خوف میں دبنگ لیڈر مختار انصاری، قتل کا خدشہ ظاہر کیا

Share Article
mukhtar-ansari
اتر پردیش کے دبنگ لیڈر مختار انصاری ان دنوں ڈرے سہمے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کورٹ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہونے کی اجازت مانگی ہے۔پنجاب کی روپڑ جیل میں بند مختار انصاری کے وکیل نے کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی، جس میں منا بجرنگی کے طرز پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مختار انصاری کا کہنا ہے کہ باندہ جیل سپرنٹنڈنٹ انہیں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے میں انہیں راستے میں ہی مار دیئے جانے کا خطرہ ہے۔ بی ایس پی ممبر اسمبلی مختار انصاری کو موہالی کے ایک بلڈر سے دس کروڑ کی رنگداری مانگنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ حال ہی میں انصاری اترپردیش کے باندہ جیل سے پنجاب کے موہالی جیل میں شفٹ ہوئے ہیں،جہاں انہیں پولیس حراست میں رکھا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق موہالی کے سیکٹر 70 میں رہنے والے ایک بلڈر نے شکایت درج کرائی تھی کہ فون پر ایک شخص نے خود کو مختار انصاری بتاتے ہوئے اس سے دس لاکھ روپے کی مانگ کی تھی، جس کے بعد مختار انصاری کو یوپی سے پنجاب لاکر موہالی جیل میں شفٹ کیا گیا ہے۔ پولیس نے انصاری کے خلاف موت کا ڈر دکھا کر وصولی، مجرمانہ دھمکی دینے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے،ویسے یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ بی ایس پی لیڈر مختار انصاری پر پہلے سے ہی 45 مقدمے چل رہے ہیں، جس میں 2005 میں بی جے پی ممبر اسمبلی کرشناند رائے کے قتل اور ایک مقامی ٹھیکیدار کے قتل کے معاملے میں گواہ رام سنگھ موریہ کے قتل بھی شامل ہے۔
غور طلب ہے کہ مختار انصاری کو 2006 سے ہی جیل میں رکھا گیا ہے۔ مختار انصاری نے سال 1995 میں سیاست میں قدم رکھا اور بی ایس پی سے مؤ سے رکن اسمبلی بننے کے بعد مسلسل چھ بار انتخاب جیتا۔ وہیں سال 2010 میں بی ایس پی سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے قومی ایکتا دل نام سے اپنی پارٹی بنائی اور مؤ سے 2012 کے اسمبلی انتخابات میں جیت درج کی، جس کے بعد قومی ایکتا دل بی ایس پی میں ضم ہو گئی، موجودہ وقت میں مختار انصاری مؤ سے رکن اسمبلی ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *