تلنگانہ کی 53سیٹوں میں مسلمان اہم فیکٹر

Share Article
Tilangana
119سیٹوں والی تلنگانہ اسمبلی کیلئے 7دسمبرکوہورہے انتخابات میں 53سیٹوں پرمسلمان اہم فیکٹر بن کرابھراہے۔ تلنگانہ کی موجودہ صورتحال میں ریاست کی کون کون پارٹیاں اس اہم فیکٹر سے فائدہ اٹھاپائیں گی، یہ توآنے والا وقت ہی بتاپائے گا۔
ویسے اس وقت صورتحال یہ ہے کہ گذشتہ 30اپریل 2014کوہوئے اسمبلی انتخابات 90سیٹوں پرقابض ہوکر کے چندرشیکھرراؤ کی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آرایس) نے ہم خیال پارٹیوں کی مدد سے حکومت بنالی تھی جبکہ اس بار 2018کے انتخابات میں بیرسٹر اسدالدین اویسی کی 7ارکان اسمبلی والی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) ٹی آرایس کی حمایت کررہی ہے۔وہیں دوسری طرف چندربابونائیڈو کی 3سیٹوں والی تیلگو دیشم پارٹی(ٹی ڈی پی) نے لیفٹ پارٹیوں کے ساتھ مل کر 13سیٹوں کی کانگریس سے اتحاد کرلیاہے۔
اس طرح ریاست کی سیاسی صورتحال بہت دلچسپ ہوگئی ہے۔ٹی آرایس اوراے آئی ایم آئی ایم ایک طرف ہے توکانگریس ، ٹی ڈی پی اورلیفٹ پارٹیاں دوسری طرف اوربی جے پی کا اصل نشانہ آخرالذکراتحادکانگریس، ٹی پی پی اورلیفٹ پارٹی پرہے۔اس لئے یہ اس وقت اتحادکی مخالفت زیادہ کررہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ اتحاد بی جے پی پرٹی آرایس اوراے آئی ایم آئی ایم کے حمایتی ہونے کا الزام لگاتاہے۔
ٹی ڈی پی کے سربراہ چندرابابونائیڈو غیرمنقسم آندھراپردیش کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اورتقسیم ریاست کے بعد بھی آندھرا پردیش کے موجودہ وزیراعلیٰ ہیں۔ مگریہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ یہ ٹی آرایس کے مسلم ووٹ بینک پرکتنااثر ڈال پائیں گے؟دوسری طرف یہ بات اپنی جگہ ہے کہ کانگریس ان ہی حلقوں میں مسلم ووٹ حاصل کرسکتی ہے جہاں مضبوط علاقائی پارٹیاں موجودنہیں ہیں اوراس کا سیدھا مقابلہ بی جے پی سے ہے۔ویسے ابھی حال میں آئے اوپنین پولز میں ٹی ڈی پی اورکانگریس والے اتحاد کی اس کے حق میں آئی رائے سے اس کی ہمت کافی بڑھ گئی ہے۔یہ اتحاد توقع کررہاہے کہ ٹی آریس کے خلاف اینٹی انکمبینسی فیکٹر سے اسے فائدہ ہوسکتاہے۔
یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے دیگرریاستوں کے انتخابات میں تومسلمانوں سے پرہیز کیاہے مگر یہ خبرگشت کررہی ہے کہ تلنگانہ میں انتخابی منشور میں اقلیتوں اورمسلمانوں کی خیرخواہی کی بات ہونے جارہی ہے۔ان خبروں کے مطابق، مسجدوں اورچرچوں میں بجلی کی مفت سپلائی، مسلم نوجوانوں کیلئے خصوصی طورپر کچھ سرکاری کنٹریکٹس ، غریب اورضرورتمند اورطالبات کیلئے 20لاکھ روپے کی مدد، مسلم طلبا اورطالبات کیلئے رہائشی سہولیات کے ساتھ اسکولوں کا قیام ، صرف مسلم مریضوں کیلئے ہاسپیٹلز بنانا اوراردواساتذہ کی تقرری کیلئے سلیکشن پینل کی تشکیل ہونے ہیں۔
جہاں مسلمان اہم فیکٹر بنے ہوئے ہیں ، ان علاقوں میں حیدرآبادضلع، پرانا شہر، سابق آدلاباد ضلع کے 5اسمبلی حلقے، مودھولے، بوتھ، خاناپورم، میڈک ، پٹن چیرو، سنگاریڈی ، اندھولے، گجویل، نرائن کھیڈ، سیدی پیٹ، سابق نالگونڈہ، مونوگوڈے، دیواراکونڈا، مریالوگوڈا، سریاپیٹ، بھووا ناگری، ورنگل مشرق، ورنگل مغرب، جن گاؤں، اسٹیشن گھانپور، پالاکورتھی، کریم نگر، محبوب نگر، نظام آباد، بودھن، کماریڈی، آرمور، پیدا پیلی، راما گوندام، سیریلا، گڈوال، اچھم پیٹ، نگرکرنول، کلواکرتھی، رنگاریڈی، راجندرنگر، مہیشورم اورتندورشامل ہیں۔
ان علاقوں میں گذشتہ انتخابات میں مسلمانوں نے زیادہ تر ٹی آرایس اوراے آئی ایم آئی ایم کوووٹ دیا ہے۔لہٰذا سب کی نظریں ان علاقوں پرٹکی ہوئی ہیں اورسوال یہ اٹھ کھڑا ہواہے کہ اس باریہاں اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے؟
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *