ملک سے محبت کرنے والوں اور غداروں کی پہچان کیجئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ 
جب بابا رام دیو کے اچھے دن تھے، اس وقت ہندوستانی میڈیا کے لوگ اُن سے ملنے کے لیے لائن لگائے رہتے تھے۔ آج جب بابا رام دیو پریشانی میں ہیں تو میڈیا کے لوگ انہیں فون نہیں کرتے۔ پہلے انہیں بلانے یا ان کے ساتھ اپنا چہرہ دکھانے کے لیے ایک ہوڑ مچی رہتی تھی۔ آج بابا رام دیو کے ساتھ چہرہ دکھانے سے وہی سارے لوگ دور بھاگ رہے ہیں۔ یہ ہمارے میڈیا کا دوہرا کردار ہے۔ شاید اس لیے، کیوں کہ میڈیا کے لوگ اکثر وہی کہنا اور دکھانا چاہتے ہیں، جو حکومتیں چاہتی ہیں، چاہے وہ حکومتیں ریاست کی ہوں یا مرکز کی۔ میڈیا کو اپنے اُن آقاؤں سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ جب تک کوئی آپ کی مخالفت نہ کرے، تب تک آپ اس کی قصیدہ خوانی کرتے ہیں، اس کی ہر طرح سے مدد کرتے ہیں، جیسا بابا رام دیو کے ساتھ ہوا۔ انجانے میں نہیں، جان بوجھ کر۔ یہاں تک کہ خود سونیا گاندھی کے صاحبزادے، راہل گاندھی بابا رام دیو سے ملتے دیکھے گئے۔
لیکن جب بابا رام دیو نے ایک سوال چھیڑ دیا اور سوال بھی کالے دھن کا، تو اچانک کانگریس محتاط ہونے لگی۔ بابا رام دیو نے اس سوال کو تھوڑی تیزی سے چھیڑا تو بھارتیہ جنتا پارٹی کے چہرے پر مسکان پھیل گئی، لیکن کانگریس تھوڑا غصہ ہونے لگی۔ آج حالت یہ ہے کہ کانگریس کی زیر کنٹرول حکومت کے سارے اعضاء بابا رام دیو کے کام میں کمی تلاش کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔ سی بی آئی آزاد طاقت ہے، لیکن وہ کتنی آزاد ہے، یہ اس ملک کے لوگ جانتے ہیں۔ جو لوگ سیدھے حکومت کے کنٹرول میں ہیں، چاہے وہ انکم ٹیکس ہو، ریونیو انٹیلی جنس ہو ، سیلس ٹیکس ہو، جتنے محکمے ہیں، وہ سب آج بابا رام دیو کے ماتحت میں چل رہی رضا کارانہ تنظیموں کی جانچ میں لگی ہوئی ہیں اور جانچ بھی جانچ کی طرح نہیں ہو رہی ہے۔ جانچ بھی اس طرح ہو رہی ہے کہ اگر کہیں کوئی گڑبڑی نہیں ہے تو گڑبڑی کو تلاش کریں۔ یہاں پر الگ الگ طرح کے پیمانے اپنائے جا رہے ہیں۔ ٹرسٹ کا اصول ہندوستان کی باقی جگہوں پر ایک طرح سے نافذ ہوتا ہے اور بابا رام دیو کے یہاں دوسرے طریقے سے نافذ کیا جاتا ہے۔
پہلے مرکزی حکومت کے وزیر بابا رام دیو کی قصیدہ خوانی کرتے تھے کہ انہوں نے ساری دنیا میں یوگا کو یوگ کے نام سے دوبارہ قائم کیا۔ بابا رام دیو سے پہلے دوسرے ملکوں میں ہمارے بہت سے سوامی گئے اور انہوں نے وہاں یوگا کے نام پر غیر ملکیوں کو کچھ آسن سکھائے اور بدلے میں ان سے بھرپور مال و دولت حاصل کیا۔ ان میں سے بہت سے بیرونی ممالک میں ہی بس گئے۔ بابا رام دیو ایسے پہلے شخص تھے، جنہوں نے دنیا میں یوگ کو یوگ کے نام سے دوبارہ قائم کیا اور ایسا کرتے وقت انہوں نے کچھ بھی ایسا نہیں کیا، جسے انہوں نے ڈکلیئر نہیں کیا۔ لیکن آج بابا رام دیو حکومت کی آنکھ کی زبردست کرکری بنے ہوئے ہیں اور حکومت یہ چاہتی ہے کہ بابا رام دیو کے اوپر اتنا دباؤ بنایا جائے کہ وہ ہاتھ جوڑ کر حکومت سے معافی مانگیں اور کہیں کہ میں اب صرف یوگ سکھاؤں گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بابا رام دیو کیا ایسا کریں گے؟ بابا رام دیو کے ساتھیوں کے اوپر بھی حکومت نے عتاب نازل کیا۔ ہمارے پاس یہ خبر آئی اور شاید سب سے پہلے ہم نے شائع کیا کہ آچاریہ بال کرشن، جو بابا رام دیو کے بعد دوسرا مقام رکھتے ہیں، وہ نیپالی شہری ہیں، لیکن ان کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ ہے۔ ہم نے یہ خبر چوتھی دنیا میں اس لیے شائع کی تھی، کیوں کہ ہم یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہندوستان اور نیپال کے درمیان صدیوں سے ایک رشتہ رہا ہے۔
نیپال کے لاکھوں لوگ ہندوستان میں کئی نسلوں سے کام کرتے آئے ہیں اور ہندوستانی نیپال میں کئی نسلوں سے ابھی بھی کام کر رہے ہیں۔ دونوں کے درمیان پاسپورٹ ہوتا ہے، لیکن مجھے یاد ہے کہ اس پاسپورٹ کی نیپال جانے میں کبھی ضرورت نہیں پڑی۔ جب میرا پاسپورٹ نہیں بنا تھا، تب میں کئی بار بغیر پاسپورٹ کے نیپال گیا۔ ایک عام لیٹر کے سہارے، جسے کسی ایم ایل اے نے لکھا تھا کہ میں انہیں جانتا ہوں۔ صرف اس تعارفی خط کی بنیاد پر کئی بار نیپال گیا تھا۔ اب بھی نیپال جانے کے لیے صرف تعارفی خط کی ضرورت ہوتی ہے، چاہے وہ ہندوستان کا ووٹر آئی ڈی ہو یا پاسپورٹ۔ اسی طرح نیپال کے لوگ یہاں بغیر پاسپورٹ کے صرف اپنے گھر کے پتہ کی بنیاد پر رہ رہے ہیں، کام کر رہے ہیں۔ ایک پوری گورکھا ڈویژن ہندوستان میں فوج کا اٹوٹ حصہ رہی ہے، جس نے بہادری کے ساتھ ہندوستان کے وقار کی کئی موقعوں پر حفاظت کی ہے۔ بابا بال کرشن اُن لاکھوں لوگوں میں ہیں، جن کا خاندان کبھی نیپال میں رہا اور ساری تعلیم و تربیت ہندوستان میں ہوئی۔ انہیں ہندوستان میں ایک پاسپورٹ جاری کیا گیا، جس پر وہ 53 ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔ یہ دورے انہوں نے ہندوستان کے شہری کے ناطے کیے ہیں۔ ان کی ساری زندگی ہندوستان میں گزر رہی ہے، لیکن اب ان کے اوپر الگ الگ طرح کے الزامات لگ رہے ہیں اور انہیں نیپال اور ہندوستان کا سب سے بڑا مجرم بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کانگریس لیڈر دِگ وجے سنگھ نے شور مچایا کہ نیپال میں بابا بال کرشن مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں، اس لیے وہاں سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں۔ ہمارے پاس نیپال کی وزارتِ داخلہ کا ایک خط ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بابا بال کرشن کا نیپال میں کسی طرح کا کرمنل ریکاڈ نہیں ہے اور نہ انہیں نیپالی حکومت غلط نظر سے دیکھتی ہے۔ سوال یہاں بابا رام دیو یا آچاریہ بال کرشن کی شخصیت اور سرگرمیوں کا نہیں ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اگر کوئی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بولے تو حکومت اسے پریشان کرنے کی قواعد شروع کر دیتی ہے۔ ہمیں اس بات پر اب کوئی شک نہیں کہ حکومت جمہوری طریقے یا جمہوری آداب بھول چکی ہے۔ اگر حکومت میں جمہوری آداب ہوتے تو وہ ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ کے کوئلہ گھوٹالے کی جانچ اتنی ہی تیزی سے کرتی، جس تیزی سے اس نے بابا رام دیو کے ٹرسٹوں کی جانچ شروع کی ہے۔ اگر حکومت میں جمہوری آداب ہوتے تو وہ نہیں کہتی کہ کول بلاک میں زیرو لاس ہوا ہے یا ٹو جی میں زیرو لاس ہوا ہے، جو بعد میں غلط ثابت ہوا۔ اگر چوتھی دنیا نے ٹو جی گھوٹالے کی رپورٹ اتنی سختی سے نہیں شائع کی ہوتی تو یہ کیس دبا دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ اور سپریم کورٹ کی ٹیڑھی نظر کی وجہ سے ٹو جی کیس پھر سے کھلا۔ اگر میڈیا نے کامن ویلتھ گیمس کو لے کر شور نہ مچایا ہوتا تو حکومت اس کو ہضم کر چکی تھی۔ اسی طرح کوئلہ گھوٹالے کو اگر چوتھی دنیا نے اتنی سختی سے تین بار نہیں شائع کیا ہوتا تو یہ کیس بھی ہضم ہو چکا تھا اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹی اس میں برابر کی حصہ دار دکھائی دے رہی ہے۔ جب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے یہ کہا کہ ہم نے کول الاٹمنٹ سے ہوئے گھوٹالے کی رقم کو کم کرکے بتایا ہے، کیوں کہ ہم یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ بڑی رقم دکھائی دے۔ اس لیے پھر ہم نے اس کا پیمانہ دوسرا رکھا تو اپوزیشن پارٹیوں کو اس سوال کو تیزی کے ساتھ اٹھانا چاہیے تھا کہ یہ حکومت ایک لاکھ 86 ہزار کروڑ کی گنہگار نہیں ہے، بلکہ 26 لاکھ کروڑ کی گنہگار ہے، جسے ہم بار بار دعوے کے ساتھ کہتے آ رہے ہیں۔ ہمارے اس دعوے کو آڈیٹر جنرل نے پی اے سی میں بیان دے کر صحیح ثابت کر دیا۔ ان معاملوں کی جانچ حکومت ہند نے شروع نہیں کی۔ ہندوستانی حکومت پر دباؤ پڑا، تب اس کی جانچ ہوئی۔ اگر سی بی آئی ایک کے بعد ایک کوئلہ کمپنیوں کی جانچ کر رہی ہے اور حکومت اب کچھ کمپنیوں کے لائسنس ردّ کر رہی ہے تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اس میں گھوٹالہ ہوا ہے، لیکن حکومت اس کے اوپر دھیان نہیں دے رہی۔ حکومت زیادہ دھیان بابا رام دیو کے ٹرسٹوں کے اوپر دے رہی ہے۔
بابا رام دیو کے ٹرسٹ کیا کر رہے ہیں۔ بابا رام دیو کے ٹرسٹ ہندوستان کے بازاروں میں پائے جانے والے کچے مال سے آیوروید کے اصول کی بنیاد کے اوپر کچھ پروڈکٹ بناتے ہیں اور انہیں ملک میں بیچتے ہیں۔ ان کے پروڈکٹس کو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ وہ ایک بڑے پروڈکٹ مارکیٹ میں تبدیل ہو رہا ہے۔ جب انہی چیزوں کو بڑے گھرانے بناتے ہیں یا ملٹی نیشنل کمپنیاں بناتی ہیں تو انہیں یہ مقابلہ آرائی سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ انہوں نے حکومت کو رشوت دے کر ان ساری چیزوں کو ڈِس کریڈٹ کرکے بند کرنے کا پلان بنایا ہے۔ ایسے بہت سارے پروڈکٹ ہیں، جن کا اگر قیمت کی شکل میں موازنہ کریں تو بابا رام دیو کے ٹرسٹ کے ذریعے تیار کردہ اور بیرونی ممالک سے لائے گئے پروڈکٹس کی قیمت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پہلے لوگ اِن اشیاء کو خریدتے تھے، جو بیرونی ممالک سے آتی تھیں۔ اب دھیرے دھیرے لوگ بابا رام دیو کے ٹرسٹ کے ذریعے تیار کی گئی چیزوں کو تیزی سے خرید رہے ہیں۔ یہی بابا رام دیو کا سب سے بڑا قصور ہے۔ وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ہندوستان کے بڑے گھرانوں کی آنکھ کی کرکری بن گئے ہیں۔ اور پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان بڑے گھرانوں اور غیر ملکی کمپنیوں کی ناک کے نیچے ایک بڑا ہندوستانی پروڈکٹ مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے لگے۔ لہٰذا، جتنی طرح کی جانچ ایجنسیاں ہیں، وہ اس وقت بابا رام دیو اور آچاریہ بال کرشن کے ذریعے چلائی جا رہی صنعتوں کے اوپر منھ کھولے راکشس کی طرح جھپٹ پڑی ہیں۔
مزے کی چیز یہ ہے کہ حکومت ہند کے پاس ایسے ماہرین نہیں ہیں، جو آچاریہ بال کرشن کے ذریعے ایجاد کردہ اصولوں کو اصول کی بنیاد پر خارج کر سکیں۔ آج حالت یہ ہے کہ دنیا کی بڑی یونیورسٹیاں، جن میں ہاورڈ اہم ہے، بابا رام دیو کے بتائے نصاب کی بنیاد پر آیوروید اور یوگ کو اپنے نصاب کا حصہ بنانے جا رہی ہیں۔ ہاورڈ کے ساتھ دنیا کی تین یونیورسٹیاں اس طریقے کو اپنی منظوری دے کر اپنے یہاں نصاب میں جوڑنے جا رہی ہیں۔ ہاورڈ جوڑ سکتا ہے اور جب ہاورڈ جوڑے گا تو پھر ہندوستان کے لوگ ہاورڈ کے ذریعے درآمدات کریں گے۔ لیکن ہندوستان میں رام دیو اور بال کرشن نے جو اصول دوبارہ تیار کیے ہیں، آیوروید کے جن رازوں کو دنیا کے سامنے کھولا ہے، ابھی ہم اسے اس لیے برباد کرنے میں لگے ہیں، کیوں کہ ہمارا یعنی حکومت ہند اور ہندوستانی سرمایہ کاروں کا بنیادی مقصد ایلوپیتھی اور غیر ملکی سائنس کے اُن اصولوں کو زندہ رکھنا ہے، جو دراصل لوگوں کی صحت کے خلاف ہیں۔ وہ ساری دوائیں، جن پر غیر ملکوں میں پابندی لگا دی جاتی ہے، ہندوستان میں حکومت ہند کی کرم فرمائی سے خوب بیچی جاتی ہیں۔ جب ہمارے یہاں کوئی مہاماری ہوتی ہے یا کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے، تب اُن دواؤں پر پابندی لگانے کی مانگ ہوتی ہے، لیکن تب تک ان کمپنیوں کی دوائیں ہندوستان کے لوگوں کے جسم میں زہر کی شکل میں داخل ہو چکی ہوتی ہیں۔
اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایک بار پھر سے اپنے قدموں کے بارے میں سوچے اور اپنی نظر ان کے اوپر گڑائے، جو ملک کے خلاف ہیں۔ اپنا وقت ان کے پیچھے نہ برباد کرے، جو ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، جو ملک کے لیے اصولوں کی لڑائی کی بات کرتے ہیں، بھلے ہی آپ سے میل نہ کھائے، لیکن یہی جمہوریت ہے۔ جمہوریت میں باہم مخالف سوچ کا احترام ہونا چاہیے۔ آپ کو انٹیلی جنس بیورو کا استعمال ان لوگوں کے خلاف پیچھا کرنے اور فون سننے میں نہیں کرنا چاہیے، جو اصولی طور پر آپ کے خلاف ہیں۔ آپ ان ایجنسیوں کا استعمال ملک مخالف سرگرمیوں کو انجام دینے والوں کے لیے کریں، جو زیادہ بہتر قدم ہوگا، ورنہ ملک مخالف سرگرمیاں آپ کے لیے مصیبتیں پیدا کریں گی اور آپ اپنا وقت ان کے پیچھے ضائع کریں گے، جو ملک مخالف نہیں ہیں۔ آپ اپنی مخالفت کو ملک کی مخالفت نہ مانیں، ورنہ تاریخ آج نہیں تو کل، آپ کو بہت برے لفظوں میں یاد کرے گی۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *