ملک کے بھگوڑوں کے سامنے حکومت بے بس کیوں

Share Article

ششی شیکھر

برطانوی شہری ہانا فوسٹر کی عصمت دری اور قتل کے ملزم منندر پال سنگھ کوہلی کو برطانیہ میں اپنے کیے کی سزا مل چکی ہے اور یہ اس لیے ممکن ہوسکا، کیوںکہ ہندوستان نے کوہلی کی حوالگی بغیر کسی ٹال مٹول کے کر دی تھی۔ گلشن کمار کے قتل کا ملزم ندیم جو برسوں سے برطانیہ میں مقیم ہے کی حوالگی آج تک ممکن نہیں ہوپائی۔ ایسے معاملات میںصرف ندیم ہی نہیں ہے بلکہ سیکڑوں ایسے نام ہیں۔ ممبئی بم دھماکوں کے متاثرین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا ہے۔ بوفورس کی گونج سے آج بھی اقتدار کے ایوان ہل جاتے ہیں۔ بھوپال گیس سانحہ کی بھینٹ چڑھے لوگوں کے رشتہ داروں کی آنکھیں اب بھی نم ہیں، لیکن داؤد ابراہیم، اوٹاویو قطروچی اور وارین اینڈرسن جیسے گنہگاروں کو اب تک عدالت کے دروازے تک نہیں پہنچایا جاسکا۔ یہ ایسے چند نام ہیں، جن کی سی بی آئی کو برسوں سے تلاش ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سی بی آئی کو ان کے ٹھکانے کا پتہ نہیں ہے یا ان کی حوالگی کے لیے وہ کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ گذشتہ کچھ سالوں کے دوران سی بی آئی نے11ملکوں سے 34 ہندوستانی مجرمین کی حوالگی کے لیے اپیل کی۔ اس کے علاوہ 5سال میں (2003-2007 کے دوران) ایسے مجرمین کی حوالگی کی کوششوں پر اس نے تقریباً 77لاکھ روپے خرچ کیے۔ پھر بھی تمام کوششیں بے نتیجہ رہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر سی بی آئی کی مذکورہ تمام کوششیں ناکام کیوں ہوجاتی ہیں؟ کیا ملک میں سیاسی قوت ارادی کی کمی ہے؟ کیا حقیقتاً ہماری حکومت انہیں پکڑنا ہی نہیں چاہتی؟ یا پھر سی بی آئی کی ساری کوششیں آدھے ادھورے من سے کی جا رہی ہیں یا اس ملک کے قانون میں ہی کوئی کمی ہے؟ ہندوستان کے ان بھگوڑوں سے متعلق جو دستاویز چوتھی دنیا کو ملی ہیں، ان سے سی بی آئی کے ذریعہ کی جارہی حوالگی کی کوششوں، ان پر خرچ کی جارہی کثیر رقم اور ان کے نتائج کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ ان دستاویزات میں درج اطلاعات کے تجزیہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حوالگی کے نام پر عام آدمی کی گاڑھی کمائی کا ایک بڑا حصہ جو عوام سے ٹیکس کے طور پر وصول کیا جاتا ہے، حوالگی کی کوششوں پر کیسے خرچ کیا جارہا ہے۔
مثال کے طور پر 2003-2007کے دوران سی بی آئی صرف 4کامیاب حوالگی کرا پائی ہے، جن میں خاص طور پر ابوسلیم اور مونیکا بیدی شامل ہیں۔ سی بی آئی سے موصول دستاویز کے مطابق ان 4کامیاب حوالگیوںپر تقریباً 4کروڑ روپے خرچ کر دیے گئے۔ وہیں ابو سلیم کے وکیل اروندر شکلا سی بی آئی کے ان اعداد و شمار کو نامکمل مانتے ہیں۔ شکلا کہتے ہیں کہ سلیم کی حوالگی کے سلسلہ میں سی بی آئی کے بڑے افسران سے میری کئی بار بات ہوئی ہے، جس میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ سلیم کی حوالگی پر 10کروڑ روپے سے بھی زیادہ کا خرچ آیا ہے۔ سی بی آئی کے اس شاہانہ خرچ اور پوری قواعد کا نتیجہ کیا نکلا۔ مونیکا بیدی ضمانت پر رہا ہوچکی ہیں اور سلیم کا معاملہ عدالت میں زیر التواہے۔ نتیجہ کیا ہوگا، کچھ کہا نہیں جاسکتا، لیکن اتنا طے ہے کہ پہلے حوالگی اور اب سزا دلانے کے نام پر عام آدمی کی محنت کی کمائی ایسے ہی اڑائی جاتی رہے گی۔ حوالگی کے اس کھیل کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، جو سی بی آئی اور مرکزی سرکار کی نیت اور منشا پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ ایک طرف تو سلیم کی خودسپردگی کی کوششوں پر کروڑوں روپے بہا دیے گئے، وہیں دوسری طرف سلیم کے ہی آقا اور ممبئی بم دھماکوں کے ملزم داؤد ابراہیم کی حوالگی کے لیے سرکاری طور پر اب تک نہ کوئی کوشش کی گئی اور نہ ہی ایک پیسہ خرچ کیا گیا۔ یہ اطلاع خود ممبئی میںواقع سی بی آئی اورایس ٹی ایف کے دفتر نے آر ٹی آئی کے تحت پوچھے گئے سوال کے جواب میں دی ہے، حالانکہ سی بی آئی اور سرکار دونوں اس سچائی کو قبول کرتی رہی ہیں کہ داؤد پاکستان میں روپوشہے۔ این ڈی اے کے دور اقتدار میں بھی اس وقت کے وزیرداخلہ لال کرشن اڈوانی نے پاکستان کو مطلوبہ لوگوں کی ایک فہرست سونپی تھی، جس میں ایک نام داؤد کا بھی تھا۔ اس ایشو پر سی بی آئی کا دفاع کرتے ہوئے سابق سی بی آئی ڈائریکٹر جوگندر سنگھ کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ہندوستان کا کوئی حوالگی معاہدہ  نہیں ہے، اس لیے ہم پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ڈال سکتے، لیکن داؤد کی حوالگی کے لیے سی بی آئی اور حکومت وقتاً فوقتاًکوششیں کرتی رہی ہیں۔ اختیاری طور پر کی جارہی کوششوں میں بھی پیسہ خرچ ہوتا ہے پھر بھی حکومت یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہے کہ داؤد کی حوالگی کے لیے کتنا پیسہ بہایا جاچکا ہے۔
اس کی ایک بہترین مثال بوفورس معاملہ کی ہے۔ سی بی آئی کی دستاویزوں کے مطابق اس معاملے میں اہم ملزم اوٹاویو قطروچی کو ہندوستان لانے کے نام پر 2002سے لے کر 2007کے درمیان سی بی آئی نے 75لاکھ روپے خرچ کیے۔ اس کے علاوہ سی بی آئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ معاملہ کئی سال سے چل رہا ہے، اس لیے اتنے سالوں میں خرچ کی گئی رقم کا حساب اس کے پاس نہیں ہے۔ بہرحال ان 75لاکھ روپیوں میں سے 40لاکھ صرف 2007میں ارجنٹینا میں جب قطروچی کی حوالگی کے لیے سی بی آئی ٹیم وہاں پہنچی تھی خرچ کئے تھے۔ یہ رقم وکیلوں، دستاویزوں کے ترجمے اور سفر وغیرہ کی مدوں میں خرچ ہوئی تھی، لیکن اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی کیا ہوا؟ قطروچی سی بی آئی کی آنکھوں کے سامنے غائب ہوگیا اور وہ ہاتھ ملتی رہ گئی۔ تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ کہ سی بی آئی کے ذریعہ کی جارہی تمام کاوشیں اور تگ ودو محض دکھاوے کے لئے کی جارہی ہیں۔یا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ حوالگی سے متعلق تمام معاملات میں سی بی آئی کو سیاسی دباؤ میں کام کرنا پڑتا ہے؟ ظاہر ہے سی بی آئی کے لئے ان سوالوں کا جواب دینا اتنا ہی مشکل ہے جتنی کسی مجرم کی حوالگی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *