مسلمان کانگریس سے بیزار ہو رہا ہے

Share Article

شاہد نعیم 
p-5انتخابات کا موسم آنے والا ہے۔ ہر ایک سیاسی پارٹی ووٹروں کو رجھانے کے لیے نت نئے جال بن رہی ہے، لیکن اب ووٹر بھی بیدار ہو چکا ہے۔ وہ ہر پارٹی کی اصلیت سے بھی بخوبی واقف ہو چکا ہے۔ وہ ہر پارٹی کے جال کو بھی پہچاننے لگا ہے۔ وہ اچھی طرح سمجھ گیا ہے کہ سیاسی پارٹیاں محض اپنے وعدوں اور نعروں سے سبز باغ دکھاکر اقتدار حاصل کرتی ہیں اور پھر اپنے تمام وعدوں اور نعروں کو فراموش کر دیتی ہیں اور بھولے بھالے عوام پانچ سال تک خود کو ٹھگا ہوا سا محسوس کرتے ہیں۔
چنانچہ عوام میں اب بیداری آگئی ہے۔ وہ اب حساب کتاب لگانے لگے ہیں کہ اس حکومت کے پانچ سالوں میں ہم نے کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے، خاص طور سے مسلمان، جن کا استحصال کرنا اور ٹھگنا اپنا شعار بنا لیا ہے، وہ اب تجزیہ کرنے لگے ہیں کہ موجودہ حکومت نے اپنے منشور میں کیا وعدہ کیا تھا، کیا خواب دکھائے تھے اور ان کی تکمیل کس مرحلے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان کانفرنسیں اور میٹنگیں کرکے اپنی حالت زار پر غور و فکر کر رہے ہیں، حکومت نے ان کی تعمیر و ترقی کے لیے جو وعدے کیے تھے، اس سمت میں کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں، اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اِن دنوں راجستھان مائنارِٹیز ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے ڈویژنل سطح پر بیکانیر میں ’مسلمانوں کو درپیش چیلنجز‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں چورو، بیکانیر، گنگا نگر اور ہنومان گڑھ کے عہدیداروں نے حصہ لیا اور بہت سے مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سوسائٹی کے ریاستی صدر اور ترجمان اصغر علی ایڈووکیٹ نے مسلم سماج کو چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریزرویشن کے ساتھ ساتھ تعلیمی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی ایشوز کو کامیاب طریقے سے حل کرنے پر زور دیا۔ راجستھان اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر نظام محمد نے کہا کہ منشور کو نافذ کرانے کے لیے ہمیں متحد ہونا چاہیے۔ ضلعی صدر رشید احمد غور نے کہا کہ اگر سرکار مسلم سماج کو اونچا اٹھانا چاہتی ہے، تو سچر کمیٹی اور رنگناتھ کمیشن کی سفارشات کو فوراً نافذ کیا جائے۔
اس سیمینار کے شرکاء میں کانگریس سے منسلک مسلمان بڑی تعداد میں موجود تھے۔ سب سے خاص بات یہ ہوئی کہ پورے سیمینار میں کانگریس نشانے پر رہی اور سبھی شرکاء اور مقررین کو یہ شکایت رہی کہ کانگریس مسلمانوں کے مسائل کے تئیں توجہ نہیں دے پا رہی ہے۔ ان سبھی لوگوں کی مجموعی رائے یہ تھی کہ اگر کانگریس کا یہی رویہ رہا، تو مسلمان اس کو الوداع کہہ کر کچھ بھی کر سکتا ہے اور کسی بھی پارٹی یا بی جے پی تک میں بھی جا سکتا ہے۔
اس پروگرام میں غلام مصطفی، سید محمود، ڈاکٹر تنویر مالاوات، محبت علی تنور اور مجید کھوکھر وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مقامی مسلم لیڈران کی کانگریس سے برہمی
بیکانیر ڈویژن کے 64 سالہ کانگریسی لیڈر اور معروف تاجر و کنٹریکٹر رشید احمد غوری کہتے ہیں کہ ان کا پورا خاندان کانگریس سے والہانہ و قلبی لگاؤ رکھتا ہے، مگر مسائل حل نہ ہونے پر سخت پریشان ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس سے یہ پریشانی صرف ان کے خاندان کی حد تک نہیں ہے، بلکہ یہ پوری ریاست کے عوام میں آج پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں کانگریس کی واپسی میں مسلمانوں کا کلیدی رول رہا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سرکاری اسکیموں کا اعلان تو ہوتا ہے، مگر وہ زمینی سطح تک نہیں پہنچ پاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مسلم طلبا کو اسکالر شپ کے لیے ریاست میں 5 کروڑ روپے کا بجٹ مختص ہے، مگر یہ مشکل سے 30 فیصد کو ہی مل پاتا ہے۔ ان کے خیال میں اس کا سبب مختلف قسم کی شرائط ہیں، جو راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ ان شرائط کو نرم کیا جائے یا دور کیا جائے۔ غوری کو یہ بھی شکایت ہے کہ سرکار کی طرف سے دی جارہی قرض اسکیم سے بھی عام مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق، ریاست کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ فسادات کانگریس حکومت کے زمانے میں ہوئے ہیں اور ان میں زبردست جانی و مالی نقصان ہوا ہے، مگر حکومت نے اس جانب کوئی خصوصی توجہ نہیں دی او راس کی کوئی بھر پائی نہیں کی۔ ویسے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیکانیر امن کا شہر ہے اور یہاںفرقہ وارانہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے نیزیہ ایک ایسا شہر ہے، جہاں تقسیم کے بعد کبھی بھی کوئی فساد نہیں ہوا۔وہ یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ کانگریس کو چاہیے کہ وہ صحیح افراد کو نمائندگی دے، ورنہ سیکڑوںشکایات کی بنا پر مسلمان کانگریس سے دور ہو جائیں گے۔ ان کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کانگریس کا رویہ نہیں بدلا، تو مسلمان بی جے پی کی طرف بھی جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ مسلمان وسندھرا راجے سندھیا کی جانب نظر اٹھا کر دیکھنے بھی لگے ہیں۔
ددوانا، ضلع ناگور سے تعلق رکھنے والے 71 سالہ عمید خاں کی کانگریس سے 1967 سے وابستگی ہے۔ وہ اس سے قبل فوج میں تھے اور 1965 کی ہندوپاک جنگ میں شریک بھی تھے اور سکم و تبت بارڈر پر تعینات تھے۔ راجستھان میں قائم خانہ مسلم سماج میں 20 لاکھ افراد پائے جاتے ہیں، جس کے بیشتر لوگ فوج سے وابستہ ہیں اور جن کے 6 افراد کو ’ویر چکر‘ بھی ملا ہے۔ امید خاں کہتے ہیں کہ مسلمان کانگریس سے شروع سے جڑے ہوئے ہیں، اس کے باوجود سرکاری اسکیمیں ان تک نہیں پہنچ پاتی ہیں اور اس کی وجہ سے کانگریس کے مسلم نمائندے ہیں، جنھیں عوام کی خدمت سے مطلب ہی نہیں ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ کانگریس مسلم افراد کو نمائندگی دے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کو سنجیدگی سے مسلمانوں کے مسائل کے تئیں سوچنا پڑے گا، ورنہ ان سب کے اثرات انتخاب کے وقت بہت خراب پڑیں گے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ریاست میں تعلیمی پسماندگی بہت زیادہ پائی جاتی ہے اور انہی باتوں کے پیش نظر 2001 میں قائم ایجوکیشنل فاؤنڈیشن بنائی گئی تھی، جس کے تحت مسلمانوں کے مالی تعاون سے زمین خریدی گئی، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی نہ کسی بہانے سے عمارت کی تعمیر کو انتظامیہ نے رکوادیا، جبکہ مذکورہ فاؤنڈیشن کے صدر ریٹائرڈ آئی جی اور وقف بورڈ کے موجودہ چیئرمین لیاقت علی خاں وزیر مملکت کا درجہ حاصل کرلیا ہے اور ریٹائرڈ جج محمد انیس اس کے پیٹرن ہیں نیز وہ خود اس کے جنرل سکریٹری ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس فاؤنڈیشن کی عمارت کے تعمیری کام کو فوراً پھر سے شروع کرایا جائے، ورنہ کانگریس کو بھگتنا پڑے گا، کیوں کہ یہ ریاست میں تعلیمی پس ماندگی کو دور کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔ اب لوگوں کو اس سے ڈھیر ساری توقعات ہو گئی ہیں۔
فتح پور نگر پالیکا میں غلام ربانی سولنکی اور ان کی اہلیہ زاہدہ پروین الگ الگ دور میں چیئر پرسن رہ چکے ہیں اور ان دونوں کا تعلق کانگریس سے بہت پرانا ہے۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ ہم لوگ کانگریس کے بے حد قدر کرتے ہیں، مگر کانگریس ہماری ہی نہیں، ریاست کے مسلمانوں کی بھی کوئی قدر نہیں کرتی۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف شعبوں میں مسلمانوں کی صورتِ حال بہت ہی خراب ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کا کام نہیں ہوتا ہے اور ان کے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں، تو ان کی جانب سے آواز تو اٹھائی ہی جائے گی۔ ان کے مطابق، دقت تو یہ ہے کہ کانگریس انتخابات کے وقت ووٹ لینے ان کے دروازے پر پہنچ جاتی ہے، مگر انتخاب کے بعد مسلمانوں کے بدتر حالات بدلنے کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کرتی ہے۔زاہدہ پروین کو خواتین کے تعلق سے حکومت سے شکایت ہے کہ مسلم بچیوں اور خواتین پر حکومت نے کوئی خصوصی توجہ نہیں دی اور یہی وجہ ہے کہ راجستھان میں مسلم بچیوں کی تعلیم کی شرح بہت کم ہے۔
ریاستی یوتھ کانگریس کے سابق سربراہ اور پردیش کانگریس کمیٹی کے آبزروَر نیز بلڈر 53 سالہ غلام مصطفی تو سیدھے طور پر تو یہ کہتے ہیں کہ اگر کانگریس نے پالیسی نہیں بدلی اور اپنے کیے گئے اعلانات کو عملی جامہ نہیں پہنایا، تو پھر یقینا مسلمان کانگریس سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر مسلم عوام کو اقتدار میں صحیح حصہ داری کیوں نہیں مل پاتی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس اُن لوگوں کو، جن کی عوام میں پکڑ ہے، اہمیت نہیں دیتی ہے، تو مسلمانوں کا اعتماد اس پر سے یقینی طور پر اٹھ جائے گا۔ یہ بڑے دل جلے انداز میں کہتے ہیں کہ ہم نے کانگریس کو 30 برس دے دیے، مگر اس نے مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ ان کے مطابق، صورتِ حال تو یہ ہے کہ اگر کانگریس کی ناکردگی کے باوجود اگر ہم اسے نہیں چھوڑیں گے، تو مسلمان ہمیں چھوڑ دے گا۔ لہٰذا، یہ کانگریس کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
بیکانیر کے معروف ماہنامہ ’وائس آف مرودرا‘ کے مدیر محبت بھائی کا خیال ہے کہ مسلمان اور کانگریس کے رشتے میں ٹھنڈک پیدا ہو رہی ہے، کیوں کہ کانگریس اب وہ نہیں رہی، جو پہلے تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس مسلم مسائل کی طرف توجہ نہیں دے گی، تو مسلمان بی جے پی کی طرف بالکل جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، ان دونوں پارٹیوں میں ویسے بھی کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ دونوں اپنی سوچ و ذہنیت میں ایک ہی ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی عوام کی خدمت سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاسی طور پر ان دونوں پارٹیوں کے لوگ آپس میں بظاہر جتنے بھی اختلافات رکھتے ہوں، مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ اپنی نجی زندگی میں اپنی بزنس میں ایک دوسرے کے پارٹنر ہیں اور ایک ساتھ مل کر دھندا بھی کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ان دونوں میں سے کسی سے کوئی اچھی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔
کانگریس کی طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیم این ایس یو آئی کے سابق مقامی ذمہ دار محمد شریف کہتے ہیں کہ راجستھان میں مسلمان ہمیشہ سے کانگریس سے وابستہ رہا ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے امپاورمنٹ سے بہت دور ہے اور یہ ڈیس امپاورمنٹ سیاسی، اقتصادی، تعلیمی و معاشرتی طورپر ہے۔ اگر کانگریس نے ریاست کے مسلمانوں کو اونچا اٹھانے کی کوشش نہیں کی اور ان کے مسائل حل نہیں کئے تو عجب نہیں کہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھالے جو کہ اب تک کہ اٹھائے روایتی قدم سے ہٹ کر ہو۔ انہوںنے کہا کہ اب انتخابات کی آہٹ سنائی پڑنے لگی ہے۔ لہٰذا کانگریس سنجیدگی کامظاہرہ کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *