ملک کے وزیر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں

Share Article

کمل مرارکا 
سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق پھر سے ٹو جی اسپیکٹرم کی نیلامی ہو گئی ہے۔ جیسا کہ اندازہ لگایا جا رہا تھا، ٹھیک اسی طرح سرکار نے یہ دلیل دی ہے کہ اس بار کی نیلامی کے اچھے دام مل گئے ہیں اور سی اے جی کے ذریعے نقصان کی بات غلط تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ سرکار کی منشا کیا ہے اور اس سے وابستہ وزیر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا وہ لوگ 2008 یا 2009 کی لوٹ کو صحیح ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سی اے جی یا الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے بیکار ہیں اور کانگریس پارٹی ہی سب سے اوپر ہے، جو سب کچھ جانتی ہے۔ یہ کہنا تو بالکل غلط ہوگا کہ پچھلی بار ہوئی نیلامی میں کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ وقت کے مطابق بازار کی حالت بدلتی رہتی ہے۔ ہر وقت ایک جیسی حالت نہیں رہتی ہے۔ اس وقت سرکار اگر پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کا شیئر اس کی بازار قیمت سے کم قیمت پر بیچتی ہے، تو سپریم کورٹ اسے غلط مانے گا۔ ابھی بازار میں مندی ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ ابھی نیلامی میں پیسہ کم آئے گا۔ سرکار کوئی بنیا کی دکان نہیں ہے۔ یہ ایک آئینی ادارہ ہے۔ اسے آئین کے مطابق ہی چلنا چاہیے۔ آئین میں ریاست کی پالیسی طے کرنے والے اصولوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو سرکار کی سماج کے تئیں ذمہ داری طے کرتے ہیں۔ پانچ سالوں کے لیے سرکار منتخب کی جاتی ہے اور ان پانچ سالوں کے لیے وہ لوگوں کی ٹرسٹی ہوتی ہے۔ اس لیے سرکار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے مفادات کی حفاظت کرے اور اس بات کی گارنٹی دے کہ عوامی مفاد کے نام پر لیے گئے فیصلوں میں ایمانداری اور شفافیت برتی گئی ہے۔ سرکار ایسا کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح کی لوٹ کھسوٹ اس سرکار نے مچائی ہے، ویسی لوٹ کھسوٹ ہندوستانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ سی اے جی کی غلطیاں تو ایک طرح سے پیغام رساں کو گولی مارنا ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم یا پھر کول بلاک کی بندر بانٹ سے عوام اس طرح متاثر نہیں ہوتے، جیسے کہ ایل پی جی یا ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے ہوتے ہیں۔ کانگریس اس بات کو اچھی طرح جانتی ہے اور اسی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ تکنیک کا سہارا لے کر بھلے ہی کانگریس یہ کہے کہ سرکار کو نقصان نہیں ہوا، لیکن سچائی یہی ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ایک بہت بڑا گھوٹالہ ہے اور اسی طرح کا گھوٹالہ کول بلاک کی تقسیم کا بھی ہے۔ اگر بعد میں آپ کو پہلے والی قیمت نہیں ملتی ہے، تو اس سے آپ اپنے پہلے کیے گئے کاموں کو انصاف پر مبنی نہیں ٹھہرا سکتے ہیں۔ کچھ سالوں کے بعد قیمت دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ قیمت کا بڑھنا یا گھٹنا بازار کی حالت پر منحصر ہے۔ لیکن سرکار اس کا استعمال اپنی غلط پالیسیوں اور غلط انتظامات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے نہیں کر سکتی ہے۔ بہرحال، ملک کے بنیادی مسئلہ کو ابھی بھی سمجھا نہیں جا رہا ہے۔ میں یہ نہیں جانتا کہ یہ سرکار کچھ مہینے میں گر جاتی ہے یا پھر اپنی مدتِ کار پورا کرتی ہے، لیکن صحیح بات تو یہ ہے کہ عوام مہنگائی سے پریشان ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے سود کی شرح میں کٹوتی کرنے سے منع کر دیا ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر اس کے حل کے لیے وزیر خزانہ کے پاس جاتے ہیں، لیکن سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ عام لوگوں کو کس طرح سے بچایا جائے۔ سرکار کیسے لوگوں کو اس پریشانی سے باہر نکالے گی۔ مختلف مدعوں پر کمیٹیاں بنانے کے بدلے سرکار کو سب سے پہلے مہنگائی کو قابو میں کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانی چاہیے۔ وزیر خزانہ یا پھر وزیر اعظم کی قیادت میں ایک جی او ایم (گروپ آف منسٹرس) کی تشکیل کی جانی چاہیے، تاکہ اس بحران سے جلد از جلد باہر نکلا جا سکے۔ ابھی اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *