مسلمانوں کے امپاورمنٹ نہ ہونے کا اصل ذمہ دار کون؟

Share Article

وسیم راشد 
الیکشن کا زمانہ آیا کہ بیان بازی اور ووٹ بینک کی سیاست شروع ہوجاتی ہے اور سب سے زیادہ ہمدردی جتا ئی جاتی ہے مسلمانوں سے۔ کیونکہ ہندوستان کے مسلمان ہی ملک کے سب سے پسماندہ اوراستحصال شدہ طبقے کا حصہ ہیں۔ ہر پارٹی ن ان سے ہمدردی جتاتی ہے ، ہر امیدوار مسلمانوں کا سچا ہمدرد اور اور بہی خواہ بننا چاہتا ہے ۔ کے رحمن خاں اقلیتی مائنارٹیز کمیشن کے جب سے وزیر بنے ہیں، انھوں نے بالواسطہ کانگریس اور مسلمانوں کے بیچ کی خلیج پاٹنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے۔ اب جبکہ مسلمان کانگریس سے بالکل ہی دلبرداشتہ ہو چکے ہیں، کانگریس ہی کیا وہ ہر پارٹی سے بددل ہیں۔ ووٹ بینک کی سیاست سے اب مسلمان اوب چکا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ مسلمانوں سے ہمدردی جتانے والے لیڈران صرف ان کی نفرت کی سیاست سے اپنی روٹیاں سینک رہے ہیں۔ رحمن خاں کا معاملہ اسی لئے تھوڑا منفرد ہے کیونکہ مسلمان ان کو اپنا بہی خواہ سمجھتے ہیں اور ان پر بھروسہ بھی کرتے ہیں، لیکن اب جس طرح سے انھوں نے اپنے حالیہ بیان میں یہ کہا کہ’’ حکومت مسلمانوں کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ آر ایس ایس سے خائف ہے‘‘۔ یہ ایک طرح سے کانگریس پر مسلمانوں کا بھروسہ پھر سے قائم کرنے کی جانب پیش قدمی ہے۔ اپنے حالیہ بیان میں رحمن خاں نے جس طرح کانگریس کادفاع کیا ہے وہ اس بات کی علامت ہے کہ رحمن خاں مسلمانوں اور کانگریس کے درمیان ایک پل کی طرح کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کی نوکریوں پر ریزرویشن کو دینے کو سراہا ہے اور اگر اس میں کوئی تعصب برتا جاتا ہے تو اس تعلق سے سنجیدہ رہتی ہے۔ پتہ نہیں کیسے رحمن خاں صاحب یہ بات کہہ رہے ہیں کہ جس وقت مسلمانوں کے ریزرویشن کی بات پارلیمنٹ میں اٹھی تھی اور یہ شور مچایا گیا تھا کہ 4.5فیصد ریزرویشن مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔ اس ایک غلط فہمی نے مسلمانوں کو خوش فہمی میں ڈال دیا تھا اور وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ ریزرویشن صرف انہیں ہی ملا ہے۔ ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ اب ریزرویشن کے کوٹہ میں مزید پچھڑ گئے ہیں اور اس میں تمام پچھڑی ذاتیں شامل کر دی گئی ہیں۔ اس وقت سلمان خورشید نے مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی اور آخر کار جب یہ راز کھلا کہ ریزرویشن کی باتیں صرف ایک دھوکہ تھی تو مسلمان خود کو ٹھگا سا محسوس کرنے لگے۔
رحمن خاں صاحب سے جب حکومت کے مختلف محاذ پر ناکام ہونے کی بات کہی گئی، جیسے انسداد ِ فرقہ وارانہ فساد بل، مسلم ریزرویشن ، مسلم اداروں کا قیام اور عدلیہ میں مسلمانوںکی نمائندگی وغیرہ تو اس پر بھی انھوں نے یہی کہا کہ ہاں کچھ اہم ایشوز پر مسلمانوںکو حکومت پر بھروسہ نہیں ہے، لیکن اس کے لئے انہوں نے راہل گاندھی پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے کہا کہ ان تمام مسائل کو راہل گاندھی سے زور دے کر حل کرانے کی کوشش کی جائے گی اور 2014کے پارٹی مینی فیسٹو میں اسے رکھا جائے گا۔ رحمن خاں صاحب کی نیت پر ہمیں ذرا بھی شک نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسا سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو کبھی غلط راہ دکھائیں گے یا جھوٹے وعدوں میں پھنسائیں گے لیکن جس طرح سے انھوں نے راہل گاندھی جیسے کمزور لیڈر کے کندھے پر اقلیت کی ذمہ داری ڈالی ہے ، وہ یقینا تشویشناک ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کے بارے میں خود انھوں نے کئی بار اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں کی پسماندگی کا یہی سبب ہے۔امسال کے اوائل میں دہلی کے رام لیلا میدان میں ملی کونسل کے پروگرام میں انھوں نے یہ بات کہی تھی کہ سچر کمیٹی کی 69سفارشات میں سے 66پر عمل درآمد ہو چکا ہے اور 3 پر عمل ہونا باقی ہے۔ صرف مسلمانوں کی پسماندگی اور اس کے استحصال کی بات کی جائے تو ہر جگہ مسلمانوں کی حالت بے حد خراب ہے۔اگر صرف سچر کمیٹی سفارشات کو ہی صحیح طرح لاگو کیا جاتا ہے تو مسلمانوں کی حالت سدھر سکتی تھی۔ گائوں کا حال تو جانے دیجئے، شہروں میں بھی مسلمانوں کی حالت خستہ ہے۔ نہ تو ان کو پوری طرح میڈیکل سہولیات دستیاب ہیں ، نہ ہی ان کے بچوںکو ایڈمیشن ملتا ہے، انتظامیہ، فوج اور پولس میں بھی مسلمانوں کی تعداد بے حد کم ہے بلکہ تشویشناک حد تک کم ہے۔ عدلیہ میں مسلمانوں کی موجودگی بہت ہی کم ہے۔ لبرل ازم اور گلوبلائزیشن نے بھی مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ ہندوستان کو ویلفیئر اسٹیٹ کہا جاتا ہے۔ خود ہمارے آئین میں سماجی مساوات کی بات کہی گئی ہے، لیکن مسلمانوں کے معاملہ میں یہ مساوات آئین تک ہے اور کہیں نظر نہیں آتا۔ جب سیاسی ریزرویشن کی بات کی جاتی ہے تو زیادہ تر سیٹیں شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائبس کی ہوتی ہیں اور 90%وہ نشستیں جہاں مسلمان جیت سکتا ہے اور عدلیہ میں اپنی نمائندگی درج کر سکتا ہے ، وہ ریزروڈہیں۔
سوال یہ ہے کہ ایسے میں کیا کیا جائے؟ایک کامیاب سیاسی جمہوریت کے لئے، ایک کامیاب سماجی جمہوریت ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ آزادی کو مساوات سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی مساوات کو آزادی سے ۔ اسی وجہ سے ہندوستان کا مسلمان پہلے سے زیادہ پسماندہ اور استحصال کا شکار ہو چکا ہے۔رحمن صاحب کے بیان کے مطابق کانگریس اگر مجبور ہے اور آر ایس ایس سے ڈرتی ہے تو یہ کسی بھی حکومت کے لئے شرمندگی کا سبب ہے۔ بات مسلمانوں اور حکومت کے رشتے ہموار کرنے سے نہیں بنتی ہے۔ مسلمان سمجھ چکا ہے کہ اس کے ساتھ ہر محاذ پر کھیل کھیلا جاتا ہے۔افسوس اس بات کا بھی ہے کہ جو بھی مسلم لیڈر اقتدار میں آتا ہے اور کسی وزارت کو سنبھالتا ہے ، وہ سب سے پہلے مسلمانوں کو ہی حکومت کی جانب سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ رحمن خاںصاحب کی نیت میں بے شک کھوٹ نہ ہو لیکن وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے جو بھی اسکیمیں بنائی جاتی ہیں، ایک بھی لاگو نہیں ہوتی اور اگر لاگو ہو بھی جاتی ہے تو مسلمانوں کی پسماندگی اور ان کے ان پڑھ ہونے کی وجہ سے خود مسلمانوں تک نہیں پہنچ پاتی ہیں۔ ملک کی سیاسی جماعتوں کو بھی مسلمانوں کا ووٹ تو چاہئے مگر جب ان کے مسائل کو حل کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ حکومت کے اسی سوتیلے رویہ کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
مسلمانوں کو اس وقت صرف اور صرف تعلیم کی ضرورت ہے۔تعلیم سے ہی روزگار ملے گا اور دوسری اقتصادی و سماجی پسماندگی دور ہوگی،لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس وقت بھی مسلمانوں کو بابری مسجد،علی گڑھ، مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار، بٹلہ ہائوس انکائونٹر،گجرات فساد، عشرت جہاں انکائونٹر وغیرہ جیسے مسائل میں الجھا یا جا رہاہے ۔ہر دو دن بعد یہ بیان آجا تاہے کہ بابری مسجد جب شہید ہوئی تو فلاں فلاں کو اس کے بارے میں پتہ تھا۔بٹلہ ہائوس انکائونٹر بھی مسلم نوجوانوں کے ذہن کو بھٹکانے کے لئے کافی ہے۔ ایسے میں مسلم نوجوان پوری طرح پڑھائی پر توجہ نہیں کر پارہے ہیں۔ویسے ہی حکومت کی اسکیموں کا فائدہ ان کو نہیں پہنچ پاتا ہے ۔ اسکالر شپ کا پتہ نہیں چلتا اور غریب نوجوان تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ کے رحمن خان صاحب اقلیتی امور کے وزیر ہیں ۔ اس وقت وہ چاہیں تو مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ حال میں ہی انہوں نے ’خدمت‘ کے نام سے جو ہیلپ لائن شروع کی ہے وہ یقینا بہت اچھی اسکیم ہے اور اس سے مسلمانوں کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے،لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اب تو حکومت آخری سانسوں پر ہے۔ کچھ ہی مہینے کی حکومت باقی ہے ۔ ایسے میں اس ہیلپ لائن سے کتنا استفادہ کیا جائے گا یہ تو ذہن میں سوال ابھرتا ہی ہے اور پھر الیکشن کے نزدیک آتے آتے یہ سارے اقدامات نہ جانے کیوں کسی کو بھی شک و شبہ میں ڈال دیتے ہیں۔خدا کرے کہ ہمارا یہ شک و شبہ غلط ہو اور رحمن صاحب کایہ قدم نیک نیتی پر مبنی ہو۔
ایک بات ضرور ہم کہتے ہیں کہ ہمارے قائدین متحد ہو کر مسلمانوں کی فلا ح و بہبود کے لئے کام نہیں کرتے ہیں،ہر کوئی ایک علیحدہ پلیٹ فارم سے علیحدہ علیحدہ آواز اٹھاتا ہے اور یہ ہمارے رہنما سماجی و اقتصادی ترقی کے بجائے زیادہ تر مذہبی اور ثقافتی ایشوز کو ہی اٹھاتے ہیں۔مسلم رہنمائوں کے درمیان ابھی بھی تال میل بہت کم ہے۔ ابھی بھی سماجی اور اقتصادی ترقی ان کے بحث کا موضوع نہیں ہے۔ مسلمانوں کا رجحان اپنے حقوق کی لڑائی سے زیادہ اپنے تحفظ کے مسئلوں پر رہا ہے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب حقوق ہوںگے تو تحفظ عملی طور پر خود بخود مل جائے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *