مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو بحرین کی سہ ماہی طرحی نشست

Share Article

 

احمد امیر پاشا۔بحرین
مملکتِ بحرین میں اُردو کے فروغ اور ترقی کے حوالے سے مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کی کا وشیں اب عالمی سطح پر دادو پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔اس زبانِ ، کے قارئین اور قدردان اس امر سے مطمئن و آسودہ ہیں کہ اس متحرّک ادبی تنظیم نے فروغِ ادب ِ کے حوالے سے جو جامع منصوبہ بندی کی ہے اس کے نتائج برامد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔اس عالمی تنظیم کے بانی و سرپرست ہمہ تن اپنی توجہ اور ذاتی ذرائع سے اس زبان کی نشوو نما کے لئے شبانہ روز جدوجہد میں مصروف ہیں۔اس حوالے سے مجلس کی یہ روش نسخہِ کیمیا ثابت ہوئی ہے کہ جس کے مطابق ہر سالانہ عالمی مشاعرہ کو اردو کے کسی بڑے ادیب و شاعر کی کاوشوں اور ادبی خدمات سے منسوب کیا جاتا ہے ، اس ضمن میں ،ایک سال کسی نامور مسلم شاعرو ادیب اور دوسرے برس کسی غیر مسلم نامور شاعرو ادیب کے لئے عالمی مشاعرے کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے۔اس دوران اس شاعرو ادیب کی شاعری ور اسلوب کو سمجھنے اور جانچنے کے لئے مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کے زیرِ اہتمام تین طرحی نشستوں کا اہتما م کیا جاتا ہے۔اسی طرح شاعرِ موصوف کی زندگی اور فن پر ایک مبسوط تصنیف کی اشاعت کا اہتمام بھی بڑے تزک و احتشام سے کیا جاتا ہے۔اس تصنیف میں عہدِ حاضر کے معروف اساتذہِ فن کے مضامین شامل کئے جاتے ہیں۔ اس علمی مواد کو جمع کر نے کے لئے ہندوستان کی کسی عالمی سطح کی جامعہ میں دو روزہ سیمینار منعقد کیا جاتا ہے جس میں مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کے بانی و سرپرست بنفسِ نفیس شرکت کر کے ادبی نشوو نما کے اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

 

سال ۲۰۱۹ء کے لئے اُردو کے نامور شاعر،ادیب اور صحافی ہری چند اختر( ۱۹۰۱ا۔۱۹۵۸) کاانتخاب کیا گیا ہے۔ہری چند اختر ابوالاثر حفیظ جالندھری کے شاگردِ نامدار تھے۔انکی شاعری اور مزاح اردو ادب کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے اردو کے معرکہ آراء شاعر اور مصلح مولانا الطاف حسین حالی کی سوانح ’’ حالی پانی پتی ‘‘ کے عنوان سے لکھی۔ ان کا مجموعہ کلام ’’ کفرو ایمان ‘‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔

ہری چند اختر کے دو طرحی مصرعوں پرمجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کی سہ ماہی طرحی نشست،۲۵ اپریل ۲۰۱۹ کو ایوانِ اردو منطقہ سند میں منعقد ہوئی۔اس طرحی نشست کے لئے ہری چند اختر کی دو غزلوں سے الگ الگ طرحی مصرعوں کا انتخاب کیاگیا تھا۔ پہلا مصرعہ طرح تھا، ’’ آپ کا حکم ورست اور بجا ہوتا ہے ‘‘ جبکہ دوسرا طرح مصرعہ تھا، ’’ پھر بھی یہ جستجو رہی کوئی بشر ملے ‘‘۔ ان طرحی مصرعوں پر لکھی ہوئی اپنی غزلیات طرحی نشست میں شریک شعراء نے حاضرین کی نذر کیں ۔ اس کے علاوہ پاک و ہند او ردوسرے ممالک سے بھی شعرائے کرام کی غزلیں موصول ہوئیں۔اس نشست کی صدارت ڈاکٹر جمیل نے کی جبکہ مہمانِ خصوصٰی بحرین کی معروف ادب نواز شخصیت عزیز ہاشمی تھے۔نشست کا آغاز خرم عباسی نے بانی و سرپرست مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو کے پیغام سے کیا جس کے مطابق اب مجلس اپنی شائع کردہ کتب کا ترجمہ دیونا گری اورومن زبانوں میں بھی شائع کرے گی۔ یہ اقدام ہندی پڑھنے والوں کے لئے مجلس کی شائع کر دہ کتب کو پڑھنے کا موقع فراہم کرے گا۔اس طرحی نشست کی نظامت بحرین کے معروف شاعر رخسار ناظم آبادی نے کی۔پیش کی گئی طرحی غزلوں کے کچھ نمائندہ اشعار قارئین کی نذر ہیں۔

راجیش ریڈی۔انڈیا
جس کی پرواز کا انداز جدا ہو تا ہے
وہ پرندہ کسی پنجرے میں پڑا ہوتا ہے

عباس تابش۔پاکستان
قامتِ یار کی مانند رسا ہوتا ہے
صرف نالہ نہیں مصرعہ بھی دعا ہو تا ہے عامر قدوائی ۔ کویت
برسوں کے بعد بھی تری خوشبو سے تر ملے
رکھے ہوئے کتاب میں تتلی کے پر ملے

ظفر علی بیگ۔انڈیا
رہبر ملے ، رفیق ملے، ہم سفر ملے
پھر بھی یہ جستجو رہی کوئی بشر ملے

شفیق احمد خان۔ پاکستان
نکلوں گماں سے وسعتِ قلب و نظر ملے
دل آشنائے درد کو خوابِ ہنر ملے
احمد عادل، بحرین
مجھ کو انکار کی عادت ہے وگرنہ صاحب
آپ کا حکم درست اور بجا ہوتا ہے

خورشید علیگ۔بحرین
اے وقت ہم ہیں ماضی کے کردار لخت لخت
خود کو سنوار لیں ہمیں آئینہ گر ملے

خالد صبر حدی۔سعودی عرب
جو کارزارِ زیست میں سینہ سپر ملے
پھر تاجِ کامرانی نہ کیوں ان کے سر ملے

رخسار ناظم آبادی۔بحرین
بحرِ حیات میں تو مسلسل سفر ملے
اور ہر سفر میں موج و طلاطم ،بھنور ملے

احمد امیر پاشا۔بحرین
اک تعلق سا جو آپس میں بنا یوتا ہے
ظرف کا قرض ہے مشکل سے ادا ہوتا ہے

اقبال طارق۔بحرین

اک لمحہ نطق و صوت سے جس کی نظر ملے
ممکن نہیں کہ اس کو نہ حرفِ ہنر ملے

ریاض شاہد ۔بحرین
بات بے بات پہ تُو یار خفا ہو تا ہے
تیرے لہجے میں بہت زہر بھرا ہوتا ہے

سعید سعدی۔بحرین
ہم جتنے عاشقوں سے سرِ رہگذر ملے
سارے نگاہِ ناز سے زیرو زبر ملے

اسد اقبال۔پاکستان
جب کبھی ملتے ہیں وہ لب پہ گلہ ہو تا ہے
کوئی اپنوں سے بھلا ایسے خفا ہوتا ہے
٭٭٭

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *