مسلم تنظیموں کا جذبۂ ہمدردی قابل تعریف

Share Article

وسیم راشد 
اترا کھنڈ میں بادل کے پھٹ جانے سے جو قہر برپا ہوا ،اس نے پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جان و مال کا شدید نقصان ہوا۔ابھی تک دل دہلا دینے والی خبریں برابر مل رہی ہیں۔اس وقت بھی لاکھوں لوگ سیلاب کے نرغے میں ہیں۔ اس تباہی نے ریاست کو بے حد نقصان پہنچایا ہے اور اس کا اثر 40 ہزار مربع کلو میٹر پر پڑا ہے۔ اس تباہی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً 600 سے زائد گائوں ابھی بھی ریاست کے دیگر حصوں سے کٹے ہوئے ہیں اور تقریباً 400 افراد لا پتہ ہیں۔ اس آفت ناگہانی پر جو بھی سیاست ہو رہی ہو، اس مشکل وقت میں برّی اور ہوائی افواج کا کردار قابل تعریف ہے۔ جوانوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملبے اور پانی میں پھنسے ہوئے بے سہارا لوگوں کو بچایا اور ان کی دعائیں لیں۔ اسی دوران یہ بھی خبر آئی کہ بارڈر سیکورٹی فورسز ( بی ایس ایف) نے 5 گائوں کو گود لینے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ریلیف فنڈ میں 16 کروڑ روپے دینے کا ارادہ بھی کیا ہے۔
اس ضمن میں مسلم تنظیموں کا رول قابل تعریف رہا ہے اور یہ بلا تفریق مذہب و ملت اترا کھنڈ میں راحت پہنچانے کے کاممیں جی جان سے لگی ہوئی ہے۔ مسلم تنظیموں کا یہ کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ میں گزشتہ شمارے (1-7جولائی2013)میں چٹپٹی خبروں کے تحت یہ خبر دی گئی تھی کہ جماعت اسلامی ہند نے آسام میں بازآبادکاری میں لائق تحسین کام انجام دیا ہے۔ اس میں ہندو عیسائی ،غیر بوڈو اور ساتھ میں مسلمانوں کو بھی بلا تفریق کے ریلیف پہنچائی گئی۔اسی کے ساتھ ساتھ دوسری مسلم تنظیموں نے بھی باز آبادکاری میں کوئی مذہبی تفریق نہیں کی۔ آج بھی یہ مسلم تنظیمیں آسام متاثرین کی باز آبادکاری میں لگی ہوئی ہیں ۔اسی طرح جمعیت علماء ہند نے گزشتہ دنوں 29 ہندو طلباء و طالبات کو اسکالر شپ دیے ہیں۔
بے حد خوشی کا مقام ہے کہ اس بار بھی اترا کھنڈ میں تباہی آنے کے فوراً بعد جماعت اسلامی ہند، جمعیت علماء ہند، آل انڈیا ملی کونسل ، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ، اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن، علی گڑھ کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج اسپتال کے معالجین و دیگر تنظیموں و شخصیات وہاں پہنچ کر ریلیف کے کام کرنے میں پوری طرح لگ گئی ہیں۔آخر الذکر میڈیکل کالج اسپتال کے گیارہ مسلم ڈاکٹروں کا ایک وفد ہردوار پہنچا ہے اور متاثرین کو طبی امداد پہنچانے میں مصروف ہے۔ اسی طرح مغربی یوپی اور اتراکھنڈ کی جماعت نے ہری دوار کے ریلوے اسٹیشن پر ریلیف کیمپ کا اہتمام کیا ہے۔ اس کا افتتاح ریلوے سپرنٹنڈنٹ جی کے داس نے کیا اور انڈین ریلویز کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ نے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ مذکورہ ریلیف کیمپ میں متعدد ڈاکٹروں کی ٹیم ہے۔ نیز ضروری طبی سہولیات کے ساتھ موبائل اسپتال بھی ہے۔ جماعت نے ہری دوار کے علاوہ اپنی ٹیموں کو دہرہ دون اور رشی کیش بھی بھیجا ہے۔ یہ ٹیمیں وہاں جاکر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ امداد بھی پہنچا رہی ہیں۔ امیر حلقہ مغربی یوپی جماعت مولانا انعام اللہ اصلاحی کے مطابق یہ آفت ناگہانی ہے اور اس میں انسانی جانوں و املاک اور مذہبی مقامات کا شدید نقصان ہوا ہے۔لہٰذا جماعت پورے انسانی جذبہ کے ساتھ اس میں پیش پیش ہے۔ مسلم مجلس مشاورت نے اس تعلق سے وزیر اعظم کے قومی ریلیف فنڈ میں 50 ہزار روپے کا چیک ارسال کیا ہے اور اپنی راحتی ٹیم متاثرہ علاقوں میں بھیج؎ بھی دی ہے۔
آل انڈیا ملی کونسل کی بھی مقامی یونٹیں فعال ہوگئی ہیں اور اس کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے تمام ریاستوں میں اپنی شاخوں سے اس تعلق سے فنڈ جمع کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ میں اسے بھیجا جاسکے۔

اس ضمن میں مسلم تنظیموں کا رول قابل تعریف رہا ہے اور یہ بلا تفریق مذہب و ملت اترا کھنڈ میں راحت پہنچانے کے کاممیں جی جان سے لگی ہوئی ہے۔ مسلم تنظیموں کا یہ کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ میں گزشتہ شمارے (1-7جولائی2013)میں چٹپٹی خبروں کے تحت یہ خبر دی گئی تھی کہ جماعت اسلامی ہند نے آسام میں بازآبادکاری میں لائق تحسین کام انجام دیا ہے۔ اس میں ہندو عیسائی ،غیر بوڈو اور ساتھ میں مسلمانوں کو بھی بلا تفریق کے ریلیف پہنچائی گئی۔اسی کے ساتھ ساتھ دوسری مسلم تنظیموں نے بھی باز آبادکاری میں کوئی مذہبی تفریق نہیں کی۔ آج بھی یہ مسلم تنظیمیں آسام متاثرین کی باز آبادکاری میں لگی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جمعیت علماء ہند نے گزشتہ دنوں 29 ہندو طلباء و طالبات کو اسکالر شپ دیے ہیں۔

اسی سلسلے کا ایک اور اہم رجحان 27 جون کو وگیان بھون میں حج کمیٹی آف انڈیا کے 29ویں کل ہند سالانہ کانفرنس کے وقت دیکھنے کو تب ملا جب کانفرنس شروع ہونے سے قبل اترا کھنڈ کے سانحہ اور اس کے متاثرین سے اظہار ہمدردی کے لئے دو منٹ کا ’’ مون ‘‘ (خموشی) رکھا گیا۔
اس طرح کے آفات ناگہانی کے مواقع پر کسی تنظیم ، ادارہ یا شخصیت کی جانب سے خالص انسانی جذبہ سے بلا تفریق مذہب و ملت آگے بڑھنا ،فوری امداد پہنچانا اور مستقل باز آبادکاری کی فکر و پلاننگ کرنا یقینا کسی بھی ملک کے لئے فخر کی بات ہے اور یہ فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور سیکولر اقدار کی بہترین مثال ہے۔ توقع ہے کہ یہ جذبہ و رجحان ہمیشہ بڑھتا رہے گا۔ انسانیت اور وطن پرستی کا جذبہ ہر جذبے سے اوپر ہے۔ مسلم تنظیموں کا یہ قدم لائق تحسین ہے۔ g

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *