ملک کی اس نازک صورتحال میں جن تنتر یاترا امید کی ایک کرن

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
انا  ہزارے کی جن تنتر یاترا سُپر فلاپ ہو سکتی ہے، کیونکہ کئی لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کو ملک سے کوئی سروکار نہیں ہے۔یہ لوگ اپنی روزی روٹی اور اپنے مستقبل کے تئیں زیادہ فکرمند ہیں۔ہر جگہ لوگ ذات پات اور فرقوں میں تقسیم ہیں۔ ہر جگہ پسماندہ اور اعلیٰ ذات کی لڑائی ہے۔ دلتوں میں بھی دلت اور مہادلتوں کی لڑائی ہے۔ اعلیٰ ذاتوں میں بھی اس بات کی لڑائی ہے کہ کون سب سے بڑی اعلیٰ ذات ہے۔ہر جگہ سماج میں رسہ کشی جاری ہے۔ ہر کوئی ہر کسی سے لڑ رہا ہے۔اس کے علاوہ جو نوجوان طبقہ ہے ، جو بدلائو کاسبب بن سکتا ہے، وہ نیند کی حالت میں ہے اور اس کے سامنے کوئی آئیڈیل نہیں ہے۔ اگر کوئی آئیڈیل ہے بھی ، تو وہ ہے سلمان خان، شاہ رخ خان اور کٹرینہ کیف جیسے لوگ ۔نوجوانوں نے اب ملک کے بارے میں سوچنا بند کر دیا ہے۔ اس لئے ہندوستان میں عوام کی لڑائی نہیں لڑی جا سکتی۔ اب ملک میں تحریک نہیں ہو سکتی۔ ایسی حالت میں یہ نتیجہ آسانی سے نکالا جا سکتا ہے کہ انا ہزارے کی جن تنتر یاترا سپر فلاپ ہو سکتی ہے، لیکن کیا یہ پیش گوئی ٹھیک ہے؟ اگر یہ یاترا فلاپ ہو گئی تو کیا ہوگا؟
ملک کی صورتحال نازک نہیں، خوفناک ہے۔ ہندوستان انارکی، بغاوت اور تشدد کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہ کسی اندھے کو ہی نظر نہیں آئے گا ، ورنہ آنکھ بند کر لینے سے سچائی نہیں بدل جاتی ہے۔ ملک کی سیاسی طاقتیں کچھ پریواروں تک محدود ہو گئی ہیں۔ ملک کے چند پریوار ہیں ، جنھوں نے ملک کی جمہوریت کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ بیشتر پارٹیاں کسی نہ کسی پریوار کی لمیٹڈ کمپنی بن گئی ہیں۔ جمہوریت کے نام پر جو کچھ بچا ہے، وہ بھی کسی نہ کسی پریوار میںمحدود ہو جانے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جمہوریت صرف نام کی ہی رہ گئی ہے ، کیونکہ آج کوئی عام آدمی پارلیمانی انتخاب تو دور ، مکھیا کا چنائو بھی نہیں لڑ سکتا۔ سیاسی جماعتوں نے انتخاب کو جان بوجھ کر اتنا مہنگا بنا دیا ہے کہ عام آدمی انتخاب لڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ جہاں تک بات معاشی نظام کی ہے تو یہ بھی چند خاندانوں کے درمیان سمٹتا جا رہا ہے۔حکومت ملک کے چھوٹے تاجروں کو تباہ کرنے والی پالیسیوں کو ترجیح دیتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کو دعوت دے کر تو حکومت نے ملک کی کمپنیوں کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔سماجی و ثقافتی اداروں پر بھی سیاسی ، معاشی اقتدار کا اثر نظر آ رہا ہے۔ یہاں بھی دلالوں کا بول بالا ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ گزشتہ 67سالوں میں ہندوستان نے اپنے ہی آئین کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔

انا ہزارے کی جن تنتر یاتراسپر فلاب ہوگی یا سپر ہٹ، یہ تو ملک کے عوام کی حمایت سے پتہ چلے گا، لیکن اس سچ سے آنکھیں نہیں پھیری جا سکتیں کہ ملک کی سیاسی پارٹیوں سے مثبت تبدیلی کی امید کرنا بے معنی ہے۔یہ نہ سدھریں گی اور نہ ہی حالات کو سدھانے کی کوشش کریں گی۔تو کیا ملک کے عوام جمہوریت کو چند خاندانوں کی کٹھ پتلی بنتے دیکھتے رہیں گے؟کیا اپنے بچوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیں گے؟کیا ملک میں بد عنوانوں کو من مانی کرنے دیں گے؟انا ہزارے نے جب بد عنوانی کے خلاف آندولن کیا تو اس کا اثر دکھائی دیا۔ انا اس مرتبہ سسٹم میں تبدیلی کے لئے آندولن کرنے نکلے ہیں۔

ملک کے عظیم مجاہد ین آزادی نے ملک کو اس لئے آزاد کرایا تھا کہ سیاسی اور اقتصادی طاقت لوگوں کے ہاتھوں میں ہو۔ کوئی غریب نہ رہے، کوئی بے روزگار نہ رہے، کسان اور مزدوروں کا استحصال نہ ہو۔آزاد ی کا مطلب تو یہی تھا کہ ہر گائوں اور شہرمیں غریبوں کی ترقی ہو۔ انھوں نے جمہوریت کو اسی لئے اختیار کیا تھا۔ انہیں بھروسہ تھا کہ جمہوریت ملک کی ترقی اور بدلائو کا ہتھیار بنے گی۔ لیکن کسے معلوم تھا کہ گاندھی ، نہرو، امبیڈ کر اور مولانا آزاد کے خواب کو ملک کی سیاسی جماعتیں چکناچور کر دیں گی۔گزشتہ 67سالوں میں سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کو بدعنوانی ، مہنگائی، استحصال، لوٹ، بے ایمانی، بدکاری ،ا ٓبروریزی، انارکی اور بے روزگاری کا جزوِ لازم بنا دیا ہے۔آج کے لیڈروں اور سیاسی جماعتوں نے ترقی اور بدلائو کے اس ہتھیار کو بھی بدعنوانی ، بے ایمانی اور لوٹ کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں ، جسے ترقی کہتی ہیں، وہ دراصل ایک چھلاوا ہے۔ 85فیصد عوام ترقی کے کسی بھی طرح کے فائدے سے محروم ہیںاور انھیں امید بھی نہیں ہے۔ جتنے مالز دکھائی دیتے ہیں ، جتنی کاریں دکھائی دیتی ہیں، جتنے گھر بن رہے ہیں، یہ سب اس ملک کے 15فیصد لوگوںکے لئے ہیں، کیونکہ ملک کا سارا پیسہ ان 15فیصد لوگوں کے پاس محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک کے 200سے زیادہ اضلاع میں مائونواز ہتھیاروں سے لیس ہو کر دن و رات گھومتے ہیں۔ یہاں حکومت کی نہ تو پولس پہنچتی ہے اور نہ ہی انتظامیہ۔ یہ بے خوف ہو کر عوامی عدالتیں لگاتے ہیں، جلسے کرتے ہیں اور لوگوں کو سسٹم کے خلاف ہتھیار بند ہونے کااعلان کرتے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ لوگ ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ان علاقوں میں سرکاری افسران اپنی جان بچانے کے لئے مائونوازوں کو پیسے تک دیتے ہیں۔ یہاں حکومت ہند کانہیں، مائونوازوں کا راج چلتا ہے۔ حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ اس صورتحال سے نہ حکومت کو تشویش ہے اور نہ ہی مخالف جماعتوں کو۔
ہندوستان کی جمہوریت دو طرفہ خطروں کی زد میں ہے۔ ایک تو ملک کی سیاسی ، اقتصادی طاقتیں چند کنبوں میں محدود ہوتی چلی جا رہی ہیں اور دوسری طرف پُر تشدد تحریک کی وجہ سے خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ اس خطرے کے درمیان عوام پس رہے ہیں۔ لوگوں کا اعتماد جمہوریت سے اٹھتا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں سے اعتماد پہلے ہی ختم ہو چکا ہے، کیونکہ مہنگائی کی مار نے ملک کے عوام کو بے یار و مددگار کر دیا ہے۔ لوگوں کی ناراضگی اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جب لاکھوں کروڑ روپے کے گھوٹالے سامنے آتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے بے شرمی کی انتہا پار کر دی ہے۔ بدعنوانی نے پوری مشینری کو کھوکھلا کر دیا، لیکن نہ تو کسی کی ذمہ دار طے ہوپاتی ہے اور نہ ہی کسی کو سزا ہوتی ہے ۔ ملک چلانے والوں کے لئے یہ شرم کی بات ہے کہ ملک کے عوام نے بدعنوانی کو طرز زندگی کا حصہ مان لیا ہے۔ لوگ مایوس ہو چکے ہیں اور اب تو کہنے لگے ہیں کہ بدعنوانی کو تو اب قانونی طور پر منظور ی مل جانی چاہئے تاکہ سارے بدعنوان اور رشوت خور، رشوت لیں اور اس پر ٹیکس جمع کرا کر اسے وہائٹ کر لیں۔
عوام کی یہ بے چینی اور گہری مایوسی ملک کی جمہوریت کے لئے مناسب نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ملک کی جمہوریت پر ہی سوالیہ نشان کھڑا ہو جائے گا۔ سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کو پتہ نہیں ،کیوں یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے ۔ کیا یہ سیاسی جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ ان کے کارکنان کو لوگ پکڑ کر یہ پوچھیں کہ بتائو گزشتہ 15سالوں میں تمہاری پارٹی نے ہمارے لئے کیا کیا؟ ان کے لیڈروں کو کمرے میں بند کر کے یہ پوچھیں کہ بتا ؤہم نے کیا پاپ کیا ہے کہ مہنگائی ہمارے سر پر ناچ رہی ہے۔ کیا یہ لیڈر یہ چاہتے ہیں کہ ملک کے نوجوان ان کے باڈی گارڈ کی بندوقیں چھین کر اس بات کا جواب مانگیں کہ ہم بے روزگار کیوں ہیں۔
ہمارے والدین نے کیا گناہ کیا ہے کہ اتنی محنت کے باوجود روٹی نہیں ملتی۔ ہماری بہن نے کیا جرم کیا ہے کہ جہیز کی وجہ سے اس کی شادی نہیں ہو رہی ہے۔ کیا یہ سیاسی جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ ان کے لیڈر جہاں سے گزریں تو لوگ ان کی گاڑیوں پر پتھر ماریں اور ڈر کے مارے یہ لیڈر اپنی گاڑیوں سے پارٹی کا جھنڈا اتار کر پھینکیں۔ملک کی سیاسی جماعتیں کیا یہ چاہتی ہیں کہ جس طرح روس میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں ڈوما میں گھس گئے تھے یا حال ہی میں جس طرح شام یا مصر میں لوگوں نے کیا، وہی ہندوستان میں ہو۔ کیا یہ چاہتے ہیں کہ لوگ لاکھوں کی تعداد میں پارلیمنٹ، راشٹر پتی بھون اور سپریم کورٹ میں گھس جائیں۔ اگر یہ سیاسی جماعتیں اور لیڈر اپنے اخلاق و کردار اورشبیہ نہیں سدھارتے ہیں تو اسے حقیقت میں تبدیل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ 67سالوں میں ملک کے لوگوں کے دکھ درد دور نہیں ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو یہ بھی سمجھنا پڑے گا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں اچانک سے ووٹنگ بڑھ گئی ہے۔ حال ہی میں ہوئے انتخابات میں70سے90فیصد تک کی ووٹنگ ہوئی ہے۔ یہ فخر کی بات ہے کہ لوگوں کو آج بھی یہ یقین ہے کہ انتخابات کے ذریعہ لوگوں کے مسائل کا حل ہو سکتا ہے ،لیکن منتخب ہو کر آنے والی ہر سرکار جس طرح سے لوٹ کھسوٹ کرتی ہے اس سے لوگوں کاغم و غصہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ اگر صورتحال نہیں بدلی تو لوگوں کو لگنے لگے گا کہ ووٹنگ کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی مسائل کے تئیں بے حسی لوگوں کو پر تشدد بننے کے لئے دعوت دیتی ہے۔ یہیحال کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔
جمہوریت پر چھائے سنگین خطرے اور عوام کے اضطراب اور گہری مایوسی کے درمیان جب انا ہزارے نے دہلی کے رام لیلا میدان میں بھوک ہڑتال کی ،تو گویا ملک میں عوام کا جم غفیر امنڈ پڑا۔ اس بھوک ہڑتال نے ملک کے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ پورے ملک کے گلی محلوںسے مرد و خواتین اور بچے نکل آئے اور بدعنوانی کی مخالفت کرنے لگے۔ انا ہزارے کی تیرہ دن کی اس بھوک ہڑتال نے صرف ایک کام کیا اور وہ کام یہ تھا کہ لوگوں کی یہ سمجھ میں آ گیا کہ ان میں بھی کچھ طاقت ہے۔ اگر وہ مل کر کھڑے ہو جائیں تو حکومت اور سیاسی جماعتیں کانپ سکتی ہیں۔ اس کا اثر سیاسی پارٹیوں پر صاف دکھائی دیا۔ لوگوں کے کھڑے ہونے نے پوری پارلیمنٹ کو ڈرا دیا اور ممبران پارلیمنٹ کو آدھی رات میں بیٹھ کر باہمی اتفاق رائے سے ایک تجویز پاس کرنی پڑی۔یہ تجویز وہی تھی جو انا ہزارے کی مانگ تھی۔ وزیر اعظم کو تحریری شکل میں انا ہزارے کو یقین دہانی کرانی پڑی۔ اس کے باوجود سیاسی پارٹیوں نے اپنے طور طریقے اوراپنی اصلیت کا ایک ثبوت پیش کیا ۔ سرکار اور سیاسی پارٹیاں پارلیمنٹ سے پاس ہوئی تجویز سے بھی مکر گئیں۔ جن لوک پال کی جگہ ایک ایسے لوک پال کی پیشکش کی ہے ، جس سے نہ تو بد عنوانی کم ہوگی اور نہ ہی بد عنوان افسروں کو سزا مل پائے گی۔ سیاسی پارٹیوں کا شاید اپنے کارکنان سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ ان کے کارکنان کس حال میں جی رہے ہیں اور کس طرح وہ ہر روز لوگوں کے ذریعے بے عزت ہو رہے ہیں ، اس کی خبر دہلی میں بیٹھے جمہوریت کے ان تانا شاہوں کو نہیں ہے ۔ سیاسی پارٹیوں کا زمینی حقیقت سے واقعی رشتہ ختم ہوگیا ہے۔  مہنگائی،بے روزگاری، سیاسی پارٹیوں کی بے غیرتی، جمہوریت پر چھائے خطرے،اختلاف اور افراتفری کے دہانے پر کھڑا ہندوستان اور عوام کی بے چینی اور ناامیدی کے درمیان انا ہزارے جن تنتر یاترا کر رہے ہیں۔وہ یہ کہنے نکلے ہیں کہ جمہوریت کا مطلب ترقی، بھروسہ، روزگار اور مکمل بدلائو ہے۔ انا یہ سمجھانے نکلے ہیں کہ جمہوریت کا مطلب عوام کی طاقت ، نوجوانوں کی طاقت اور غریب کی طاقت ہے۔انا یہ بتانے نکلے ہیں کہ ملک کے عوام جب کھڑے ہو جائیں گے، تو ملک میں انگریزوں کا قانون ختم ہوگا۔ آئین کی روح اور عوام کی خواہش کے مطابق قانون بنیں گے۔ بے روزگاری ،مہنگائی، بد عنوانی ، بے راہ روی اور قتل و غارتگری کا خاتمہ ہوگا۔ کسان کی زمین کوئی چھین نہیں سکے گا اور خزانوں کو کوئی لوٹ نہیں پائے گا۔ پانی،جنگل اور زمین پر ملک کا حق ہوگا۔ اس سسٹم میں سماج کے سب سے کمزور طبقے اوردیگر تمام طبقوں کے کمزور اور غریبوں کو منصفانہ طور پرحصہ داری ملے گی اور گائوں خود مختاری کی شکل میں ترقی کرے گا۔یہ ایک ایسے عوامی انقلاب کی شروعات ہے ، جس کامقصد ملک میں سچی جمہوریت کاقیام،گائوں کو خود مختار اکائی میں بدلنا اور ایک ایسے پولٹیکل سسٹم کا قیام کرنا، جس میں ممبر ان پارلیمنٹ لوگوں کے تئیں سیدھے طور پر جوابدہ ہوں اور لوگوں کی خواہش کے مطابق سرکار ہو، تاکہ گائوں میں نہ کوئی بھوکا رہے نہ بے روزگار رہے، بلکہ سب مل کر ملک کو دنیا کے سب سے بڑے طاقتور ملک میں بدل سکیں ۔
انا ہزارے کی جن تنتر یاتراسپر فلاب ہوگی یا سپر ہٹ، یہ تو ملک کے عوام کی حمایت سے پتہ چلے گا، لیکن اس سچ سے آنکھیں نہیں پھیری جا سکتیں کہ ملک کی سیاسی پارٹیوں سے مثبت تبدیلی کی امید کرنا بے معنی ہے۔یہ نہ سدھریں گی اور نہ ہی حالات کو سدھانے کی کوشش کریں گی۔تو کیا ملک کے عوام جمہوریت کو چند خاندانوں کی کٹھ پتلی بنتے دیکھتے رہیں گے؟کیا اپنے بچوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیں گے؟کیا ملک میں بد عنوانوں کو من مانی کرنے دیں گے؟انا ہزارے نے جب بد عنوانی کے خلاف آندولن کیا تو اس کا اثر دکھائی دیا۔ انا اس مرتبہ سسٹم میں تبدیلی کے لئے آندولن کرنے نکلے ہیں۔ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کو روشن کرنے کے لئے یاترا کر رہے ہیں۔ ملک کے عوام کو پھر سے انا کا ساتھ دینا ہوگا ،کیونکہ انا ہزارے کی جن تنتر یاترا شاید اس ملک میں پُر امن طریقے سے تبدیلی کا آخری موقع ہے۔ یہ آخری موقع اس لئے ہے کیونکہ جمہوری نظام میں، عوام ہی بدلائو کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتے ہیں۔جو بدلائو ہونا ہے وہ اب ہونا ہے۔لوگوں کو سمجھنا پڑے گا کہ مرنے کے بعد کسی نے جنت نہیں دیکھی ہے، اس لئے یہ لڑائی ملک کے عوام کو آج اور ابھی لڑنی ہے۔ ابھی جاگنا ہے، ابھی بیدارہونا ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *