خستہ حال مسلم فنکار، بے پرواہ حکومت

Share Article

محمد انیس الرحمن خاں
ہندوستان کی مشہور ندی گنگا کے کنارے آباد لکھنؤ شہر محتاجِ تعارف نہیںہے، جس کے درمیان سے گزرتی ہوئی گومتی ندی بڑی شان سے آج بھی اس کی شہرت میں اضافہ کر رہی ہے۔ یہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنے تاریخی حقائق کی بنیا د پرساری دنیا میں مشہور و معروف ہے ۔یہ شہر اپنی نازک مزاجی اور نوابوں کے شہر سے بھی جانا جاتا ہے ،اتنا ہی نہیں اگر اردو ادب کی بات کریں تو اس شہر نے اردو زبان و ادب پر بڑے احسان کئے ہیں ۔خوا ہ وہ زمانہ 1857 کی پہلی جنگِ آزادی کے درمیان کا ہو یا بعد کا ،(یہ وہ زمانہ تھا جس کو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے قیامت صغریٰ کہا جا تا ہے )اس شہر نے مکمل ایک دبستان کے علاوہ انیس ؔو دبیرؔ جیسے عظیم فن کا ر دے کر اردو زبان و ادب میں چار چاند پہلے بھی لگائے تھے اور آ ج بھی اس کی چاشنی لکھنوی زبان و تہذیب میں اہلِ ادب کے یہا ں ضرور مل جاتی ہے ۔
1350کے بعد اودھ کا یہ علاقہ دہلی کے سلاطین کے ماتحت تھا ۔بعد میں یہ مغل بادشاہوں ،اودھ کے نوابوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز مالکوں کے تحت رہا ،یہاں تک جنگ ِ آزاد ی میں اہم رول ادا کرنے والے شہید اشفاق اللہ خان نے لکھنؤ سے متصل کاکوری میں چلتی ٹرین سے سرکاری خزانہ کومالِ غنیمت میں بدل کر بھی اس علاقہ میں آزادی کے مسلم متوالوں کے جذبے کی نشاندہی کردی تھی۔ یہا ں کی آبادی2001 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق3,645,509ہے جس میں مسلم آبادی تقریباً26فیصد ہے جب کہ ایک اندازہ کے مطابق فی الحال یہاں کی آبادی تقریباً5,085,528 ہے۔ درست آبادی کی نشاندہی تو اس سال ہونے والی مردم شماری کی رپورٹ آنے کے بعد ہی ہوسکتی ہے جس کے لئے ہم لوگوں کو کچھ اور دنوں کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ اگرمسلم نوابوں کے شہر لکھنؤ کے مسلمانوں کی معاشی حالت کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر لوگ چھوٹے چھوٹے کاموں سے اپنا گزارہ کرتے ہیں، جیسے پتنگ اور اس کے دھاگے بنانا ، سونے چاندی کے زیورات کے علاوہ چاندی کے اوراق بنانا ، کرتوں پر کڑھائی کرنا، چکن اور زردوزی وغیر ہ ۔ اس مہنگائی کے دور میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی اپنے اپنے گھروں میں اپنا خرچ پورا کرنے کی تگ ودو میں مصروف نظر آتی ہیں ۔
واضح ہو کہ لکھنوی چکن دنیا میں مشہور ہے کیونکہ یہاں کے مسلم کاریگروں کے ذریعہ تیار کیا ہوا کپڑا بڑے بڑے فیشن ڈیزائنرس اور فلمی دنیا کے ستاروں کونہ صرف پسند ہے بلکہ بڑے شوق سے زیبِ تن کرتے کراتے ہیں، جس کی وجہ سے ساری دنیا ان کاریگروں کے فن سے نہ صرف اچھی طرح واقف ہے بلکہ بیرونی ممالک سے آنے والا ہر سیاح اس وقت تک اپنی ویزٹ مکمل نہیں سمجھتا جب تک کہ لکھنوی چکن اور زردوزی کے کپڑے اپنے خاص لو گوں کے لئے تحفہ میں نہ لے جائے۔ یہی حال ہندوستانی سیاحوں کا بھی ہے جو بھول بھلیاں کا نظارہ کرنے کے لئے لکھنؤ کا سفر کرتے ہیں ۔اصل میںایمبر وڈری کا یہ فن ہندوستان میں رگ وید کے زمانہ سے چلا آرہا ہے۔ جبکہ زردوزی کا لفظ فارسی زبان سے لیا گیا ہے جس کے معنی “سونے سے سینا”ہوتاہے۔ اس فن کو مغل بادشا ہ جلال الدین محمد اکبرؔ کے زمانہ میں بہت زیادہ فروغ دیا گیا،بعد کے مسلم بادشاہوں اور نوابوں نے بھی اس کی سرپرستی کی اور کاریگروں کو خوشحال بناتے ہوئے اس فن کو زندہ رکھا۔ آج کل یہ کام ہندوستان کے لکھنو،بھوپال اور چنئی میں کثرت سے ہوتا ہے ، مگر اب فرق یہ ہے آزاد ہندوستانی حکومت کی بے توجہی کے سبب اس سے منسلک لوگ اپنا فن وہُنر دکھانے کے بجائے اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی جان توڑ کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔پہلے یہ کام نوابوں ،راجائوں کی ماتحتی میں سونے اور چاندی کے تاروں سے قیمتی کپڑوں پر کیا جاتا تھا جس کو لوگ سچا کام کے نام سے آج بھی یاد کرتے ہیں ۔ اس میں کام کرنے والے تقریباً تمام کاریگر مسلم ہیں ۔لکھنو ٔمیںیہ کام زیادہ تر پُرانے لکھنو ٔسے مشہور چوک کے علاقے میں ہوتا ہے یہاں کے ایک 50سالہ کاریگر جناب عبدالباسط کے مطابق “میں رام نگر، یٰسین گنج،بالاگنج،چوک، لکھنو کا رہنے والا ہوں، جب سے ہوش سنبھالا سوئی اور مٹھیا (کام کرنے کے اوزار)کے سہارے بڑے ہوئے۔ بچپن میں غربت کی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کر سکا جب تک نو جوانی کا عالم تھا سب کچھ اچھا چلتا رہا مگر اب اس مہنگائی اور ترقی یافتہ دور میں ہمارے یہ بچے غربت کی وجہ سے بغیر پڑھے لکھے بڑے ہوگئے ہیں ۔ان کے شادی بیاہ کے علاوہ روزانہ کے گھریلو اخراجات بھی بہت بڑھ گئے ہیں تو ہماری آمدنی بڑھنے کے بجائے کم ہوگئی ہے، کیوں کہ یہ بہت ہی باریک کام ہوتا ہے جس میں آنکھ کی روشنی کے ساتھ ہاتھ کی مضبوط پکڑ ضروری ہوتی ہے مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی جارہی ہے ویسے ویسے ان دونوں چیزوں کی گرفت ڈھیلی ہوتی جارہی ہے،یہی وجہ ہے کہ اب لوگ اپنے کارخانوں میں ہمیں کام دینے سے بھی گریز کرتے ہیں ،سمجھ میں نہیں آتا کہ اپنی زندگی بچوں کے ساتھ کیسے گزاریں “۔ وہ آفس آف دی ڈیولپمنٹ کمشنرہنڈی کرافٹ (منسٹری آف ٹیکسٹائلز) آرکے پورم دہلی ،کی جانب سے 3نومبر 2009 کو جاری کیا گیا ۔اپنی تصویر والا ایک کارڈ دکھاتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دوسال قبل آکر ہم سب کا ایک ایک کارڈ بنا دیا تھا اور کہا تھاکہ اس سے آپ لوگوں کو سرکاری مدد ملے گی مگر اب تک کچھ بھی نہیں مل سکا ۔ واضح ہو کہ یہ فن کا ر ایک نفری( آٹھ گھنٹے) کی جان توڑ محنت اور اپنی انگلیوںکا ہُنر،آنکھوں کا زور دکھاتے ہیں، تب بدلے میں انھیں اس مہنگائی کے دور میں صرف 80-90روپے ہی مل پاتے ہیں (گزشتہ دنوں کی بات کریں تو یہ محض ایک کلو پیاز کی قیمت ہے ) جب کہ منریگا میں عام مزدوری کم سے کم 100روپے سے زیادہ ہوتی ہے، اتنا ہی نہیں اس پیشے میں جو خواتین اپنے اپنے گھر پر کام کرتی ہیں ان کے بارے میں جناب حاجی حرمت علی صاحب کہتے ہیںکہ ’’ہماری جو خواتین اور دوشیزائیں اپنے اپنے گھروں میں اپنے فن و ہُنر کے جوہر بنارسی ساڑیوں پر دکھاتی ہیں انھیں آٹھ-دس گھنٹے کی سخت محنت کے بعد آج بھی محض 25-30روپے ہی مل پاتے  ہیں۔‘‘یہ ہے اس ریاست کی دارالسلطنت میں رہنے والی خواتین کی حالتِ زار جس کی سربراہ خود ایک ایسی خاتون ہیں جو ہر سال اپنے یومِ پیدائش پر اور خاص کر جب انتخابات سر پر ہوں تو فلاحی اسکیموں کے کاغذوں اور بڑے بڑے ہورڈنگ بورڈوں پر جھڑی لگادیتی ہیں ،تمام روزناموں میں بڑے بڑے اشتہارات دئے جاتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر 15جنوری 2011کوان کا اشتہار مکمل ایک صفحہ پر مشتمل ان کے فوٹو گراف کے ساتھ ان الفاظوں سے مزین تھا کہ’’ سروسماج میں سے خاص طور پر دلتوں ،استحصال زدہ ،متاثرین،بے سہارا اور غریبوں کی بلندی کی موجد اور ان کی عزت نفس اور خودداری کی علامت محترمہ مایاوتی جی وزیرِاعلیٰ اتر پردیش۔‘‘مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محترمہ کو ووٹ کیا اشتہارات سے مل جائیںگے یا ان اسکیموں کو ان تک پہنچانے کی بھی ضرورت ہے جنھیں ووٹرس کہا جاتا ہے اور یہ تو آپ کے وہ ووٹرس ہیں جو لکھنؤ کے ساتھ ہندوستان کی شہر ت میں اپنے فن و ہُنر کے کمال سے آپ کا ہاتھ بٹارہے ہیں۔ محترمہ آپ کے حواری ممکن ہے آپ کو آنے والے انتخابات میں کامیابی کا یقین دلاتے ہونگے مگر جان لیجئے کہ جو لوگ اس مہنگائی کے دور میں اپنے گھریلو اور روز مرہ کے اخراجات کے لئے چھوٹے چھوٹے بچوں کی تعلیم کو قربان کررہے ہیں اور اپنی خواتین کے عیش و آرام کے خیال کے باوجود مجبور ہوکرانھیں بھی کام میں لگا دیتے ہیں وہ آپ کو بھی آنے والے انتخاب میں کہیں نہ کہیں ٹھکانے ضرور لگادینگے ،جیسے پڑو س کی پندرہ سالہ پُرانی خاندانی حکومت کو لگا دیا گیا اس لئے ضرورت ہے آپ کو اپنی پڑوسی ریا ست بہا ر سے سبق لینے کی ۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے اور آپ اپنے اور اپنے انتخابی نشان کا مجسمہ ہی بنواتی اور نصب کر واتی رہ جائیں اور ادھر اترپردیش کے عقلمند عوام وزیرِاعلیٰ کی کرسی پر کسی اور کو نصب نہ کردیں ۔
بہر کیف اس علاقے سے تعلق رکھنے والے عبد السبحان صاحب عرف سیٹھ جی کے مطابق “ہم دردوزوں کا کوئی بھی پُرسانِ حال نہیں ہے یہاں تک کہ رکشہ چلانے والوں کی اپنی ایک تنظیم ہوتی ہے مگر ہماری کوئی بھی ایسی تنظیم نہیں ہے جو منظم انداز میں ہماری لڑائی لڑسکے ، سالوں پہلے ایک تنظیم تھی جو ہر کاریگر سے دو روپے ہفتہ وار وصول کیاکرتی تھی مگر اس نے بھی کیا ،کیا نہیں معلوم۔ اب تو اس کے کوئی کارندے بھی نظر نہیں آتے”،اس محلے کے امام اور مقامی سماجی کارکُن جناب قاری محمد برہان الدین رضوی صاحب کہتے ہیں کہ” آپ پورے محلے میں جاکر خود دیکھ لیں کہ وہ بچے جن کو اسکولوں میں ہوناچاہئے تھا وہ کارخانوں میں نظر آتے ہیں،جن کے ہاتھوں میں کاپی کتابیں اور قلم ہونا چاہئے تھی ان ہاتھوں میں مٹھیا اور سوئی دھاگے نظر آرہے ہیں،حالانکہ مرکزی حکومت نے ان کے لیے چودہ سال تک مفت اور لازمی تعلیم کے حصول کے لئے قانو ن بنادیا ہے مگر یہ اپنی مجبوری ،بے بسی اور غریبی کا حال کسے بتائیں اور کیسے بتائیں ؟میں ذاتی طور پر ان بچوں کو مسجد میں مذہبی تعلیم اور کچھ اردو زبان کی تعلیم دن میں دو گھنٹے کی ضرور دیتا ہوں مگر یہ ان کی زندگی کے لئے کافی نہیں ہے “ادھر حکومتِ ہند کی جانب سے باضابطہ فن و ہُنر سے متعلق ایک وزارت ہے جومنسٹری آف ٹیکسٹائلز کے نام سے مشہور ہے اس نے بہت ساری اسکیمیں ایسے کاریگروں اور فنکاروں کے لئے چلارکھی ہیں جن سے وہ بخوبی مستفیض ہو سکتے ہیں جن کے پاس منسٹری آف ٹیکسٹائلز کی جانب سے جاری کیا گیا کارڈ ہے ، مگر ان فنکاروں اور ہُنر مندوں کی اپنی کوئی تنظیم یا رہنما نہ ہونا بھی ان کی طرف سے ایک بہت بڑی کمی ہے جس کی طرف ان کی رہنمائی نہیں ہو پاتی اور یہ لوگ غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے اپنے حقوق سے محروم ہورہے ہیں اور جب جب موقع ملتا ہے اپنی حکومت اور رہنمائوں کو کوس کر بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ حالانکہ مرکزی حکومت کی جانب سے ایسے فنکاروں اور کاریگروں کے لئے بے شمار اسکیمیں موجود ہیں ۔مثال کے طور پر ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
1    راجیو گاندھی شلپی سواستھ بیمہ یوجنا۔اس کا مقصد ملک میں معاشی طور پر کمزور فنکاروں ان کی بیوی اور دو بچوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرانا ہے۔اس اسکیم کا فائدہ 80سال کی عمر تک اُٹھایا جاسکتا ہے۔
الف     فن کاروں کی حادثاتی موت پر ایک لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے۔
ب    میڈی کلیم میں ہر سال میں 15000ہزار روپے تک کی چھوٹ دی جائے گی۔
2    بیمہ یوجنا فار ہنڈیکرافٹ آرٹیزنس۔اس سے ہر وہ ہنرمند مردو خواتین جن کی عمریں 18سال سے 60سال کے درمیان ہو، لائف انشورنس کا فائد ہ حاصل کرسکتے ہیں۔
الف    اس سے جن شری بیمہ یوجنا کا بھی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
ب    اس کے تحت قدرتی موت ہونے پر 30,000ہزار روپے ہر ممبر (کاریگر ،بیوی اور دوبچے) کو دئے جائینگے۔
ج    اگر کسی کاریگر یااس کے خاندا ن کے ممبرس( کاریگر ،بیوی اور دو بچے) میں سے کسی کی حادثاتی موت ہوتی ہے تو 75,000ہزار روپے دئے جائینگے ۔
3    شکشا سہیوگ یوجنا ۔اس کے تحت کارڈ والے کاریگرکے دو بچوں کو 9سے 12کلاس کے لئے ہر تین ماہ پر 300روپے ہر ماہ چار سال تک ادا کئے جائیں گے ۔
اس طرح کی بے شمار اسکیمیں مرکزی حکومت کی جانب سے مہیا کرا تو دی جاتی ہیں مگر ان کو اصل مستحقین تک نہیں پہنچایا جاتاہے حالانکہ حکومت کے کارندوں اور افسران کو اس سمت بھی دھیان دینا چاہئے ، جیسے کہ ان لوگوں کا کارڈ بنا یا گیا تھا اسی وقت ایک ورک شاپ کے ذریعہ ا س کی ساری انفارمیشن بھی مہیا کرائی جانی چاہئے تھی یا یہ بھی ممکن ہے کہ علاقے کی پارٹیوں کے کارندے ، سماجی کارکن یا مساجد و مدارس کے ائمہ و مدرسین کے علاوہ مذہبی رہنما بھی اس سمت میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں ۔اگر یہ سب نہیں ہوپاتا تو مقامی قارئین کرام کو ہی مدد کرنی ہوگی ۔اس کے لئے درج ذیل ویب سائٹ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *