ڈاکٹر منیش کمار
آم بہت ہی ذائقہ دار پھل ہے۔یہ جب کچا ہوتا ہے تو ہم نمک کے ساتھ اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور جب یہ پک جاتا ہے تو یہ میٹھا ہو جاتا ہے، تو اور زیادہ کھانے لائق ہو جاتا ہے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آم قدرتی طریقے سے بڑھتا ہے۔اب یہ ہم پر منحصر کرتا ہے کہ ہم اسے کچا کھائیں، اچار بنائیں یا پھر پکنے کا انتظار کریں۔آم ہر حال میں ذائقہ دار ہوتا ہے۔ اگر اسی آم کو ہم چھوڑ دیں تو یہ سڑنے لگ جائے گا، اس کا ذائقہ ختم ہو جائے گا، یہ بیماری پھیلانے والا بن جائے گا۔ کوئی بھی نظام اسی تھیوری پر چلتا ہے۔کسی نظام کے سڑنے کا مطلب ہے اندرونی اختلافات پیدا ہونا۔ ملک میں پھیلی بدعنوانی کی سلطنت میں اندرونی خلفشار پیدا ہونے لگا ہے۔ اب یہ پورا نظام سڑنے لگا ہے، اس لیے یہ ٹوٹنے اور بکھرنے لگا ہے۔ جو لوگ پہلے مل جل کر ملک کو لوٹ رہے تھے آج آپس میں لڑ رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک عدالت دوسری عدالت کو بدعنوان بتا رہی ہے، ایک سیاسی جماعت دوسری جماعت کو گھوٹالے باز بتا رہی ہے۔ صنعتکار ایک دوسرے کو جعل ساز بتا رہے ہیں، ایک افسر دوسرے افسر کے حوالے سے انکشاف کر رہا ہے،میڈیا بھی اس سڑن سے بدبو دار ہو رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں، حکومتیں، عدالتیں، بیوروکریسی، میڈیا، صنعتکار یا پھر فلمی ستارے سب سڑ چکے ہیں۔ آم کے رس کا ذائقہ لینے والے، سرکاری نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے اب ایک دوسرے پر حملہ کر رہے ہیں ہر طرف چاقو نکل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے پانچ ماہ کے دوران ایک کے بعد ایک گھوٹالے سامنے آرہے ہیں۔
ہمارا سرکاری نظام کیسے چل رہا ہے،مرکز میں کام کاج کیسے ہوتا ہے؟ یہ کسی کابینی سکریٹری سے بہتر کون بتا سکتا ہے۔کابینی سکریٹری کو حکومت کی تمام تر سرگرمیوں اور حکومت کے ہر فیصلے کی جانکاری ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت کے ایسے ہی ایک کابینی سکریٹری ٹی ایس آر سبرامنیم رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ1970سے ہی ہمارے سرکاری سسٹم پر صنعت کاروں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ سابق کابینی سکریٹری کہتے ہیں کہ انہوں نے وزارت صنعت، وزارت تجارت، وزارت پٹرولیم، وزارت اسٹیل اور وزارت مواصلات کو کافی نزدیک سے دیکھا ہے۔ ان وزارتوں میں پیسہ کے بڑا کھیل ہوتا ہے۔ اس لیے صنعت کار شہد کی مکھی کی طرح پیسے کمانے والی وزارتوں میں گھومتے نظر آتے ہیں۔ سبرامنیم کہتے ہیں کہ جو لوگ حکومت سے جڑے ہیں، ان کے لیے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ صنعت کاروں کی کمائی نہ کارخانوں، نہ ریسرچ لیباریٹری اور نہ ہی بازار سے ہوتی ہے۔ صنعت کار دہلی کی وزارتوں میں اپنا پیسہ بناتے ہیں اور یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے۔ گزشتہ پانچ سال کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ پچھلے تیس سے زیادہ سالوں سے چل رہا ہے۔ سبرامنیم آگے کہتے ہیں کہ جب بھی گھوٹالہ ہوتا ہے تو سیاسی لیڈروں اور نوکر شاہوں کا نام سامنے آتا ہے، لیکن تالی بجانے کے لیے دوسرے ہاتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دوسرا ہاتھ ہمیشہ بڑے بڑے صنعت کاروں کا ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے۔ سبرامنیم کہتے ہیں کہ زیادہ تر ممبران پارلیمنٹ کا رشتہ ملک کے بڑے بڑے صنعت کاروں سے ہے، جو ان کے فائدے کے لیے اصول و قوانین میں پھیر بدل کرتے ہیں یا پھر ان کے لیے لابنگ کرتے ہیں۔ یہ کون نہیں جانتا ہے کہ وزارتوں میں سکریٹریوں کی تقرری صنعت کاروں کے ذریعہ طے کی جاتی ہے؟ یہ بات ہر انسائڈر کو پتہ ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی نیا پٹرولیم سکریٹری آتا ہے تو اسے کون بنواتا ہے؟ کس کے کہنے پر ٹیکسٹائل سکریٹری بنایا جاتا ہے؟ سب لوگ مل جل کر پورے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔
2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ایک اشارہ ہے۔ اس گھوٹالے نے پہلی بار سرکار اور صنعت کاروں کے گٹھ جوڑ کو لوگوں کے سامنے رکھا ہے۔ ملک کو ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے کا نقصان تو ہوا، لیکن اس گھوٹالے سے ملک کو یہ فائدہ ہوا ہے کہ ہمارا سرکاری سسٹم کتنا سڑ چکا ہے، یہ سامنے آگیا ہے۔ دو صنعت کار آپس میں دست و گریباں ہوگئے۔ ایک ٹاٹا گروپ کے رتن ٹاٹا اور دوسرے راجیو چندر شیکھر جو ایک صنعت کار ہیں۔ ساتھ ہی راجیہ سبھا کے ممبر بھی ہیں۔ دونوں کی لڑائی سے یہ بات سامنے آئی کہ کس طرح صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے حکومت کی پالیسی بنتی اور بگڑتی ہے۔ چندر شیکھر نے یہ الزام لگایا کہ اے راجا کے گھوٹالے سے رتن ٹاٹا کو فائدہ ہوا تو رتن ٹاٹا نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کے دوران سب سے زیادہ بے ضابطگی ہوئی۔ دونوں نے ایک دوسرے پر حکومتی پالیسی کو بدلنے یا اس سے فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا۔ سچائی ملک کے عوام کے سامنے آگئی کہ نہ تو رتن ٹاٹا سنت ہیں اور نہ ہی چندر شیکھر۔ ہر صنعت کار جسے جہاں موقع ملتا ہے، لیڈر اور افسروں کے ساتھ مل کر قوانین میں پھیر بدل کرتا ہے اور منافع کماتا ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ میں ہم نے 4مہینے پہلے ہی یہ شائع کیا تھا کہ رتن ٹاٹا، امبانی، اے راجا، نیرارا ڈیا اور ملک کے بڑے بڑے صحافیوں کے درمیان کیا رشتے ہیں۔ وزارتوں میں چل رہی بدعنوانی کا مایا جال جب اختلاف میں پھنس جاتا ہے تو بات سامنے آجاتی ہے۔ بدعنوانی کی یہ ایک ایسی تصویر ہے، جس میں صنعت کار منافع کمانے کے لیے گاہکوں کے پاس نہیں، بلکہ وزارت میں بیٹھے وزیروں اور افسران کے پاس جاتے ہیں۔ اصول و قوانین میں تبدیلی کرتے ہیں اور بیٹھے بٹھائے کروڑوں کما لیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی لوٹ ہے، جہاں گھر میں ڈاکہ بھی پڑجاتا ہے اور گھر والے کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ بدعنوانی کا یہ سسٹم کئی سالوں سے ہمارے ملک کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ 2جی گھوٹالہ یا دیگر گھوٹالوں کے سامنے آنے سے عوام کو اس سوال کا جواب مل گیا ہے کہ کیوں سرکاری پالیسیوں کا فائدہ صرف گنے چنے ایک فیصد لوگوں کو ہی ہوتا ہے اور باقی کے 99فیصد لوگ ان پالیسیوں کے دائرے سے باہر رہتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ مہینے یہ کہا ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ میں گندگی آگئی ہے۔ کچھ سڑ چکا ہے۔ یہ تبصرہ 26نومبر کو سپریم کورٹ نے اترپردیش کے بہرائچ ضلع میں وقف کی ایک زمین کے معاملے میں سنوائی کے دوران کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ میں کچھ گڑبڑ ہے اور وہاں ’انکل جج‘ـ کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوا ہے، جسے روکا جانا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کچھ ججوں کی فیملی کے ممبران اور نزدیکی رشتہ دار وہیں پر وکالت کر رہے ہیںاو ر وکالت شروع کرنے کے کچھ سالوں میں ججوں کے بیٹے اور رشتہ داروکیل کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔ ان کے پاس بڑا بینک بیلنس، لگژری کار، بنگلہ آجاتا ہے۔ وہ عیش کی زندگی جینے لگتے ہیں۔ ہمیں دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے کچھ ججوں کی ایمانداری پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں اور ہمیں اس کی شکایتیں مل رہی ہیں۔
سپریم کورٹ کے اس تبصرہ سے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں دو طرح کے رد عمل سامنے آئے۔ بار ایسوسی ایشن نے اس کا استقبال کیا اور سپریم کورٹ سے اسے روکنے کے لیے آگے آنے کو کہا۔ وہیں ہائی کورٹ کے ججوں نے اس مسئلے کو رجسٹرار کے ذریعہ اس تبصرہ کو ہٹانے کی سپریم کورٹ سے اپیل کی۔ سنوائی کے دوران سپریم کورٹ کا رد عمل اور بھی سخت نظر آیا۔ سپریم کورٹ نے الٰہ آباد کورٹ کی پیروی کر رہے وکیل سے کہا کہ یہ وقت رد عمل ظاہر کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اپنے اندر جھانکنے کا بھی ہے۔ جسٹس کاٹجو نے کہا کہ آپ یہ سب مت بتائیے، میں اور میرا خاندان گزشتہ سالوں سے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے جڑا ہوا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ کون بدعنوان ہے اور کون ایماندار، اس لیے آپ یہ سب مت بتائیے۔ جسٹس کاٹجو اتنے پر ہی نہیں رکے، انہوں نے کہا کہ کل اگر مارکنڈے کاٹجو رشوت لینا شروع کردیں تو سارا ملک یہ جان جائے گا، اس لیے آپ مجھے مت بتائیے کہ کون ایماندار ہے اور کون بدعنوان۔ سپریم کورٹ نے جو سب سے اہم بیان دیا وہ یہ تھا کہ عام لوگوں کے بارے میں یہ سب مت بتائیے، وہ بہت سمجھ دار ہیں۔ ہندوستان کے لوگوں کو بیوقوف مت سمجھئے۔ یہاں بھی انتظامیہ میں پھیلی اختلافی مزاحمت سامنے آنے لگی ہے۔ آم سڑنے لگا ہے، یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ ایک ہائی کورٹ کے خلاف ایسا تبصرہ کر رہا ہے۔ اگر یہ نہیں رکا تو سپریم کورٹ کے ایک جج دوسرے جج کے خلاف بولنے لگیںگے۔ غور کرنے والی بات یہی ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک طرح سے صاف صاف کہہ دیا کہ جو لوگ سرکاری کرسی پر بیٹھ کر بدعنوانی پھیلاتے ہیں، وہ ملک کے عوام کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔
حالیہ گھوٹالوں سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ہندوستانی پارلیمنٹ بدعنوانوں اور گھوٹالے بازوں کی پناہ گاہ بن چکی ہے۔ ہر گھوٹالے میں وزیر اور ممبرپارلیمنٹ کا نام آجاتا ہے۔ پہلے آدرش گھوٹالہ پھر 2جی اسپیکٹرم معاملہ میں بی جے پی نے جے پی سی کا مطالبہ کیا، لیکن خود ہی پھنس گئی، جب کرناٹک کے وزیراعلیٰ یدیورپا کا نام زمین گھوٹالے میں سامنے آیا۔ 2جی گھوٹالے پر سرکاری کی حالت نازک ہونے لگی تو 2001 سے جانچ کا اعلان کردیا۔ بی جے پی بیک فٹ پر آگئی۔ پارلیمنٹ میں جو ہورہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے نمائندے جو کچھ کر رہے ہیں، وہ سیاست ہے۔ ملک کے عوام تو یہ چاہتے ہیں کہ آزادی کے بعد جتنے گھوٹالے ہوئے ہیں، ان سب کی جانچ ہو۔ ان سب گنہگاروں کو جیل بھیجا جائے، لیکن سیاست اور بدعنوانی کے اس انوکھے اتحاد میں عوام کی خواہش کو کس کو پرواہ ہے؟ اچھی بات یہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی دوسرے کو گھوٹالے باز ثابت کرنے میں لگی ہے۔ یہ بدعنوانی میں ہوئے خلفشار کا نتیجہ ہے کہ سب بے نقاب ہو رہے ہیں۔
منموہن سنگھ کی پالیسیوں نے ترقی کا فارمولہ دیا تھا۔ حکومت کے کام کاج کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ کمپنیوں کو سماجی ترقی کی ذمہ داری دی تھی۔ اسے ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کہتے ہیں۔ حال کے دنوں میں ہوئے گھوٹالے، چاہے وہ آئی پی ایل ہو، کامن ویلتھ گیمز کا گھوٹالہ ہو یا پھر 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ہو، یہ سب گھوٹالے سرکاری افسران کے ساتھ مل کر پرائیویٹ کمپنیوں نے انجام دیے۔ ترقی کے وہ حمایتی کہاں ہیں؟ وہ کہتے تھے کہ سرکار کے کاموں میں نجی کمپنیوں کے آنے سے ملک سے بدعنوانی کم ہوجائے گی۔ ترقی کے سارے مسیحا ان گھوٹالوں پر چپ ہیں۔ اب ملک کے عوام کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ بھروسہ کرنے کے لائق کون بچا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کے سبھی حصوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے عوام کا بھروسہ جیتیں۔ ہر سیاسی پارٹی کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بدعنوانی کے خلاف لوگوں میں غصہ ہے۔ یہ غصہ اگر سڑک پر آگیا تو یہ ملک کسی سے سنبھالے نہیں سنبھلے گا۔ ملک کے عوام نے بوفورس گھوٹالے کی وجہ سے کانگریس کی سرکار کو سزا دی تھی، آج جس سطح پر گھوٹالے ہو رہے ہیں، اس کے سامنے بوفورس گھوٹالہ بہت ہی چھوٹا ہے۔ جیسا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ وقت اپنے اندر جھانکنے کا ہے۔ حال میں تین بڑے گھوٹالے ہوئے ہیں۔ کامن ویلتھ گیمز، آدرش اور 2جی اسپیکٹرم۔ ملک کی حکومت، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے سامنے چنوتی ہے۔ ان تینوں گھوٹالوں میں جو بھی افسران، لیڈران صنعتکار یا وزیر شامل ہیں۔ان کے خلاف کارروائی ہو۔ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو دودھ کا دودھ پانی کا پانی نہ کر سکیں۔ ایسے ایماندار لوگوں کو ساری فائلیں ساری اختیارات دیے جائیں۔ان کیسو ں پر سپریم کورٹ دن رات سنوائی کرے تاکہ تین ماہ کے اندر ملک کے عوام کو یہ پتہ چل سکے کہ ان گھوٹالوں کے پیچھے کون کون لوگ تھے۔ گنہگاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے تبھی یہ سرکاری نظام ملک کے عوام کا بھروسہ حاصل کر پائے گا۔ بدعنوانی کے خلاف لڑائی شروع ہو سکے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here