مسلم ریزرویشن کے دائوں پیچ

Share Article

یوسف انصاری

حال ہی میں جمعیۃ علماء ہند کی قیادت میں کئی مسلم تنظیموں کا ایک وفد وزیراعظم منموہن سنگھ اور یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی سے ملا۔ وفد نے دونوں کو اپنے لمبے چوڑے مطالبوں کا پلندہ سونپا۔ ان میں اہم مطالبہ مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا ہے۔ ساتھ ہی اس میں رنگ ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشیں نافذ کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ ملاقات کے بعد جمعیۃ کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے بارے میں جلد ہی کوئی ٹھوس فیصلہ کرنے کا بھروسہ دیا ہے۔ اس دعوے کے بارے میں ابھی تک نہ تو وزیراعظم کی طرف سے کچھ کہا گیا ہے اور نہ ہی سونیا گاندھی اور کانگریس پارٹی کی طرف سے۔
پہلی نظر میں یہ دعویٰ سراسر جھوٹا اور گمراہ کرنے والالگتا ہے۔ہمارا آئین  بنیادی طور پر مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا۔ اقلیتی امور کے وزیر سلمان خورشید بھی کھلے طور پر یہ بات پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو پسماندہ ثابت کر کے انہیں ریزرویشن دینے کے لیے لائے گئے آندھراپردیش حکومت کے بل کو سپریم کورٹ نے خارج کردیا تھا۔ بعد میں وہاں بھی پسماندہ طبقات کے مسلمانوں کو کوٹہ طے کر کے معاملے کو سلجھایا گیا۔ ابھی یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ ایسے میں بات گلے نہیں اترتی کہ وزیر اعظم نے مسلم تنظیموں کے نمائندوں کو مسلمانوں کوریزرویشن دینے سے متعلق کوئی بھروسہ دیا ہو۔ وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے مسلم تنظیموں کے تمام رہنما بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ آئین کی موجودہ شکل کے مطابق مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دیا جاسکتا۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایسا ہوائی دعویٰ کیوں کر رہے ہیں، جسے پورا ہی نہیں کیا جاسکتا؟ مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کے مطالبہ پر آخر ان تنظیموں کا اتنا زور کیوں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلمانوں کی نظر میں ہیرو بن کر یہ تنظیم اور ان کے رہنما اپنا الو سیدھا کر رہے ہوں اور بعد میں مسلمانوں کو یہ سمجھا دیں کہ ہم نے تو مطالبہ کیا تھا، لیکن سرکار نے ہمارا مطالبہ نہیں مانا تو ہم کیا کریں؟ دراصل مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کا ایشو بے حد پیچیدہ ہے۔ اسے سمجھ داری اور سنجیدگی سے سلجھانے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو ریزرویشن اور رنگ ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کے مطالبات بے جا ہیں۔ رنگ ناتھ مشرا کمیشن مسلم سماج کی ان برادریوں کو پسماندہ ذاتوں میں شامل کرنے کی وکالت کرتا ہے، جن کے مساوی ہندو ذاتیں پسماندہ ذاتوں میں شامل ہیں۔ اس کے لیے ہمیں ذرا تاریخ کے اوراق پلٹنے پڑیںگے۔ پسماندہ ذاتوں میں ابھی تک ہندو، سکھ اور بودھ ہی شامل ہیں، حالانکہ پسماندہ ذات ایکٹ 1950کے پیرا تین میں شروع میں لکھا گیا تھا کہ ایسا کوئی شخص پسماندہ ذات میں شامل نہیں ہوگا، جو ہندو مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کو مانتا ہو، لیکن بعد میں سکھوں کے مطالبہ پر 1955میں لفظ ’ہندو ‘ کے ساتھ لفظ ’سکھ ‘ جوڑا گیا اور 1990میں لفظ ’نوبودھ‘ جوڑ کر بودھ مذہب اپنانے والے دلتوں کو بھی پسماندہ ذات کا درجہ دینے کا راستہ صاف کردیا گیا۔ 1996میں نرسمہا راؤ کی حکومت نے ایک تجویز کے ذریعہ عیسائی مذہب اپنانے والے دلتوں کو بھی پسماندہ ذاتوں میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن بی جے پی کی تیکھی مخالفت کی وجہ سے اس تجویز کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنا پڑا۔ تبھی سے عیسائی تنظیم دلت عیسائیوں کو پسماندہ ذاتوں میں شامل کرانے کی مسلسل مہم چلا رہی ہے۔ انہیں دنوں مسلمانوں میں اس ایشو پر سرگرمی پیدا ہوئی۔ ایسے تمام مسلمان جن کے آبا و اجداد کبھی دلت ہوا کرتے تھے، اپنے آپ کو پسماندہ ذاتوں میں شامل کرانے کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر التوا ہے۔ مرکزی سرکار کو اس پر سپریم کورٹ میں جواب داخل کرنا ہے۔
دلت عیسائیوں اور مسلمانوں کی اسی مہم کا نتیجہ ہے کہ سرکار نے جسٹس رنگ ناتھ مشرا کمیشن کو اس مسئلے پر غور کر کے سفارش کرنے کا ذمہ سونپا۔ جسٹس رنگ ناتھ مشرا نے اپنی رپورٹ میں صاف طور پر کہا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو ریزرویشن سے محروم رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس رنگ ناتھ مشرا نے یہ بھی کہا ہے کہ آئین میں ترمیم کیے بغیر ہی عیسائی اور اسلام مذہب اپنانے والے دلتوں کو بھی پسماندہ ذاتوں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس رنگ ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات پر کمیشن برائے پسماندہ ذات بھی اپنی مہر لگا چکا ہے۔ اب یہ پورا معاملہ وزیر اعظم کے ہاتھ میں ہے۔ اگر مسلم تنظیم اس پر زور دیں تو یہ کام جلد ہو سکتا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس کو چھوڑ کر تمام سیاسی پارٹیاں اس کے حق میں ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ تمام مسلم تنظیمیں اس ایشو پر وزیر اعظم سے بات کیوں نہیں کرتیں؟ ابھی تک ایک بھی مسلم تنظیم نے جسٹس رنگ ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات نافذ کرانے کے لیے تحریک چھیڑنے کی بات نہیں کی ہے۔ اگر رنگ ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات عمل میں آ جائیں تو مسلمانوں کی ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں۔ پسماندہ ذاتوں کو ملنے والی تمام سہولتیں بے حد غریب طبقے کے مسلمانوں کو بھی ملنے لگیں گی۔ یہی نہیں لوک سبھا کی 79اور ملک بھر میں اسمبلیوں کی ان 1050سیٹوں پر انتخاب لڑنے کا راستہ بھی صاف ہوجائے گا جو پسماندہ ذاتوں کے لیے محفوظ ہیں۔ اس سے خاتون ریزرویشن بل میں مسلمانوں کے لیے کوٹہ طے کرنے کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔
تعجب کی بات ہے کہ اتنی اہم سفارشات کو چھوڑ کر تمام مسلم تنظیمیں سارے مسلمانوں کو ریزرویشن کی بے تکی مانگ پر تلی ہوئی ہیں۔ اس کے لیے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہوگا۔ موجودہ وقت میں یہ بے حد ٹیڑھی کھیر ہے۔ ویسے بھی سارے مسلمانوں کو ریزرویشن کی ضرورت نہیں ہے۔ ریزرویشن کی ضرورت صرف سماجی، تعلیمی اور معاشی طور سے پچھڑے مسلمانوں کے لیے ہے۔ آئین میں بھی ریزرویشن کی یہی بنیاد طے کی گئی ہے۔ دوسرے پسماندہ طبقوں میں آنے والے مسلمان پہلے سے ہی اس طبقہ کے لیے طے 27فیصد ریزرویشن کے حق دار ہیں۔ ہاںیہ اور بات ہے کہ انہیں اس طبقہ میں اتنا فائدہ نہیں مل پاتا، جتنا ملنا چاہیے، کیوںکہ یہاں ان کا مقابلہ معاشی اعتبار سے مضبوط پسماندہ ذاتوں میں ہوتا ہے، لیکن اتنی اہم سفارشوں کو نافذ کرانے کی طرف مسلم قیادت کا قطعی دھیان نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ سارے مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کر کے سنگھ پریوار کو مسلمانوں کے خلاف ماحول بنانے کی وجہ اور خوراک دونوں دے رہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ سارے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا مطالبہ کسی بھی صورت سے ملک کے حق میں نہیں ہے، لیکن تمام مسلم تنظیمیں اگر اسی پر اڑی ہیں تو اس کی کوئی اور وجہ ہوسکتی ہے۔ کہیں اس کے پس پردہ یہ وجہ تو نہیں کہ ان تمام مسلم تنظیموں کی کمان مبینہ طور پر ان مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے جن کی معاشی حالت اچھی ہے۔ جسٹس رنگ ناتھ مشرا کمیشن پسماندہ طبقوں کے مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کی وکالت کرتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *