ڈاکٹر وسیم راشد
میور وہار فیز 1میں ایک تقریب میں جانا ہوا ، چند خواتین کے درمیان میں بھی بیٹھی ہوئی تھی، ایک خاتون نے مجھ سے سوال کیا آپ اوکھلا میں رہتی ہیں ؟ میں نے کہا ہاں بولیں وہاں تو سبھی مسلمان رہتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں زیادہ تر مسلمان ہی بسے ہوئے ہیں اور یہ وہ مسلمان ہیں جو پرانی دلی کی تنگ و تاریک گلیوں سے نکل کر آئے ہیں، جن کو اپنے بچوں کی پڑھائی کے لئے کھلا ماحول چاہئے تھا ، جن کو اپنے بچوں کے کھیلنے کے لئے کشادہ کالونیاں اور باغ چاہئیں۔ جن کو گھر ، گاڑی ، پارک کرنے کے لئے جگہ چاہئے ۔ یہ تقریباً وہی مسلمان ہیں، جو پرانی دہلی کی بھیڑ بھاڑ سے اور وہاں کی گالی گلوچ والے ماحول سے بچ کر آئے ہیں۔ اوکھلا تقریباً ایسے ہی مسلمانوں سے آباد ہے ، یہاں پڑھے لکھے نوکری پیشہ افراد بھی کافی ہیں۔ خاتون خانہ بڑے غور سے میری باتیں سن رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد بولیں آپ ہمارے لئے بھی کوئی گھر اوکھلا میں دیکھ لیجئے میں نے چونک کر حیرت سے ان کو دیکھا اور کہا کیوں آپ نے ابھی تو اتنا پیسہ لگا کر گھر بنایا ہے تو بولیں نہیں اگر مودی کی حکومت آ جاتی ہے تو ہمیں مسلم محلوں میں گھر لینا ہوگا کیونکہ آس پاس مسلم آبادی نہیں ہے، صرف ہمارا ہی گھر ہے اور اب ہم سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ اگر مودی کی حکومت آ جائے گی تو ہم یہاں بالکل غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ ایک دھکا سا لگا مجھے اور میں بھونچکا سی ان کی شکل دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔ کوئی جواب ہی بن نہیں پڑا کچھ سوجھا ہی نہیں کہ ان کو کیا جواب دوں۔
یہ صورتحال میرے خیال میں سبھی جگہ ہے۔ سبھی ریاستوں میں ، سبھی شہروں میں مسلمان خائفہو رہے ہیں اور اس لئے سیکولر طاقتوں کو ووٹ دینے کی اپیل بھی کر رہے ہیں اور ووٹ بھی دے رہے ہیں اور یہ سب اسی خوف کی وجہ سے ہے جو مودی کے رہتے ہوئے گجرات فساد کو نہیں بھولے ہیں۔ ابھی کچھ دن قبل کچھ مسلم نوجوان ایک پروگرام میں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے اور باقاعدہ اس بات کے حق میں تھے کہ اب مسلمانوں کو گجرات فساد 2002سے آگے کی سوچنی چاہئے۔ بے شک یہ ٹھیک بھی ہے۔ ہم نفرت کی سیاست کب تک کریں گے۔ بابری مسجد، گجرات فساد، میرٹھ، ملیانہ کے فسادات کو کب تک یاد رکھیں گے، لیکن کیا کریں ہم بھولنا بھی چاہتے ہیں تو مظفر نگر کا فساد ہماری سوچ پر تازیانہ لگاتاہے۔
ہم اپنے نوجوانوں کو اپنے بچوں کو اس بھیانک مافی سے نکالنا بھی چاہتے ہیں۔ ہم تو نہیں نکال پاتے۔ کیونکہ لگاتار ایسا کچھ ہوتا رہتا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں اور بچوں کو اس زہر سے نہیں بچا پاتے۔ ظاہر ہے مظفر نگر کا فساد ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔آج بھی اس فساد کے متاثرین کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، کیسے اس نفرت کو ختم کیا جائے ، یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ الیکشن کے نزدیک آتے آتے یہ نفرت کا زہر اور پھیلتا گیا اور اب جبکہ پانچویں مرحلہ میں الیکشن پہونچ گیا ہے، اب یہ نفرت انگیز بیانات اور تیزی سے آتے جا رہے ہیں۔ کوئی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے ، کوئی بدلا لینے کی سیاست سکھا رہا ہے، مگر کوئی نہیں سوچ رہا کہ اس گھنائونی سیاست سے ہندوستان کی آنے والی نسل کا کیا حال ہوگا۔ بی جے پی کے دوسرے بڑے لیڈران جن میں اٹل بہاری واجپئی ، ایل کے اڈوانی، سشما سوراج اور راج ناتھ سنگھ ان کی شبیہ آج بھی اتنی بری نہیں ہے، جتنی کہ مودی کی ہے۔ بی جے پی اچھی طرح جانتی تھی کہ مودی کو صرف ہندوئوں کا پرائم منسٹر نہیں بننا ہے اگر مودی بنے بھی تو سبھی مذاہب کے پرائم منسٹر ہوں گے ، پھر ایک ایسے شخص کو کیوں پروجیکٹ کیا گیا جو بے حد متنازعہ رہا مگر ایسا لگ رہا ہے کہ اس میں بھی بی جے پی کی کوئی خاموش سیاست کام کر رہی ہے۔ واجپئی ایک ایسی شخصیت تھے جن کو ہندو مسلمان سبھی پسند کرتے تھے اور بی جے پی میں سیکولر شبیہ رکھنے والے صرف راج ناتھ ہی ہیں اور راج ناتھ جب مسلم مذہبی رہنمائوں سے ملے تو ٹوپی لگا کر ملے ۔ شاید مودی کے خیمے میں ہلچل ضرور مچی ہوگی کیونکہ سیاسی ماہرین کا یہ بیان ہے کہ راج ناتھ صرف سیکولر شبیہ سدھارنے کے لئے ایسا کر رہے ہیں اور جب مولانا کلب جواد نے راج ناتھ کی شبیہ واجپئی جیسی کہی اور کہا کہ مودی سے مسلمان ڈرتے ہیں تو یقینا مودی کو فکر لگ گئی ہوگی۔
الیکشن کے دوران یہ تو مودی اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ مسلمان مودی کو ہرانے کے لئے اندرونی طور پر کوئی نہ کوئی پالیسی تو اپنا ہی رہا ہوگا اور سچ بھی یہی ہے کہ سبھی ریاستوں میں سیکولر طاقتوں نے ایک ہونے کی پوری کوشش کی ہے۔ جانے کیوں ایسا بھی مجھے لگ رہا ہے کہ بی جے پی نے جان بوجھ کر مودی کی شبیہ بگاڑی ہے اور اسے فرقہ پرستی کا علمبردار بنا کر پیش کیا ہے۔اس بات کی دلیل اس طرح دی جا سکتی ہے کہ راج ناتھ سے جب دہلی میں کچھ سرکردہ مسلم صحافیوں نے ملاقات کی اور یہ سوال کیا کہ جب آپ کی پارٹی جانتی تھی کہ مودی کے لئے مسلمانوں کے دل میں بے حد نفرت ہے اور وہ مودی کو کسی بھی قیمت پر تسلیم نہیں کریں گے تو آپ نے خود کو کیوں نہیں پروجیکٹ کیا۔ راج ناتھ اس سوال پر مسکرا کر خاموش ہو گئے۔
اوما بھارتی کا مودی مخالف ویڈیو جاری ہونا بھی مودی کے لئے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے ۔ ایسے میں جبکہ 5مرحلوں کے انتخابات ہو چکے ہیں۔ کانگریس کے ذریعہ مودی کی تاناشاہی کی کہانی بی جے پی میں سادھوی اوما بھارتی کی زبانی سنائے جانے سے خود مودی کو کتنا نقصان پہنچے گا یہ تو بعد کی بات ہے مگر کانگریس سے اس کو کتنا فائدہ ہوگا وہ اہم ہے۔ اس وقت کو برا پوسٹ کی بابری مسجد کی شہادت سے متعلق سی ڈی، سنجے بارو کی کتاب، پارکھ کی کتاب اور پھر اوما بھارتی کی سی ڈی ، یہ اگر سوچی سمجھی اسکیم کے تحت کیا جا رہا ہے تو بھی یہ سوچنا اہم ہے کہ یہ انکشفات کتنے سچے ہیں۔ ظاہر ہے کوبرا پوسٹ کی سی ڈی کا سچ جھٹلایا نہیں جا سکتا، الیکشن کے وقت کا ہونا اس میں چھپی سچائی کو مٹا نہیں سکتا۔ اوما بھارتی نے اپنی اس ویڈیو میں نریندر مودی پر جو الزام لگائے ہیں وہ بے حد خطرناک ہیں۔ ویڈیو میں اوما بھارتی کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ گجرات کے لوگ خوفزدہ ہیں کیونکہ وہاں بے گناہوں کو جیل بھیجا جا رہا ہے جبکہ گناہگار پوری طرح آزاد ہیں۔ اوما بھارتی کے مطابق گجرات میں نہ رام ہے نہ روٹی کیونکہ وہاں کا ہندومسلمان سب ڈرے ہوئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مودی وکاس پروش نہیں وناش پروش ہیں۔
ان تمام باتوں کو اگر سامنے رکھا جائے تو پھربے چارے مسلمان کس گنتی میں ہیں پھر تو ان کا ڈرنا صحیح ہے کہ اگر مودی اقتدار میں آ جائیں گے تو پھر ملک فرقہ وارانہ فساد کی آگ میں جل جائے گا اور مسلمان سب سے پہلے اس کی زد میں آ ئیں گے ۔ الیکشن کے دوران اس طرح کے ٹیپ، ویڈیو اور کتابوں کی اہمیت یوں تو زیادہ نہیں رہتی مگر ان میں پوشیدہ حقائق سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here