مسلمانوں کی اندیکھی کر کے ملک ترقی نہیں کر سکتا

Share Article

وسیم احمد 
p-3ہندوستان کے مسلمان سماجی و اقتصادی اعتبار سے انتہائی پس ماندہ ہیں۔ ان کی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے ملک کی مختلف ریاستوں میں قائم تنظیمیں اپنے اپنے طور پر کام کررہی ہیںاور سرکار کی طرف سے جو اسکیمیں اور منصوبے بنائے جاتے ہیں، وہ ان کے تئیں مسلمانوں کو بیدار کرنے کا کام کرتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں سورت، گجرات کے مشہور و معروف سماجی کارکن مولانا محمد فضل الرحیم مجددی، جو اسٹرائیو فار ایمیننس (SEE) کے سربراہ بھی ہیں اور ریاست کے مسلمانوں، خاص کر لڑکیوں میں تعلیمی و اقتصادی بیداری لانے کے لیے کئی اسکول، صنعتی و تربیتی ادارے اور ہائی ٹیک انسٹیٹیوٹ کھول رکھے ہیں، جہاں مسلم بچوں کو کم خرچ پر اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے، نے گزشتہ دنوں سورت میں ایک کانفرنس منعقد کی، جس کا عنوان تھا ’’مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی کانفرنس‘‘ اس کانفرنس کو مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خان کو خطاب کرنا تھا، لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے وہ اس میں شامل نہیں ہوسکے، البتہ وزیر خارجہ سلمان خورشید اور کانگریس کے ترجمان م۔ افضل نے اس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں ریاست بھوپال اور گجرات کے مختلف خطوںسے آئے ہوئے صحافیوں کے علاوہ ’’چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندہ سمیت دہلی سے 52 صحافیوںکا ایک وفد بھی موجود تھا۔ سورت کے ٹی ڈی یو انڈوراسٹیڈیم میں سامعین کا جم غفیر اور ان کے جوش و ولولے کو دیکھ کر چوتھے دنیا کے اس نمائندہ کو احساس ہواکہ اگر مسلم طبقے کو مناسب قائد اور آئین کے مطابق وسائل میں مناسب حصہ داری مل جائے، تو پس ماندگی، جس کا ذکر سچر کمیٹی رپورٹ میں بھی ہوا ہے، اس طبقے کو چھو بھی نہیں سکتی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک منظم طریقے پر مسلمانوں کو قومی ترقیاتی عمل سے دور رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ صدی کے مقابلے اکیسویںصدی مسلمانوں کے لیے انتہائی چیلنج بھری صدی ثابت ہو رہی ہے۔ گزشتہ صدی کے چیلنج دو وقت کی روٹی، تن ڈھانکنے کے لیے کپڑا اور مکان تک محدود تھے، جبکہ موجودہ صدی کے چیلنج ہیں اعلیٰ تعلیم، آئی ٹی، نیوٹریشن یعنی صحت بخش غذا، پختہ مکان اور بجلی، صاف پانی، کوالٹی ایجوکیشن، ہیلتھ کیئر اور ایکانومک پارٹیسپیشن یعنی ترقی میں اشتراکیت۔ سرکاری طور پرڈھنڈورہ یہ پیٹا جا رہا ہے کہ ہم بیسویں صدی کے مسائل سے بہت آگے نکل چکے ہیں، مگر سچائی یہ ہے کہ ملک کے مسلمان آج بھی بیسویں صدی کے مسائل میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔ گائوں میںتقریباً 94.9 فیصد مسلمان غریبی کی سطح سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ گائوں میں رہنے والی زیادہ تر مسلم فیملی کو اناج میسر نہیں ہے۔ گائوں میں رہنے والی ہر تیسری مسلم فیملی کی ماہانہ آمدنی 6 امریکی ڈالر سے کم ہے۔ ان کی تعلیمی پس ماندگی کا یہ حال ہے کہ پریمئر کالج میں ہر 25 میں سے صرف ایک مسلم انڈر گریجویٹ اور 50 میں سے ایک پوسٹ گریجویٹ مسلم ہے۔ اسکول جانے کی عمر میں تین سے چار فیصد بچے مدرسہ چلے جاتے ہیں۔ اگر صحت کے بارے میں دیکھیں، تو ایس سی کی شرح 31.2 فیصد ہے، جبکہ مسلمانوں کی صحت کی شرح 12.7 فیصد ہے۔ گائوں میں 60 فیصد ایسے مسلمان ہیں، جن کے پاس زمین نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ملک میں 1993-94 سے 2007-08 کے دوران مسلمانوں کی ترقی کی رفتار صرف 1.7 رہی، جبکہ دلتوں کی ترقی کی رفتار 28.2 تھی۔ 2012 کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست گجرات کے 43 فیصد مسلمان بیسویں صدی کے مسائل، یعنی دو وقت کی روٹی، تن ڈھانکنے کے لیے کپڑا اور سائبان کے لیے چھت کے مسئلوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح بہار، بنگال اور آسام، جہاں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے، مگر 2001 کی تعلیمی رپورٹ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ یہاں ہر ایک کا تعلیمی اوسط قومی سطح پر طے کیے گئے معیار کے مطابق ہے۔ اگر ان اعدا دو شمار میں مسلمانوں کو جوڑ دیا جائے، تو تعلیمی اوسط کم ہوکر صرف 48 فیصد رہ جاتا ہے، جو ریاستی سطح سے 15 فیصد کم ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ تعلیمی میدان میں بھی مسلمان بہت پیچھے ہیں۔ ایسے حالات میں وہ نہ تو تعلیمی میدان میں ہورہی تبدیلیوں کا سامنا کرسکتے ہیں اور نہ ہی اقتصادی ترقی اور ہائی ٹکنالوجی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں، اور ایسا اس لیے ہوا، کیونکہ انہیں منظم طریقے پر پس ماندہ بنانے کے لیے کوششیں کی گئیں۔ چنانچہ آج یہ حالت ہے کہ 2000 تک مسلمانوں کی قوت خرید لگ بھگ ہندوئوں کے برابر تھی، لیکن اس کے بعد مسلمانوں کی قوت خرید کمزور ہوتی چلی گئی اور یہ فاصلہ تیزی سے بڑھتا چلا جارہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دیگر قومیں تو اکیسویں صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، مگر مسلمان اس دائرے سے باہر ہوگئے ہیں۔ اگر یہی صورت حال رہی تو ہمارا قومی ہدف، یعنی سپر پاور بننے کا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔ اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ 2020 تک چین امریکہ کو اقتصادی میدان میں پیچھے کردے گا اوراگر ہماری ایکانومک پالیسی صحیح سمت میں قائم رہی، تو 2050 تک ہندوستان چین کو اقتصادی میدان میں پچھاڑ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم آنے والی کچھ دہائیوں میں ہی دنیا کا سپر پاور ملک بننے والے ہیں، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوسکے گا، جب ہمارے اقتصادی نظام میں اشتراکیت کا تصور ہو اور 18-20 فیصدآبادی کی معاشی خستہ حالی کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
جب ملک آزاد ہوا تھا، اس کے تین سال بعد، یعنی 1950 میں عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک پلاننگ کمیشن کی تشکیل کی گئی تھی۔ اس کمیشن کا مقصد ملک کے ہر طبقے کو اقتصادی اصلاحات میں مساوی حصہ داری دینا تھا، لیکن 63 سال گزنے کے باوجود پلاننگ کمیشن کے اصولوں پر مخلصانہ عمل نہیں ہوسکا۔ مختلف علاقوں، ذاتوں اور طبقوںکے درمیان وسیع سماجی اور معاشی خلیج صاف طور پر نظر آرہی ہے۔ سرکاری سطح پر سماجی اور معاشی سطح پر مرتب کی گئی پالیسی میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا جارہا ہے، جس کا ثبوت 2006 میں سچر کمیٹی رپورٹ میں سامنے آیا۔ اس رپورٹ کے بعد ملک میں جو صاف ذہنیت کے لوگ تھے، انہوں نے محسوس کیا کہ اتنی بڑی آبادی کو نظر انداز کرکے ملک اپنے سپر پاور ہونے کے ہدف کو نہیں پا سکتا ہے، لہٰذا اقتصادی نظام میں مساوات پیدا کرنے کے مطالبے ہونے لگے۔ اس کے بعد یو پی اے سرکار نے کچھ اقدامات کیے، مثلاً سچر کمیٹی رپورٹ منظور کی گئی۔ جنوری 2006 میں وزارت برائے اقلیتی امور کے نام سے ایک وزارت قائم ہوئی۔ جون 2006 میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے وزیر اعظم کا 15 نکاتی پروگرام شروع ہوا۔ گیارہویں پنج سالہ منصوبہ میں خصوصا ًمسلمانوں کی سماجی و معاشی ترقی کی کوشش کی گئی، لیکن یہ کتنا با اثر رہا، اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد بارہواں پنج سالہ منصوبہ تیار کیا گیا۔ اس منصوبہ میں مسلمانوں کی پس ماندگی کا اعتراف کیا گیا اور اس منصوبے کو نافذ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اگرسرکار واقعی مخلص ہے، تو اس سمت میں کچھ پیش رفت ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں بنی مونیٹرنگ کمیٹی کو پوری ایمانداری سے اپنا کام انجام دینا چاہیے، جو اس بات کو یقینی بنائے کہ جن منصوبوں کو مرکز تیار کرتا ہے، ان کو ریاستی اور ضلعی و علاقائی سطح پر نافذ کیا جارہا ہے یا نہیں۔ جو بھی اسکیم بنائی جائے، اس میں مسلم خواتین کی حصہ داری شامل ہو۔ مرکزی اور ریاستی حکومت کے درمیان لنک مضبوط ہو۔ تشہیر کے لیے جدید ٹکنالوجی اور میڈیا کی مدد لی جائے۔ گائوں اور ضلع سے ممبروں کا انتخاب ہو اور ان کو ٹریننگ دی جائے۔ گیارہویں پنج سالہ منصوبہ کے ایکس کلوژن، یعنی مسلمانوں کو اقتصادی منصوبوں میں حصہ داری نہ ملنے کے اسباب کا جائزہ لیا جائے۔ ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، لہٰذا اس کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے نظام میں اصلاحات کی جائیں، تاکہ ترقی میں سب کی شمولیت ہو۔
کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران مجددی نے پنج سالہ منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلمانوں پر زور دیا کہ بارہویں پنج سالہ منصوبے میں ان کی بہبود کے لیے جو رقوم مختص کی گئی ہیں، ان میں سے ایک ایک پیسے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور ایسا اسی وقت ہوسکتا ہے، جب پائدار بنیاد پر ملک گیر سطح پر ایک مہم کے ذریعے نہ صرف مرکزی، بلکہ ریاستی حکومتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ سچر کمیٹی کی سفارشات اور ان سفارشات کی بنیاد پر 12 ویں پنج سالہ منصوبے کی اقلیت، بالخصوص مسلم رخی اسکیموں کو عمل میں لایا جائے۔ مولانا مجددی نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ 12 ویں پنج سالہ منصوبے میں اقلیتوں سے متعلق ایک جامع باب لائق پذیرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اسکیموں کو ایمانداری کے ساتھ عمل میں لایا گیا، تو ایک مقررہ میعاد کے اندر مسلمانوں کی مجموعی حالت میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر چند کہ پنج سالہ منصوبے میں اقلیتوں کے تعلق سے دکھائی جانے والی دلچسپی لائق ستائش ہے، لیکن موجب تشویش یہ ہے کہ ایک سال (2012-13) کا وقفہ گزر گیا، لیکن اب تک بڑے پیمانے پر کوئی عمل در آمد نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ اب تک متعلقہ وزارتوں کی طرف سے کوئی روڈمیپ تک تیار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں اس پنج سالہ منصوبے میں شامل اقلیت رخی بہبودی اسکیموں سے استفادہ کرنے کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی۔ انہوں نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا کہ مسلمانوں کو تعلیم سے دلچسپی نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحیم نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے پرائمری تعلیم کی سطح پر کوئی پریشانی نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اعلیٰ تعلیم ہے۔ پرائمری سطح پر تعلیم میں مسلمان بچوں کا گراف اوپر ہے، لیکن سکنڈری سطح سے اعلیٰ سطح تک، یعنی گریجویشن مکمل کرنے کے بعد امکانات مسلمانوں کے یہاں اندیشوں میں بدل جاتے ہیں اور جیسے جیسے تعلیمی سطح بڑھتی ہے، مسلمانوں اور دوسرے معاشرتی و مذہبی زمروں کے درمیان خلا بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر مسلسل زور ڈالا جائے کہ وہ سچر کمیٹی کی سفارشارت کے ساتھ ساتھ رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پر عمل کیا جائے، مولانا مجددی نے وارننگ دی کہ اگر مسلمانوں نے اپنی کمیونٹی اور ملک کی معاشرتی و اقتصادی ترقی سے یک جہتی کا عملاًمظاہرہ نہیں کیا اور ملک کے نظام پر ان حوالوں سے دباؤ نہیں بنایا، تو عجب نہیں کہ تاریخ پنج سالہ منصوبے کے محاذ پر پھر اپنے آپ کو دہرا دے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *