مسلمان ہی ہیں اقتدار کی کنجی

Share Article

بنگال میں ایک ہوا چل رہی ہے اور اب تو سامنے والے ساتھی بھی کہنے لگے ہیں کہ انہیں شاید اگلی بار اپوزیشن میں بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔ایک عبارت آسمان میں لکھی نظر آ رہی ہے کہ ممتا بنرجی اقتدار میں آ رہی ہیں، اس عبارت کو لکھنے کے پیچھے صرف اور صرف ایک طاقت ہے اور وہ ہے بنگال کے مسلمان۔ بنگال کے مسلمانوں نے گزشتہ 30سالوں سے زیادہ سی پی ایم کا ساتھ دیا ہے اوراسے اقتدار میں قائم رکھا۔ متوسط طبقہ نے تو کئی بار سی پی ایم کا ساتھ چھوڑنے کی کوشش کی مگر مسلمانوں کیبرہمی دیکھ کر وہ ڈھیلے پڑ گئے۔ اس بار لگتا ہے کہ اسمبلی انتخابات میں مسلمان سی پی ایم کا ساتھ نہیں دیںگے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ سی پی ایم کے اقتدار میں رہنے کا ایک مضبوط کھونٹا بنگال کا مسلمان تھا۔ جیوتی باسو کی شخصیت کرشمائی تھی۔ ان کے وعدوں پر لوگ بھروسہ کرتے تھے۔ سی پی ایم نے کبھی سماج کے مختلف طبقات کی بنیاد پر منصوبہ نہیں بنایا، بلکہ ذاتوں کی بنیاد پر بنایا۔بنگال میں سی پی ایم کی اس سوچ سے لوگوں کا 10 سال پہلے امیدوں پر پانی پھرنا شروع ہوا۔ جب بدھا دیب صاحب وزیر اعلیٰ بنے تب پہلی بار مسلمانوں نے اپنے حق کے لئے آواز بلند کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوںکو بنگال میں کچھ بھی نہیں مل رہا ہے۔ بدھا دیب بھٹاچاریہ نے ایک کان سے سنا اور دوسرے سے نکال دیا۔گزشتہ اسمبلی انتخابات کے وقت بنگال کے مسلمانوں نے پھر آواز بلند کی اور اس بار ان کے لئے کچھ اور لوگ کھڑے ہو گئے۔ سابق وزیر اعظم وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نے خود جیوتی باسو اور بدھا دیب بھٹاچاریہ سے کہا تھا کہ انہیں مسلمانوں کی ناراضگی کے اسباب کو سمجھنا چاہئے۔دونوں نے یقین دہانی بھی کرائی، لیکن کیا کچھ بھی نہیں۔سوم ناتھ چٹرجی نے بھی حکومت سے کہا، مگر حکومت نے ان کی بات بھی ان سنی کر دی۔مسلم تنظیموں نے سوچا کہ  ہو سکتا ہے کہ ان کی ناراضگی سے حکومت سبق لے، تاہم انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ سی پی ایم کو ہی ووٹ دیںاورمسلمانوں نے ایسا کیا بھی۔
بدھا دیب کے وزیر اعلیٰ بننے کے 6 ماہ کے اندر بنگال میں مسلمانوں نے اپنے حق کی آواز بلند کی۔ ان کے مطالبات معمولی تھے، مگر حکومت ماننے کو تیار نہیں تھی۔ ہاں حکومت کی جانب سے نہیں، لیکن پارٹی کی جانب سے مسلم تنظیموں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔ملی کونسل کے عام اجلاس میں بایاں محاذ کے کنوینر ومان بوس نے وعدہ کیا کہ مسلمانوں کے مطالبات تسلیم کئے جائیں گے۔ اس میٹنگ کو ہوئے تین سال سے زیادہ گزر گئے، مسلمانوں کی کوئی مانگ نہیں سنی گئی اور اب آیا کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کا الیکشن۔اس درمیان ممتا بنرجی کو پارلیمنٹ میں20 ممبران کے ساتھ فتح حاصل ہوئی۔مسلمانوں نے پورا ساتھ ممتا بنرجی کا دیا۔سی پی ایم نے پارلیمنٹ الیکشن سے بھی کوئی سبق نہیں لیا۔کولکاتہ میونسپل کارپوریشن انتخابات میں ممتا نے اکیلے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور انہیں اکیلے فتح بھی حاصل ہوئی۔ یہ کرشمہ ممتاکے مسلمانوں کی جانب جھکنے سے ہوا۔بنگال کے مسلمانوں نے سوچا کہ انہیں کانگریس سے زیادہ ممتا بنرجی پر بھروسہ کرنا چاہئے، کیونکہ مرکز بھی صرف وعدے کر رہا ہے،بنیادی تبدیلی کے کام نہیں کر رہاہے۔ترنمول کانگریس میں ممتا بنرجی کا مسلم چہرہ سلطان احمد ہیں۔سلطان احمد نے کامیابی کے ساتھ بنگال کے مسلمانوں کو ممتا کی جانب موڑنے کی کوشش کی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کا فیصلہ اسمبلی الیکشن میں دہرایا جائے گا یا نہیں۔ مسلمانوں کی اس خواہش کو ممتا بنرجی کو سمجھنا چاہئے کہ وعدے کے ساتھ وہ کچھ کریں بھی۔کولکاتہ میونسپل کارپوریشن چھوٹی موٹی حکومت ہے، ممتا بنرجی اگر کولکاتہ میونسپل کارپوریشن میں مسلمانوں کو دکھانے کے لئے بھی کچھ کر دیتی ہیں، تو بنگال کا مسلمان اسمبلی انتخابات میں انہیں ووٹ دینے کا فیصلہ کر لے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بنگال کا مسلمان ممتا بنرجی کے حق میں سنجیدہ ہے۔بنگال کے مسلمانوں کی یہ سوچ کیا ملک کے دوسرے حصوں میں اور کیا مرکز میں بھی دہرائی جائے گی۔بہار میں لالو یادو کا15سال تک اقتدار میں قائم رہنے کا اہم سبب مسلمان تھے۔جب مسلمانوں نے ساتھ چھوڑا تو لالو یادو کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں بھی لالو یادو کو مسلمانوں کا ووٹ نہیں ملا۔اب سوال اسمبلی انتخابات کا ہے۔ کیا بہار اسمبلی انتخابات میں مسلمان نتیش کمار کا ساتھ دیں گے یا پھر واپس لالو یادو کے ساتھ لوٹ جائیں گے۔ اگر مسلمان لالو یادو کے ساتھ نہیں آئے تو نتیش کمار کو اگلے 5 سال کے لئے پھر منتخب کریں گے۔ نتیش کمار اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں ۔تاہم وہ نریندر مودی کے ساتھ کہیں نظر نہیں آنا چاہتے ہیں۔ بہار میں انھوں نے مودی کے ساتھ ڈنر اس لیے کینسل کیا کیونکہ بی جے پی مودی کے بغیر نہیں آنا چاہتی تھی۔مگر یہ تنازعہ طول نہیں پکڑتااگر لالو یادو آگ میں گھی نہیں ڈالتے۔ان کے پریس کانفرنس کرتے ہی نتیش کمار نے پبلک اسٹینڈ لے لیا اور مودی کے خلاف بیان دے دیا۔اپنی بات پختہ کرنے کے لئے انھوں نے گجرات حکومت کے ذریعہ دئے گئے 5کروڑ روپے بھی واپس کر دئے۔ بہار کا مسلمان ابھی درمیان میں ہے اور فیصلہ کے عمل میں ہے کہ وہ نتیش کو ووٹ دے یا لالویادو کو ووٹ دے، یا پھر کانگریس کے ساتھ جائے۔اتر پردیش میں مسلمانوں نے ملائم سنگھ یادو کا ساتھ تقریباً چھوڑ ہی دیا ہے، اس لئے مایاوتی آج وہاں کی وزیر اعلیٰ ہیں ۔ مایاوتی نے مسلمانوں کے لئے کچھ خاص نہیں کیا، لیکن مسلمانوں کو اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ بہت دئے۔تاہم اس بار بھی مایاوتی کی حکمت عملی ہے کہ کم سے کم 80ٹکٹ مسلمانوں کو دئے جائیں۔ مسلمانوں کو اتر پردیش میں ساتھ لینے کے لئے نہ ملائم سنگھ کچھ کر رہے ہیں اور نہ ہی راہل گاندھی۔ مسلمانوں کے اس رخ سے کانگریس کو ڈرنا چاہئے۔ ابھی کانگریس کے پاس موقع ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے حقیقت میں کچھ کرے۔مسلمانوں کے لئے کچھ کرنے کا دکھاوا کرنے سے اثر نہیں پڑنے والا۔ آنے والے سال مسلم ووٹروں کا دماغ بنائیں گے۔ اس لئے مسلمانوں کی روزی روٹی ، تعلیم، روزگار، صحت کی جانب لے جانے والے قدم کانگریس کو اٹھانے چاہئیں۔ کانگریس کو صرف جانکاری دینے کے لئے ہم بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ میں یہ بات اٹھنے لگی ہے کہ بی جے پی کی مخالفت ہم کیوں کرتے ہیں۔ اگر کانگریس بھی ان کی نہیں سنتی تو انہیں بی جے پی کی جانب بھی سوچنا چاہئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی بات سنتی تو ہے مگر کان بند کر کے سنتی ہے۔ سونیا جی مسلمانوں کی بات کان کھول کر سنیے، کیونکہ مسلمان اب بھی آپ کا ہی نام جانتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *