ملک کے غداروں کے چہرے سے نقاب ہٹایئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
فوج  کا یہ پورا قصہ گزشتہ تین ماہ سے چل رہا ہے اور لگاتار الگ الگ طرح کے الزام، چاہے میڈیا ہو یا پارلیمنٹ کے اراکین ہوں، لگاتے آ رہے ہیں۔ وہ الزامات ہیں جنرل وی کے سنگھ پر۔ الزام یہ ہے کہ ہر چیز جنرل وی کے سنگھ نے ایک حکمت عملی کے تحت کی۔ خلاصے بھی انہوں نے کیے، خطوط بھی انہوں نے لکھے، دہلی پر قبضہ کرنے کی کوشش بھی انہوں نے کی۔ یہ حقیقت میں قبضہ کرنے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ ایک تو چیزوں پر دباؤ بنانے کی کوشش تھی اور دوسری کوشش تھی کہ اگر ان کی برخاستگی کی بات ہندوستانی سرکار کررہی ہے تو وہ ڈر جائے۔ یہ ساری دلیلیں اتنی گھناؤنی اور کھوکھلی ہیں کہ ہر دلیل اپنے بوجھ سے خود ہی ٹوٹنے والی تھی اور وہ ٹوٹ گئی، کیوں کہ ملک میں کسی کو یہ بھروسہ نہیں ہے کہ جنرل وی کے سنگھ اگر خطوط کو لیک کریں گے تو انہیں کیا فائدہ ہوگا۔ جنرل وی کے سنگھ کو اگر اقتدار پر قابض ہونا ہوتا تو اس کے لیے آگرہ اور حسار سے ٹروپس بلانے کی ضرورت نہیں تھی، دہلی میں ہی ہزاروں جوان ہیں۔ فوج میں حکم پر کام ہوتا ہے اور اگر کوئی مغرور جنرل ہو، غیر جمہوری جنرل ہو تو وہ آسانی کے ساتھ ملک پر قبضہ کر سکتا ہے، بشرطیکہ ایئرفورس اور نیوی اس کا ساتھ دے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تب یہ کہانیاں کیوں پھیلائی گئیں؟ اس کی تہہ میں جانا بہت ضروری ہے، کیوں کہ اگر ہم اس کی تہہ میں نہیں جائیں گے اور یہ پتہ نہیں لگائیں گے کہ کس نے اس کام کو انجام دیا تو ملک میں بہت سارے شک پیدا ہوں گے اور ہر وہ آدمی شک کے دائرے میں ہوگا، جو یا تو اس ملک سے محبت کرتا ہے یا جس کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس گروپ کی تلاش کی جائے، جس نے اس ملک میں وہ ساری کانس پریسی کی اور اس کانس پریسی کے، سازش کے پیچھے کی وجہ کو بھی تلاش کیا جائے۔
گزشتہ 5 اپریل کو میں زیادہ تر ٹی وی چینل دیکھ رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ پہلی بار نہ صرف فوج کے پرانے آفیسر، بلکہ میڈیا کے لوگ بھی کھل کر سامنے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کوئی ایک گروپ ہے، جو ملک میں انارکی کی حالت پیدا کرنا چاہ رہا ہے، کنفیوژن کی صورتِ حال پیدا کرنا چاہ رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں، اس انارکی اور کنفیوژن سے ملک میں فوج کی عزت تباہ کرنا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں ہی فوج کی عزت تباہ ہوگی، بلکہ فوج کی عزت بین الاقوامی سطح پر تباہ ہوگی۔ اس گروپ نے جان بوجھ کر یہ ماحول بنا دیا کہ اب اگر بنگلہ دیش بھی چاہے تو ہمیں آنکھیں دکھا سکتا ہے۔ اس گروپ کی پہچان ضروری ہے۔ جنرل وی کے سنگھ خط لیک کیوں کرتے۔ اگر لیک کرتے تو پہلے کے 6-7 خطوط بھی لیک کرتے، جو انہوں نے وزیر اعظم کو لکھے تھے۔ وزیر اعظم نے ان خطوط کے اوپر ایکشن کیوں نہیں لیا پچھلے 8 مہینوں میں، یہ سوچنے کی بات ہے۔ ان خطوط کو لکھنے کے باوجود وزیر اعظم نے، کیوں کہ جوائنٹ سکریٹری اور سکریٹریز کی تقرری کا اختیار انہی کے پاس ہے، یا وزیر اعظم کے دفتر نے 6 مہینے تک جوائنٹ سکریٹری وزارتِ دفاع کو نہیں دیا۔ ڈیفنس محکمہ کا جوائنٹ سکریٹری بہت اہم کڑی ہوتا ہے، جو پہلے دور میں فائلوں کو کلیئر کرتا ہے۔ 106 فائلیں اس مالی سال میں اس کے پاس پڑی رہیں، کیوں کہ وزارتِ دفاع میں کوئی جوائنٹ سکریٹری 6 مہینے تک تھا ہی نہیں۔ یہ فائلیں ایک آنے والے جوائنٹ سکریٹری کے انتظار میں پڑی رہیں۔ جس ملک کی فوج کا حال اتنا خراب ہو، اس کے تئیں پوری ہندوستانی حکومت کا رخ چونکانے والا ہے۔ اب یہ وجہیں کافی ہیں، شاید اس نتیجہ پر پہنچنے کے لیے کہ ہمارے سسٹم کے اندر کہیں کوئی ایسی طاقت ہے، جو فوج کو کمزور بنائے رکھنا چاہتی ہے۔ اگر جنرل وی کے سنگھ کے اوپر اس کا الزام جاتا ہے تو نہ وہ پہلی نظر میں ثابت ہوتا ہے اور نہ اس کے لیے کوئی ثبوت ہے، کیوں کہ جنرل وی کے سنگھ نے آرمی چیف بنتے ہی وزیر اعظم کو فوج کی اس کمزور حالت سے باخبر کرا دیا تھا۔ انہوں نے بہت سارے موقعوں پر فوج میں بہت سے اہم کام کیے، جس کی وجہ سے وہ ویسٹیڈ انٹریسٹ، جو فوج کے پیسوں سے اپنی جیبیں بھر رہا تھا، وہ گروپ ناراض ہو گیا۔ اس نے نہ صرف جنرل وی کے سنگھ کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی، بلکہ ہندوستانی فوج کی حالت بھی خراب کرنے کی کوشش کی۔
اگر ڈیفنس سکریٹری، وزیر دفاع یا وزیر اعظم 16 اور 17 جنوری کی رات کے واقعہ سے ڈرے ہوئے یا فکرمند ہوتے تو جنرل وی کے سنگھ اب تک نہ صرف برخاست ہو چکے ہوتے، بلکہ وہ جیل میں بھی ہوتے اور ان کے اوپر کورٹ مارشل قانون کے تحت فوج مقدمہ چلا رہی ہوتی۔ لیکن چونکہ اس میں کوئی دم نہیں تھا، کوئی حقیقت نہیں تھی اور یہ فوج کی روٹین ایکسرسائز تھی، اس لیے وی کے سنگھ شان کے ساتھ آج بھی آرمی چیف بنے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات اور چھینٹا کشی کے باوجود، ہماری خبر کے مطابق، فوج کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں اور لگاتار ان کی بات اب وزیر دفاع اور وزیر اعظم سے ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب ایک اور بھی نکلتا ہے کہ وزیر دفاع اور وزیر اعظم اس کھیل میں شامل نہیں ہیں، لیکن وزیر دفاع کے دفتر اور وزیر اعظم کے دفتر میں کوئی ایسی ٹیم ہے، جو ان لوگوں کے رابطے میں ہے، جو ملک کے خلاف غیر ملکی طاقتوں کے حق میں ماحول بنا رہے ہیں۔ اس کے چھوٹے موٹے ثبوت ہم اور دیکھ سکتے ہیں۔ وزیر خزانہ کے دفتر میں جاسوسی ہوتی ہے۔ 21 یا 22 جگہوں پر مائکروفون چیوئنگم سے چپکے ملتے ہیں اور بعد میں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ کسی چپراسی نے چیوئنگم لگائے۔ کتنے چپراسی وزیر خزانہ کے دفتر میں کام کرتے ہیں اور کتنے سالوں سے کام کرتے ہیں، جنہیں یہ تمیز نہیں ہے کہ دیوار میں چیوئنگم نہیں لگانا چاہیے۔ بات ٹال دی گئی اور اس کی تہہ میں جانے کی کوشش نہیں ہوئی اور اگر ہوئی تو کسی کو نہیں پتہ، کیوں کہ ہم نے کافی کھوج بین کی کہ جانچ کا نتیجہ کیا نکلا۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک مخالف گروپ اتنا طاقتور ہے کہ وزارتِ خزانہ میں جاسوسی کے واقعہ کی جانچ کو بھی دبا سکتا ہے۔
دوسری بات، وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کو نہایت رازداری کے تحت ذاتی طور پر ایک خط لکھا۔ وہ خط وزیر اعظم کے دفتر سے لیک ہو گیا، اخباروں میں شائع ہوگیا اور ٹیلی ویژن پر آگیا۔ اس خط کے لیک ہونے کی جانچ ہونی چاہیے۔ کہا بھی گیا کہ جانچ ہوگی، لیکن وہ گروپ، جو ملک کو بدنام کر رہا ہے، اتنا طاقتور ہے کہ اس نے اس جانچ کو بھی نہیں ہونے دیا۔ تیسری چیز، اب جب کہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کے دفتر سے ان کے ذریعے وزیر اعظم کو لکھے گئے خط لیک نہیں ہوئے ہیں، تو صرف دو ہی جگہوں پر نظریں جاتی ہیں یعنی جہاں خط گئے، وزیر اعظم کے دفتر اور وزیر دفاع کے دفتر۔ وہ گروپ اتنا طاقتور ہے کہ اس نے وزیر اعظم کے دفتر اور وزیر دفاع کے دفتر کے خلاف ہونے والی جانچ رکوا دی، وہ جانچ وہیں کی وہیں رک گئی۔ اتنا طاقتور گروپ! اور اب ایک اخبار یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی خبر پر قائم ہے۔ اخبار کو کہنا بھی چاہیے، کیوں کہ کبھی کبھی جرنلزم میں ہٹھ دھرمی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہم جس صحافت کو جانتے ہیں یا جس صحافت کو خود اس اخبار کے ایڈیٹر کرتے رہے، وہ یہ صحافت نہیں ہے، جو اَب یہ اخبار کر رہا ہے۔ یہ اخبار ایک غلط چیز کو سو بار جھوٹ بول کر سچ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم غرور سے تو نہیں، لیکن مؤدبانہ یہ کہتے ہیں کہ ہم صحافت کے ایسے اصولوں پر ایڈیٹر صاحب سے اخبار کے ذریعے بھی اور سرعام بھی بحث کے لیے تیار ہیں اور بحث کا مدعا یہ ہونا چاہیے کہ اس صحافت نے کسے نقصان پہنچایا، جنرل وی کے سنگھ کو یا ملک کی سیکورٹی کو۔
ہم نے جنرل وی کے سنگھ کو تھوڑے دنوں کے لیے ایک الزام کی سیاہی میں لپٹا ہوا دیکھا، لیکن وہ سیاہی چھنٹی او رہم نے دیکھا کہ ہمارے پاس ایک ایماندار جنرل ہے، جس نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی۔ اس آدمی پر کتنا بھی الزام لگانے کی کوشش ہو، لیکن چونکہ کوئی بھی غلطی اس نے نہیں کی تو کوئی بھی الزام اس پر لگ ہی نہیں پایا، چپک ہی نہیں پایا۔ الزاموں کی سیاہی چھنٹ گئی۔ اب ایک اہم بات۔ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ اس ملک میں ایماندار آدمی پر سارے بے ایمان مل کر حملہ کر دیتے ہیں۔ ہم نے اس شمارہ کی لیڈ اسٹوری میں بتایا ہے کہ کس طرح کے بے ایمان اکٹھے ہو کر ایک ایماندار آدمی کو قتل کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ ایک دلیل اور ہم آپ سے بانٹنا چاہتے ہیں۔ اگر جنرل وی کے سنگھ پر ایک چھوٹا سا بھی داغ ہوتا تو اب تک یہ پاورفل ویسٹیڈ انٹریسٹ کی لابی نہ صرف انہیں آرمی چیف کے عہدہ سے ہٹا چکی ہوتی، بلکہ ان کی جانچ بھی کرا چکی ہوتی۔ اس واقعہ سے ایک بڑی چیز ہمارے سامنے آئی۔ اب فوج میں اُن لوگوں کا مورال، ان لوگوں کا سر نیچا نہیں ہوگا، جو فوج میں ایمانداری سے کام کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ شروع میں فوج میں کام کر رہے ایک فوجی کی بیوی نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا اور یہ واقعہ میری شادی سے پہلے ہو گیا ہوتا تو میں آرمی آفیسر سے شادی نہیں کرتی، کیوں کہ فوج میں ایماندار لوگوں کی ضرورت نہیں ہے، بے ایمان لوگوں کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اُس بے ایمانی کے سسٹم میں فٹ ہو جاتے ہیں تو آپ پوری طرح محفوظ ہیں، سب سے زیادہ خوش حال ہیں، آپ کے پاس بڑے بڑے گھر بھی ہیں، آپ کے پاس مرسیڈیز ای- کلاس ہے، بھلے ہی آپ کی تنخواہ 40 سے 70 ہزار روپے کے درمیان ہو۔ آپ کے پاس 70 لاکھ کی مرسیڈیز ای- کلاس کہاں سے آئی اور آپ اس میں بیٹھ کر گھوم رہے ہیں۔
میں یہ امید کرنا چاہتا ہوں کہ سرکار اس پوری حالت کو صاف کرے گی اور پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس جب دوبارہ شروع ہوگا تو وہ ان سوالوں پر ایماندار جواب دے کر ملک کے شہریوں کے ذہن سے شبہات کو دور کرے گی اور اس طاقتور گروپ کو پہچاننے میں عوام کی مدد کرے گی، جس نے ملک کی عزت دنیا میں کم کی ہے۔ میں ایک بات اور کہہ دوں کہ جنرل وی کے سنگھ کی تشویش فوج کی کمزور ہوئی حالت کو لے کر ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندوستان کی فوج کمزور ہے۔ ہندوستانی فوج کے پاس آج بھی ایسے ایسے اسلحے ہیں، جن کی بدولت وہ دشمن کے جدید ترین اسلحوں کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ ہمارے پاس دماغ ہے، حوصلہ ہے، ہمت ہے اور ہماری فوج کے اندر ملک پر قربان ہونے کا جذبہ ہے۔ یہ جذبہ ہمارے کسی بھی پڑوسی ملک کی فوج میں نہیں ہے۔ اس لیے جب جب چھوٹی چھوٹی مڈبھیڑیں ہوتی ہیں یا بڑی لڑائی ہوتی ہے تو ہم بہت فخر کے ساتھ اس میں فاتح ہو کر نکلتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی فوج کو ماڈرن نہ بنائیں، جدید ترین ہتھیار نہ دیں۔ ہم سال میں ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ بھی کریں ہتھیاروں پر، لیکن فوج کو ہتھیار ہم پرانا دیں اور اس پر بڑا بڑا کمیشن کھا لیں۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم اور وزیر دفاع کو اپنی آخری سانس تک کوشش کرنی چاہیے، تاکہ یہ ملک یا اس ملک کے لیے لکھی جانے والی تاریخ مستقبل میں اس بات کے لیے آپ کو قصوروار نہ ٹھہرائے کہ سب کچھ آپ کو معلوم ہوگیا تھا، اس کے باوجود آپ نے ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلنا چاہا، جو اس ملک کی عزت کو داؤ پر لگانا چاہتے ہیں، اس ملک کی عظمت، شان کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں اور اس ملک کے ایک ارب سے زیادہ لوگوں کی گاڑھی کمائی کا پیسہ ہڑپ کر لینا چاہتے ہیں۔ آخر میں ہندوستان کے وزیر اعظم، وزیر دفاع اور پارلیمنٹ سے درخواست ہے کہ اس طاقتور گروپ کو پہچاننے میں وہ اپنی طاقت لگائیں اور اسے ملک کے لوگوں کے سامنے لائیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *