مسلم عوام کی سوچ سے دور انتخابات پر مسلم تنظیمیں بے سمت و غیر واضح

Share Article

اےیو آصف

حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ بیشتر مسلم تنظیمیں و شخصیات دعویٰ تو کرتی ہیں کہ وہ فاشسٹ و فرقہ وارانہ قوتوں کو اقتدار سے روک کر اپنا فریضہ نبھا رہی ہیں، مگر جب عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے کا وقت آتا ہے، تو وہ غیر واضح اور مبہم موقف اختیار کرکے اصولی بننے کی کوشش کرنے لگتی ہیں۔ لہٰذا اگر وہ اس کاز میں واقعی سنجیدہ اور مخلص ہیں، تو انہیں واضح و غیر مبہم اپروچ اختیار کرنا چاہیے اور ابھی حال میں بنارس میں مختار انصاری کے انتخابی میدان سے مسلم ووٹ کو تقسیم سے روکنے کے لیے اپنی امیدواری کو واپس لینے کے فیصلے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ پیش ہے اس تعلق سے تفصیلی جائزہ…

p-3بابری مسجد ایشو پر بی جے پی کی جانب سے باہر سے دی گئی حمایت کے ختم ہونے پر 1990 میں مرکز میں وی پی سنگھ کی سربراہی والی نیشنل فرنٹ کی مخلوط حکومت کے گر جانے کے بعد 1991 سے مسلم تنظیموں کا بے سمت، مبہم وغیر واضح سوچ و اپروچ کا ٹیکٹیکل ووٹنگ کے نام پر جو سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ ہنوز جاری ہے۔ ٹیکٹیکل ووٹنگ کے تحت فاشسٹ و فرقہ وارانہ پارٹیوں کو ہرانے کے لیے سیکولرزم کا نام لینے والی اور جیتنے والی کسی بھی پارٹی کو ووٹ کے تعلق سے عام مسلم عوام سے الگ الگ ریاست میں رائے لے کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابات کے تعلق سے مسلم تنظیمیں ان سے سوچ کے اعتبار سے بہت دور ہیں اور ان میں سے بیشتر کے مسلم عوام کے ووٹ پر اثرات بھی نہیں پائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم تنظیمیں بنیادی طور پر مذہبی ہیں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتی ہیں۔ لہٰذا سیاسی طور پر ان کی کوئی رائے کسی وہپ (Whip) کی حیثیت نہیں رکھتی اور مختلف مکاتب فکر سے منسلک ہونے کے سبب کسی ایک رائے پر اتفاق کرنا بہت مشکل بھی ہو جاتا ہے۔ شیعوں میں شیعہ، دائودی بوہرہ، کھوجہ بوہرہ اور اسماعیلی اور سنیوں میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث کے علاوہ جماعت اسلامی ہند جیسی فکری تنظیم اور جمعیت علماء ہند اور مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ہند جیسی تنظیمیں بھی موجود ہیں۔
1964 میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور 1992 میں آل انڈیا ملی کونسل وفاقی تنظیموں کے طور پر وجود میں آئی تھیں، مگر یہ دونوں سمٹ کر رہ گئی ہیں اور اپنے مسلم تنظیموں کو جوڑنے کے مقصد وجود سے بہت دور ہوگئی ہیں اور ان کی پورے طور پر وفاقی حیثیت بھی اب برقرار نہیں رہ گئی ہے۔ مثال کے طور پر مشاورت سے جمعیت علماء ہند تو ابتدا ہی سے الگ ہے۔ بریلوی اور شیعہ مکاتب فکر کا اس سے کوئی خاص واسطہ نہیں ہے۔ مشاورت میں جماعت اسلامی اور جمعیت اہل حدیث کے علاوہ کوئی اور بڑی تنظیم شامل نہیں ہے۔ مشاورت کے دونوں دھڑوں کے مل جانے کے بعد مہتمم دارالعلوم دیوبند (وقف) مولانا محمد سالم قاسمی اس کی سپریم گائڈنگ کونسل کے چیئر مین ہیں۔ مشاورت سے ابتدا سے مخالف مولانا وحید الدین خاں کے صاحبزادے ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں اس کے صدر ہیں۔ شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر مولانا عطاء الرحمن قاسمی سکریٹری جنرل ہیں، مگر بڑے دانشوران ہونے کے باوجود عمومی سطح پر یہ دونوں بہت زیادہ متعارف نہیں ہیں۔ اسی طرح ایک تنظیم ’مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا‘ کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی اور مدیر ’جدید خبر‘ معصوم مراد آبادی بھی اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ علاوہ ازیں ملک کی چند اہم شخصیات اور تنظیمیں بھی اس سے وابستہ ہیں، لیکن ان سب کے باوجود زمینی سطح پر مشاورت کا کوئی اثر نہیں پایا جاتا ہے۔ یہی حال کم و بیش ملی کونسل کا ہے۔ قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ اور ڈاکٹر محمد منظور عالم کی پیش رفت پر یہ قائم ہوئی، مگر امارت شرعیہ کو چھوڑ کر شمال کی بڑی مسلم تنظیموں میں سے اس میں کوئی نہیں ہے۔ البتہ جنوب میں کے عبد الرحیم قریشی کی’تعمیر ملت‘ اور صوفی سید شاہ مصطفیٰ رفائی جیلانی کی ’الاصلاح‘ جیسی اہم تنظیمیں اس میں ضرور شامل ہیں۔ 15ویں لوک سبھا میں کشن گنج سے منتخب رکن مولانا اسرار الحق قاسمی اس کے ہنوز نائب صدر تو ہیں، مگر برائے نام ہیں۔ ملی کونسل میں یہ احساس زبردست طور پر پایا جاتاہے کہ انہوں نے کشن گنج میں قائم کیے گئے اے ایم یو سینٹر کے لیے کی گئی کوشش اور اس علاقہ میں تعلیم، خصوصی طور پر بچیوں کی تعلیم کے علاوہ پوری مدت میں پارلیمنٹ میں کوئی مضبوط آواز نہیں اٹھائی اور اپنے فنڈ بھی پورے طور پر خرچ نہیں کر پائے۔ مگر اس کے باوجود اس بار بھی ان کے لیے مہم کی جارہی ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان دونوں وفاقی تنظیموں میں کچھ افراد کامن ہیں۔ مثال کے طور پر معروف چارٹرڈ اکائونٹینٹ اور دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئر مین کمال فاروقی ملی کونسل اور مشاورت دونوں وفاقی تنظیموں میں شامل ہیں۔ اس طرح ایک مضبوط و متحد وفاقی تنظیم کی عدم موجودگی میں مسلم ووٹرس کو انتخابات کے موقع پر ہدایت دینے والی کوئی باڈی یا ملی سیاسی فورم ملت میں موجود نہیں ہے۔
اب آئیے، ذرا دیکھیں کہ 16ویں پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ان وفاقی تنظیموں اور ان میں شامل تنظیموں کا کیا رول ہے اور وہ کیا کررہی ہیں؟ عجیب بات تو یہ ہے کہ جہاں ایک جانب وفاقی تنظیمیں مسلم ووٹرس سے اپیل کرتی ہیں، وہیں دوسری جانب ان میں شامل تنظیمیں بھی الگ الگ اپیل کرتی ہیں اور ان کی اپیل میں کبھی کبھی کوئی اتفاق بھی نہیں پایا جاتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ مشاورت نے 8 اپریل کو مختلف ریاستوں کے مسلم ووٹرس سے بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی 7 سیٹوں پر وہ سیکولر پارٹیوں، کانگریس اورعام آدمی پارٹی کے حق میں فیصلہ کریں، جب کہ دو روز قبل 6 اپریل کو جماعت اسلامی نے دہلی میں صرف عام آدمی پارٹی کو پسند کیا۔ مشاورت کا جب پریس کانفرنس میں اعلان ہورہا تھا، تب جماعت کے نائب امیر محمد جعفر اور سکریٹری محمد سلیم انجینئر اسٹیج پر تشریف فرما تھے۔ جب اس سلسلے میں مشاورت اور جماعت دونوں سے یہ سوال کیا گیا، تو صدر مشاورت کی جانب سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔ اسی طرح جب بہار میں لالو یادو کی آر جے ڈی اور نتیش کمار کی جے ڈی یو کے امیدوارں میں سے کس کو ووٹ دیا جائے، کے سوال پر جواب ملا کہ ووٹر خود فیصلہ کریں۔ سوال یہ ہے کہ دونوں کا جائزہ لے کر کوئی واضح ہدایت کیوں نہیں دی جاتی اور جواب مبہم کیوں رہتا ہے؟ نیز بے سمتی کیوں اختیار کی جاتی ہے؟ مشاورت نے ریاست کیرل میں انڈین یونین مسلم لیگ کو ووٹ دینے کو کہا، مگر جب مشاورت کی توجہ ملا پورم میں صدر آئی یو ایم ایل، ای احمد کے خلاف کھڑے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے امیدوار کی طرف مبذول کرائی گئی اور یہ پوچھا گیا کہ وہ خود ویلفیئر پارٹی کے نائب صدر ہیں، تو پھر اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کے خلاف جاکر آئی یو ایم ایل کی حمایت کیسے کر رہے ہیں، تب بھی وہ کوئی صاف جواب نہ دے سکے۔ اس پر حیرت ہوتی ہے کہ ویلفیئر پارٹی نے ملک کی قدیم ترین مسلم سیاسی پارٹی آئی یو ایم ایل اور اس کے صدر کے خلاف اپنے امیدوار کھڑا کرنا کیوں ضروری سمجھا؟ کیا اس سے مسلم ووٹ تقسیم نہیں ہوگا؟ ویسے یہ بات قابل تعریف ہے کہ ویلفیئر پارٹی نے بی جے پی اقلیتی سیل کے سربراہ ڈاکٹر جے کے جین کی اس گزارش کو مسترد کردیا کہ ویلفیئر پارٹی ان پارلیمانی حلقوں میں انتخاب لڑے، جہاں اس کے امیدوار کے کھڑے ہونے سے بی جے پی کو مسلم ووٹ تقسیم ہونے کے سبب فائدہ ہو جائے۔ صدر ویلفیئر پارٹی مجتبیٰ فاروق اپنے قومی سکریٹری اور مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی کے ساتھ قومی راجدھانی کے ایک پانچ ستارا ہوٹل میں 20 مارچ کو ملے تھے۔ ’’ چوتھی دنیا‘‘ کو مجتبیٰ فاروق نے بتایا کہ ڈاکٹر جین نے چاندنی چوک سے انتخاب لڑنے کی بھی بات اٹھائی، مگر اسے بھی مسترد کردیا گیا۔
یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ ان دونوں وفاقی تنظیموں اور دیگر مسلم تنظیموں نے پورے ملک میں فاشسٹ و فرقہ وارانہ پارٹیوں کو شکست دینے کے لیے سیکولرزم کا نام لینے والی سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے، لیکن انہوں نے سیکولر پارٹیوں کے درمیان سیدھا مقابلہ ہونے کی صورت میں مسلم ووٹرس کو کوئی واضح ہدایت نہیں دی ہے اور پھر ووٹر کو خود یہ فیصلہ کرنے کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان میں سے کسی جیتنے والے سیکولر امیدوار کو ووٹ دے۔ عجیب حالت تو بہار جیسی ریاست میں پیدا ہوگئی ہے کہ وہاں مختلف حلقوں میں مسلمان آر جے ڈی – کانگریس اتحاد کو ووٹ دیں یا جے ڈی یو کو؟ بہار میں معروف تنظیم امارت شرعیہ اور ادارہ شرعیہ ہیں۔ انہوں نے بھی اسی طرح کی کال دی ہے۔ اس مبہم و غیر واضح اپیل سے مسلم ووٹ کی تقسیم ناگزیر ہے اور مسلم تنظیمیں، جو کہ فاشسٹ و فرقہ وارانہ تنظیموں بشمول بی جے پی کو ہرانا چاہتی ہیں، انہیں جتانے کی راہ ہموار کرنے لگتی ہیں۔ جس بھی مسلم تنظیم سے بات کی گئی، وہ نتیش کمار کی جے ڈی یو کے بی جے پی سے الگ ہونے کی تعریف تو کرتی ہیں، مگر کانگریس- آر جے ڈی اتحاد کے خلاف جاکر انہیں ووٹ دینے کی واضح اپیل نہیں کرتی ہیں۔ تب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ پھر اپنے مقصد و موقف میں کتنی سنجیدہ اور یکسو ہیں، کیوں کہ وہاں اصل جنگ تو جے ڈی یو کی بی جے پی کے خلاف ہے؟
حال میں دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سچر رپورٹ پیش کرنے والے راجندر سچر پٹنہ جاکر نتیش کمار سے ملے تھے اور اس ریاست میں ان کے ذریعے مسلمانوں سے متعلق کیے گئے کام کی تعریف کی تھی۔ مگر مشاورت اور دیگر تنظیمیں اس طرح کا موقف اختیار کرنے کے لیے بھی کھل کر آگے نہیں بڑھیں۔ تب سوال یہ ہے کہ پھر وہاں مسلم و سیکولر ووٹ کو تقسیم ہونے سے کیسے بچایا جاسکے گا؟
یہ مسلم وفاقی تنظیمیں و دیگر تنظیمیں فاشزم و فرقہ وارانہ قوتوں کو مرکز میں اقتدار میں آنے سے روکنے میں واقعی سنجیدہ ہوتیں، تو وہ ہر ایک ریاست میں وہاں کی مخصوص صورت حال کے پیش نظر واضح اور غیر مبہم انداز میں سیکولرزم کا نام لینے والی کسی ایک سیاسی پارٹی کی حمایت کا کھل کر اعلان کرتیں اور اس بحرانی دور میں Neutral ہونے سے بچتیں۔ بحرانی دور میں واضح اور صاف موقف اختیار نہ کرنے کے تعلق سے مشہور جرمن مفکر دانتے کا قول ہے کہ ’’جہنم میں سب سے گرم مقام ان لوگوں کے لیے ریزرو ہے، جو کہ کسی اخلاقی بحران کے وقت نیوٹرل ہوجاتے ہیں‘‘۔
ان مسلم تنظیموں کو جسٹس راجندر سچر سے سبق لینا چاہیے۔ ان مسلم تنظیموں کے سامنے تو اب بہار کے کشن گنج میں جے ڈی یو امیدوار اختر الایمان کے انتخابی میدان سے ہٹ جانے کا 15 اپریل کو کیا گیا فیصلہ ہے۔ ان کے اس فیصلہ کا سیدھا اثر یہ پڑے گا کہ وہاں مسلم ووٹ اب بڑی تعداد میں تقسیم نہیں ہوگا اور کانگریس کے 15ویں لوک سبھا میں رکن مولانا اسرار الحق قاسمی کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ ویسے یہ الگ بحث ہے کہ مولانا موصوف 16ویں لوک سبھا میں مسلمانوں کی فلاح کے لیے کیا کچھ آواز اٹھا پائیںگے اور کچھ کرپائیں گے، کیونکہ انہوں نے پچھلی بار مجموعی طور پر مایوس ہی کیا ہے۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ جہاں اختر الایمان کے مذکورہ فیصلہ سے مسلم ووٹ کی تقسیم کو روکنے کی ایک اچھی کوشش ہوئی ہے۔ وہیں ان کے ایسا کرنے کے طریقہ کی زبردست تنقید کی جا رہی ہے۔ ریاست کے سنجیدہ مسلمان اسے غیر اصولی عمل قرار دے رہے ہیں۔ خود نتیش کمار نے ان کے اس عمل کو حیرت انگیز گردانتے ہوئے ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ ’’ان کے نام میں ایمان لفظ شامل ہے اور انہوں نے اس کا بھی لحاظ رکھے بغیر دھوکہ اور عیاری کی نیز اچانک ایک سیٹ کو ضائع کیا۔‘‘ ایسا ہی ایک فیصلہ اس سے قبل اترپردیش کے بنارس میں ہوا ہے۔ وہاں بھی قومی ایکتا دل کے مختار انصاری کے ذریعے اپنی امیدواری واپس لے لینے سے مسلم و دیگر سیکولر ووٹ کی تقسیم کا امکان بہت کم ہوگیا ہے اور اس کے برعکس کانگریس کے اجے رائے کے انتخابی میدان میں کھڑے ہونے سے غیر مسلم ووٹ کی تقسیم کا میدان ہموار ہوگیا ہے۔ اس سے بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کی انتخابی جنگ بنارس میں سخت ہوگئی ہے۔ ویسے عام عوام اور مسلمان اختر الایمان اور مختار انصاری کے عمل میں صاف فرق محسوس کر رہے ہیں، کیوں کہ اخترالایمان نے اپنے طور پر فیصلہ کرکے دھوکہ دیا ہے، مگر مختار انصاری نے پارٹی کی سطح پر یہ عمل کیا ہے۔
فیصلہ اختر الایمان کا ہو یا مختار انصاری کا، اس سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مسلم سیکولر ووٹ کی تقسیم بڑی حد تک ان حلقوں میں رک سکے گی۔ مگر افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ بیشتر مسلم تنظیمیں اور شخصیات مصلحتوں کا شکار ہوکر کوئی واضح و غیر مبہم فیصلہ لینے سے گریز کرتی ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی جن فاشسٹ قوتوں کے خلاف بولتی رہتی ہیں، انہیں کامیابی سے ہم کنار کرتی ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان کے اس طرح کے طرز عمل سے کہیں بی جے پی کے شاہنواز حسین تو کہیں کوئی اور مسلم ووٹ کی تقسیم کے سبب جیت جاتا ہے۔
یہ مسلم تنظیمیں و شخصیات اپنے بارے میں اس قسم کی تنقید کو پسند نہیں کرتی ہیں۔ لیکن ان میں سے کچھ کی رائے الگ بھی ہے۔ بریلوی مکتبہ فکر کے معروف عالم دین مولانا توقیر رضا خان کا کہنا ہے کہ علمائے کرام کو بھی اس کا لحاظ کرنا چاہیے۔ عوام کو وہ رائے دی جائے، جو ان کے لیے بہتر ہو نہ کہ اس میں خود کا کوئی فائدہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی عقیدت کا غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ عوامی ناراضگی اس صورت میں مول لیں، جس طرح اپنے بچے کو اسکول بھیجتے ہیں تو اس کو غصہ آتا ہے، لیکن بعد میں بچے کی سمجھ میں آجاتا ہے کہ والدین نے اس پر سختی کیوں کی تھی۔
اس سلسلے میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مدنی، جو کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر بھی ہیں اور بین الاقوامی طور پر عالم دین اور خطیب کے طور پر معروف ہیں، واضح و غیر مبہم اپروچ کے حق میں رہتے ہیں۔ ان کاصاف طور پر کہنا ہے کہ اس طرح کے مواقع پر کھل کر بات کرنا چاہیے، کیونکہ معاملہ ملک و ملت کے مفاد کا ہے اور ہم ایک اصول پسند امت ہیں۔
بہرحال، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم تنظیمیں و شخصیات اس تعلق سے اپنی سوچ و اپروچ پر نظر ثانی کریں اور اس طرح کے مواقع پر واضح اور غیر مبہم موقف اختیار کریں، اسی میں ملک و ملت دونوں کا بھلا ہے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *