مقدموں کے بوجھ سے لدی ہندوستانی عدالتیں

Share Article

فردوس خان
ملک بھر کی عدالتوں میں تین کروڑ سے زیادہ معاملے زیر التوا ہیں۔ غور کرنے لائق بات یہ بھی ہے کہ ان میں سے 60 فیصد معاملے سرکار سے متعلق ہیں۔ کئی معاملوں میں تو مدعی – مدعالیہ ریاستی یا مرکزی حکومت ہی ہے۔ سب سے زیادہ معاملے محکمہ ٹیکس، داخلہ، مالیات، صنعت، پٹرولیم، جنگلات، پی ایچ ای ڈی، تعلیم، پنچایتی راج، ٹرانسپورٹ اور ریونیو ڈپارٹمنٹ سمیت 19 محکموں کے ہیں۔ سرکار کے خلاف سب سے زیادہ معاملے ٹیکس سے جڑے ہیں۔ وزیر مملکت برائے مالیات ایس ایس پلانی منیکم نے لوک سبھا میں بتایا کہ ڈائریکٹ ٹیکس سے جڑے سپریم کورٹ میں 2707 کروڑ روپے کے ٹیکس سے جڑے 5 ہزار 860 معاملے ہیں، وہیں ہائی کورٹس میں 36 ہزار 340 کروڑ روپے ٹیکس کی مانگ سے جڑے 29 ہزار 650 معاملے لٹکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اِن ڈائریکٹ ٹیکس کے لحاظ سے سپریم کورٹ میں 8 ہزار 130 کروڑ روپے کے ٹیکس سے جڑے 2855 معاملے اور الگ الگ ہائی کورٹس میں 11 ہزار 459 کروڑ روپے کے ٹیکس سے متعلق 14 ہزار 626 معاملے زیر التوا ہیں۔ بقایا ٹیکس کی وصولی نہ ہونے کے بارے میں وزیر موصوف نے بتایا کہ قانون میں کچھ ناگزیر عمل کی وجہ سے بقایا ٹیکس کی وصولی نہیں ہو پاتی۔ کچھ زیر التوا معاملوں میں تقریباً 74 فیصد معاملے پانچ سال کے اندر کے ہیں۔ وزیر قانون سلمان خورشید نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ 30 جون، 2011 تک سپریم کورٹ میں 57 ہزار 179 معاملے زیر التوا تھے۔ ہائی کورٹس میں 30 ستمبر، 2010 تک زیر التوا معاملوں کی تعداد 42 لاکھ 17 ہزار 903 تھی، جب کہ نچلی عدالتوں میں 2 کروڑ 69 لاکھ 86 ہزار 307 معاملے زیر التوا تھے۔

ملک میں قتل، لوٹ، اغوا اور جنسی استحصال کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ ناکام پولس نظام کی وجہ سے مجرم بے خوف گھومتے ہیں۔ لوگ ان کے خلاف پولس میں شکایت کرنے سے کتراتے ہیں۔ جو لوگ انصاف کے لیے پولس کے پاس جاتے ہیں، انہیں بھی کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے تو پولس معاملہ درج ہی نہیں کرتی، اگر میڈیا وغیرہ کے دباؤ میں معاملہ درج بھی کر لے تو اس کا کردار مجرم کو بچانے کا ہی زیادہ رہتا ہے۔ ایسے میں شکایت کرنے والے کا مختلف طریقوں سے استحصال کیا جاتا ہے۔ جسٹس بی این کھرے بھی مانتے ہیں کہ کئی بار پولس اور استغاثہ بھی صحیح رول نہیں نبھا پاتے ہیں۔ اس لیے گجرات فسادات کے معاملوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی اور معاملے مہاراشٹر کی عدالت میں بھیجنے پڑے۔ کئی بار ریاستیں جانبدارانہ رویہ اپناتی ہیں۔

کمزور نظامِ قانون کے علاوہ مختلف عدالتوں میں معاملے لٹکنے کی ایک وجہ ججوں کی کمی بھی ہے۔ ملک میں آبادی کے تناسب میں
ججوں کی تعداد کافی کم ہے۔ امریکہ میں دس لاکھ کی آبادی پر 135 جج ہیں۔ اسی طرح کینڈا میں 75، آسٹریلیا میں 57 اور برطانیہ میں 50 جج ہیں، جب کہ ہندوستان میں ان کی تعداد محض 13 ہے۔ اس پر بھی عدالتوں میں ججوں کے عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ پچھلے سال اکتوبر میں ملک بھر کے 21 ہائی کورٹس میں 279 عہدے خالی پڑے تھے۔ ان عدالتوں میں منظور شدہ عہدے 895 ہیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ میں جج کے 160 عہدے ہیں، جب کہ یہاں صرف 69 جج ہی ہیں اور 91 عہدے خالی ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں 68 جج ہونے چاہئیں، لیکن وہاں صرف 20 جج ہیں اور 48 سیٹیں خالی ہیں۔ کلکتہ ہائی کورٹ میں صرف 17 جج ہیں، جب کہ وہاں 58 جج ہونے چاہئیں۔ یہاں پر 41 سیٹیں خالی ہیں۔ راجستھان ہائی کورٹ میں 13 جج ہیں، جب کہ یہاں 40 ججوں کی ضرورت ہے۔ یہاں پر ججوں کی 23 سیٹیں خالی ہیں۔ گجرات ہائی کورٹ میں 22 جج ہیں، جب کہ 42 ہونے چاہئیں۔ یہاں ججوں کی 20 سیٹیں خالی پڑی ہیں۔ اسی طرح سکم ہائی کورٹ میں صرف ایک جج ہے، جب کہ یہاں پر تین جج ہونے چاہئیں۔ ضلع اور ماتحت عدالتوں کا بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ ان عدالتوں میں کل 18 ہزار 8 عہدے منظور شدہ ہیں، جب کہ 3 ہزار 634 عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ گجرات میں ججوں کے 1679 عہدے ہیں، جب کہ یہاں 863 جج ہیں اور 816 عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ بہار میں 681 جج ہیں، جب کہ یہاں 1666 ججوں کی ضرورت ہے۔ اتر پردیش میں 1897 جج ہیں، جب کہ خالی پڑی سیٹوں کی تعداد 207 ہے۔ ملک کی دیگر ریاستوں کا بھی یہی حال ہے۔ ایسے میں عدالتوں میں مقدموں کا انبار لگنا کوئی عجوبہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایچ کپاڑیا اور وزیر قانون سلمان خورشید یہ قبول کر چکے ہیں کہ ہندوستان میں مقدمے لمبے چلتے ہیں اور دیر سے فیصلہ آتا ہے۔
سرکار نے حالانکہ سبھی عدالتوں میں معاملوں کے جلد نمٹارے کے لیے کئی قدم اٹھائے ہیں۔ اس کے تحت سرکار نے نیشنل جسٹس ڈلیوری اینڈ لیگل ریفارم مشن قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس کے لیے مالی سال 2011-12 میں انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے لیے مرکز کی طرف سے چلائے جا رہے پروجیکٹ میں مختص کی گئی رقم میں 100 کروڑ روپے سے 500 کروڑ روپے تک کا پانچ گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ ریاستوں کے لیے فائنینسنگ پیٹرن میں بھی 50:50 سے 75:25 تک کا اضافہ کیا گیا ہے اور شمال مشرقی ریاستوں کے لیے تناسب 90:10 کو جاری رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکار نے 2010 سے 2015 تک پانچ سال کی مدت کے دوران ملک میں جسٹس ڈلیوری سسٹم میں اصلاح کرنے کے لیے ریاستوں کو پانچ ہزار کروڑ روپے کی گرانٹ مہیا کرانے کی خاطر تیرہویں فائننس کمیشن کی سفارشوں کو منظور کر لیا ہے۔ 2010-11 کے دوران ریاستوں کو پہلے ہی ایک ہزار کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔ ریاستیں ان پیسوں کی مدد سے زیر التوا معاملوں کو کم کرنے کے لیے صبح، دوپہر، شام کی عدالتیں یا اسپیشل مجسٹریٹ کورٹ قائم کر سکتی ہیں۔ وہ عدالتی انتظامات کرنے کے علاوہ اے ڈی آر مراکز قائم کر سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ مقامی عدالتیں چلا سکتے ہیں۔ عدالتی اہل کاروں کی ٹریننگ، اسٹیٹ جیوڈیشیل اکادمیوں کو مضبوط بنانے، مقامی وکیلوں کی ٹریننگ اور ہیریٹیج کورٹ ہاؤسز کے رکھ رکھاؤ کے لیے بھی پیسے جاری کیے جاتے ہیں۔ جسٹس ڈلیوری سسٹم کو کمپیوٹرائز کرنے کے لیے سرکار 935 کروڑ روپے کی لاگت سے ملک میں ضلع اور ماتحت عدالتوں کے لیے ای- کورٹ پروجیکٹ اور ہائی کورٹس اور آئی سی آئی انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کے عمل پر کام کر رہی ہے۔ یہ کام 1997 سے چل رہا ہے۔ 31 مارچ، 2012 تک 12 ہزار عدالتوں کو کمپیوٹرائز کرنے کا ہدف تھا۔ 31 مارچ، 2014 تک 14 ہزار 249 عدالتوں کو کمپیوٹرائز کرنے کا ہدف ہے۔ 13 ویں مالیاتی کمیشن نے پانچ ہزار کروڑ روپے کی گرانٹ کی سفارش کرتے وقت ریاستی مقدمہ پالیسی تیار کرنے کے بعد ہی دوسرے سال کی قسط جاری کرنے کی شرط لگائی ہے۔ ریاستی مقدمہ پالیسی تیار کی جانی ہے، جس کا مقصد سرکار کو مؤثر اور ذمہ دار بنانا ہے۔ اگر ایسے معاملے، جن میں سرکار شامل ہے، کم ہو جاتے ہیں تو عدالتوں کے پاس زیر التوا معاملوں کے نمٹارہ کے لیے زیادہ وقت ہوگا۔
شہریوں کو دروازے تک انصاف کی پہنچ مہیا کرانے کے لیے زمینی سطح پر دیہی عدالتوں کے قیام کے لیے ولیج کورٹ ایکٹ – 2008 بنایا گیا۔ مرکزی حکومت دیہی عدالتوں کے قیام پر بار بار لگنے والے خرچوں کے لیے بھی مدد دیتی ہے۔ اس میں پہلے تین سالوں کے لیے مدد کی حد 3.20 لاکھ روپے فی دیہی عدالت فی سال رکھی گئی ہے۔ ولیج کورٹ ایکٹ کو نافذ کرتے وقت اندازہ لگایا گیا تھا کہ ملک بھر میں 5067 دیہی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جس کے لیے مرکزی حکومت مالی امداد فراہم کرے گی۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ پروجیکٹ کافی دھیمی رفتار سے چل رہا ہے۔ نتیجتاً اب تک مختلف ریاستوں میں صرف 151 دیہی عدالتیں ہی قائم ہو پائی ہیں۔ حالانکہ اس سال اس کے لیے مختص کی گئی رقم کو 40 کروڑ روپے سے بڑھا کر 150 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
عدالتوں میں زیر التوا معاملوں کے نمٹارے کے لیے سرکار نے جولائی 2011 سے دسمبر 2011 تک ایک مہم چلائی۔ مختلف ہائی کورٹس سے ملے ردِ عمل کے مطابق، 6 لاکھ سے بھی زیادہ زیر التوا معاملوں کے نمٹارے میں کمی آئی۔ اس میں سے 1.36 لاکھ معاملے بزرگ شہریوں، معذوروں، نابالغوں اور سماج کے کمزور طبقوں سے وابستہ لوگوں کے تھے۔ مہاراشٹر میں زیر التوا معاملوں کی تعداد میں 1.72 فیصد کی کمی آئی ہے۔ دہلی میں 5.60 فیصد، میزورم میں 14.54 فیصد، تمل ناڈو میں 1.26 فیصد اور چنڈی گڑھ میں 2.68 فیصد زیر التوا معاملے کم ہوئے ہیں۔ اس مہم کا ایک اہم حصہ جیل سے ان قیدیوں کی رہائی سے متعلق ہے، جن کے معاملے عدالتوں کے سامنے زیر غور ہیں۔ کرمنل پروسیجر کوڈ کے موجودہ التزامات کے سلسلے میں جن زیر سماعت معاملوں میں مختلف جرائم کے تحت زیادہ سے زیادہ مقررہ سزا کی آدھی میعاد ملزم کے ذریعے پوری کی جاچکی ہے، اسے نجی مچلکے پر چھوڑا جانا چاہیے۔ اس مہم کے دوران اس طرح کے معاملوں میں تقریباً 3.16 لاکھ زیر سماعت قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ وزارتِ قانون و انصاف کے ذریعے اس سال بھی جولائی سے دسمبر 2012 تک کے لیے ایسی ہی مہم چلائی جا رہی ہے۔
حالانکہ لوگوں کو جلد انصاف دلانے اور جیوڈیشیل سسٹم میں اصلاح کے لیے سرکار نے پچھلے سال جون میں قومی مشن کی شروعات کی۔ رواں مالی سال 2012-13 میں یہ مشن پوری طرح سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ اس کے تحت کئی قدم اٹھائے گئے ہیں۔ عدالتی معیارات اور جوابدہی بل تیار کیا جا چکا ہے۔ لوک سبھا کے ذریعے اسے پاس کیا جا چکا ہے اور اب یہ راجیہ سبھا میں زیر غور ہے۔ ہائی کورٹ کے ججوں کے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ سے متعلق آئینی ترمیمی بل بھی پارلیمنٹ کے سامنے ہے۔ آل انڈیا جیوڈیشیل سروِس کی تشکیل کے لیے ایک تجویز تیار کی گئی ہے اور یہ تجویز سکریٹریوں کی کمیٹی کے پاس ہے۔ سرکاری الزامات میں کمی لانے کے مد نظر 25 ریاستوں نے اپنی الزاماتی پالیسیوں کو تیار کیا ہے۔ قومی سطح پر اس پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ چیک باؤنس ہونے سے متعلق لگاتار بڑھتے معاملوں پر کنٹرول کے لیے دیگر پالیسیوں اور انتظامی حل سمیت تحریری نیگوشی ایبل ایکٹ میں ضروری ترامیم کا مشورہ دینے کے لیے ایک بین وزارتی گروپ کی تشکیل کی گئی ہے۔ اس گروپ کی پہلی میٹنگ گزشتہ 30 مئی کو ہوئی، جس میں لیے گئے فیصلوں کے سلسلے میں فائننس سروِس ڈپارٹمنٹ، ریزرو بینک آف انڈیا اور ہندوستانی بینکوں کی یونین کے ساتھ مل کر آگے کے ایکشن پلان پر عمل کیا جا رہا ہے، تاکہ جیوڈیشیل سسٹم پر چیک باؤنس کے معاملوں کے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ حالانکہ وزیر قانون سلمان خورشید نے عدالتوں کے ججوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زیر التوا معاملوں کے نمٹارے کے لیے اپنی ماتحت عدالتوں کے ججوں کے خالی عہدوں کو بھرنے کی مہم شروع کریں۔ ملک کے چیف جسٹس ایس ایچ کپاڑیا نے بھی پانچ سال سے زیادہ کے 26 فیصد پرانے زیر التوا معاملوں کا نمٹارہ کرکے عدالتی نظام کو فائیو پلس سے آزاد کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ہمارے ملک میں زیادہ تر معاملے زمین جائداد کے بٹوارے، کھیل کھلیان کے جھگڑے، خاندانی جھگڑے، آپسی رنجش وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں اب بھی عدالتی نظام انگریزوں کے زمانے کا ہے۔ الجھاؤ جرح اور جھوٹی گواہی وغیرہ مقدموں کی سمت طے کرتے ہیں۔ گواہوں کو تحفظ نہ ملنا بھی بڑا مسئلہ ہے۔ پولس کا شہ زوروں کا ساتھ دینا بھی بڑا مسئلہ ہے۔ اوپر سے وکیلوں کی موٹی فیس بھی اس میں بڑا رول ادا کرتی ہے۔ پیسے والے اور رسوخ دار لوگ بڑے وکیلوں کے سہارے اپنے معاملے کو مضبوط کر لیتے ہیں۔ غریب کم فیس والا وکیل لیتے ہیں، ایسے وکیلوں کو زیادہ تجربہ تو ہوتا نہیں، بس وہ تو اپنی روزی روٹی کے لیے معاملے کو لٹکائے رکھنا چاہتے ہیں۔ مرکزی وزیر اور جانے مانے وکیل کپل سبل کا کہنا ہے کہ ججوں کی تقرری میں ریاستی حکومتیں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ وہ ہمیشہ پیسے کی کمی کا رونا روتی رہتی ہیں۔ انصاف ان کی ترجیحات کی فہرست میں سب سے نیچے ہے۔ ملک میں قتل، لوٹ، اغوا اور جنسی استحصال کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ ناکام پولس نظام کی وجہ سے مجرم بے خوف گھومتے ہیں۔ لوگ ان کے خلاف پولس میں شکایت کرنے سے کتراتے ہیں۔ جو لوگ انصاف کے لیے پولس کے پاس جاتے ہیں، انہیں بھی کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے تو پولس معاملہ درج ہی نہیں کرتی، اگر میڈیا وغیرہ کے دباؤ میں معاملہ درج بھی کر لے تو اس کا کردار مجرم کو بچانے کا ہی زیادہ رہتا ہے۔ ایسے میں شکایت کرنے والے کا مختلف طریقوں سے استحصال کیا جاتا ہے۔ جسٹس بی این کھرے بھی مانتے ہیں کہ کئی بار پولس اور استغاثہ بھی صحیح رول نہیں نبھا پاتے ہیں۔ اس لیے گجرات فسادات کے معاملوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی اور معاملے مہاراشٹر کی عدالت میں بھیجنے پڑے۔ کئی بار ریاستیں جانبدارانہ رویہ اپناتی ہیں۔

پانچ دہائی بعد ملا انصاف
پانچ دہائی پرانے ایک معاملہ میں اگست 2007 میں سپریم کورٹ نے کسان راجندر کے حق میں فیصلہ سنایا، جو کئی سال پہلے ہی دنیا چھوڑ کر جا چکے تھے۔ زمینی تنازع کا یہ معاملہ 1957 میں عدالت میں پہنچا۔ 1964 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے راجندر سنگھ کو زمین کا مالک قرار دیا۔ ہائی کورٹ کی لارجر بنچ نے بھی 1971 میں اس فیصلہ کو صحیح ٹھہرایا۔ زمین پر قبضہ کرنے والے اور مقدمہ دائر کرنے والی پریم مائی اور سدھا مائی نے بھی اسے چنوتی نہیں دی۔ ایسے میں راجندر سنگھ کو زمین کا قبضہ مل جانا چاہیے تھا، لیکن 1991 میں ہائی کورٹ نے پھر سے دخل دیتے ہوئے آخری فیصلہ کو ردّ کر دیا۔ راجندر سنگھ نے 2001 میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس پر اگست 2007 میں راجندر سنگھ کے حق میں فیصلہ آیا، مگر اس سے کئی سال پہلے ہی راجندر سنگھ کی موت ہو چکی تھی۔ اس پر عدالت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صلاح دی کہ اگر لوگوں کا اعتماد عدلیہ میں بحال کرنا ہے تو معاملوں کو تیزی سے نمٹانے کا انتظام کرنا ہوگا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *