کام نہیں آئی مکل کے ذریعہ شوبھن کو منانے کی کوششیں ، دی پارٹی چھوڑنے کی دھمکی

Share Article

 

حال ہی میں ترنمول کانگریس پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے کولکاتہ کے سابق میئر شوبھن چٹرجی اور ان کی خاتون دوست بیساکھی بنرجی کو پارٹی میں برقرار رکھنے کے لئے سینئر لیڈر مکل رائے کی کوششیں بھی رائیگاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ مکل کے ساتھ ملاقات کے ایک دن بعد ہی دونوں نے واضح کر دیا کہ اگر رائے دگھی سے ترنمول کی ممبر اسمبلی دیوشری رائے بی جے پی میں شامل ہوتی ہیں ، تو یہ دونوں پارٹی چھوڑ دیں گے۔

بدھ کے روز ریاستی بی جے پی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شوبھن چٹرجی کے اس طرح کے بیان نے پارٹی کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے اور اب ان پر ٹھوس فیصلہ لیا جائے گا۔ پارٹی نے واضح کر دیا ہے کہ شوبھن کے مطابق نہ تو حکمت عملی طے ہوگی اور نہ ہی لوگوں کی پارٹی میں شمولیت۔ اگر دیوشری آنا چاہیں گی تو یقینی طور پر ان کا استقبال ہوگا۔ دراصل شوبھن چٹرجی اپنی بیوی رتنا چٹرجی سے شادی سے علیحدگی کا معاملہ اور بیساکھی بنرجی کو لے کر عموماً شہ سرخیوں میں رہتے ہیں ۔ اسی کی وجہ سے نومبر 2018 میں ان سے وزیر اور میئر کا عہدہ بھی چھین لیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس سے دوری بنا کر رکھی تھی اور پھرگذشتہ 14 اگست کو دہلی میں بی جے پی کی رکنیت لے لی تھی۔ اس دن دہلی بی جے پی کے صدر دفتر میں رائے دگھی سے ترنمول کی ممبر اسمبلی دیوشری رائے بھی جا پہنچی تھیں۔ بیساکھی سے پہلے دیوشری شوبھن کی خاتون دوست تھیں لہٰذا ان کی موجودگی کو لے کر بیساکھی نے ناراضگی ظاہر کی تھی اور شوبھن نے بیساکھی کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ اگر دیوشری بی جے پی میں شامل ہوں گی تو وہ پارٹی کی رکنیت نہیں لیں گے۔ اس کے بعد دیوشری کی جوائننگ روک دی گئی تھی اور شوبھن اور بیساکھی کو رکنیت دی گئی تھی۔

پارٹی میں شامل ہونے کے بعد سے آج تک شوبھن چٹرجی کسی بھی پروگرام میں شامل نہیں ہوئے ہیں اور دیوشری کی جوائننگ روکنے کی ضد پر اڑے ہیں۔ حالانکہ ریاستی بی جے پی صدر دلیپ گھوش واضح کر چکے ہیں کہ شوبھن کے مطابق پارٹی نہیں چلے گی۔ دیوشری اگر رابطہ کرتی ہیں تو ان کی پارٹی شمولیت ہوگی۔ اس دوران بیساکھی اور شوبھن کو منانے کے لئے قومی جنرل سکریٹری اور مغربی بنگال بی جے پی کے انچارج کیلاش وجے ورگیہ کی ہدایت پر مکل رائے پیر کے روز دہلی گئے تھے۔ انہوں نے دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر دونوں کے ساتھ ملاقات کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہے اور شوبھن اور بیساکھی بی جے پی میں ہی رہیں گے۔ اس کے ٹھیک ایک دن بعد دونوں دہلی لوٹے ہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ اگر دیوشری رائے بی جے پی میں آتی ہیں تو وہ پارٹی میں نہیں رہیں گے۔ اسے لے کر ایک بار پھر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *