مین پوری میں ملائم۔مایاوتی ایک ساتھ، بی جے پی کوآڑے ہاتھوں لیا

Share Article

maya-mulayam

اتر پردیش کی سیاسی تاریخ میں آج کا دن درج ہوگیاہے۔ 26 سال بعد ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی نے ایک ہی منچ اشتراک کیا۔ یوپی کی سیاست میں ایک دوسرے کے سخت مخالف رہے سماج وادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے آج لکھنؤ گیسٹ ہاؤس کانڈ کے بعد پہلی بار ایک دوسرے کے ساتھ منچ شیئر کئے اور ایک دوسرے کی تعریف بھی کی۔

مین پوری ریلی کو خطاب کرتے ہوئے ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ بہت دنوں بعد ہم اور مایاوتی جی ایک منچ پر آئے ہیں۔یہ بہت خوشی کی بات ہے ہمیں ایک پلیٹ فارم پر ہی رہنا ہوگا۔ مین پوری سے ہم بہت بار منتخب ہوکر پارلیمنٹ گئے ہیں یہ ہمارا گھر ہے اور اب آخری مرتبہ آپ کہنے سے میں پھر لوک سبھا انتخابات لڑ رہا ہوں۔ میں آج زیادہ تقریر نہیں کروں گا اس بار مجھے پہلے سے زیادہ ووٹ دے کر جتانا۔

ملائم سنگھ یادو کے بعد مین پوری کی مشترکہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے کہا کہ یہاں امڈی بھیڑ سے صاف ہے کہ آپ لوگ ایس پی سرپرست ملائم جی کو کثیر تعداد میں جیتا کر پارلیمنٹ بھیجیں گے ۔مایاوتی نے کہا کہ 2 جون 1995 کے گیسٹ ہاؤس سانحہ کو بھلا کر ہم ایک ساتھ آئے ہیں۔ کبھی کبھی پارٹی مفاد میں مشکل فیصلے لینے پڑتے ہیں جس کے بعد مایاوتی نے مودی حکومت پر جم کر نشانہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بی جے پی کی جملے بازی اور وزیر اعظم کی چوکیداری کام نہیں آئے گی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے نقلی پسماندہ طبقے کا حمایتی بن کر خود کو وزیر اعظم بنا لیا۔ لیکن انہوں نے ملک کی خدمت نہیں کی جبکہ پسماندہ طبقے کے حقیقی چہرے ملائم سنگھ یادو ہے۔

دونوں سینئرلیڈروں کے بعد اکھلیش یادو نے مورچہ سنبھالا ۔انہوں نے کہا کہ مایاوتی کو اس تاریخی لمحے کے لئے آج دل سے شکریہ۔ اکھلیش نے مزید کہا کہ ملک کا کسان ناخوش ہے غریبوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ مودی حکومت میں لوگوں کی نوکری اور روزگار ختم ہو گیا۔ ہمیں ملک میں نیا وزیر اعظم بنانا ہے۔ نئے وزیر اعظم کے آنے سے ہی نئے بھارت کی تعمیر کریں گے اور اس بار کا لوک سبھا الیکشن یہ ملک کے مستقبل سے منسلک ہے اور ہمیں چوکیدار کی چوکی چھننی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *