ملک کام کے طریقہ کار میں تبدیلی چاہتا ہے

Share Article

سال 2015 گزرچکا ہے او رجب ہم ملک کی اقتصادی حالت کو دیکھتے ہیں، تو بڑی حیرانی ہوتی ہے۔ کابینہ بدلنے سے سرکاریں بدلتی ہیں،یہ صرف کہا جاتا ہے۔ دراصل سرکا رکا مطلب نوکرشاہی ہوتا ہے اور ہماری نوکر شاہی ، سیاسی قیادت کو پریشان کرتی ہے۔ پریشان اس معنی میں کرتی ہے کہ نہ اسے عوام کی فکر ہوتی ہے اور نہ اس سیاسی پارٹی کی،جس کے تحت وہ کام کرتی ہے۔ وہ اپنے ڈھنگ سے چلتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک قرض کے بوجھ تلے دبتا چلا جاتا ہے۔ یہیں پر موجودہ سرکار کا سوال آتا ہے۔ اگر وزیرخزانہ اچھاہو، تووہ ان چیزوں کے اوپر دباو¿ بنا سکتا ہے۔ اگر وزیر خزانہ اچھا نہ ہو یا اسے مالیاتی معاملات کی جانکاری کم ہو یا اس کے پاس وزارت خزانہ دیکھنے کا وقت نہ ہو یا وہ ماہرین نہ رکھ پائے یا پھر جن سوالوں کے جواب لینے چاہئیں، انھیںنہ لے پائے، تو مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔
یہ ساری باتیں میںاس لےے اٹھا رہا ہوں، کیونکہ ہمار ے ملک نے 400 کروڑ روپے بیکار میں غیر ملکی بینکوں یا سرکاروں کو اس لےے ادا کےے ہیں، کیونکہ اس نے لی ہوئی اقتصادی مدد کو استعمال نہیں کیا۔ کمٹمنٹ چارج کے طور پر 400 کروڑ روپے سے زیادہ اس سرکارنے سوکھے سوکھے غیر ملکی بینکوں اور سرکاروں کو ادا کیے ہیں۔سرکار غیر ملکی بینکوں سے اقتصادی مدد لیتی ہے، ان کاموں کے لےے، جن کا ملک کے لوگوں سے رشتہ ہوتا ہے ۔ میرے پاس کچھ اعداد وشمار ہیں، جنھیںمیں آپ کے ساتھ اس لےے شیئر کرنا چاہتا ہوں، تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ سرکار جو پیسہ لیتی ہے، اسے خرچ نہیں کرپاتی اور اسے یہ بھی پتہ نہیںچلتا کہ اس کے پاس پیسہ پڑا ہے او ر منصو بے زیر التوا ہیں ۔ دراصل لال فیتہ شاہی کے سبب پیسہ ان منصوبوں میںخرچ نہیں ہوپاتا۔ہمارے ملک کے اوپر 3.66لاکھ کروڑ روپے کا قرض ہے۔ یہ وہ قرض ہے ،جو ملک کے ترقیاتی کاموں کے لےے غیر ملکوں سے لیا گیا ۔ اس کا 65 فیصد حصہ یعنی تقریباً 2.37 لاکھ کروڑ روپے (اَن یوٹیلائزڈ منی یعنی جو رقم استعمال نہیں ہوئی) کمٹمنٹ چارج ہمیں دیناپڑا ہے۔ پیسہ ہم نے لیا، لیکن اس کا استعمال نہیںکیا۔پیسہ بھی واپس گیا،الٹے 2.37 لاکھ کروڑ روپے ہمیں بطور جرمانہ، پینالٹی ادا کرنے پڑے۔ یہ سرکار گزشتہ سرکاروں سے اچھی ہوگی،ترقی کے کام کرے گی اورمنصوبوں کے اوپر عمل کرے گی، ایسا ہمیںاندازہ تھا۔ گزشتہ سرکار نے 1,400 کروڑ روپے صرف کمٹمنٹ چارج کے طور پر ادا کےے۔ یعنی جورقم اس نے لی ترقیاتی کاموں کے لےے قرض کے طور پر، اس کا استعمال ہی نہیںکیا گیا۔ وہ رقم واپس گئی او ر 1400 کروڑ روپے الگ سے ادا کرنے پڑے۔
اب میںآپ کو اس سرکار کے بارے میںکچھ کمال کی بات بتاتاہوں۔شہری ترقی کی وزارت 33 ہزار 700 کروڑ روپے استعمال نہیں کرپائی، جوہری توانائی کی وزارت 31 ہزار 300 کروڑ روپے استعمال نہیں کرپائی، روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ منسٹری 29 ہزار 500 کروڑ روپے استعمال نہیںکر پائی اور ریلوے منسٹری 25 ہزار 100 کروڑ روپے استعمال نہیں کرپائی۔ آبی وسائل کی وزارت ، جو گزشتہ ڈیڑھ سال سے آب پاشی اور پینے کے پانی کی فراہمی کو لے کر ایک بڑ ی مہم چلا رہی ہے، وہ14 ہزار 900 کروڑ روپے استعمال نہیںکرپائی۔یعنی کل دو لاکھ37 ہزار 12 کروڑ روپے ہماری سرکار خرچ نہیںکرپائی۔ اس رقم پر ہمیںجو کمٹمنٹ چارج ادا کرنا پڑا،و ہ سب پیسہ آخر کس کا ہے؟ وہ آپ کا او رہمارا یعنی ملک کا پیسہ ہے۔ یہ المیہ نہیں، تو پھر کیا ہے کہ ہم اپنے غریب ملک میںترقی کی رفتار تیز کرنے کے لےے قرض لیتے ہیں، لیکن اسے ترقیاتی کاموں میںخرچ نہیںکرپاتے۔ یہ سارے کے سارے اعداد وشمار او رپوائنٹ ہندوستان کے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میںسامنے آئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آڈیٹراینڈ کنٹرولر جنرل رپورٹ نہ دے، جسے ہم سی اے جی یا کیگ کہتے ہیں، تو ہمیںپتہ بھی نہ چلے کہ ہماری نوکر شاہی ، مختلف وزارتیں اور وزارت خزانہ کیا کرپائی اور کیا نہ کرپائی۔آپ خود سوچئے، آپ کی جیب میںقرض کا پیسہ ہے، وہ پیسہ خرچ نہ ہو او راوپر سے آپ کو بطور پینالٹی اضافی پیسہ دینا پڑے کہ ہم قرض کا پیسہ خرچ نہیںکرپائے، تو پھر آپ کا گھر کیسے چلے گا؟ اسی ماشاءاللہ ڈھنگ سے، لاپرواہ ڈھنگ سے ملک چل رہا ہے۔ ہمارا ملک لاپرواہ ہے،اس کی فکر اپوزیشن کو بھی نہیں ہے،کیونکہ پوری پارلیمنٹ کے سیشن ختم ہوگئے، میںنے نہ کسی ٹیلی ویژن چینل پر بحث میںاس سوال کو سنا اور نہ کسی اپوزیشن لیڈر کی فکر کو سنا۔یہی نہیں، نوکر شاہی اس کو دبانے کے لےے پوری طرح تیار ہے اور وزیروں کو سیاسی جملہ باز ی ،سیاسی بحث بازی اور اِدھر اُدھر گھومنے سے فرصت نہیںہے۔ایسے ملک کا کیا ہوسکتا ہے؟ ایسا ملک غریبی میںہی رہے گا، کیونکہ غریبی سے لڑنے کے جتنے طریقے ہوسکتے ہیں،ان کا استعمال نہیںہورہا ہے۔روزگار پیدا کرنے کے جتنے طریقے ہوسکتے ہیں، ان کاستعما ل نہیںہورہا ہے۔ کیا اسے بڑے اقتصادی جرم کے درجہ میںنہ رکھا جائے؟ کیا جو ذمہ دار لوگ ہیں، ان سے سوال نہ پوچھے جائیں؟ اب سوال یہ ہے کہ ملک میںذمہ دار لوگ کون ہیں؟ کوئی سکریٹری ،کوئی وزارت اور کئی وزیر کسی بھی نقصان کا ذمہ دار نہیںہے۔
وزیر اعظم صاحب کو کام کرنے میںتبدیلی کرنی چاہےے۔ اگر کوئی دو سالوں سے وزیر خزانہ ہے، وزارت خزانہ کے سکریٹری ہیں، جن کے اوپر خرچ کی ذمہ داری ہے، ان کے اوپر اگر ذمہ داری طے نہیںہوتی ہے، تو اس کاہلی پر روک آخر کیسے لگے گی؟ اسے روکنے کے لےے نہایت ضروری ہے کہ سرکار فوری طور پر کام کرنے کا طریقہ بدلے، ذمہ داریاں طے ہوں اور ذمہ داریاںطے ہونے کے بعد انھیںسزا ملے، جو ان سارے لیپسیس کے ذمہ دار ہیں یعنی جن کی وجہ سے قرض کا پیسہ ترقیاتی کاموں میںخرچ نہیںہوسکا اور ملک کو نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر چاہے وہ وزیر خزانہ ہو،مالیاتی سکریٹری ہو، مختلف وزارتوںکے سکریٹری ہوںیا مختلف وزارتوں کے وزیر۔ہماری جیب کا پیسہ الٹے غیر ملک میںچلا جائے اور ہمارے لےے آیا پیسہ خرچ نہ ہوپائے،وہ بھی واپس چلاجائے،عجب حال ہے۔ آپ کونہیںلگتا کہ ملک میںاندھیر نگری چوپٹ راجہ،ٹکا سیر بھاجی ٹکا سیر کھاجا، والی کہاوت ثابت ہورہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی سے۔۔۔
2015 گزرنے کے ساتھ اچھے دنوںکے تصور کاخیر مقدم کرتے ہوئے کم سے کم جس بر ے دن کو آپ کی سرکاردکھارہی ہے، اپنی کاہلی کی وجہ سے اور اپنی چوک کی وجہ سے ، اس پر آپ سے اتنی تو درخواست کی جاسکتی ہے کہ آپ کام کے طریقہ کار میںتھوڑی تبدیلی کریں۔ پالیسیاںوغیرہ الگ چیزہیں، لیکن کم سے کم اتنا تو ضرور دیکھیں کہ جو غریبوںکا ،ٹیکس ادا کرنے والوں کا پیسہ ہے، وہ غیر ملکوںکوصرف اس لےے نہ دیا جائے، کیونکہ ہم نے قرض لیا تھا، جسے ہم استعما ل نہیںکرپائے، اس لےے او رزیادہ پیسہ ملاکر آپ کو واپس دے رہے ہیں۔ کیونکہ ، تب اس کا ریٹ آف انٹریسٹ بازار کے ریٹ آف انٹریسٹ سے بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔وزیر اعظم صاحب ، تھوڑا سوچئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *