مکھرجی نگرمارپیٹ معاملہ: مظاہرہ کر رہے لوگ پھر ہوئے مشتعل

Share Article
Protesters Outside Delhi’s Mukherjee Nagar Police Station Demand Sacking Of Cops Who Allegedly Attacked Driver

 

شمال مغربی ضلع کے مکھرجی نگر علاقے میں گرامین سیواگاڑی کے ڈرائیور اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہوئی مارپیٹ کا معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ . واقعہ کے بعد سے ہی سکھ برادری اور پولیس کے درمیان کشیدگی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ بگڑتے ماحول کو دیکھ کر مکھرجی نگر علاقے میں کافی تعداد میں پیراملٹری فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ علاقے میں امن برقرار رکھنے کے لئے فورس کی طرف سے فلیگ مارچ بھی نکالا جا رہا ہے لیکن پیر دیر رات مظاہرہ کر رہے لوگ دوبارہ مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے سکھ گرودوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان منجندر سنگھ سرسا کے ساتھ دھکا مکی کی۔

Image result for protest mukherjee nagar police station delhi

معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس کے سینئر افسر موقع پر پہنچے اور لوگوں کوسمجھا-بجھا کر کر ٹھنڈا کیا۔ مظاہرہ کر رہے لوگوں کا کہنا ہے کہ 15 سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے سربجیت سنگھ اور ان کے نابالغ بیٹے کو سرراہ پیٹا۔ منگل کی صبح بھی ہنگامہ کرنے والے لوگوں نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے اور برخاست کرنے کی مانگ کی۔ اتوار کی شام مکھرجی نگر تھانہ علاقے میں ایک سکھ گرامین سیوا ڈرائیور کو دہلی پولیس کے کئی جوانوں نے مل کر مارا پیٹاتھا۔

 

Image result for protest mukherjee nagar police station delhi

 

ڈرائیور سربجیت سنگھ مکھرجی نگر علاقے میں گرامین سیواچلاتاہے۔ کسی بات کو لے کر پولیس اہلکار اور سربجیت کے درمیان تیکھی بحث ہوئی۔ اسی درمیان سربجیت نے تلوار نکال لی۔ ہنگامہ کی اطلاع ملتے ہی سکھ برادری جہاں ڈرائیور کے ساتھ آ گیا، وہیں وزیر اعلیٰ سمیت دیگر رہنماؤں کا اس کے گھر جانے اور بیان دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کئی رہنماؤں اور تنظیموں نے پولیس کے خلاف مورچہ کھول دیا۔ دہلی سکھ گرودوارہپربندھک کمیٹی کے صدر منجند سنگھ سرسا نے پیر کی شام دہلی پولیس کمشنر امولیہ پٹنائک سے ملاقات کی۔ اس دوران ان کے ساتھ اس معاملے میں پولیس کی پٹائی سے زخمی ہوئے ڈرائیور سربجیت کو بھی لے کر پولیس ہیڈکوارٹر آئے۔ ڈرائیور نے پولیس کمشنر سے ملاقات کے دوران تحریری شکایت دے کر مار پیٹ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وہیں اس پورے معاملے کو لے کر وزارت داخلہ نے دہلی پولیس کمشنر سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ اتوار کی شام سے شروع ہوئے اس پورے واقعے کی رپورٹ اور اب تک کی پولیس کارروائی کی تفصیلات وزارت داخلہ کو بھیجی گئی ہے اور تفصیل سے اس معاملے کی جانچ رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔ فی الحال پورے معاملے کی جانچ کرائم برانچ کر رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *