مساوات پر مبنی سماج کے لئے جامع جمہوریت ضروری

Share Article

کمل مرارکا
دور حاضر میں ملک کی توجہ سماج کے کچھ طبقوں کے درمیان موجود نا برابری اور ان کے غصے کو کم کرنے کی طرف ہونی چاہیے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، لیکن یہاں جمہوریت کا مطلب صرف ہر پانچ سال کے بعد ہونے والا انتخاب رہ گیا ہے، جس میں رائے دہندگان حصہ لیتے ہیں اور اپنا ووٹ ڈالتے ہیں۔ اسے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب کہا جاتا ہے، لیکن اگر دیکھا جائے تو ہندوستان میں جمہوریت کی معنویت دنوں دن کم ہوتی جا رہی ہے، کیوں کہ انتخاب کے بعد عوامی نمائندوں اور رائے دہندگان کے درمیان بہ مشکل ہی کوئی رابطہ ہو پاتا ہے۔ پہلے کے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی اپنے حلقوں کا دورہ آج کے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے مقابلے کہیں زیادہ کر تے تھے۔ ایک ہمہ گیر جمہوریت اسے ہی کہا جا سکتا ہے، جس میں سرگرم سول سوسائٹی ہو، آزاد عدلیہ ہو اور ایک الرٹ میڈیا ہو، جو شہریوں کے حقوق کے تئیں بیدار ہو، تاکہ اِن حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس جمہوریت کا کیا مطلب ہے جس میں ایک باندھ (ڈیم) بنانے کے لیے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا جائے، انہیں در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے مجبور کر دیا جائے۔ ایسے زیادہ تر واقعات ملک کے قبائلی علاقوں میں رونما ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی مروت نہیں دکھائی جاتی۔ حال ہی میں پیش آنے والے کچھ ایسے ہی واقعات نے ماؤنواز تحریک کو بڑھاوا دیا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کوڈن کولم نیوکلیئر پلانٹ کے لیے وہاں کے لوگوں کی زمین لی جا سکتی ہے یا پھر انہیں اشعاع ریزی کے برے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ درحقیقت نیوکلیئر پاور ایک ایسا موضوع ہے جس پر عوام کے درمیان مباحثہ ہونا چاہیے۔ رتنا گیری کے قریب واقع جیتا پور کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں ہمارے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ کیا ہم 9 فیصد کی شرح ترقی کو حاصل کر سکتے ہیں، بڑے پیمانے پر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو منظوری دے سکتے ہیں اور وافر مقدار میں زرِ مبادلہ کا ذخیرہ کر سکتے ہیںجو مجموعی طور پر ایک اچھی اقتصادیات کی علامت ہے، جب کہ اسی کے ساتھ ہمارے ملک میں لاکھوں لوگوں کا معیارِ زندگی بہت نچلے درجے پر ہے اور انہیں ہمیشہ یہ خطرہ لاحق ہے کہ وہ اپنی زمین اور گھر سے محروم ہو سکتے ہیں، جن پر وہ سیکڑوں سالوں سے رہتے چلے آئے ہیں۔ بدقسمتی سے جب یہ لوگ اپنے حق کی آواز بلند کرتے ہیں تو حکومت و انتظامیہ انہیں بری طرح کچل دیتی ہے۔ شہری حقوق کا تحفظ کرنے والے گروہوں کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ احتجاج کرتے رہیں تاکہ دبے کچلے لوگوں کو ترقیاتی عمل میں شامل کیا جائے۔ سبھی سرکاروں، یہاں تک کہ مسلح افواج، سیکورٹی دستوں، انتظامیہ، کلکٹرس وغیرہ کی تربیت اس طرح کی جاتی ہے کہ ہر قسم کے احتجاج کو یہ لوگ قانون اور نظم و نسق کا ایک مسئلہ سمجھیں۔ یہ لوگ مسائل کے اسباب کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ نہایت سنگین مسئلہ ہے۔ سرکار کو اس پر غور کرنا چاہیے اور سماجی و رضاکارانہ تنظیموں کے توسط سے بات چیت کرنی چاہیے، تاکہ ناراض لوگوں کو سمجھایا جاسکے اور انہیں عوامی دھارے میں شامل کرکے ملک میں امن و امان قائم کیا جاسکے۔ اُن لوگوں کو ابھی تک انصاف نہیں ملا ہے، اب اور زیادہ وقت تک ایسا کرنا ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *