ملک کا اصل مالک کون، سیاسی پارٹیاں یا عوام ؟

Share Article

سنتوش بھارتیہ 

انّا ہزارے نے یہ سوال صحیح اٹھایا ہے کہ ملک کا اصل مالک کون ہے — سیاسی پارٹیاں یا عوام؟ یہ سوال اہم اور بنیادی ہے، کیوں کہ آئین ہند میں عوام کی نمائندگی کی بات ہے اور سیاسی پارٹی کا کہیں بھی ذکر ہی نہیں ہے۔

Mastانا ہزارے ملک میں سیاسی متبادل کی بات کرنے لگے ہیں۔ انا ہزارے نے اب یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے خلاف نہ صرف عوام کو بیدار کریں گے، بلکہ لوک سبھا کے الیکشن کے لیے ایسے امیدواروں کی حمایت بھی کریں گے، جن کا رشتہ سیاسی پارٹیوں سے نہیں ہے۔ تکنیکی طور پر یہ آزاد امیدوار ہوں گے، لیکن انا کا کہنا ہے کہ ان میں سے جسے عوام کھڑا کریں گے، اسے وہ جن تنتر کے لیے لڑنے والا امیدوار مانیں گے۔ لیکن اس کے لیے ان کی کچھ اور شرطیں ہیں، جن کے بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے، پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ انا کے رخ میں تبدیلی آئی کیسے؟

انّا نے 16-18 سال کی محنت کے بعد جو کامیابی حاصل کی، دراصل اَنّا اسے بڑھا کر پورے ملک میں لاگو کرنا چاہتے تھے اور ان کے دماغ میں یہ خواب ہمیشہ گھومتا رہتا تھا کہ اس ملک کے لوگ ملک کے گاؤں کو بااختیار اور خود پر انحصار کرنے والا بنائیں۔ انّا کوگاندھی جی کے اسی اصول میں پورا اعتماد تھا، لیکن انا کے ساتھیوں میں، جن میں اروِند کجریوال، پرشانت بھوشن اور کرن بیدی سمیت سارے کور کمیٹی کے ممبران تھے، کسی نے انا سے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ انّا سماج کو تبدیل کرنے کا جو تانا بانا آپ کے دماغ میں ہے، وہ کیسا ہے؟ اور چونکہ انہوں نے جاننے کی کوشش نہیں کی اور انّا شاید ان کے دماغ کو پڑھ رہے تھے اور یہ سمجھ چکے تھے کہ ان کے دماغ میں صرف ایک قانون ہے اور اُس قانون کو ہی یہ اپنی آخری حصولیابی مان رہے ہیں، اس لیے انّا نے اگر کبھی چھوٹی موٹی کوئی کوشش کی اپنے بنیادی مقصد کو سمجھنے کی، تو اِنہوں نے اسے سنا ہی نہیں اور نہ ہی ان کے اشاروں کو سمجھا۔ انّا زیادہ تر وقت رالے گن سدھی میں رہے۔

دراصل، انا ہزارے نے 2011 میں جب بدعنوانی کے خلاف رام لیلا میدان میں اَنشن کیا تھا، تب انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ملک کے عوام بدعنوانی کے خلاف ان کے ساتھ اس قدر کھڑے ہو جائیں گے۔ اگر انہیں بھروسہ ہوتا، تو وہ ملک کے لوگوں سے ان کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے۔ انا نے اپنی زندگی کو داؤ پر لگایا اور سرکار سے جن لوک پال قانون بنانے کی مانگ کی۔ اس سے پہلے انا سرکار سے کئی بار بات چیت کر چکے تھے۔ وزیروں سے ان کی باتیں ہو چکی تھیں۔ وزیروں نے انہیں یقین دلایا تھا، لیکن بعد میں انا کو ہر جگہ سے دھوکہ ملا اور سرکار کے وزیروں اور سیاسی پارٹیوں نے اچانک پلٹی کھائی اور انہوں نے انا کو جن لوک پال بل پر تنہا چھوڑ دیا۔ انا نے تھک ہار کر فیصلہ کیا کہ وہ بے میعادی بھوک ہڑتال کریں گے۔ جب اَنشن پر بیٹھنے کے لیے وہ لوک نائک جے پرکاش نارائن پارک جا رہے تھے، وہاں جانے سے پہلے ہی پولس نے انہیں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ پولس انہیں جج کے پاس لے گئی، جہاں انہیں لگ بھگ سات دن کی سزا سنائی گئی۔ مشکل سے انہوں نے جیل میں دو گھنٹے ہی گزارے ہوں گے کہ جیل کے آفیسر آئے اور ان سے کہا کہ انا آپ باہر جا سکتے ہیں، آپ کی سزا معاف ہو گئی۔ انا نے کہا کہ ’’ارے! ایسے کیسے سزا معاف ہو گئی ؟ ابھی تو مجھے سزا سنائی گئی ہے اور ابھی جیل میں آئے مجھے تین گھنٹے بھی نہیں گزرے ہیں۔‘‘ افسروں نے کہا کہ ’نہیں، آپ کی سزا معاف ہو گئی ہے‘۔ انا نے کہا کہ ’نہیں، میں ابھی جیل سے باہر نہیں جاؤں گا اور میں پوری سزا کاٹ کر ہی یہاں سے نکلوں گا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’عدالت کو میں بنیا کی دکان نہیں سمجھتا کہ جہاں، جب، جیسی مرضی ہو خریدار کے حساب سے اپنی قیمتوں کو اوپر نیچے کر لو‘۔ جیل کے آفیسر چلے گئے اور کچھ دیر بعد واپس لوٹ کر بولے کہ جیل کے آئی جی نے انہیں بلایا ہے۔ انا جب آئی جی سے ملنے پہنچے، تو انہوں نے کہا کہ اب آپ جیل نہیں جا سکتے، کیوں کہ اب آپ جیل سے باہر آ گئے ہیں۔ انا نے کہا کہ اگر آپ بھی وہی برتاؤ کریں گے ، جیسا کچھ دیر پہلے آپ کے ماتحت افراد کر رہے تھے، تو میں آپ کے دفتر سے نہیں اٹھوں گا اور اس طرح انا تین دن تک آئی جی کے ہی دفتر میں بیٹھے رہے اور پھر یہیں سے شروع ہوا ملک کے لوگوں کا غصہ، ٹھیک ویسا ہی غصہ، جیسا کہ لوک نائک جے پرکاش نارائن کے سر پر پٹنہ کی سڑکوں پر لاٹھی سے حملہ کی تصویر دیکھتے ہوئے عوام کے من میں اٹھا تھا ۔۔۔ اور ملک لوک نائک کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا۔ وہی لمحہ دوبارہ آیا اور ایک بار ملک کو پھر سے لگا کہ 75 برس کے سماجی رہنما انا ہزارے کے ساتھ سرکار نے نا انصافی کی ہے، جس کے خلاف برہم ہو کر بہت بڑی تعداد میں لوگ تہاڑ جیل کے سامنے بیٹھ گئے۔ جیسے جیسے وقت گزرا، ویسے ویسے لوگوں کی بھیڑ تہاڑ جیل کے سامنے بڑھنے لگی۔ ملک بھر میں احتجاج ہونے لگا اور لوگوں کو لگا کہ ایک گاندھی وادی اور عوام کے حق کی بات کرنے والے شخص کے ساتھ کی جا رہی یہ بہت بڑی نا انصافی ہے۔
جب انا تین دن کے بعد جیل سے نکلے، تو لگ بھگ چار کلومیٹر لمبا جلوس ان کے ساتھ رام لیلا میدان کی طرف چلا۔ پہلے تو سرکار انا ہزارے کو رام لیلا میدان اَنشن کے لیے دینا ہی نہیں چاہتی تھی، لیکن انہی تین دنوں کے اندر رام لیلا میدان کو اَنشن کے لائق بنایا اور انا سیدھے رام لیلا میدان پہنچے اور اپنا اَنشن جاری رکھا۔ ٹیلی ویژن کے سامنے اس غصے کو دکھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، نہ ہی پرنٹ میڈیا کے پاس اس کے حق میں جانے کے علاوہ کوئی متبادل۔ ٹیلی ویژن نے اس واقعہ کو گھر گھر پہنچا دیا اور پورے ملک میں غصے کی ایک لہر پھیل گئی۔ رام لیلا میدان میں تقریر ہو رہی تھی، لیکن یہ غصہ صرف دہلی میں ہی مرکوز ہو، ایسا نہیں تھا۔ ملک کے الگ الگ حصوں میں جلسے جلوس ہو رہے تھے۔ جو عورتیں ان جلسوں میں نہیں جا پا رہی تھیں، وہ اپنے گلی محلوں میں پربھات پھیری نکال رہی تھیں۔ بچے ’انا ٹوپی‘ لگا کر ’میں بھی انا، تو بھی انا، سارا دیش ہے انا‘ کے نعرے لگارہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ رام لیلا میدان سے غصے کی جو گنگا نکلی، اس نے پورے ملک کو اپنے دائرے میں لے لیا۔
انا کے غصے سے شاید کم، لیکن ملک کے عوام کے غصے سے ڈر کر پارلیمنٹ بیٹھی اور ایک تجویز پاس کی۔ حالانکہ اس میٹنگ میں پچھلی میٹنگوں کی طرح ہی انّا پر کئی ممبرانِ پارلیمنٹ نے فقرہ کسا۔ سب سے سخت فقرہ لالو پرساد یادو کی طرف سے تھا۔ شرد یادو نے بھی اخلاقی زبان کا استعمال لوک سبھا میں نہیں کیا۔ لیکن متفقہ طور پر ایک رائے بنی اور جن لوک پال بل لوک سبھا میں پاس کرنے کا فیصلہ ہوا، جسے ’سینس آف ہاؤس‘، یعنی لوک سبھا کی مشترکہ رائے بتایا گیا۔ اگلے دن اُس تجویز کو لے کر وزیر اعظم کے خط کے ساتھ آنجہانی شری وِلاس راؤ دیش مکھ اپنے کچھ ساتھی ممبرانِ پارلیمنٹ کے ساتھ انّا سے ملنے پہنچے۔ انہوں نے انا ہزارے کو وزیر اعظم کا ایک خط اور لوک سبھا کی ’سینس آف ہاؤس‘ کی کاپی سونپی۔ انا ہزارے نے وِلاس راؤ دیش مکھ کے کہنے پر اپنا اَنشن توڑنا قبول کر لیا۔ اس سے پہلے ملک کے کئی مشہور و معروف لوگوں نے انا کا اَنشن ختم کروانے کی کوشش کی، جن میں شری شری روی شنکر اور بھیو جی مہاراج سرفہرست تھے۔ رشی کیش کے سوامی چیدانند بھی انا کا اَنشن تڑوانے گنگا جل لے کر پہنچے، لیکن انا نے مؤدبانہ طور پر سب کی اپیلوں کو نظر انداز کر دیا۔ پارلیمنٹ کے ’سینس آف ہاؤس‘ کی زبان دیکھ کر انا نے اپنا اَنشن ختم کر دیا۔
اَنشن کے بعد انا کچھ دنوں کے لیے گڑگاؤں کے میدانتا اسپتال میں داخل ہوئے، کیوں کہ ڈاکٹر نریش تریہان اَنشن کے دوران بھی ان کی صحت کی جانچ کر رہے تھے۔ کچھ دن اسپتال میں رہنے کے بعد انا اپنے آبائی مقام رالے گن سِدّھی چلے گئے۔
اس کے بعد ایک طرف سرکار نے انا کو اندیکھا کرنا شروع کیا، تو دوسری طرف انا کے ساتھیوں نے انا کی حمایت میں اٹھے اس عوامی سیلاب کو اپنے لیے اندھی حمایت تصور کر لیا اور انہوں نے مختلف ایشوز پر آپس میں بات چیت شروع کی، لیکن ان میں سے کسی نے بھی انا ہزارے کے دماغ میں سماجی تبدیلی کا نقشہ کیا ہے، اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ انا ہزارے نے اپنا اَنشن شروع کرنے سے کافی پہلے اپنے گاؤں کو بدلنے کی ایک جیتی جاگتی کوشش کی تھی۔ انا کا گاؤں صحیح معنوں میں ملک کا ایک مثالی گاؤں ہے۔ اس گاؤں میں پان، بیڑی، سگریٹ نہیں بیچے جاتے۔ 16 سال قبل جس گاؤں میں شراب کی 40 بھٹیاں تھیں، آج اُس گاؤں میں کوئی شراب نہیں پیتا۔ جس گاؤں میں لوگوں کے کھانے کے بھی لالے پڑے ہوئے تھے، آج اُس گاؤں سے روز 500 لیٹر دودھ باہر بھیجا جا رہا ہے۔ یہ ایک قحط زدہ گاؤں ہے۔ انا نے غذائی اجناس کو جمع کیا، گاؤں کے لوگوں کو تیار کیا اور مانسون نہ آنے سے جو گاؤں کبھی قحط زدہ علاقے میں شمار ہوتا تھا، آج وہاں تین فصلوں کے لیے پانی کا انتظام انا نے کرکے دکھایا ہے۔ انا کے گاؤں میں اُگی ہوئی سبزیاں بیرونی ممالک تک گئی ہیں۔
انا نے 16-18 سال کی محنت کے بعد جو کامیابی حاصل کی، دراصل اَنّا اسے بڑھا کر پورے ملک میں لاگو کرنا چاہتے تھے اور ان کے دماغ میں یہ خواب ہمیشہ گھومتا رہتا تھا کہ اس ملک کے لوگ ملک کے گاؤوں کو بااختیار اور خود پر انحصار کرنے والا بنائیں۔ انا کوگاندھی جی کے اسی اصول میں پورا اعتماد تھا، لیکن انا کے ساتھیوں میں، جن میں اروِند کجریوال، پرشانت بھوشن اور کرن بیدی سمیت سارے کور کمیٹی کے ممبران تھے، کسی نے انا سے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ انا سماج کو تبدیل کرنے کا جو تانا بانا آپ کے دماغ میں ہے، وہ کیسا ہے؟ اور چونکہ انہوں نے جاننے کی کوشش نہیں کی اور انا شاید ان کے دماغ کو پڑھ رہے تھے اور یہ سمجھ چکے تھے کہ ان کے دماغ میں صرف ایک قانون ہے اور اُس قانون کو ہی یہ اپنی آخری حصولیابی مان رہے ہیں، اس لیے انا نے اگر کبھی چھوٹی موٹی کوئی کوشش کی اپنے بنیادی مقصد کو سمجھنے کی، تو اِنہوں نے اسے سنا ہی نہیں اور نہ ہی ان کے اشاروں کو سمجھا۔ انا زیادہ تر وقت رالے گن سدھی میں رہے۔
اسی دوران جنتر منتر پر اروِند کجریوال نے اپنے ساتھیوں منیش سیسودیا اور گوپال رائے کے ساتھ اَنشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ انا اس فیصلہ سے متفق نہیں تھے، لیکن انہوں نے جب دہلی کے جنتر منتر پر اَنشن کرنا شروع کر دیا، تو انا رالے گن سدھی سے دہلی آئے اور انہوں نے ان کی حمایت میں اَنشن شروع کیا۔ ہماری جانکاری بتاتی ہے کہ اروِند کجریوال اور ان کے ساتھیوں نے الیکشن لڑنے یا سیاسی پارٹی بنانے کے بارے میں کبھی بات چیت نہیں کی۔ اگر بات چیت کی بھی ہوگی، تو ایسی زبان میں، جسے انا سمجھ نہیں پائے۔ جنرل وی کے سنگھ نے تقریباً 10 دنوں کے بعد سب کا اَنشن تڑوایا، لیکن جس دن اَنشن ٹوٹا، انا نے اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ عوام کو کوئی متبادل فراہم کرنا چاہیے اور انا کے دماغ میں اس متبادل پر غور کرنے کے لیے وقت دینا چاہیے تھا، لیکن اروِند کجریوال نے اُس اَنشن توڑنے والی میٹنگ میں ایک نئی پارٹی بنانے اور الیکشن لڑنے کا بھی اعلان کر دیا۔
یہاں سے انا اور ان کی پرانی ٹیم میں دراڑ دکھائی دینے لگی۔ انا ہزارے کے ساتھ اروِند کجریوال نے ایک بڑی میٹنگ رکھی، جس میں زیادہ تر انا کے ساتھ کام کرنے والے اور انہیں حمایت دینے والے لوگ شامل تھے۔ اس میں کئی چینلوں کے ایڈیٹر بھی شامل تھے۔ دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں دن بھر میٹنگ چلی اور سب نے الگ الگ رائے رکھی۔ اروِند کجریوال کا کہنا ہے کہ انا نے وہاں یہ کہا کہ میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا، میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ لیکن انا نے جو بھی وہاں کہا ہو یا جس نے بھی ان الفاظ کو ریکارڈ کیا ہو، اس کی حقیقت تو تبھی معلوم ہو سکے گی، جب وہ ریکارڈنگ سامنے آئے، لیکن انا نے تبھی یہ صاف کر دیا تھا کہ میرا نئی بننے والی پارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور یہ لوگ میری تصویر کا بھی استعمال نہیں کر سکتے۔ اسی دن شام ساڑھے سات بجے انا ہزارے، بابا رام دیو اور جنرل وی کے سنگھ کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اُس میٹنگ میں انا نے صاف کہا کہ عوام کے لیے کچھ کرنا چاہیے، جس کی حمایت بابا رام دیو اور جنرل وی کے سنگھ نے کی۔ اگلے دن انا واپس رالے گن سدھی چلے گئے۔ ملک میں یہ پیغام چلا گیا کہ انا ہزارے اب اپنے ساتھیوں اروِند کجریوال، پرشانت بھوشن اور منیش سیسودیا سے الگ ہو چکے ہیں۔ کرن بیدی پہلے اروِند کجریوال کے ساتھ تھیں، لیکن اس موقع پر انہوں نے اپنا ساتھ انا ہزارے کے ساتھ بنائے رکھا۔
کرن بیدی، سنیتا گودھارا اور راکیش رفیق سمیت کئی لوگ، جن میں سے کرن بیدی کے علاوہ یہ لوگ پہلے کبھی عام روشنی میں نہیں دکھائی دیے تھے، اچانک سامنے آ گئے۔ ان لوگوں نے انا ہزارے پر دباؤ بنایا کہ انا ایک نئی کور کمیٹی بنائیں۔ انا نے دہلی میں ایک میٹنگ کی، لیکن تب تک دو سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ ان کی دلیلوں سے پوری طرح سے متفق نہ ہوتے ہوئے بھی انا نے ایک کور کمیٹی بلانے کا فیصلہ لیا اور پریس کانفرنس بلائی۔ لیکن پتہ نہیں کیوں پریس کانفرنس سے پہلے انا ہزارے کو لگا کہ اگر وہ کور کمیٹی بنائیں گے، تو یہ کور کمیٹی بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گی، جو اروِند کجریوال والی کور کمیٹی نے کیا۔ اس لیے انہوں نے پوری احتیاط کے ساتھ اپنے الفاظ کا انتخاب پریس کانفرنس میں کیا اور ایک کام چلانے والی، جسے صلاح کار کمیٹی بھی کہہ سکتے ہیں، کا اعلان کیا۔ انا نے کور کمیٹی لفظ کا استعمال نہیں کیا۔ انا پھر رالے گن چلے گئے اور جانے سے پہلے رات میں انہوں نے جنرل وی کے سنگھ سے ملاقات کی اور جنرل سے انا نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جنرل سنگھ ان کی صلاح کار کمیٹی میں رہیں۔ جنرل وی کے سنگھ نے انا ہزارے سے کہا کہ میں آپ کے لیے سارا کام کروں گا، لیکن مجھے ابھی آپ اس صلاح کار کمیٹی میں خصوصی اِنوائٹی کے طور پر بھی مت رکھئے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کے لیے کام کروں گا، لیکن جب تک آپ اس کمیٹی کی خوبی و خامی کو نہ پرکھ لیں، تب تک آپ مجھے اس میں شامل ہونے کے لیے دباؤ نہ ڈالیں۔
شاید یہیں سے انا کے من میں اپنی صلاح کار کمیٹی کے ہر رکن کو لے کر شک پیدا ہو گیا۔ انا نے دیکھا کہ اروِند کجریوال کے ہٹنے کے بعد ان کے پاس جو ملنے جاتا تھا، وہ ایک دوسرے کی شکایت کرتا تھا۔ صلاح کار کمیٹی کے لوگ ایک دوسرے کی شکایت کرتے تھے۔ میٹنگ میں لوگ آپس میں لڑتے تھے اور یہ سب انا ہزارے کی آنکھوں کے سامنے ہوتا تھا۔ انا کا اعتماد اپنے ساتھیوں کے اوپر سے کم ہونے لگا اور انہوں نے اِس صلاح کار کمیٹی کی دوسری میٹنگ بلائی ہی نہیں۔ انا ملک میں گھومنا چاہتے تھے۔ جس طرح اروِند کجریوال اور ان کے ساتھیوں نے کبھی انا کے ملک میں گھومنے کا کوئی کارگر منصوبہ نہیں بنایا اور نہ ہی کبھی انا کے مستقبل کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اسی طرح اس صلاح کار کمیٹی نے بھی ملک کا دورہ کرنے کا نہ تو کوئی منصوبہ بنایا اور نہ ہی ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوئی کوشش کی۔ انا سب کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے اور انا سے جو بھی ملنے جاتا تھا، وہ اس کی باتوں کو سنتے تھے اور اپنی باتیں سماج کی تبدیلی سے متعلق ان کے سامنے رکھ دیتے تھے۔ لیکن جب وہ دیکھتے تھے کہ ان سے ملنے جانے والا باقی ساری باتیں کرتا ہے، لیکن سماج میں تبدیلی یا نظام میں تبدیلی کی بات نہیں کرتا، تو اس کو لے کر ان کے من میں ایک ڈر اور شک پیدا ہو جاتا تھا، اسی لیے انا دہلی بہت کم آئے۔ انہوں نے دہلی آنے کا راستہ ہی بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔
دریں اثنا، دسمبر 2012 میں انا کی ملاقات جنرل وی کے سنگھ اور ایک اخبار کے ایڈیٹر سے ہوئی۔ اسی ملاقات کے دوران انا نے 30 جنوری کو پٹنہ میں ریلی کرنے کی بات کی۔ اس دوران انا نے اپنے تمام ساتھیوں سے کہا تھا کہ 30 جنوری کو پٹنہ میں ریلی کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ کام کر رہے ان کی صلاح کار کمیٹی کے زیادہ تر اراکین نے اس کے اوپر زیادہ دھیان نہیں دیا اور جب انا نے اس خواہش کو دوبارہ ظاہر کیا، تو ان کے پاس آخری طور پر یہ پیغام گیا کہ وہاں پر دو دفتر بن گئے ہیں، دو گروپ بن گئے ہیں اور نیتا آپس میں لڑ رہے ہیں اور انا کے پاس آکر یا تو خطوط کے ذریعے یا ای میل کے ذریعے یہ لوگ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں۔ انا کا من اور ٹوٹ گیا۔ اس سے پہلے اروِند کجریوال اور پرشانت بھوشن یہ کہہ چکے تھے کہ انا کے پاس اُن کے پاس لوٹنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے اور یوگیندر یادو نے یہ عوامی بیان دیا تھا کہ انا ہزارے تین چار مہینوں میں ان کے پاس لوٹ آئیں گے۔ اِن لوگوں نے صحیح سوچا تھا، لیکن یہ لوگ انا کی قوتِ ارادی سے ناواقف تھے۔ بس یہی ان کی غلطی تھی۔ ان لوگوں نے سوچا کہ اگر ہم لوگ انا کو تنہا کر دیں گے، تو انا ان کے پاس لوٹ آئیں گے۔ لیکن انا جس پروسیس میں انا بنے ہیں، اس پروسیس نے انہیں مردِ آہن بنا دیا اور یہی غلطی انا کے نئے ساتھیوں نے کی۔ انہوں نے سوچا کہ جب ہم انا کا ساتھ نہیں دیں گے، تو انا جائیں گے کہاں۔ دراصل، ان کی صلاح کار کمیٹی میں ہر نیا آدمی اروِند کجریوال جیسی شہرت حاصل کرنا چاہتا تھا، لیکن وہیں انا اپنے لیے نظام میں تبدیلی کی لڑائی لڑنے والے ساتھیوں کی تلاش کر رہے تھے۔ اس درمیان انا کے پاس مہاراشٹر سے کئی سارے ساتھی آئے، لیکن انا کو لگا کہ کوئی بھی قومی فلک کے اوپر شاید کام نہ کر پائے، اس لیے انا رالے گن سدھی میں ہی جم کر بیٹھ گئے۔ جب ان کی جنرل وی کے سنگھ اور ایک اخبار کے ایڈیٹر سے ملاقات ہوئی، تو انا کو لگا کہ اب سماج میں تبدیلی کے ان کے خواب کو آگے لے جانے والے ساتھیوں کی تصویر صاف ہو رہی ہے۔ انہوں نے سماج میں تبدیلی کی اپنی جن جن باتوں کو رکھا، ان سے جنرل وی کے سنگھ اور اُن ایڈیٹر نے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ وہیں یہ طے ہوا کہ پٹنہ میں 30 جنوری کو ریلی کی جائے، جس میں انا جی جائیں گے۔
انا نے پھر ایک بار دھوکہ کھایا، کیوں کہ انا نے جنرل وی کے سنگھ اور اُن ایڈیٹر کو یہ صلاح دی کہ جتنے بھی یہ لگے ہوئے ساتھی ہیں، ان کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے اور ایمانداری سے یہ کوشش ہوئی کہ بہار میں جتنے بھی پرانے لوگ ہیں، جن میں سروودے کے پرانے ساتھی اور ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ کے لوگ شامل ہیں، ان سے رابطہ کیا جائے۔ سب لوگ آئے، سب نے بات چیت کی، تیاری کا فیصلہ کیا اور خوش خوش چلے گئے۔ انا کے پاس یہ پیغام گیا کہ سب لوگ مل کر انا کی ریلی کی تیاری کریں گے، لیکن تماشہ جنوری کی 15 تاریخ کو ہوا، جب جنرل وی کے سنگھ اور ایڈیٹر موصوف پٹنہ گئے، تو معلوم ہوا کہ وہاں کے لوگوں نے کوئی تیاری ہی نہیں کی ہے، نہ سروودے کے لوگوں نے اور نہ ہی انڈیا اگینسٹ کرپشن کے لوگوں نے، بلکہ ایسا کیا کیا جائے کہ انا پٹنہ نہ آئیں، اس منصوبہ پر کام ہو رہا تھا۔ ان لوگوں کو لگ رہا تھا کہ جنرل وی کے سنگھ اور ایڈیٹر موصوف نے انا کو ورغلا دیا ہے۔ انا اُس وقت رالے گن میں تھے اور پٹنہ میں تیاری کے نام پر صرف صفر تھا۔
یہاں سے نئے سرے سے تیاری ہوئی اور 14 دنوں کے بعد پٹنہ کے گاندھی میدان میں پونے دو لاکھ لوگوں کی ریلی ہوئی۔ اس ریلی کے لیے کل چار لاکھ روپے بھی نہیں خرچ ہوئے، بلکہ لوگ اپنے پیسے خرچ کرکے ریلی میں شامل ہوئے، جب کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نے اسی میدان میں اتنی ہی تعداد کے ساتھ کی گئی ریلی پر کروڑوں روپے خرچ کیے تھے۔
انا نے اس ریلی میں اعلان کیا کہ ان کا رشتہ انڈیا اگینسٹ کرپشن نام کی تنظیم کے ساتھ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے نام پر اب کوئی تنظیم نہیں چلے گی، بلکہ صرف ایک جانکاری دینے والی ویب سائٹ چلے گی، جس کا نام ’جوائن انا ہزارے‘ ہے۔ اس کے بعد انا نے ’جن تنتر مورچہ‘ نام کی ایک نئی تنظیم کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تنظیم رضاکاروں کی تنظیم ہوگی، اس میں کوئی بھی عہدیدار نہیں ہوگا اور یہ جن تنتر (عوامی جمہوریت) کے مطابق ہوگی اور میں ’جن تنتر‘ کے لیے لڑوں گا۔
30 جنوری کا دن انا کی زندگی اور ملک کی زندگی کا ایک اہم دن تھا۔ اس کے بعد پورے ملک میں گھومنے کی تیاری شروع ہوئی اور انا نے 30 مارچ سے پنجاب کے جلیاں والا باغ سے اپنی جن تنتر یاترا شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ پنجاب کے جلیاں والا باغ سے انا اپنے ساتھیوں کے ساتھ یاترا پر نکلے اور ہریانہ آتے آتے اور لوگوں سے بات چیت کرتے کرتے انا کو لگا کہ اس ملک میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ جیسے ہی وہ اتر پردیش کے نوئیڈا، میرٹھ، مظفر نگر ہوتے ہوئے دہرہ دون پہنچے، انا کے سامنے ایک نئی سچائی سے پردہ اٹھا۔ انا نے کئی کتابیں پڑھیں، کئی لوگوں سے باتیں کیں اور اب تک انہیں یہ معلوم ہو چلا تھا کہ یہ پورا ملک آئین کے خلاف چل رہا ہے۔ انا نے آئین کی کتابیں منگوائیں۔ آئین ساز اسمبلی میں کیا کیا ہوا، الیکشن کو لے کر آئین میں کیا کہا گیا ہے ، ان تمام چیزوں کی جانکاری انا نے اپنے ساتھ چلنے والے ساتھیوں سے مانگی اور ان سب کے مطالعہ کے بعد انا کو معلوم ہوا کہ آئین میں کہیں پر بھی سیاسی پارٹی یا Political Party لفظ ہے ہی نہیں۔ اس کے بعد انا نے یہ تلاش کرنا شروع کیا کہ پھر یہ پارٹیاں لوک سبھا میں پہنچیں کیسے، تب جاکر انہیں یہ معلوم ہوا کہ یہ پورا پارٹی سسٹم ہی ملک کے آئین کے خلاف ہے۔ آئین میں عوام کا ذکر ہے کہ وہ اپنے امیدوار کھڑا کریں گے۔ امیدوار منتخب ہو کر لوک سبھا میں جائیں گے، جہاں پر وہ اپنے انتخابی حلقہ اور ملک کے بارے میں بحث کریں گے، مسائل کو حل کریں گے اور قانون بنائیں گے۔ لوک سبھا کے اراکین کی اکثریت جس کے ساتھ ہوگی، وہ وزیر اعظم بنے گا اور وہ اپنے وزیروں کا انتخاب کرے گا۔ کہیں پر بھی پارٹیوں کا یا پارٹیوں کے اتحاد کا یا سب سے بڑی پارٹی کا لیڈر ہی وزیر اعظم بنے گا، اس کا ذکر ہے ہی نہیں۔ انا نے یہ بھی پایا کہ جب یہ آئین بنا تھا، تب سیاسی پارٹیوں کا وجود تھا، اس کے باوجود آئین بنانے والوں نے سیاسی پارٹی اور سیاسی پارٹیاں کیسی ہوں گی، کیسے کام کریں گی، اس بابت آئین میں کوئی ذکر ہی نہیں کیا ہے۔
اور تب انا کو لگا کہ اس ملک میں بنیادی تبدیلی تب تک نہیں آ سکتی، جب تک سیاسی پارٹیاں لوک سبھا میں رہیں گی۔ ساتھ ہی انا اس نتیجہ پر بھی پہنچے کہ اس ملک سے بدعنوانی اور مہنگائی جیسی مشکلیں تب تک ختم نہیں ہوں گی، جب تک کہ یہ پارٹیاں لوک سبھا میں رہیں گی۔ انا نے یہیں پر یہ بھی سمجھا کہ جہاں پہلے لاکھوں میں بدعنوانی ہوتی تھی، وہ بڑھتے بڑھتے کروڑوں میں ہونے لگی، پھر وہ پانچ ہزار کروڑ، دس ہزار کروڑ، پچاس ہزار کروڑ، ایک لاکھ کروڑ اور اب ایک لاکھ 76 کروڑ اور 26 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ جس رقم کو کلکولیٹر میں لکھ نہیں سکتے، اس رقم کی بدعنوانی پارٹیوں نے، سرکاروں نے مل کر کرنی شروع کردی اور جیسے ہی انا کو یہ پتہ چلا کہ اس بڑی بدعنوانی میں ہر پارٹی کا حصہ ہے، انا کی آنکھیں کھل گئیں اور انا نے کہنا شروع کر دیا کہ جب تک پارٹی سسٹم رہے گا، تب تک بدعنوانی ختم نہیں ہوگی۔ مہنگائی اور بے روزگاری جیسی مشکلیں ختم نہیں ہوں گی۔ انا نے پارٹی سسٹم کو ہی بدعنوانی کا، خراب ہیلتھ سسٹم کا اور خراب تعلیمی نظام کا ذمہ دار بتایا۔
انا نے ممبئی میں جنرل وی کے سنگھ کے ساتھ مل کر ایک پالیسی سے متعلق مسودہ جاری کیا تھا، جس کا عنوان تھا ’یہ پارلیمنٹ آئین مخالف ہے‘ کیوں کہ انا اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ پارلیمنٹ آئین میں دیے گئے عوامی فلاحی ریاست یا ویلفیئر اسٹیٹ کے تصور کے خلاف بازار پر مبنی قانون بنانے لگی ہے اور ملک کے لوگوں کی ذمہ داری اب اپنی ذمہ داری نہیں مان رہی ہے۔ دراصل، یہ آئین کی خلاف ورزی ہے، لیکن سرکار نے بغیر کچھ کہے ہوئے آئین کے بنیادی تصور کے خلاف ملک کو چلانا طے کیا اور قاعدے اور قانون بنانے شروع کیے۔ اس میں چندر شیکھر جی کے بعد جتنی سرکاریں ملک میں بنیں، سب نے حصہ لیا اور اس ملک کو ایک طرح سے بازار کے حوالے کر دیا۔
اس کے بعد انا نے ایک 25 نکاتی پروگرام بنایا۔ اس 25 نکاتی پروگرام کو لاگو کرنے کی مانگ انا نے تمام سیاسی پارٹیوں سے کی اور کہا کہ اس پر اپنا نظریہ واضح کریں، لیکن شریمتی سونیا گاندھی اور اکھلیش یادو کے علاوہ کسی بھی سیاسی لیڈر یا سیاسی پارٹی نے انا کے خط کا جواب نہیں دیا۔ سونیا گاندھی نے اپنے جواب میں چار لائن کے خط میں کہا کہ کانگریس ہمیشہ غریبوں کے لیے لڑتی رہی ہے اور اکھلیش یادو نے لکھا کہ ہم آپ کے خیالات کا خیر مقدم کرتے ہیں اور بدعنوانی کے خلاف آپ کی جدوجہد میں ہم ہمیشہ آپ کا ساتھ دیں گے۔ ان دو خطوط کے علاوہ کسی بھی پارٹی کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ حالانکہ دونوں خطوط میں انا کے 25 نکاتی پروگرام کے اوپر ایک لائن کا بھی ردِ عمل تحریر نہیں کیا گیا تھا۔
جب انا اِس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ یہ پارٹی سسٹم ملک کے ’جن تنتر‘ (عوامی جمہوریت) کے خلاف ہے، تو انہوں نے اِس پارٹی سسٹم سے لڑنے کا فیصلہ کیا اور ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ پارٹی سسٹم کے خلاف آزادی کی اِس دوسری لڑائی میں شامل ہوں۔ انا کو اتراکھنڈ میں اِن سوالوں کے جواب مل گئے کہ لوگ اس موضوع کو سمجھ بھی پائیں گے یا نہیں اور انا نے پایا کہ جتنے بھی بڑے دانشور ہیں، صحافی ہیں، ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ بغیر سیاسی پارٹیوں کے یہ ملک کیسے چلے گا، جب کہ عوام اتراکھنڈ میں یہ کہہ رہے تھے کہ پارٹیوں کو ہٹانا بہت ضروری ہے، ورنہ ملک سے بدعنوانی ختم نہیں ہوگی۔
انا اتراکھنڈ کی یاترا ختم کرکے دہلی آئے اور انہوں نے مشہور ماہر قانون سبھاش کشیپ سے ملاقات کی۔ سبھاش کشیپ نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ آئین میں سیاسی پارٹیوں کا ذکر نہیں ہے، لیکن اتنے دنوں سے سیاسی پارٹیوں کا نظام چلا آ رہا ہے، تو اب سیاسی پارٹیوں کے بغیر ملک کیسے چلے گا۔ انا نے باہر نکل کر اپنے من میں مصمم ارادہ کر لیا کہ یہ سوال سیاسی بھی ہے اور آئینی بھی، اور چونکہ آئین میں سیاسی پارٹیوں کا ذکر نہیں ہے، اس لیے وہ اس سوال کے اوپر پارٹیوں سے لڑیں گے۔
انا نے پورے ملک میں پارٹیوں کے خلاف آئین کی دُہائی دے کر ایک لڑائی شروع کر دی۔ یہیں پر اَنا کے سیاسی متبادل دینے کا ایک جواب ملتا ہے۔ انا نے کہا کہ اگر ایک انتخابی حلقہ میں 20 لو گ بھی بغیر پارٹیوں کے کھڑے ہوتے ہیں، تو کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ جسے لوگ منتخب کریں گے، وہ اِن پارٹیوں کے نمائندوں سے اچھا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹیاں اپنے ایماندار کارکنوں کو ٹکٹ کہاں دیتی ہیں۔ پارٹیاں یا تو فیملی سسٹم یا اقربا پروری کو چلا رہی ہیں یا پھر زیادہ تر ٹکٹوں کو فروخت کر رہی ہیں ۔ اور اگر کوئی اچھا آدمی پہنچ بھی جاتا ہے، تو وہ پارٹیوں کی مافیا نما شکل سے ڈر کر بولنے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا۔
یہیں پر اَنا نے ایک دوسرا راستہ بھی اپنے ساتھیوں سے بات چیت کرنے کے بعد سوچا ہے۔ انا پارٹیوں کے اچھے لوگوں سے بھی اپیل کر رہے ہیں کہ وہ پارٹیوں کو چھوڑ کر باہر آئیں اور عوام کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑیں۔ سوال یہاں پر یہ اٹھتا ہے کہ انا ہزارے کس کی حمایت کریں گے۔ اگر ایک انتخابی حلقہ میں 15 لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں، تو انا کی حمایت کسے ملے گی؟ انا نے کئی بار بات چیت میں اپنے ساتھیوں کو یہ واضح طور پر کہا کہ ان کی حمایت اسے ملے گی، جو زیادہ تر ان کی بات کو مانے گا۔ مثال کے طور پر جو یہ کہے گا کہ میں گاؤں کو طاقتور بنانے کے لیے قانون بنانے کی مہم میں ساتھ دوں گا، اسے انا کی حمایت حاصل ہوگی، یعنی یہ انا کی حمایت حاصل کرنے کی پہلی شرط ہے۔ دوسری شرط، جو یہ وعدہ کرے گا کہ میں عوام کے سوالوں کو لوک سبھا میں اٹھا ؤں گا۔ تیسری شرط، وہ اپنا استعفیٰ اپنی انتخابی کمیٹی کے پاس حلف نامہ کے طور پر پہلے ہی جمع کرائے گا اور اُس کمیٹی کو یہ اختیار دے گا کہ جس دن کمیٹی کو یہ احساس ہو جائے کہ یہ آدمی لوک سبھا میں اُن سوالوں کو نہیں اٹھا رہا ہے، جس کا وعدہ وہ ملک کے عوام سے کر کے گیا ہے، تو وہ کمیٹی اس استعفیٰ کو سیدھے لوک سبھا کے پاس بھیج دے گی، جس میں اس امیدوار کے استعفیٰ کا حلف نامہ منسلک ہوگا۔ یہ انا کے رائٹ ٹو ریکال کا ایک الگ قسم کا تجربہ ہے، جو انا کے 25 نکاتی پروگراموں کو لاگو کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں جدوجہد کرے گا۔
انا نے ابھی تک اپنی حمایت کی شرطیں عام نہیں کی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے پاس ملک بھر سے یہ پیغام آنے لگا ہے کہ اگر وہ الیکشن میں کھڑے ہوں، تو کیا انا ان کی حمایت کریں گے۔ انا یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ پارٹی سے باہر آکر آئین کے مطابق الیکشن لڑیں گے، تو میں اپنی حمایت دینے کے بارے میں سوچوں گا، لیکن حمایت کرنے کی ان کی جو شرطیں ہے، انہیں جو امیدوار مانے گا، اسی کے لیے انا ہزارے پرچار کرنے جائیں گے۔
سوال عام آدمی پارٹی کا بھی سامنے ہے۔ اروِند کجریوال ہر جگہ انا کے امیدوار کے روپ میں اپنے امیدواروں کو کھڑا کر رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے لوگ ہر جگہ یہ بتا رہے ہیں کہ وہ انا کے حامی ہیں، جب کہ انا ہر جگہ یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی بھی پارٹی، چاہے وہ عام آدمی پارٹی ہی کیوں نہ ہو، وہ ان کی حمایت کی حقدار نہیں ہے، کیوں کہ وہ آئین کے خلاف کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اروِند کجریوال کو اچھا آدمی مانتا ہوں، لیکن آج اروِند کجریوال آئین کے خلاف کھڑے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ اگر اروِند کجریوال اور ان کے ساتھی اپنی پارٹی تحلیل کردیں؟ تو انا نے صاف جواب دیا کہ تب وہ اچھے امیدواروں کی حمایت کریں گے۔ اچھے سے مراد یہاں یہ ہے کہ امیدوار کی عوامی شبیہ ٹھیک ہو، اس کے اوپر بدعنوانی کے الزامات نہ ہوں، بداخلاقی کے الزامات نہ ہوں اور وہ عوام کے لیے جدوجہد کرنے والے آدمی ہوں۔ انا سیاست میں کارکنوں کی حیثیت دوبارہ واپس لانا چاہتے ہیں۔ انا ’جو کام کرتا ہے، اسے پارلیمنٹ میں جانا چاہیے‘ کے اصول پر نئے سیاسی متبادل کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب، اگر انا اِس ملک میں 500 امیدوار کھڑے کرتے ہیں، جو اُن کی تعریف کے حساب سے بااخلاق ہیں، عوام کے لیے کام کرنے والے لوگ ہیں، ان کے 25 نکاتی پروگرام کو مانتے ہیں اور ’رائٹ ٹو ریکال‘ کے اصول کے تحت پہلے ہی اپنا استعفیٰ اپنے حلقہ کی کمیٹی کے پاس رکھتے ہیں، تو انا اُن کے پرچار میں جائیں گے۔ اگر اِن 500 امیدواروں میں ایک سے لے کر 300 تک انا کی وجہ سے لوک سبھا میں پہنچ پائے، تو اس ملک کی سیاسی تاریخ بدل جائے گی۔
انا کے اس سیاسی متبادل میں کئی پینچ ہیں اور کئی سوال بھی۔ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ جس طرح کی تھیلیاں ہماری سیاست میں چل رہی ہیں اور جس طرح بڑے صنعت کار اراکین پارلیمنٹ کو خرید نے کی کوشش کرتے ہیں، اگر ویسا ہی ہوا، تو کیا ہوگا؟ کیوں کہ اندرا گاندھی جی جب وزیر اعظم تھیں، تو ایک بار یہ خبر آئی تھی کہ بڑلا لوک سبھا کے 80 ممبران کو مہینہ میں پیسے دیتے تھے اور اُن ممبرانِ پارلیمنٹ کی لایلٹی (فرمانبرداری) کے کے بڑلا کے تئیں تھی۔ کیا ایک ہزار، دو ہزار کروڑ کا انتظام کرنے والا اِن پارٹیوں سے باہر رہنے والے لوک سبھا ممبران کو خریدنے کی کوشش نہیں کر سکتا؟ انا کا اِس پر سیدھا جواب ہے کہ نہیں کر سکتا، کیوں کہ جب ہم ملک بدلنے کی بات کرتے ہیں، جن تنتر لانے کی بات کرتے ہیں، تو عوام کے منتخب کیے ہوئے آدمیوں کے من میں عوام کا ڈر بھی ہوتا ہے کہ اگر اس نے کچھ کیا، تو وہ اگلی بار جیت نہیں پائے گا اور اس کے انتخابی حلقہ کے لوگ اسے لوک سبھا سے واپس بلا لیں گے۔
دیکھنا یہ ہے کہ انا جس طرح کے سیاسی متبادل کی بات کر رہے ہیں، اس سیاسی متبادل کو سیاسی پارٹیاں کوئی اہمیت دیتی ہیں یا نہیں۔ اور اگر سیاسی پارٹیاں اہمیت نہیں دیتی ہیں، لیکن عوام انا کے اس اصول کو اہمیت دیتے ہیں، تو ملک میں کس طرح کی سیاسی ’اگنی پریکشا‘ لوگوں کو دینی ہوگی، اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں، اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں جس قسم کی سیاسی ہوا ابھی چل رہی ہے، اس میں ایک طرف انا ہزارے ہیں اور دوسری طرف بھی انا ہزارے۔ اب عوام کے اوپر ہے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کو اپنی حمایت دے کر بدعنوانی، مہنگائی، خراب نظامِ تعلیم و صحت کے حق میں ووٹ دیتے ہیں یا انا ہزارے کے حق میں ووٹ دے کر اِن سے لڑنے اور انہیں مٹانے کا عہد کرتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *