دلیپ چیرین

اپنے اصلاحی ایجنڈے کے حوالہ سے پرجوش وزیر برائے فروغ انسانی وسائل کپل سبل صرف طریقۂ امتحان اور تعلیمی اداروں میں بدلاؤ کی کوششوں سے ہی مطمئن نہیں ہیں۔ حالانکہ ان کی ان کوششوںکو کئی حلقوں میں شک کی نظر سے دیکھاجارہا ہے، پھر بھی سبل اپنی وزارت کے بابوئوں کی اصلاح کے لیے بھی کمر کس رہے ہیں، لیکن یہاں بھی انہیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سبل نے اب وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے محکمہ ویجلنس کو حکم دیا ہے کہ وہ بدعنوانی کے معاملات کی جانچ کو اہمیت نہیں دئے جانے کے حوالہ سے سینئر افسران کو لکھیں۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ سبل کی وزارت کے افسران اپنے معاونین کے خلاف جانچ کے عمل سے پیر پیچھے کھینچنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ہمارے ذرائع کیندریہ ودیالیہ کے سابق کمشنر رنگ لال جامودا کے معاملے کی مثال دیتے ہیں۔ جامودا ریٹائر ہو چکے ہیں، لیکن ان کے خلاف چل رہی تفتیش ابھی تک پوری نہیں ہوپائی ہے۔ ایک طرف جہاں سبل آئی آئی ٹی کے سربراہان سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے اصلاحی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں لگے ہیں، تو دوسری طرف ان کے نوکر شاہ ان کا ساتھ ہی نہیں دے رہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here