عابد انور
ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے حصول انصاف ایک ٹیڑھی کھیر ثابت ہورہی ہے۔ یہاںجتنے بھی فسادات ہوئے ان میں سے کسی میں بھی مسلمانوں کو انصاف نہیں ملا ہے۔ انصاف تو کجا پکڑے گئے بے قصور مسلمانوں کو جیل میں طویل عرصہ تک سڑا کران کی زندگی برباد کردی گئی ہے۔ ہندوستان کا تقریباً پورا سسٹم کسی بھی معاملے میں سب سے پہلے مسلمانوں کو ہی گرفتار کرتاہے کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ ان کی گرفتاری سے نہ سڑک جام ہوگی، نہ پارلیمنٹ میں آواز اٹھے گی ، نہ ہی احتجاج و مظاہرہ ہوگا اور نہ ہی میڈیا میں اسے اچھالا جائے گا۔ اس لئے وہ اطمینان سے ایک منصوبہ کے تحت مسلمانوں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ کہیں بھی دو فرقوں میں جھڑپ ہوتی ہے تو بیشتر تعداد میں مسلمانوں کی گرفتاری ہی عمل میں آتی ہے۔اکثریتی فرقہ کے لوگوں کو برائے نام گرفتار کیا جاتا ہے۔ اس ذہنیت کو اجاگر کرنے کے لئے صرف ایک مثال پیش کرنا کافی ہوگی۔ کچھ سال قبل مہاراشٹر کے ضلع جلگائوں کے راویر میں رام نومی کے جلوس کو جبراً مسلم علاقہ سے نکالا گیا جس کے بعد فساد پھوٹ پڑا تھا۔ جلوس میں شامل ہندو شدت پسندو ں نے مسجد پر گلال پھینکا ، پتھراوَ کیا، مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو آگ کے حوالے کردیا تھا۔اسی پر بس نہیں کیا تھا مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے وشو ہندو پریشد نے زہریلی سی ڈی بھی بجائی تھی۔یہ فساد کئی روز تک جاری رہا تھا اس سلسلے میں 75 افراد گرفتار کئے گئے تھے جس میں 69 مسلمان تھے یعنی 90 فیصد ۔ اسے دیکھ کر پولیس اور انتظامیہ کے رویہ کا پتہ چلتا ہے۔ گجرات کے احمدآباد میں 2008 میں ایک سلسلہ وار بم دھماکہ ہوا تھا جس کا ٹھیکرا بھی مسلمانوں کے سر پھوڑا گیا۔ اس میں 56سے زائد مسلم نوجوان جیل میں بند ہیں۔ اسی طرح بدنام زمانہ ممبئی بم دھماکہ میں کئی سو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جن میں 117 افراد کو سزائیں دی گئی ہیں اورایک درجن سے زائدکو تو سزائے موت دی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسی طرح کا طریقہ دیگر بم دھماکوں میں کیوں نہیں اپنایا گیا جس میں ہندو دہشت گرد شامل تھے۔ مالیگائوں، مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس، کانپور بم دھماکہ، نانڈیڑ بم دھماکہ، اجمیر بم دھماکہ اور اس کے علاوہ اس طرح کے دوسرے دھماکے میں شامل ہندو دہشت گرد کتنی تعداد میں پکڑے گئے ہیں۔ ان تمام دھماکوں میں بہ مشکل ایک درجن کے آس پاس گرفتار ہوئے ہوں گے۔ اگر ان سارے دھماکوں میں مسلمانوں کا نام آتا تو ایک ہزار سے زائد مسلم نوجوان سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔کسی مسلمان پر دھماکے میں ملوث ہونے کا شبہ ہوتا ہے تو تفتیشی ایجنسیاں اور پولیس اہلکار اس کے پورے خاندان کو اٹھا لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے دوست احباب یا ان کی ڈائری میں جن لوگوں کا نام ہے اور اگر وہ مسلمان ہے تو پولیس خشوع خضوع اور ثواب کی نیت سے پورے خاندان کا ناطقہ بند کردیتی ہے۔ سب سے افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اگر کسی آر ٹی آئی اور سماجی کارکن مسلما ن کا قتل ہوتا ہے تو میڈیا اور سماجی کارکن اس کے قتل پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں شہلا مسعود کا قتل زندہ جاوید مثال ہے۔ وہ انا ہزارے کی حمایت میں دھرنا دینے کے لئے نکلی تھیں لیکن انہیں ان کی کار میں قتل کردیا گیاجسے بی جے پی حکومت والی مدھیہ پردیش پولیس خودکشی کا رنگ دینے کے لئے بے تاب ہے اور وہاں کا میڈیا بی جے پی حکومت کا زوردار طریقہ سے ہاتھ بٹا رہا ہے۔اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہے کہ انا ہزار ے یا سول سوسائٹی کے کسی ممبر کا اس قتل پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے کیوں کہ یہ قتل ان کے سرپرستوں کی حکومت والی ریاست میںہوا ہے۔ اسلئے سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔
ویسے تو مسلمانوں کو ہندوستان کی تمام ریاستوں میں تعصب، غیر مساویانہ اور امتیازی سلوک کا سامنا ہے لیکن بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے جس کی رپورٹ ہم آئے دن اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں۔ خصوصاً گجرات میں مسلمانوں کے لئے عدل و انصاف گولر کے پھول کی مانند ہے۔ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجودابھی تک انصاف کا عمل شروع نہیں ہوا اور نہ تحقیقاتی کمیشن ناناوتی نے اپنی رپورٹ سونپی ہے اور جس رفتار اور جس ڈھنگ سے کمیشن کام کر رہاہے اس سے مودی حکومت کو کلین چٹ دینے کا راستہ صاف ہوتا جا رہا ہے۔ گجرات کے افسران چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں اور اپنے حلفیہ بیان دے رہے ہیں کہ مودی گجرات قتل عام میں ملوث تھے لیکن اس کے باوجود ہندوستانی سماج، عدلیہ، انتظا میہ اور مقننہ کے سرپر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ گجرات کے ایک سینیئر پولیس افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران وزیراعلیٰ نریندر مودی نے مسلمانوں کو ختم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ، مسٹر آر بی کمار اور مسٹر راہل شرما نے اپنی ضمیر کی آواز پر مودی کے حقائق بیان کرنے کا تہیہ کرلیا ہے حالانکہ تینوں کو معطل کردیا گیا ہے اور کئی انتظامی دفعات کے تحت ان پر مقدمات بھی قائم کئے گئے ہیں۔ گجرات کے سابق ایڈیشنل جنرل آف پولیس آربی شری کمار نے سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل یعنی ’سی اے ٹی‘ سے شکایت کی ہے کہ جب وہ ریاست میں خفیہ پولیس کے سربراہ تھے اس دوران وزیراعلیٰ نریندر مودی کے اعلیٰ افسروں کی جانب سے ایسے کئی پیغام ملے تھے کہ اقلیتی فرقے کے مسلمان جو گڑ بڑ پھیلانے کی کوشش کریں انہیں ختم کردیا جائے۔ اسی کے ساتھ نریندر مودی نے اپنے مخالفین کے فون ٹیپ کرنے کے بھی احکامات دیے تھے۔مسٹر کمار نے اس کے ثبوت میں اپنے ایک خاص دفتری رجسٹر کا حوالہ دیا ہے جس میں مسٹر مودی کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کا تفصیلی ذکر ہے۔ اس ڈائری میں تاریخ بہ تاریخ بہت سے واقعات لکھے ہیں۔ مثال کے طور پر اٹھائیس جون سن دوہزار کی تاریخ میں مودی کی رتھ یاترا کی تیاریوں کا ذکر ہے جس میں اس وقت کے چیف سیکریٹری جی سباراؤ نے مسٹر کمار سے کہا تھا کہ ’اگر کوئی رتھ یاترا میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے تو اسے ختم کردیا جائے‘۔مسٹر کمار نے مزید لکھا ہے کہ انہوں نے سکریٹری سے کہا کہ جب تک ناگزیر حالات نہ ہوں کسی کو جان سے مارنا غیر قانونی ہے تو چیف سکریٹری نے کہا کہ اس کے متعلق وزیراعلی نریندر مودی نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیاہے۔ اسی برس سات مئی کا ایک واقعہ درج ہے جس میں نریندر مودی نے مسٹر کمار سے کہا تھا کہ ’وہ زیادہ توجہ مسلم ملیٹینٹس پردیں اور سنگھ پریوار پر نہیں کیونکہ وہ کچھ بھی غیر قانونی نہیں کررہے ہیں۔اس رجسٹر کے مطابق جب مسٹر کمار نے مودی کے حکم کے بعد بھی سنگھ کے آدمیوں کو نہیں بخشا تو مسٹر مودی نے کہا کہ وہ سنگھ کے معاملے میں ان کی مدد کرسکتے ہیں۔یعنی سنگھ پریوار کو مسلمانوں کے قتل کے لئے کھلی چھوٹ دیں۔
سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں انہوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ گجرات میں سال 2002 میں ہوئے فسادات کی تحقیقات کے لئے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) میں انہیں بھروسہ نہیں ہے۔ آئی آئی ٹی ممبئی سے پوسٹ گریجویٹ سنجیو بھٹ سال 1988 میں انڈین پولیس سروس میں آئے اور انہیں گجرات کیڈ ر ملا۔ گزشتہ 23 برسوں میں انھوں نے  ریاست کے کئی اضلاع ، پولیس کمشنر کے دفتر اور دیگر پولیس اکائیوں میں کام کیا ہے۔دسمبر 1999 سے ستمبر 2002 تک وہ ریاست کے خفیہ بیورو میں خفیہ کمشنر کے طور پر تعینات تھے۔گجرات کے داخلی سلامتی سے جڑے تمام معاملے ان سے منسلک تھے۔ ان میں حفاظت اور ساحلی سکیورٹی کے علاوہ مخصوص شخصیت کی حفاظت بھی شامل تھی۔ اس دائرے میں وزیر اعلیٰ کی حفاظت بھی آتی تھی۔ سنجیو بھٹ نوڈل افسر بھی تھے ، جو کئی مرکزی ایجنسیوں اور فوج کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ جب سال 2002 میں گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے ، اس وقت بھی سنجیو بھٹ اسی عہدے پر تھے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہندوؤں کے جذبات بہت زیادہ مشتعل ہیں اور ’یہ لازمی ہے کہ انہیں اپنا غصہ نکالنے دیا جائے۔‘سنجیو بھٹ نے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کی مقرر کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی کو بھی یہ باتیں بتائی تھیں لیکن انہوں نے ان کے بیان کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایس آئی ٹی نے ان کی گواہی کے بیانات کو گجرات حکوت کو لیک کر دیا تھا اور اب وہ اپنی زندگی کے لیے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے حکومت گجرات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ایس آئی ٹی قائم کی تھی تاکہ گجرات قتل عام کے کئی بڑے معاملے پر سے پردہ اٹھایا جاسکے لیکن ایک واقعہ نے ایس آئی ٹی کے گھنائونے رول کو اجاگر کردیا ہے بلکہ اس شبہہ کو بھی تقویت بخشی ہے کہ ایس آئی ٹی گجرات سرکار اور وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو کلین دے رہی ہے جیسا کہ کئی رپورٹوں میں اس طرح کا انکشاف ہوا ہے۔ایک پرائیویٹ ٹی وی نیوز چینل نے دعویٰ کیا ہے اس کے پاس وہ دستاویزات ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس آئی ٹی اپنی خفیہ رپورٹ مودی سرکار کو بھیجتی رہی ہے اور مودی سرکار اور خصوصاً وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے بارے میںاپنی تیار کردہ رپورٹ مودی حکومت کو بھیجتی رہی ہے تاکہ وہ اس کا جواب تیار کرسکیں اور اپنے بچائو کا طریقہ بہ آسانی تلاش کرسکیں۔ ایس آئی ٹی گجرات کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تشار مہتہ، مودی کے سکریٹری جی سی مورمو اور سنگھ پریوار کے انتہائی قریبی ایس گرومورتی کویہ دستاویزات بھیجتی رہی ہے۔ اس کی تصدیق گجرات کے کئی سینئرپولیس افسران نے کیا ہے۔ اس کے بعد بھی کسی ا نصاف کی امید باقی رہ جاتی ہے۔ اب سارا دارومدار سپریم کورٹ پر ہے کہ وہ اس واقعہ کو کس طرح لیتا ہے اور کس طرح احتساب کرتا ہے اور ایس آئی ٹی ان افسران کو جو اس کرتوت میں شامل ہیں کیا سزا دیتی ہے۔ سپریم کورٹ تیستا سیتلواڈ کی گجرات کے معاملے کو غیر ملکی فورم میں اٹھانے پر سرزنش کرچکی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ انصاف کے لئے آدمی کہاں جائے۔ جب سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ ایس آئی ٹی کا یہ حال ہے تو گجرات حکومت کے افسران، انتظامیہ اور دیگر مشینری کا کیا حال ہوگا وہ پہلے سے ہی مودی کے رنگ میں شرابور ہیں۔
بی جے پی کی حکومت والی ایک اور ریاست بہار کا بھی یہی حال ہے ۔ بہارکی مشترکہ تہذیب کو تباہ کرنے کے درپے سنگھ پریوار بہار کو دوسرا گجرات بنانے کی تیاری کرچکا ہے۔ فاربس گنج کے بھجن پور میں پولیس فائرنگ کا سانحہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس سانحے میں بی جے پی کے ایک ایم ایل سی اشوک اگروال ملوث ہیں۔انہوں نے گائوں والوں کی سڑک کو مقامی انتظامیہ کو استعمال کرتے ہوئے بند کروا دیا تھا اور غیر قانونی طور پر سڑک کو کھود بھی دیا تھا یہ سڑک گاوَں والوں کی اپنی زمین پر تھی۔ گرچہ فاربس گنج کا دورہ انسانی حقوق کی ٹیم، قومی اقلیتی کمیشن اور دوسری سرکردہ تنظیمیں کرچکی ہیں حصول انصاف وہاں بھی ممکن نظر نہیں آتا ۔ نتیش کمار نے عوامی اور سیاسی پارٹیوں کے دبائو میں عدالتی انکوائری کمیشن کا تو اعلان کردیا اور کمیشن کے چیرمین اور سکریٹری کی تقرری بھی کردی لیکن یہ کرنا اس وقت تک کافی نہیں ہوگا جب تک کہ اس واقعہ کے ذمہ دار قصوروار افسران کو معطل یا برخاست نہ کردیا جائے۔ اس واقعہ کے اہم ذمہ دار ایس پی گریما ملک اور ایس ڈی او جی ایس دیال کو ابھی تک معطل نہیں کیا گیا ہے۔ ان افسران کی موجودگی میں گائوں والے جو زیادہ تر ان پڑھ ہیںان کے خلاف بیان دینے کی ہمت کرسکیں گے؟۔ آج تک جہاں عدالتی انکوائری بیٹھی ہے وہاں پہلے متعلقہ افسران کا یا تو تبادلہ کیا گیا یا پھر معطل کردیا گیا یا برخـاست، لیکن فاربس گنج کے معاملے میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملے میںنتیش کمار حکومت انتظامیہ کو کلین چٹ دینے کا فیصلہ کرچکی ہے جس طرح گجرات میں ایس آئی ٹی نے مودی کو کلین چٹ دی ہے اور اپنی دستاویزات ان کے افراد کو فراہم کی ہیں تاکہ وہ قانونی طورپر اس کا توڑ نکال سکیں اسی طرح کا کھیل بہار میں دہرانے کی تیاری کرلی گئی ہے۔
فاربس گنج کے بھجن پور میں 3 جون کو یہ واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک چھ ماہ کے بچہ، ایک حاملہ خاتون سمیت چار لوگوں کو پولیس فائرنگ میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔اسی طرح آٹھ جون 2011کوپاکستان کے بینظیر بھٹو پارک میں رینجرز اہلکار کی فائرنگ میں میٹرک کاایک طالب علم سرفراز شاہ کو قتل کردیا گیا تھا۔اس واقعہ کو ہندوستانی میڈیا نے کافی اچھالا اور فاربس گنج فائرنگ میں ایک نوجوان کو اپنے جوتے سے کچلنے والے پولیس اہلکارکے برخاست کرنے کی بات کہی تھی اور دونوں کا موازانہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں عدل کا نظام کتنا مستحکم ہے کہ اس نے فوراً پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کی لیکن پاکستان حکومت نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس واقعہ کی گونج نہ صرف پاکستان کی پارلیمنٹ میںسنی گئی تھی بلکہ وہاں کے سپریم کورٹ نے خود کارروائی کرتے ہوئے اس واقعہ کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی تھی۔پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز میجر جنرل اعجاز چوہدری اور انسپکٹر جنرل سندھ پولیس فیاض لغاری کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔معاملہ یہیں تک نہیں رکاکراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان سرفراز شاہ کے قتل میں ملوث ایک ملزم کو سزائے موت جبکہ دیگر چھ ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سرفراز شاہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے رینجرز کے اہلکار شاہد ظفر کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ اس کے علاوہ ظفر شاہ پر دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔کراچی میں رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں ایک نوجوان کی ہلاکت پر پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا ہے۔ اپوزیشن ارکان نے اس واقعے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ قومی اسمبلی میںبحث تو بجٹ پر جاری تھی لیکن کراچی کے بوٹ بیسن کے علاقے میں ایک نہتے نوجوان کو رینجرز کے اہلکاروں کی جانب سے گولیاں مار کر قتل کرنے کا واقعہ بجٹ کی بحث پر حاوی ہوگیا۔ہندوستان میں پہلے تو میڈیا نے فاربس گنج کے واقعہ کو دبانے کی پوری کوشش کی اس کے بعدانتظامی سطح پر اسی طرح کی کوششیں کی گئیںاور پارلیمنٹ کو شروع ہوئے دو ہفتے سے زائد ہوچکے ہیں لیکن کسی نے بھی (سوائے رام ولاس پاسوان کے ) اٹھانے اور اس پر بحث کرانے کی کوشش نہیں کی اور معمولی سی بات پر پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے دینے والے اپوزیشن کے ممبران نے اس معاملے میں مکمل چپی سادھ لی ہے ۔ ایسا کیوں نہ کریں کیوں کہ بی جے پی اس معاملے میںبراہ راست ملوث ہے۔اس کے علاوہ یہ معاملہ کیوں کہ مسلمانوں کے قتل کا ہے اور ان کے خیال میں مسلمان یہاں کیڑے مکوڑے کی طرح مرنے کے لئے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here