکار نے مسلمانوں سے تعلیم اور روزگار میں 12فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انتخابی تشہیر میں انہوں نے بار بار اس وعدے کا اعادہ کیا تھا کہ حکومت قائم ہونے کے ایک سال کے اندر وہ اپنا یہ وعدہ پورا کریں گے لیکن حکومت قائم ہوجانے کے بعد ان کا یہ وعدہ پورا نہیں ہوسکا۔
دراصل حکومت کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا تھا۔ حکومت کا پہلو کمزور ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ رد ہوگیا اور مسلمانوں کو پھر سے مایوسی ملی جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ ہم نے گرچہ 4فیصد ریزرویشن کی ہی بات کی تھی،مگر اس کے تمام پہلو مضبوط اور آئین کے عین مطابق تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس کا فائدہ ملا جبکہ کے سی آر کی حکومت میں انہیں تعلیم اور روزگار میں کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا۔
کانگریس کا یہ بھی الزام ہے کہ ٹی آر ایس نے کہا تھا کہ ان کی حکومت آنے پر اوقافی جائیدادوں کو بچانے کیلئے وقف بورڈ کو قانونی طاقت دی جائے گی لیکن یہ وعدہ بھی پورا نہیں کیاگیا۔ کانگریس کاالزام ہے کہ ٹی آر ایس اردو زبان کو یکسر نظر انداز کررہی ہے۔ اردو اساتذہ ، اردو مترجم اور اردو کے تعلق سے دوسری نوکریو ں کی آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں لیکن انہیں پُر نہیں کی گئی ہیں۔کانگریس ان ایشوز کو اتنے زورو شور سے اٹھا رہی ہے کہ ٹی آر سی کے لئے مسلمانوں کا ووٹ ان سے کھسکتا ہوا محسوس ہونے لگا ہے۔
حالانکہ کانگریس ان مضبوط ایشوز کو لے کر عوام کے سامنے آرہی ہے مگر چندر شیکھر رائو اپنے ہر اجلاس میں ان کاموں کو گنواتے ہیں جو انہوں نے کیا ہے اور مزید یہ کہ اتحاد المسلمین جس کا خطے میں گہرا اثرو رسوخ ہے ،کے صدر اسد الدین اویسی کانگریس کے خلاف بولتے ہیں۔ظاہر ہے ان کا کانگریس کے خلاف بولنا کانگریس کو نقصان پہنچاسکتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام کیا فیصلہ کرتے ہیں۔حکومت کی باگ ڈور کانگریس اتحاد ’’ پرجا کوٹامی ‘‘ کو دیتے ہیں یا پھر ٹی آر اور مجلس اتحاد المسلین کے اتحاد کو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *