مسلم نوجوانوں کی رہائی پر ملائم جھوٹ کیوں بول رہے ہیں؟

Share Article

ڈاکٹر قمر تبریز 

گزشتہ دنوں سماجوادی پارٹی کے مکھیا ملائم سنگھ یادو نے ایک بیان دیا۔ وہ بیان یہ تھا کہ ان کی حکومت نے اتر پردیش کی مختلف جیلوں میں بند ایسے 400 بے قصور مسلم نوجوانوں کو رہا کردیا ہے، جنہیں دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں پھنسا کر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہی نہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یو پی میں جب سے سماجوادی پارٹی کی حکومت بنی ہے، تب سے اب تک کسی بھی بے قصور مسلم نوجوان کو صوبہ سے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ ملائم کا یہ بیان آتے ہی مسلم تنظیموں کی طرف سے اس کی مذمت شروع ہو چکی ہے، کیوں کہ یہ بیان سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ چوتھی دنیا نے جب اس معاملے میں پڑتال شروع کی، تو پتہ چلا کہ یوپی کی جیلوں میں دہشت گردی کے الزام میں بند کسی بھی بے قصور مسلم نوجوان کی رہائی اب تک نہیں ہو پائی ہے۔ پیش ہے یہ رپورٹ …

p-3اتر پردیش کے مسلمانوں نے سماجوادی پارٹی کو جس امید کے ساتھ اقتدار تک پہنچایا تھا، حکومت بننے کے بعد اُن کی اِن تمام امیدوں پر پانی پھرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ پچھلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل سماجوادی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی آڑ میں اتر پردیش کے جن بے قصور مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے، انہیں فوراً رہا ہی نہیں کرایا جائے گا، بلکہ معاوضے کے ساتھ انصاف بھی دیا جائے گا اور انہیں بدنام کرنے والے افسروں کو سزا دی جائے گی۔‘‘ لیکن اکھلیش یادو نے ایسا کوئی کام اب تک نہیں کیا ہے، جس سے یہ لگتا ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا یہ وعدہ پورا کیا گیا ہے یا کیا جا رہا ہے۔ اس کے برخلاف، مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہوئے ملائم سنگھ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی حکومت نے دہشت گردی کے نام پر جیلوں میں بند 400 بے قصور مسلم نوجوانوں کو رہا کر دیا ہے۔ چوتھی دنیا یو پی کی سماجوادی حکومت سے یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ اگر اس کے پاس ایسے 400 مسلم نوجوانوں کی فہرست ہے، تو وہ اسے عام کرے۔ اس کے برعکس چوتھی دنیا یوپی کے ان بے قصور مسلم نوجوانوں کی فہرست یہاں شائع کر رہا ہے، جو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں یا تو خود اتر پردیش کی جیلوں میں بند ہیں، یا پھر انہیں ملک کی کسی دوسری جیل میں قید کرکے رکھا گیا ہے۔
ملائم سنگھ یادو نے دوسرا جھوٹ یہ بولا کہ جب سے یو پی میں ان کی سرکار بنی ہے، تب سے اب تک ایک بھی بے قصور مسلمان کو دہشت گردی کے نام پر گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ اگر یہ بات سچ تھی، تو بھلا سیتاپور کے شکیل احمد اور اعظم گڑھ کے ایک مدرسہ میں زیر تعلیم کشمیر کے دو مسلم طالب علموں : وسیم بٹ اور سجاد بٹ کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ملائم سنگھ جیسے سینئر سیاسی لیڈر کو آج جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ ملائم سنگھ اگر واقعی میں مسلمانوں کے ہمدرد ہوتے، تو وہ نمیش کمیشن کی رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کرتے اور اس کی سفارشوں پر عمل کرتے، لیکن وہ تو پوری رپورٹ کو ہی دبا کر بیٹھ گئے ہیں، پھر ان سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہمدرد ہیں اور واقعی میں مسلمانوں کے دامن سے دہشت گردی کے الزام کو دھونا چاہتے ہیں۔
نمیش کمیشن کی رپورٹ کا خلاصہ
Box23 دسمبر 2007 کو اتر پردیش پولس نے میڈیا کے سامنے ایک سنسنی خیز خلاصہ کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ یو پی پولس نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے ایک دن پہلے، یعنی 22 دسمبر کو یو پی کے بارہ بنکی ضلع سے محمد طارق قاسمی اور خالد مجاہد نام کے دو دہشت گردوں کو گرفتار کرکے ان کے پاس سے 3 ڈیٹونیٹر، پالی تھین میں لپٹا ہوا آر ڈی ایکس، نوکیا موبائل اور سم کارڈ کیا ہے۔ ان دونوں کی گرفتاری کے بعد نہ صرف یو پی کے عام مسلمانوں میں زبردست غم و غصہ دیکھنے کو ملا، بلکہ خود کئی ممبرانِ اسمبلی بھی ان فرضی گرفتاریوں کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس معاملے نے اتنا زور پکڑا کہ فروری 2008 میں نیشنل لوک تانترک پارٹی کے چودھری چرن پال سنگھ اور مظہر آزاد نے ان دونوں کی رہائی کے لیے لکھنؤ میں یو پی اسمبلی کے باہر بھوک ہڑتال شروع کردی۔ حالانکہ ان دونوں کی بھوک ہڑتال زبردستی ختم کرا دی گئی، لیکن معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے، اس وقت کے اتر پردیش کے ڈی جی پی وکرم سنگھ نے 14 مارچ، 2008 کو یو پی کے چیف سکریٹری کو ایک خط لکھ کر اس معاملے کی جیوڈیشیل انکوائری کرانے کی سفارش کی، جس پر عمل کرتے ہوئے اس وقت کی مایاوتی حکومت نے ریٹائر جج آر ڈی نمیش کی صدارت میں کمیشن قائم کرکے اس پورے معاملے کی جانچ کی تفصیلی رپورٹ چھ ماہ کے اندر پیش کرنے کی ہدایت دی۔ کمیشن کو اپنی جانچ پوری کرنے میں دو سال لگ گئے۔ نمیش کمیشن نے آخر کار237 صفحات پر مبنی اپنی تفصیلی رپورٹ 31 اگست، 2012 کو اکھلیش حکومت کو سونپ دی، جس میں اس نے کافی چونکانے والے انکشافات کیے۔ مثال کے طور پر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ
کمیشن کے سامنے آئے حقائق سے یہ واضح ہے کہ مبینہ ملزم طارق قاسمی کو 12 دسمبر، 2007 کو دوپہر 12 بجے، جب وہ سرائے میر (اعظم گڑھ) سے اپنی موٹر سائیکل سے اجتماع کے لیے جا رہا تھا، تب اسے شنکر پور چیک پوسٹ، تھانہ رانی کی سرائے سے کچھ آدمیوں نے اٹھایا اور ٹاٹا سومو میں ڈال کر لے گئے اور ان میں سے دو دیگر آدمی اس کی موٹر سائیکل لے کر چلے گئے۔
اسی طرح درج بالا تمام حقائق سے یہ واضح ہے کہ 16 دسمبر، 2007 کو شام سوا چھ بجے مبینہ ملزم خالد مجاہد کو مہتوانا محلہ، تھانہ مڑیاہوں، ضلع جونپور سے ٹاٹا سومو میں سوار آدمیوں نے اٹھالیا اور اسے وہاں سے لے گئے۔ ان دونوں ملزمین کو بے دردی کے ساتھ مارا پیٹا گیا۔
127 دسمبر، 2007 کے بعد اور 22 دسمبر، 2007 سے بل کے واقعات میں ایس ٹی ایف کے علاوہ دیگر پولس دستہ کا اس میں ملوث رہنا محسوس ہوتا ہے، لیکن ثبوتوں سے یہ واضح نہیں ہے کہ مبینہ ملزمین خالد مجاہد اور طارق قاسمی کو جن لوگوں نے اٹھایا، بے دردی سے مارا پیٹا، وہ کس پولس دستہ کے لوگ تھے، کون کون لوگ تھے اور انہوں نے ان دونوں ملزمین کے ساتھ کیا کچھ کیا۔ تاہم، درج بالا واقعہ میں سرگرم رول ادا کرکے قانون کے خلاف کام کرنے والے افسر، ملازمین کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔
نمیش کمیشن نے نہ صرف طارق قاسمی اور خالد مجاہد کے معاملے میں تمام حقائق سے پردہ اٹھایا، بلکہ اس نے پولس کے رویے پر بھی کئی سوال کھڑے کیے۔ کمیشن نے یوپی حکومت کو اس سلسلے میں جو سفارشیں پیش کی ہیں، اگر ان پر عمل کیا جائے، تو دہشت گردی کے نام پر ملک سے بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ آج بھی رک سکتا ہے۔ نمیش کمیشن کی سفارشات درج ذیل ہیں:
دہشت گردی کے واقعہ میں پولس سے الگ محکمہ کے گزیٹیڈ افسر کو برآمدگی کا گواہ بنانا چاہیے۔
مبینہ ملزموں سے پوچھ گچھ کی ویڈیو ریکارڈنگ ہونی چاہیے۔
تجزیہ پولس کی کسی دوسری برانچ کے گزیٹیڈ افسر کے ذریعے ہی کیا جانا چاہیے۔
ایسا معاملوں کے نمٹارہ کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جانی چاہئیں۔
ایسی عدالتوں کے پریزائڈنگ آفیسر کو کیسوں کے نمٹارہ میں متعینہ کوٹہ دینے کا پابند نہیں بنایا جانا چاہیے۔
استغاثہ کی طرف سے ماہر اور خاص قابلیت والے وکیل؍ سرکاری افسر کے ذریعے ہی صوبائی حکومت کی طرف سے پیروی کرنی چاہیے۔
ان کیسوں کے لیے الگ سے پرازیکیوشن سیل قائم ہونا چاہیے، جو کیسوں کے جلد نمٹارہ میں مدد کرکے اپنا تعاون پیش کریں۔
ایسے کیسوں کا نمٹارہ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ 2 سال میں کرنے کا انتظام ہونا چاہیے اور ہر سطح کی کارروائی کی مدت طے کی جانی چاہیے۔ کیس کا نمٹارہ وقت پر نہ ہونے پر اس کا تجزیہ کیا جانا چاہیے اور متعلقہ آدمی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
متاثرہ فریق کو مناسب معاوضہ دینے کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔
اچھے کام کے لیے افسروں اور ملازموں کو انعام دیے جانے کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔
بے قصور لوگوں کو جھوٹا پھنسانے پر ذمہ داری طے کرکے سزا دیے جانے کا بھی انتظام ہونا چاہیے۔
ایسے کیسوں سے جڑے ہوئے افسر، ملازم، عدالت کے پریزائڈنگ افسروں کو پوری سیکورٹی فراہم کی جانی چاہیے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ نمیش کمیشن کی رپورٹ میڈیا میں لیک ہونے کے بعد بھی یو پی کی اکھلیش حکومت اسے دباکر بیٹھی ہوئی ہے اور اس رپورٹ کو عام نہیں کر رہی ہے۔ یہ تو سراسر نا انصافی ہے، جب حکومت کی نیت ہی صاف نہیں ہوگی، تو اس سے بھلائی کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔
یو پی ہی نہیں، پورے ملک میں مسلمانوں کو سرکاری مشینری کی طرف سے پریشان کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ مسلمان اس ملک کا وفادار شہری بن کر جینا چاہتا ہے، لیکن سرکار کا رویہ اس کے تئیں اب تک ٹھیک نہیں ہوا ہے۔ دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں ہے، لیکن دہشت گردی کے نام پر کسی بے قصور کو گرفتار کرنا کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔ ضرورت اس بات ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں بجائے اس کے کہ دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد اس کے لیے صرف مسلمانوں کو قصوروار ٹھہرانے کے اس بات پر غورکریں، تو زیادہ مناسب ہوگا کہ اگر کوئی مسلمان دہشت گرد بن جاتا ہے، تو اس کے پیچھے آخر وجوہات کیا ہیں۔ یہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ بھوک انسان کو چور بنا دیتی ہے۔ اس ملک کا مسلمان غریب ہے، پس ماندہ ہے، اَن پڑھ ہے ، سماجی اعتبار سے پچھڑا ہوا ہے۔ مسلمان جس محلے میں رہتا ہے، وہاں کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے، گندی نالیاں بہتی ہیں، ان کے علاج کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ اگر سرکاریں ان چیزوں پر دھیان دیں اور اس ملک کے مسلمانوں کو بھی قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوششیں کریں، تو شاید آنے والے دنوں میں ملک کی حالت زیادہ بہتر ہوسکے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *