شاہد نعیم
گزشتہ کئی مہینوں سے شور تھا کہ اتر پردیش اسمبلی کے انتخابات ہونا ہیں، کب ہوں؟ گے کیسے ہوں گے؟ کیا مایاوتی یوپی بورڈ کے امتحانات سے پہلے اسمبلی انتخابات کے لئے تیار نہیں ہیں؟کس کی حکومت بنے گی، آیا مایاوتی اقتدار سے باہر ہوں گی یا ملائم سنگھ اترپردیش کی باگ ڈور سنبھالیں گے؟کانگریس اچھا لڑے گی؟ بی جے پی پست ہوگی البتہ چھوٹی پارٹیاں بی جے پی کو کمزور نہیں ہونے دیں گی؟ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس قسم کی باتیں اکثر الکٹرانک میڈیا میں ہوتی رہتی تھیں۔اسی نوعیت کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی تھیں، حالانکہ ملک کے پانچ صوبوں میں اسمبلی انتخابات ہونا تھے لیکن میڈیا میں صرف اور صرف اترپردیش کا چرچا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اترپردیش ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ دلی کا راستہ لکھنؤ سے ہوکر ہی گزرتا ہے۔اسی لئے تو اترپردیش کو فتح کرنے  کے لئے تمام سیاسی پارٹیاں اپنی تمامتر قوت جھونک دیتی ہیں تاکہ اترپردیش کے ساتھ ساتھ دلی کی راہ بھی ہموار ہوسکے۔ چنانچہ میڈیا میں بھی اترپردیش توجہ کا مرکز تھا اور سیاسی ماہرین اپنی اپنی رائے سے لوگوں کو روشناس کرارہے تھے۔
بہر حال انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اترپردیش اسمبلی انتخاب کا اعلان الیکشن کمیشن نے کیا اور ساری سیاسی پارٹیاں کیل کانٹے سے لیس ہوکر اترپردیش کے انتخابی میدان میں کود پڑیں۔ سب نے اپنے اپنے انداز میں عوام پر ڈورے ڈالے ۔ برسر اقتدار جماعت نے اپنی مدت کار کی حصولیابی کو ہی کافی سمجھتے ہوئے الیکشن مینی فیسٹو چھاپنا ضروری نہیں سمجھا اور یہ بی ایس پی کی روایت بھی ہے کہ اس نے کبھی الیکشن مینی فیسٹو نہیں چھاپا ہے،لہٰذا مایاوتی جی نے روایت شکنی نہیں کی اور اپنی ، اپنے خاندان کی اور اپنے انتخابی نشان کے مجسمے بنوا کر اور پارک تعمیر کراکے ہی عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ اپنی ایماندار شبیہ قائم کرنے کے لئے 22 بد عنوان وزیروں کو نکال کر اپنی بد عنوان حکومت کے داغ دھونے کی کوشش کی۔ کانگریس نے اقلیتوں کو 4.5 فیصد ریزرویشن دے کر اسے 9 فیصد تک بڑھانے کا وعدہ کیا اور اترپردیش کی تقدیر بدلنے کے لئے پانچ سال کا وقت مانگا۔سماج وادی پارٹی نے بجلی بھی پانی دوا مفت دینے کے ساتھ ساتھ ہائی اسکول کے طلبہ کو مفتٹیبلیٹ اور انٹر کے طلباء کو لیپٹاپ دینے کے ساتھ ساتھ مسلم ریزرویشن کو 18 فیصد تک پہنچانے کا وعدہ کیا جبکہ بی جے پی نے اس ریزرویشن کو ملک بانٹنے کا اقدام بتایا۔حالانکہ بی جے پی نے مینی فیسٹو میں رام مندر کا بھی ذکر کیا لیکن یہ مدعا رفتار نہیں پکڑ  سکا اور بی جے پی نے او بی سی کو ٹے سے دیے گئے اقلیتوں کے ریزرویشن کو حریفوں کے لئے ہتھیار بنایا تاکہ پچھڑے اور پسماندہ طبقے اس کے ہمنوا بن جائیں۔
بہر حال اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات اختتامی مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ اب صرف مغربی اترپردیش میں پولنگ ہونا باقی ہے۔ جہاں تمام پارٹیوں نے اپنی پوری طاقت جھونک رکھی ہے۔ کانگریس کے یوراج آستین چڑھا کر پارٹی کو اتر پردیش میں کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ان کے ساتھ ان کی بہن پرینکا  گاندھی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ اترپردیش کی سڑکوں کی خاک چھان رہی ہیں۔ راہل گاندھی اینگری ینگ مین کے رول میں نظر آرہے ہیں ۔ کالے جھنڈا دکھانے اور چپل کے اچھالے جانے سے بھی ان کے حوصلے پست نہیں ہورہے ہیں ۔ مخالف پارٹی کے مینی فیسٹو پھاڑنے میں بھی وہ نہیں ہچکچارہے ہیں۔ ان کے جارحانہ تیور سے ساری پارٹیاں پریشان ہیں ۔ وہ پس و پیش میں ہیں کہ اترپردیش میں کانگریس کہیں کھڑی تو نہیں ہوگئی ہے یا اپنے مقصد میں نا کامی سے وہ تلملا ئے ہوئے ہیں۔ جبکہ راہل سے عمر میں تین سال چھوٹے اکھلیش یادو بہت سنجیدگی کے ساتھ اترپردیش کی سیاست میں ہلچل مچائے ہوئے ہیں۔ وہ حریفوں پر جم کر برس رہے ہیں اور عوام کے دلوں میں جگہ بنارہے ہیں۔سماجوادی پارٹی کو انہوں نے اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں سے اقتدار کی پرچھائیں دکھائی دینے لگی ہے۔ ادھر بھارتیہ جنتا پارٹیہ اوما بھارتی کی قیادت میں  اترپردیش  کو فتح کرنے کے لئے پورے جوش و خروش سے لڑرہی ہے۔ اس کا اپنا ووٹ تو ہے ہی،چھوٹی پارٹیوں سے بھی اس نے اچھی توقعات قائم کر رکھی ہیں۔ اسے امید ہے کہ چھوٹی پارٹیاں  خود جیتیں یا نہ جیتیں لیکن اس کے حریفوں کو ٹھکانے لگانے میں وہ اس کا کام ضرور آسان کریں گی۔
دراصل جیت کا تعویذ مسلمانوں کے پاس ہے۔ جس پارٹی کے حق میںمسلمان ہوگئے ،لکھنؤ کا تخت و تاج اسی کے نام ہوجائے گا۔ لہٰذا ساری پارٹیاں مسلمانوں کو اپنے اپنے انداز میں رجھانے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن مسلمان کس کے دام فریب میں مبتلا ہیں، اس کا اظہار وہ نہیں کررہے ہیں،لہٰذا ساری پارٹیاں مسلمانوں کے چہرے پڑھنے کی کوشش کررہی ہیں اور مسلمان ساری پارٹیوں کے مسلم چہروں کو پڑھ رہے ہیں کہ ان کادرد کس پارٹی کے مسلم چہرے پر نظر آتا ہے۔   g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here