ملک کے لئے کب سوچیں گی سیاسی پارٹیاں؟

Share Article

سنتوش بھارتیہ
کانگریس کی انتخابی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں، کانگریس پورے بھروسے کے ساتھ یہ مان بیٹھی ہے کہ وہ تین سو سے زیادہ سیٹیں جیت رہی ہے۔ جب یہ کہتے ہیں کہ کانگریس جیت رہی ہے اورکانگریس مان بیٹھی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قیادت یعنی کانگریس کی صدر، قائم مقام صدر، جنرل سکریٹری یا 28اکبر روڈ کا پورا عملہ اس خیال پر یقین کئے بیٹھا ہے۔ دوسری طرف کانگریس کا کارکن تھوڑی پریشانی میں ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ شاید کانگریس اقتدار کے ہندسہ کے قریب تک بھی نہ پہنچ پائے۔ دراصل ، اس کے پیچھے اُس کے کارکنوں کی اپنی وجوہات ہیں۔ اہم وجہہے کانگریس کی تنظیم کاکمزور ہو جانا۔ کسی بھی صوبے میں کانگریس کی تنظیم کام نہیں کر رہی ہے۔ کانگریسی ممبران پارلیمنٹ کو کوئی بھی ذمہ داری نہیں دی گئی ، یہاں تک کہ کانگریس میں سماجی طبقوں سے رشتہ رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو بھی کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی۔ نتیجے کے طورپر وہ سبھی طبقے کانگریس سے دور کھڑے ہیں،جو بھارتیہ جنتا پارٹی کو پسند نہیں کرتے۔ عام لوگ بھی آج کانگریس سے دور کھڑے ہیں۔ کانگریس کے کارکنوں کا ماننا ہے کہتنظیم کے بے اثر ہو جانے کا اثر لوک سبھا کے چناؤ پر بہت زیادہ پڑنے والا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ کانگریسی قیادت اور 28اکبر روڈ میں بیٹھنے والے کانگریس کے عہدیدار اس کیبالکل برعکس سوچتے ہیں۔ اور اسی لئے وہ مانتے ہیں کہ سارے ملک میں مسلمانوں کے پاس کانگریس کو ووٹ دینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ مسلمان چاہے کتنا بھی اُبلیں اورکتنے بھی غصے سے آواز اٹھائیں، لیکن وہ بھارتیہ جنتا پارٹی یا کانگریس کے علاوہ کسی بھی پارٹی کو قومی سطح پر ووٹ نہیں دیں گے، کیونکہ اُن کے پاس اُنھیں ووٹ دینے کی کوئی مضبوط بنیادیا وجہ نہیں ہے۔
حالانکہ 28اکبر روڈ میں بیٹھنے والے کانگریس کے عہدیدار وں کا ماننا ہے کہ مسلم طبقہ کانگریس کو چھوڑکر کسی دیگر پارٹی کو ووٹ دے ہی نہیں سکتا۔ اور اسی لئے وہ مسلمانوں کے غصے کو بے تُکا غصہ مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو پتہ ہے کہ اگر وہ ووٹ نہیں دیں گے ، تو ان کا ووٹ کہیں گنتی میں نہیں آئے گا۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ مسلمان کتنا بھی شور کریں کہ انھیں یہ نہیں ملا، وہ نہیں ملا یا کانگریس نے اس وعدے کو نہیں نبھایا، اُس وعدے کو نہیں نبھایا، اس کے باوجود وہ کانگریس کے علاوہ ، کہیں بھی جانے والے نہیں ہیں، کیونکہ وہ کہیں بھی جا ہی نہیں سکتے۔اس ضمن میں وہ کئی اسباب گِناتے ہیں۔ ان کے پاس مسلم لیڈروں کی لمبی فہرست ہے اور ان کا ماننا ہے کہ کل 2کروڑ روپے خرچ کرکے ان سارے مسلم لیڈروں کی آواز بند کی جاسکتی ہے اور عام مسلم لیڈروں کی تو کوئی آواز ہوتی ہی نہیں ہے۔ 28اکبر روڈ میں بیٹھے کانگریسی لیڈروں کا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کیحلیفوں میں نریندر مودی کے تعلق سے جس طرح کے خدشات پیدا ہوئے ہیں، انھیں اگر تھوڑی سی بھی ہوا دیدی جائے ، تو بھارتیہ جنتا پارٹی کیحلیف اس سے دور بھاگ سکتے ہیں، جن میں پہلا نام وہ جنتا دل یونائٹیڈ کا لیتے ہیں۔ انھوں نے اس کی حمایت میںسر کار کے ذریعے چلی گئی پہلی چال پر بھروسہ جتایا ہے۔ ان لیڈروں کا ماننا ہے کہ جب ہم نے بہار کو خصوصی درجہ دینے کے لئے ضابطوں میں تبدیلی کی بات کہی، تب اس کا بہتمثبت ردعمل نتیش کیمپ میں دیکھنے کو ملا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی گھبرا گئی۔ ان لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ آخر میں ممتا بنرجی دوبارہ ان کے پاس آئیں گی۔ پورے ملک کی مکمل تصویر کو سامنے رکھتے ہوئے ان کا اندازہ بہت واضح ہے کہ کانگریس کے مقابلے کوئی ایک طاقت ہے ہی نہیں اور اسی لئے سارے مخالف ووٹ بٹ جائیں گے اور وہ 32 یا 33فیصد ووٹ لیکر سرکار بنا لیں گے، بلکہ اس سے بھی کم ووٹ لیکر وہ سرکار بنا سکتے ہیں۔
کانگریس کی اس سوچ میں کہیں بھی اس کے ذریعے کئے ہوئے کاموں کے اوپر ووٹ لینے کی حکمت عملی نہیں ہے، کانگریس کا ماننا ہے کہ چاہے جتنے بھی گھوٹالے ہوئے ہوں، ان کا اثر عوام کے اوپر نہیں ہونے والا، کیونکہ عوام اب گھوٹالوں کی خبروں کے عادی ہو گئے ہیں۔کانگریس کا یہ بھی ماننا ہے کہ مہنگائی، بدعنوانی اور بیروزگاری جیسے سوال اب زندگی سے جڑی کھانسی بخار کے طرح ہو گئے ہیں۔ دراصل، اب عوام ان کے اوپر ووٹ نہیںدیتے، اسی لئے اب کانگریس نے دو پالیسیاں بنائی ہیں۔ اب کانگریس راہل گاندھی کے منھ سے یہ کہلوائے گی کہ وہ ذات میں نہیں، ترقی میں یقین کرتی ہے، لیکن حقیقت میںوہ امیدوارکے انتخاب میں ذات برادری کا کھیل ضرور کھیلے گی۔ کانگریسی کارکن جب ان دلیلوں کو لوگوں کے غصے سے تولتا ہے، تو اسے لوگوں کا غصہ زیادہ بھاری لگتا ہے اور ایسے میں کانگریس کی سوچ ہلکی لگتی ہے۔ ہم نے کانگریس کے ایسے کارکنوں سے بات چیت کی، جن کے پاس بلیرو نہیں ہے، جو ٹھیکیدار نہیں ہیں، لیکن جوسچ مچ کانگریس کے روایتی ووٹر ہیں،نسل در نسل اس کے حامی رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریسی کارکن کا حوصلہ اور جوش تقریباً ختم سا ہو گیا ہے۔ اسی لئے وہ تھوڑا ڈرا اور سہما ہوا ہے۔ کانگریسی کارکنوںکے ڈرے سہمے ہونے کو 28اکبر روڈ کوئی اہمیت نہیں دیتا ہے۔ حالانکہ ، 28اکبر روڈ میں بیٹھے کانگریسی لیڈر یہ بھول گئے کہ اتر پردیش میں انھوں نے تنظیم کے بغیر انتخاب لڑنے کا خطرہ اٹھایاتھا، جو انھیں بھاری پڑ گیا تھا، لیکن لوک سبھا چناؤ میں بھی وہ اسی استعمال کو دہرانا چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ لوک سبھا میں لوگ مقامی بنیاد پر نہیں، بلکہ ملک کو سامنے رکھ کر ووٹ دیں گے اور اس معاملے میں انھیں اپنے مقابلے پورے ملک میں کوئیبھی ایک پارٹی نظر نہیں آتی۔ وہ اس بات کو بھی خارج کرتی ہے کہ اتر پردیش میں مایا وتی اور ملائم سنگھ ، بہار میں نتیش اور لالو یا بنگال میںممتا بنرجی لوک سبھا چناؤ میںان کی جیت کی توقعات پر کوئی اثر ڈال پائیں گے۔
کانگریس کی یہ سوچ کتنی صحیح ہے، یہ قاری طے کرے گا، کیونکہ کانگریس میں کارکن اور لیڈر الگ الگ ڈھنگ سے سوچ رہے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کا خیال بھی نریندر مودی کے سہارے چناؤ جیتنے کا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ اگر نریندر مودی لکھنؤ سے لوک سبھا کے امیدوار ہوتے ہیں، تو اسے اتر پردیش میں کم سے کم 40سیٹوں پر فتح حاصل ہو گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں سے یہ پوچھنے پر کہ تنظیم کے بغیر وہ کیسے فعال ہوں گے اور 40سیٹیں کیسے حاصل ہوں گی، تو ان کا ماننا ہے کہ نریندر مودی کے لکھنؤ سے چناؤ کا پرچہ بھرتے ہی سارے اتر پردیش میں جس طرح کا جوش پیدا ہوگا، وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنظیم کی کمی کو ختم  کر دے گا۔ نریندر مودی کا پرچۂ نامزدگی داخل کرنے سے اتنا جوش بھر جائے گا کہ اتر پردیش میں مسلمانوں کے علاوہ جتنی آبادی ہے، وہ سبھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی اور ایسے میں بھارتیہ جنتا پارٹی سے بچی ہوئی سیٹیں ہی مایا وتی یا ملائم سنگھ کو ملیں گی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑے لیڈر اسے صرف کہہ نہیں رہے ہیں، بلکہ اس پر یقین بھی کر رہے ہیں۔ اسی لئے انھوں نے ابھی تک اتر پردیش میں تنظیم نہیں بنائی اور بہار میں ایسی تنظیم بنائی کہ لات گھونسے چل رہے ہیں۔ ہماچل میں بھی وہ چناؤ ہار چکے ہیں اورراجستھان میں مجبوری میں انھیں وسندھرا راجے کو دوبارہ کمان سونپنی پڑی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا راجستھان میں اپر ہینڈ ہو گیا ہے۔وسندھرا راجے اگر اپنی انا پسندی اور اپنے سلوک پر تھوڑی لگام لگا لیں تو انھیں راجستھان میں تھوڑا فائدہ ہو سکتا ہے،لیکن راجستھان میں اشوک گہلوت نے پچھلے ایک سال میں جس طرح سے صحت کے شعبے میں کام کیا ہے، اس کا انھیں ہلکا سا فائدہ ملتا دکھائی دے رہا ہے۔
لیکن سوال ہندوستان کے لوگوں کا ہے۔ کیا ہندوستان کے لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کی اس ملی جُلی کشتی میں اہم سوالوں کو بھول سکتے ہیں؟ ایسا لگ رہا ہے کہ وہ بھول جائیں گے یا پھر ذات برادری اور مذہبی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔ پھرمقابلے میں ملائم سنگھ، نتیش کمار، رام ولاس پاسوان اور لالو یادو جیسے لوگ بھی کھڑے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان چاروں کے اصول ایک ہیں۔ کم سے کم کہنے کو تو چاروں کے اصول ایک ہیں، لیکن چاروں کے عمل الگ الگ ہیں۔ کوئی ایک دوسرے سے بات نہیں کرتا، کوئی عوام کی بھلائی کے لئے ہاتھ نہیں ملاتا۔ اتنا ہی نہیں، کہنے کو تو سبھی تیسرے مورچے کی بات کرتے ہیں، لیکن تیسرا مورچہ کوئی بناتا نہیں دکھائی دیتا۔ شاید یہ ہماری جمہوریت کے لئے سب سے بڑا مزاق ہے ۔ جو جمہوریت عوام کی بھلائی کے لئے مثالی نظام مانی جاتی ہے، وہی جمہوریت عوام کے خلاف بدعنوانی بڑھانے، مہنگائی بڑھانے، بیروزگاری بڑھانے اور جرائم بڑھانے کے کام آرہی ہے۔ کیا ہماری سیاسی جماعتیں ان سارے سوالوں پر سوچنے کا وقت نکال پائیں گی؟ پر امید کرنی چاہئے کہ شاید کبھی کوئی انہی کے بیچ میں سے کھڑا ہو اور ان سوالوں کے اوپر سوچنا شروع کرے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *