مسلم پرسنل لاء کا مسئلہ اب ٹھنڈے بستے میں

Share Article

p-5گزشتہ 6 ستمبر کو مسلم پرسنل لاء کا مسئلہ اس وقت اچانک گرم ہوگیا جب سپریم کورٹ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مرکزی حکومت دونوں سے رائے مانگی۔دونوں نے اپنی اپنی رائے دی اور پھر دونوں طرف سے عوامی اور میڈیا کی سطحوں پر گرما گرم بحث کا سلسلہ شروع ہوا۔ دریں اثناء 18اکتوبر کو اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی ہونے والی دوسری سنوائی اچانک ملتوی کردی گئی۔ آئندہ سنوائی کب ہوگی، کسی کو نہیں معلوم کیونکہ سپریم کورٹ کے ججز دوسرے اہم معاملوں میں مصروف ہوگئے ہیں اور پھر 3جنوری 2017 کو چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر ریٹائر ہورہے ہیں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ کس طرح یہ معاملہ اچانک ٹھنڈے بستے میں جارہاہے۔
وسیم احمد
ماہ اکتوبر کے پہلے نصف میں طلاق اور تعدد ازدواج کا مسئلہ چینلوں، اخباروں اورسیاست دانوں کے ساتھ عام شہریوں کے بیچ موضوع بحث بنا رہا ۔ ایک طرف مرکزی حکومت تو دوسری طرف مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلم تنظیمیںاس مسئلے پرخم ٹھونک کر میدان میں آگئے۔اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ سپریم کورٹ میں اس کا موقف مضبوط ہے اور فیصلہ اس کے ہی حق میں آئے گا۔عام شہری اس فیصلے کے آنے کا شدت سے انتظار کررہے ہیں،مگر ان کا یہ انتظار شاید طویل ترین ہونے والا ہے اور فلم نگری میں سنی دیول کے ڈائیلاگ کے بمصداق تاریخ پر تاریخ،تاریخ پر تاریخ کا سلسلہ شروع ہونے جارہا ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی دوسری سنوائی کی تاریخ 18 اکتوبر کو موخر کرکے اسی روز ایک دوسرے مسئلے پر غور و فکر کرنا شروع کردیا ہے ۔
طلاق کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے سات رکنی بینچ تشکیل دی تھی۔ اس بینچ کی قیادت چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر کررہے تھے۔اس بینچ نے اس مسئلے کی پہلی سنوائی 6 ستمبر کو کی تھی۔اس کی دوسری سنوائی 18 اکتوبر کو ہونی تھی، لیکن دوسری سنوائی سے پہلے ہی 24 ستمبر کو سپریم کورٹ کے ویب سائٹ پر نوٹیفکیشن کے ذریعہ عدالت عظمی نے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی میں ایک اور سات رکنی بینچ قائم کرکے اس کے سامنے ایک ایسا مسئلہ رکھ دیا جس پر طلاق کے مسئلے سے پہلے غور کرنا ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ ٹی ایس ٹھاکر جو کہ اب دونوں بینچوں کے سربراہ ہیں کو طلاق ثلاثہ و تعدد ازدواج والے معاملہ کو موخر کرکے نئے معاملے کو علاحدہ سات رکنی بینچ کے تحت دیکھنا ہے۔
بینچ کے سامنے جو مسئلہ غور کرنے کے لئے دیا گیاہے ،وہ ہے ہندوتوا یا ہندو ازم کو انتخابات کے موقع پر استعمال کرنا۔دراصل دسمبر 1995 میں جسٹس جے ایس ورما نے سہ رکنی بینچ کے تحت یہ فیصلہ دیا تھا کہ ہندوتوا یا ہندو ازم کے نام پر انتخاب کے وقت ووٹ مانگنا آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔بینچ کا کہنا تھا کہ ہندو توا یا ہندو ازم ایک تہذیب اور کلچر کا نام ہے ۔ہندوتوا سے ہندوستانی تہذیب کی نمائندگی ہوتی ہے ،لہٰذا تہذیب و ثقافت کے نام پر ووٹ مانگنا غلط نہیں ہوسکتا ۔سہ رکنی بینچ نے یہ تبصرہ ’عوامی نمائندگی قانون 1951 کی دفعہ 123 کی ذیلی دفعہ 3 میں تشریح شدہ بد عنوانی کے دائرے کو بیان کرتے ہوئے کیا تھا۔اسی بنیاد پر عدالت نے شیو سینا کے منوہر جوشی اور بی جے پی کے امیدوار رام چندر کاپسے کی امیدواری کے خلاف دائر عرضی کو خارج کردیا تھا۔جوشی نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’’ مہاراشٹر میں پہلی ہندو ریاست قائم کی جائے گی‘‘ اور کاپسے نے اپنے انتخابی منشور میں رام جنم بھومی اور بابری مسجد کے حوالے سے ووٹ کی اپیل کی تھی ۔سہ رکنی بینچ کے اس فیصلے کی وجہ سے دونوں امیدوار آئین کی خلاف ورزی کی زد میں آنے سے بچ گئے تھے۔ بینچ کے اس فیصلے پر چیلنج کیا گیا تھا اور اس وقت اس تعلق سے تین عرضیاں سپریم کورٹ میں زیر غور ہیں۔
ظاہر ہے کہ ہندوتوا کا مسئلہ انتہائی حساس ہے۔ کیونکہ اس فیصلے کی آڑ میں کوئی بھی امیدوار انتخابات میں ہندوتوا یا ہندو ازم کے نام پر عوام سے ووٹ مانگ سکتا تھا۔جبکہ یہ مسئلہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر غور ہے ۔ اس لئے سپریم کورت نے بینچ کو کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کا نمٹارا جلد کرے ۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب طلاق اور تعدد ازدواج کا مسئلہ ٹلتا چلا جائے گا۔کیونکہ نومبر اور اس کے بعد دسمبر کے مہینے میں عدالت میں کئی چھٹیاں پڑیں گی۔ 29اکتوبر سے 4نومبر تک عدالت میں دیوالی کی چھٹیاں ہیں۔ہفتہ وار چھٹیا ں اس کے علاوہ ہیں۔25دسمبر کو کرسمس ڈے منایا جاتا ہے اور اس کے بعد نئے سال کی 19دسمبر سے یکم جنوری تک چھٹیاں ہیں۔ جب عدالت کھلے گی تو اس کے دو دن بعد یعنی 3جنوری 2017کو چیف جسٹس ٹھاکر ریٹائر ہورہے ہیں۔ظاہر ہے کہ بینچ کے سرپرست جسٹس ٹھاکر کے ریٹائر ہونے تک اگر اس مسئلے کا حل نہیں نکلا تو پھر اس بینچ کا کوئی نیا سربراہ مقرر ہوگا اورمعاملے پر غور ہوگا اور اس کے بعد فیصلہ سنایا جائے گا۔
اس تاخیر سے بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔کیونکہ بعض لوگوں کے خیال میں حکومت کے حلف نامہ سے یہ تاثر ملتا تھا کہ طلاق ثلاثہ کو ختم کرنے سے حکومت کی منشا یکساں سول کوڈ کا ماحول تیار کرنا ہے جبکہ اس سلسلہ میں مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کا کہنا تھا کہ ہمارا اعتراض طلاق ثلاثہ پر ہے اور یکساں سول کوڈ پر لاء کمیشن نے رائے مانگی ہے،یہ دونوں معاملے الگ الگ ہیں۔ دوسری طرف وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ پرسنل لاء آئین کے دائرے میں ہو اور صنفی مساوات اور باعزت زندگی جینے کے حق کے قوانین کے مطابق ہونا چاہئے ۔دونوں بیانوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت طلاق ثلاثہ کو ختم کرنا چاہتی تھی ۔اسی دوران 18 اکتوبر ہی کو مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ میں ایک نیاحلف نامہ داخل کیا جس میں اس نے مودی حکومت کے حلف نامہ کا جواب دیتے ہوئے پرانے موقف کا اعادہ کیا۔ اس نے حکومت کے اس موقف کو مسترد کردیا کہ سپریم کورٹ کو ان امور میں اس لئے رہنمائی کرنی چاہئے کہ یہ صنفی مساوات، سیکولر اقدار اور آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے ایک اہم حصہ کی طرح بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس نے واضح طور پر کہا کہ عائلی قوانین بھی آئین میں دیئے گئے حقوق کا ایک اہم حصہ ہیں اور اس کو کوئی بھی حکومت نظر انداز نہیں کرسکتی ہے۔
بہر حال تفصیلات جو بھی ہوں، اتنی سی بات تو طے ہے کہ سپریم کورٹ کی مصروفیت کے سبب فی الوقت طلاق ثلاثہ و تعدد ازدواج کی سنوائی کا معاملہ ٹل جانا اور لمبے عرصہ تک ٹلتے جانے کے امکانات کا پیدا ہونا مرکزی حکومت کے لئے راحت کی خبر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرکزی حکومت کی سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ اور تعداد ازدواج وغیرہ کے سلسلے میں پیش کی گئی ایفی ڈیویٹ اور لاء کمیشن آف انڈیا کے یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں سوالنامہ کو لے کر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلم تنظیموں نے جو سخت رُخ اختیار کیا اور پورے ملک میں میٹنگوں اور احتجاج کے ذریعے تحفظ شریعت کے لئے عوامی بیداری کا جو ماحول بنانا شروع کیا، اس سے یقینا ایک عجیب و غریب صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔ متعدد مرکزی وزراء کے بھی اس تعلق سے بیان پر بیان آنے لگے تھے۔
توقع ہے کہ 18اکتوبر کو طلاق ثلاثہ اور ازدواج وغیرہ کی سنوائی کے ٹلنے سے گرم ماحول میں ٹھنڈک آئے گی اور پھر مرکزی حکومت اور مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت دیگر مسلم تنظیموں کے درمیان کشمش میں کمی آئے گی اور مسئلہ کے حل کے لئے کوئی بہتر شکل پیدا ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *