مسلم مذہبی رہنمائوں سے ملنے کی سیاست زوروں پر

Share Article

ڈاکٹر وسیم راشد
p-5الیکشن کا موسم آیا اور چاروں طرف مسلمان، مسلمان کی ہاہاکار مچ گئی ۔ ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے ، یہ صرف الیکشن کے وقت ہی پتہ چلتا ہے۔ مسلمانوں کی نمائندگی پارلیمنٹ میں بہت کم ہے۔ مسلمانوں کی نمائندگی پولس میں کم ہے۔ مسلمانوں کی نمائندگی ریلوے میں ، بینکوں میں اور سرکاری عہدوں پر کم ہے۔ یہ سب احساس سب کو الیکشن ہی کے زمانے میں ہوتا ہے۔ ایک طرف کانگریس، بی جے پی ، سماجوادی پارٹی اور دوسری پارٹیوں کے سربراہان مسلمانوں سے ملاقات کرنے اور ان کے مذہبی لیڈران کو خوش کرنے کی سیاست میں لگ جاتے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کے نام نہاد مذہبی رہنما خود کو مسلمانوں کا مسیحا سمجھ کر ساز باز کرتے نظر آتے ہیں۔
جیسے جیسے 2014کا الیکشن 5ویں مرحلیمیں پہونچنے لگا ویسے ویسے مذہبی لیڈران سے ملنے کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا۔ جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے انتخابات شروع ہونے سے قبل ہی اس سیاسی ملاقات کا آغاز کیا اور وہ خود سونیا گاندھی سے ملنے پہنچے اور ان میں او رسونیا گاندھی میں نہ جانے کیا ڈیل ہوئی کہ امام بخاری کانگریس کا دم بھرتے ہوئے مسلمانوں کے سچے مسیحا بن کر لوٹے اور کانگریس کو ووٹ ڈالنے کی اپیل کر ڈالی۔ امام بخاری کو شاید اندازہ بھی نہیں تھا کہ مسلمانوں میں ان کی وہ ساکھ نہیں ہے ، جو ان کے والد عبد اللہ بخاری مرحوم کی تھی۔ حالانکہ 80اور90کی دہائی میں ان کا بھی اثر نوجوانوں پر سے ختم ہونے لگا تھا اور پڑھے لکھے نوجوان ان کی باتوں میں کم ہی آتے تھے مگر پھر بھی پورے ملک کے مسلمان ان کی بارعب شخصیت اور اثر دار لب و لہجہ سے متاثر تھے اور ان کی بات مانتے تھے۔احمد بخاری نے اپنی یہ ساکھ دراصل خود خراب کی۔ کبھی ملائم سنگھ کے گن گان گانے لگے ، کبھی ممتا بنرجی کی سادگی ان کو بھانے لگی اور ممتا کے مسلمانوں کے لئے کئے ہوئے کام ان کو نظر آنے لگے۔احمد بخاری اس کے ساتھ ساتھ گھر کی بغاوت بھی نہیں روک پائے اور اس طرح خود ان کے بھائی یحیٰ بخاری ان کے مخالف ہو گئے۔ بی جے پی نے احمد بخاری کے ملنے پر خوب واویلا مچایا ، خوب ہی سیاست کی اور اس کاغبار نکلا دہلی میں راج ناتھ کی اردو صحافیوں سے ملاقات کے نتیجے میں۔راج ناتھ کو معلوم تھا کہ اردو اخبارات تنگ دستی کا شکار رہتے ہیں ، اس لئے وہ اشتہارات کے لالچ کا کارڈ خوب اچھی طرح کھیل جائیں گے اور اپنی صفائی بھی پیش کر دیں گے۔ ہوا بھی یہی ۔ دہلی کے سرکردہ اردو صحافیوں نے ان سے ملاقات کی ، راج ناتھ نے ان کو لبھانے کے لئے سبھی ہتھکھنڈے بھی اپنائے ، مگر اردو صحافی مذہبی لیڈران سے چالاک ثابت ہوئے اور بی جے پی کا کیسریا رنگ لگائے بغیر لوٹ آئے۔ اس دوران اچانک مودی مختلف چینلز پر انٹرویو دینے لگے۔ انڈیا ٹی وی پر بڑا ہی نرم نرم سا بڑا ہی ٹھنڈا سا انٹرویو رجت شرما نے لیا اور وہ رجت شرما جس کے سوالوں کی دھار کی کاٹ آسان نہیں ہوتی، وہ مسکرا مسکرا کر مزے سے ،پیار سے مودی کو بچے کی طرح بہلا بہلا کر انٹرویو لیتے رہے اور پورا ہندوستان بے وقوف بنتا رہا۔
راج ناتھ کو اچانک یاد آ گئی مولانا کلب جواد اور مولانا رشید فرنگ محلی سے ملنے کی۔ ظاہر ہے راج ناتھ لکھنؤ سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور لکھنؤ میں مولانا کلب جواد کی بہت زیادہ ساکھ ہے۔ لکھنؤ میں ساڑھے 10لاکھ ووٹرس میں ، جس میں3.50لاکھ ووٹرس مسلمان ہیں، ایسے میں اگر راج ناتھ کلب جواد سے ملتے ہیں تو کوئی معیوب بات نہیں ہے۔مولانا کلب جواد بے حد سلجھے ہوئے شیعہ عالم دین ہیں اور اگر ان سے کوئی ملاقات کی خواہش ظاہر کرتا ہے تو وہ انکار کیسے کر سکتے ہیں مگر مولانا کلب جواد کے لیٹر ہیڈ پر لکھا ہوا ایک خط اس وقت سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر لگا ہوا ہے ، جو امت شاہ کے نام ہے اور اس میں انھوں نے امت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ میں شری بہادر عباس کے ساتھ شری شاہد حسن کو بھیج رہا ہوں، ان سے ایک منٹ اکیلے میں بات چیت کرنے کی زحمت کریں۔ جناب نریندر مودی کو گجرات دنگوں میں کلین چٹ ملنے کی بہت بہت بدھائی۔ امید ہے کہ اب مسلمانوں میں ان کے لئے پھیلائی نفرت کم ہوگی ۔ ایک خاص بات یہ ہے یہ لکھنؤ کی لوک سبھا سیٹ سے شری لال جی ٹنڈن کے علاوہ کسی بہتر شخص کو ٹکٹ دیا جائے کیونکہ لعل جی ٹنڈن کی شبیہ ہندوئوں اور مسلمانوں میں اچھی نہیں ہے۔ میرے سجھائو پر وچار کرنے کی زحمت کریں۔ جیسا کہ آپ سے بات ہوئی تھی میری ملاقات جلدی کرائے جانے کی زحمت کریں جیسا بھی ہو شاہد صاحب کو بتا دیں‘‘
یہ پورا متن ہے اس خط کا جو مولانا کلب جواد کا ہے۔ مولانا بے حد قابل، فعال اور نہ صرف شعیوں بلکہ سنیوں کی نظر میں بھی قابل احترام ہیں۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ مولانا کلب جواد کو امت شاہ جیسے بدنام زمانہ کو یہ خط لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کے علاوہ انھوں نے جو ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔یہ ملاقات کس سے ہوئی ہے اور کب ؟ اس کا خلاصہ نہیں ہے۔ شاید یہ ملاقات راج ناتھ سے ہونی ہوگی یا مودی سے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے ، راج ناتھ کی یہ ملاقات ہی وہ ملاقات ہو جو ہونی تھی۔
راج ناتھ سے ملاقات میں مولانا کلب جواد نے راج ناتھ سے کہا کہ گجرات فساد کو لے کر مسلمان ڈرے ہوئے ہیں۔ کلب جواد نے بات تو سچ کہی کہ مسلمان مودی سے ڈر ے ہوئے ہیں لیکن خود مودی بھی مسلمانوں سے ڈرے ہوئے ہیں، یہ نہیں لگتا کیونکہ کئی مسلمانوں کے کئی مذہبی لیڈران مودی کے در پر دستک دے چکے ہیں اور خود مودی جانتے ہیں کہ اس قوم میں کوئی دم خم نہیں ہے ۔ اس کے لیڈر بے حس ہیں، اس کے مذہبی رہنما بے حس ہیں۔
مولانا رشید فرنگی محلی سے راج ناتھ کی ملاقت بھی کافی سرخیوں میں رہی مگر کوئی تاثر نہیں چھوڑ سکی اور مولانا کلب صابق اور مولانا کلب رشید سے بھی ملاقات کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مذہبی رہنمائوں سے ملاقات کیا مسلمانوں پر کوئی اثر چھوڑ پائے گی؟ ہم نے کئی مسلم سربراہان اور لیڈران سے بات کی تو تقریباً سبھی کا خیال تھا کہ جس طرح گھر میں کوئی بڑا فنکشن یا پروگرام ہوتا ہے تو گھر کے بزرگوں سے دعا اور آشیرواد لئے جاتے ہیں ۔ ایسے میں اگر ہمارے ہندو بھائی ہمارے مذہبی لیڈران سے ملتے ہیں تو کوئی عجیب بات نہیں ، کوئی حرج نہیں اوریہ علماء اور نفرتوں کو کم کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہو سکتے ہیں مگر علماء کا کسی خاص پارٹی کے لئے جھکائو یا بیان یا چنوتی دینا اس کے سبھی خلاف ہیں۔ جیسے شاہی امام نے کانگریس کی حمایت کا اعلان کیا ۔ مولانا توقیر رضا خان صاحب بریلوی نے بہوجن سماج پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا اور کھل کرحمایت کی ۔ مولانا ارشد مدنی کا جھکائو سب جانتے ہیں سماجوادی پارٹی کی جانب ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کے مولانا اسرار الحق قاسمی اور آپ پارٹی کے ٹکٹ سے مولانا کلب رشید تو خود ہی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اب ان حلقوں میں مسلمانوں کا رجحان خود بخود ہی ان پارٹیوں کی طرف ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن سیاسی لیڈران کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ الیکشن کے دوران اگر کسی مذہبی رہنما سے ملتے ہیں تو صرف دعائوں اور آشیرواد کی امید رکھیں۔
الیکشن کے دورا ن میں جہاں کوبرا پوسٹ سے بابری مسجد کی شہادت کی سی ڈی منظر عام پر آئی اور اس نے بی جے پی کی شبیہ کو داغدار کیا، وہیں 2کتابیں سنجے بارو کی ’’دی ایکسی ڈینسل پرائم منسٹر، دی میکنگ اینڈان مکینگ آف منموہن سنگھ ‘‘ اور ہندو ستان کے سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پارکھ کی کتاب ’’کروسیڈر اینڈ کانسپرسیز‘‘ کولگیٹ اینڈادر ٹروتھس ، بھی منظر عام پر آئیں، جنھوں نے کانگریس کی شبیہ کو داغدار کیا۔ یہ سب وہ سیاسی کھیل ہیں، جن کا سمجھنا اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کی سی ڈی کاالیکشن کے موقع پر آنا یوں تو مسلمان کو بی جے پی کے خلاف کرنے والا ہے ہے ، جو وہ پہلے سے ہی ہیں۔ اس کڑی کا حصہ بی جے پی لیڈر راج ناتھ سنگھ کا مسلم لیڈروں سے ملنا بھی ہے اور اس کڑی میں مودی کی اردو ویب سائٹ جو لانچ ہوئی ہے، اسے بھی رکھا جانا چاہئے۔
عین الیکشن کے دوران ایک صاحب ثروت ،صاحبت حیثیت اور نام و نمود والے مسلمان سلیم خان کے ہاتھوں اس ویب سائٹ کا لانچ کرانا بھی وہی سیاسی ہتھکنڈے ہیں جو بی جے پی ، کانگریس اور سبھی پارٹیاں کھیلتی آئی ہیں۔ مسلمانوں کی ٹوپی نہ پہننے والے مودی اورگجرات فساد کے لئے معافی نہ مانگنے والے مودی کی ویب سائٹ دیکھ کر بالکل ایسا لگ رہا ہے جیسے کہ مودی کی پیدائش مسلم خاندان میں ہوئی ، مسلم خاندان میں وہ پہلے بڑھے، ان کے چاروں طرف مسلمان ہی مسلمان کھڑے ہوئے ہیں۔ برقعہ پوش خواتین ان کو چاروں طرف سے گھیری ہوئی ہیں۔ ایک برقعہ پوش خاتون مودی کے سر پر ہاتھ رکھ رہی ہیں۔ دوبرقعہ پوش خواتین ان سے بڑے ہی خوش گوار موڈ میں باتوں میںمصروف ہیں۔ ایک ٹوپی اوڑھے مسلم بھائی ان کے گلے لگ رہے ہیں اور دوٹوپی اوڑھے مسلمان ایک والد اورایک بچہ۔ مودی سے باتیں کر رہے ہیں۔ یہ ویب سائٹ مودی کی کم ا ور مسلمان کے ساتھ بھائی چارہ دکھانے کی زیادہ ہے۔ اغلاط سے پر یہ ویب سائٹ مودی کے پیغامات (اقوال) ایسے دکھا رہی ہے ، جیسے مودی کوئی بہت بڑے فلاسفر یا مذہبی رہنما ہوں یاعظیم لیڈر ہوں ، جن کے اقوال کاہم روز مرہ کی زندگی میںحوالہ دیتے ہیں۔
یہ ملاقاتیں ، یہ ویب سائٹ ، یہ مذہبی رہنمائوں کے بیانات کتنے اثرانداز ہوں گے ،یہ تو 16مئی کو ہی پتہ چل پائے گا مگر ایک بات ضرور ہے کہ اب مسلمان بھی سیاست کی چالوں کو خوب سمجھ رہا ہے،تبھی تواس کا ووٹ فیصد ہر ریاست میں بڑھ رہا ہے۔ دیکھتے ہیں اس ووٹ فیصد بڑھنے سے کس کو فائدہ ہوگا۔

دیکھتے ہیں سرکردہ لیڈران یا مسلمان جن کا سماج پر اثر ، وہ کیا کہتے ہیں
کمال فاروقی ، سابق چیئر مین دہلی اقلیتی کمیشن :ہندوستاچن ایک مذہبی ملک ہے اور اس کا تہذیب و تمدن ایسا ہے کہ سبھی مذہبی رہنمائوں کی عزت کرتے ہیں اور اسی تہذیب کی وجہ سے مذہبی رہنمائوں سے ملنا ، ان سے نیک خواہشات لینا کوئی بری بات نہیں ہے، لیکن جب یہ لگے کہ کوئی مذہبی رہنما مذہب کا ٹھیکیدار بن رہا ہے، تب وہی مذہبی رہنما خود غرض ہو جاتا ہے۔ مسلمان کسی سے نہیں ڈرتا، یہ اس کا ملک ہے۔ اس ملک کا قانون اس کا ہے، اگر کوئی مذہبی رہنما مسلمانوں کا استعمال کرتا ہے تو یہ مسلمانوں کی بھی توہین ہے اور اس ملک کے قانون کی بھی۔ سیاسی پارٹیوں کو بھی اس بات کا علم ہے کہ ان مذہبی رہنمائوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ اپنے علاقے کے ایک کونسلر کو نہیں جتا سکتے پھر یہ مسلمانوں کو وٹ کے لئے کیسے راضی کر سکتے ہیں۔ سیاسی لیڈران بھی اور مذہبی رہنما بھی سب ایک جیسے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان کوئی Commodityہے۔ اوراسے کوئی ایک بیچ دے گا اورکوئی دوسرا خریدلے گا۔ میں مسلمانوں کو ووٹ بینک بنا کر پیش کرنے پر سخت احتجاج درج کراتا ہوں۔
شبیہ احمد،سماجی کارکن :الیکشن کے دوران یا عام دنوں میں کسی لیڈر کا علما سے ملنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ آخر علماء اکرام ووٹر بھی تو ہیں، لیکن یہی علماء اکرام جب اس مقدم پوزیشن کو قوم کی ٹھیکیداری کے لئے استعمال کرتے ہیں، اس پر ہمیں سخت اعتراض ہے۔ اس وقت مسلمانوں کی بلکہ عوام کابنیادی مسئلہ بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اور فاشسزم ہے اور یہ فکر کہ ان فاشسٹ طاقتوں کو کیسے روکا جائے، اس کے لئے تو علماء اکرام کام نہیں کرتے بلکہ اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ورغلانا چاہتے ہیں۔ اس پر ہمیں اعتراض ہے بلکہ ہم نے تو کچھ علماء کو بی جے پی سے ساز باز کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ خود مولانا کلب جواد کا ایک خط ہے ، جو امیت شاہ کے نام ہے اور جس میں انھوں نے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اب یہ ملاقات یا تو مودی سے یا راج ناتھ سے ہوئی ہوگی۔ دیکھئے ،کوئی کسی سے بھی ملے مگر اجتماعی قیادت کا فائدہ اٹھا کر ساز باز نہ کرے ۔
اخترالواسع ، قومی کمشنر برائے لسانی اقلیت : کسی سے ملنا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ جمہوری عمل میں سبھی کی شمولیت ہونی چاہئے مگر اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملنے کو تو جائز ٹھہراتے ہیں اور دوسرے کے ملنے کو منھ بھرائی سمجھتے ہیں۔ مذہبی رہنما بھی ہندوستان کے ویسے ہی شہری ہیں، جیسے دوسرے شہری اور لیڈران آشیرواد کے لئے یا پارلیمنٹ کی رکنیت کی خاطر کے لئے ووٹ کی اپیل کے لئے ان سے مل لیں، کوئی حرج نہیں ہے۔ اعتراض تب ہوتا ہے، جب مذہب کا استعمال سیاسی مقامصد کے لئے ہوتا ہے، مذہب کا اخلاقی عنصر سیاست کو صحت عطا کرنا ہے۔ مذہبی اخلاقیات کی شمولیت ایمانداری سے ہو تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
م افضل ، کانگریس ترجمان : اگر کوئی مذہبی لیڈر کسی پارٹی صدر یا پارٹی رہنما سے ملنے آتا ہے اور اپنے مسائل پر بات کرتا ہے اور ووٹ دینے کے لئے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کے ساتھ مثبت فکر لے کر جاتا ہے تو چاروں طرف ہاہا کارمچ جاتی ہے۔ بی جے پی اس وقت تو آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے ،یہاں تک کہ بی جے پی لیڈر الیکشن کمیشن سے شکایت کر دیتے ہیں لیکن بعد میں خود ان کے لیڈر مذہبی رہنما سے ملنے جاتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ اس ے کوئی ووٹ کی سیاست نہ سمجھے یا تو سبھی پارٹیاں فرقہ پرست ہیں یا سبھی سیکولر۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کا لیڈر کہیں بھی جا سکتا ہے ، کسی سے بھی مل سکتا ہے مگر یہ دوہرا معیار کیوں؟ اصل میں بی جے پی ہی بانٹنے کی سیاست کرتی ہے ، ہم جوڑنے کی سیاست کرتے ہیں۔ اصل میں راج ناتھ کا مولانا کلب جواد سے ملنا ایک بڑی سازش ہے جو خود مسلمانوں کی سمجھ میں نہیں آ سکی۔ جب بی جے پی نے دیکھ لیا کہ احمد بخاری سنی مسلمانوں کو Representکرتے ہیں اور وہ کانگریس صدر سے ملے ہیں تو بی جے پی کے لیڈر شیعہ لیڈر سے مل لئے۔ دراصل بی جے پی ہندو مسلمان کو لڑانا چاہتی ہے، پھر مسلمانوں کو اور دلتوں کو لڑانا چاہتی ہے اور پھر شیعہ سنیوں کو لڑوا کر ووٹ کی سیاست کھیلتی ہے۔ ہم سبھی مسلمانوں کو لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مسلمان ودلت سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
شاہنواز حسین ،ممبر پارلیمنٹ بی جے پی :ہندوستان ایک بڑی ڈیموکریسی ہے، یہاں لیڈروں سے ملنا کوئی بڑی بات نہیں ہے، کوئی معیوب بات نہیں ہے اور انتخابی ضرورتیںہیں مگر ایجنڈا سیکولر ہی ہونا چاہئے۔ بڑوں سے آشیرواد لینا کوئی بری بات نہیں ہے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب کے رہنما ہوں۔
مہیش بھٹ، سماجی کارکن اور فلم ساز :ہم فلم والے اپنی فلم کے پروموشن کے دوران پورے ملک کا دورہ کرتے ہیں اور الگ الگ تہذیب و تمدن اور زبان والی ریاستوں میں جاتے ہیں تو ہم وہاں پی آر او سے کہتے ہیں کہ 2جملے اپنی زبان میں دے دو جو ہم بات کر سکیں اور یہ جملے ہم جب ان کی زبان میں بولتے ہیں تو وہاں کے معصوم عوام صرف یہ سوچ کر خوش ہو جاتے ہیں کہ ہم نے ان کی زبان میں بات کی۔ یہی حال ہمارے لیڈران کا ہے وہ بھی دبے کچلے، سہمے ہوئے عوام کا استعمال کرنے کے لئے ان مذہبی رہنمائوں سے مل کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس مذہب سے بے حد لگائو رکھتے ہیں اور بہت ہی ہمدرد ہیں۔ اور بے چارے معصوم مسلمان اسی دکانداری کو سمجھ نہیں پائے اور مذہبی گرو اس لئے ان کی باتھوں میں آ جاتے ہیں کہ جو بھی اقتدار میں آ ئے گا، اس کی دکانداری خوب چلے گی ۔ کلب جواد کا اور راج ناتھ سنگھ کا کیا تعلق؟ لیکن دونوں کی ہی دکان اچھی چلے گی۔ یہ بازار ہے یہاں صابن سے لے کر موکش تک بکتا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *