پرشانت سرن
p-10راجیہ سبھا انتخاب میں ’ہارس ٹریڈنگ‘ کے معاملے میں ریاست کے سابق وزیر علیٰ بابو لال مرانڈی کے ذریعہ کانگریس کی رکن اسمبلی نرملا دیوی اور ریاست کے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل انوراگ گپتا کے بیچ ہوئی بات چیت کی سی ڈی جاری ہوتے ہی پولیس افسر الزامات کے گھیرے میں آگئے ہیں۔ اگر لیڈروں کی بات پر بھروسہ کریں، تو چرچا یہ ہے کہ مذکورہ افسر وزیر اعلیٰ رگھوورداس کے ہم ذات ہیں اور پولیس مکھیا بننے کی چاہت میں شاید پولیس افسر نے ایسا کیا ہو۔ مذکورہ افسر نے کانگریس کی رکن اسمبلی نرملا دیوی کو چار بار فون کر کے راجیہ سبھا انتخاب میںبی جے پی کے امیدوار کے حق میں ووٹ کرنے کے لیے دباؤ بنایا ۔کانگریس کی رکن اسمبلی کو انھوںنے اس بات چیت میںدھمکی کے ساتھ ساتھ لالچ بھی دیا، ویسے انوراگ گپتا کی شبیہ ایک محنتی اور ایماندار افسر کے طور پر رہی ہے۔ آئی پی ایس افسر کو برخاست کرنے کی مانگ کو لے کر اپوزیشن پارٹیوں نے تین دن تک جھارکھنڈ اسمبلی میں جم کرہنگامہ کیا اور ایوان کی کارروائی نہیںچلنے دی۔ وہیںسابق وزیر اعلیٰ بابولال مرانڈی نے گورنر دروپدی مُرمو اور چیف الیکشن کمشنر سے مل کر جھارکھنڈ میں ہوئے راجیہ سبھا انتخاب کو منسوخ کرنے کی مانگ کے ساتھ ہی ریاست کے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل انوراگ گپتا کو برخاست کرنے کی مانگ کی ہے۔ اس معاملے میں لگے الزامات کو لے کر نہ تو کوئی تردیدہوئی ہے اور نہ ہی کوئی تبصرہ کیا گیا ہے۔ دونوں ہی اس معاملے میںکچھ بھی بولنے سے پرہیز کررہے ہیں۔
بابو لال مرانڈی نے کہا کہ آئی پی ایس افسر انوراگ گپتا نے کانگریس کی رکن اسمبلی نرملا دیوی کے شوہر یوگیندر ساؤ سے فون کرکے 24 بار بات کی تھی اور یہ کہا تھا کہ ابھی رگھوور داس کی سرکار ساڑھے تین سال ہے۔آپ پر جو کیس ہے، وہ تو اٹھ ہی جائے گا، آپ کو بہت اوپر تک لے جائیںگے۔ انوراگ گپتا نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر بات نہیںمانیں گے،تو آپ کو بہت پریشانی ہوگی۔ انوراگ گپتا نے ایم ایل اے کے شوہر کو یہ بھی صلاح دی کہ میڈم کے نام پر وارنٹ ہے،انھیںگرفتار کرادیجئے، ایسے میں میڈم ووٹ دینے سے بھی بچ جائیںگی اور کانگریس بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرپائے گی۔ ایم ایل اے کے شوہر یوگیندر ساؤ نے بھی یہ قبول کیا کہ پولیس افسر نے فون کرکے ان پر دباؤ بنایا تھا اور ووٹ نہ ڈالنے کی بات کہی تھی۔ شری گپتا نے انھیں یہ بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ وزیر اعلیٰ سے ان کی براہ راست بات کرادی جائے گی۔ اس سے سیاسی فائدہ ملے گا اور آپ بہت اوپر تک جائیں گے، دوسری صورت میںاگر آپ بات نہیںمانیں گے، تو پریشانی میںپڑجائیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آپ کی ہر بات وزیر اعلیٰ جی سے منوادیںگے۔ یوگیندر ساؤ نے جب انوراگ گپتا سے یہ کہا کہبات چیت کے لیے آپ کے گھر آجاتے ہیں، تو شری گپتا نے کہا کہ آپ کا میرے گھر آنا ٹھیک نہیں ہوگا، لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا کہ آپ مطمئن رہیں سارا معاملہ صاف کرادیںگے، آپ کو کچھ پریشانی نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اے ڈی جی پی یہ ساری بات اپنے موبائل سے نہ کرکے اپنے معاون کے موبائل سے یوگیندر ساؤ کے قریبی منٹو ساؤ کے موبائل پر بات کرتے تھے۔ اس بات چیت کی ڈٹیل سابق وزیر اعلیٰ بابو لال مرانڈی نے جاری کی ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسے سرے سے خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ سی ڈی بنائی گئی ہے، وقت آنے پر سب کچھ صاف ہوجائے گا۔
اس معاملے پر ریاست کے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل انوراگ گپتا کچھ بھی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہیں او روزیر اعلیٰ رگھوور داس نے بھی ابھی تک اپنی خاموشی نہیں توڑی ہے، جبکہ جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے سپریمو بابولال مرانڈی نے انوراگ گپتا کے ساتھ ہی رگھوور داس اور ان کے سیاسی مشیر پر بھی سنگین الزام لگائے ہیں ۔ کانگریس کی ایم ایل اے نرملا دیوی نے خود وزیر اعلیٰ پر الزام لگایا تھا کہ وزیر اعلیٰ رگھوورداس نے بی جے پی کے حق میں ووٹ کرنے کے لیے پانچ کروڑ دینے کا وعدہ کیا تھا۔وزیراعلیٰ اور ان کے سیاسی مشیر اجے کمار نے بھی میرے گھر آکر یہ لالچ دیا تھا۔
ویسے آئی پی ایس افسر انوراگ گپتا کی خاموشی سے اس بات کو بھیتقویت ملتی ہے کہ شاید شری گپتا نے بڑے عہدے کی چاہت میں یہ غلطی کردی ہوگی اور وزیر اعلیٰ کے دباؤ میںکانگریسی ایم ایل اے اور اس کے شوہر سے بات کی ہے۔ ویسے وزیر اعلیٰ رگھوور داس کا ذات برادری کا پریم دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پولیس مکھیا بننے کی چاہت میںوہ اپنے فرض سے پھسل گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے جھار کھنڈ کے آئی اے ایس افسر کو درکنار کرکے اپنا پرنسپل سکریٹری سنجے کمار کو بنایا ، جو کہ بِکار کیڈر کے ہیں اور ہم ذات ہیں۔ ان کا ڈیپوٹیشن دو سال کے لیے ہوا ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ کے آفس کے سکریٹری کے عہدے پر ڈیپوٹیشن پر دہلی گئے آئی اے ایس افسر سنیل برنوال کو بنایا گیا ہے اور شاید اسی سوچ کے تحت انوراگ گپتا کو پولیس مکھیا بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔
ادھر اسمبلی میںاپوزیشن لیڈر ہیمنت سورین نے وزیر اعلیٰ رگھوور داس سے استعفے کی مانگ کرتے ہوئے گورنرسے انوراگ گپتا کو برخاست کرنے کی مانگ کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کا خلاصہ ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ کو اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے، جبکہ کانگریس کے ریاستی صدر سکھ دیو بھگت نے کہا کہ رگھوورسرکار افسروںکا استعمال سیاسی فائدے کے لیے کررہی ہے۔
ایم ایل اے کو پولیس افسر نے دھمکایا : بابولال
ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے سپریمو بابو لال مرانڈی نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا کہ میںنے جو سی ڈی صحافیوںکو دکھائی ہے اور اس میںجو بات چیت کا ٹیپ ہے،وہ پوری طرح سے صحیح ہے اور سرکار یا کوئی آزاد ایجنسی اس سی ڈی کی کہیں سے بھی جانچ کرانے کے لیے آزاد ہے۔ انھوںنے ریاست کے پولیس افسر انوراگ گپتا پر الزام لگایا ہے کہ وہ رگھوور داس کے لیے کام کررہے ہیں، نہ کہ عوام کے لیے۔ وزیر اعلیٰ داس نے بھی اس پولیس افسر کو اعلیٰ عہدے پر بٹھانے کے لیے لالچ دیا ہے۔ اس پولیس افسر نے کانگریسی ایم ایل اے کو آدھی درجن بار فون کرکے لالچ بھی دیا اور دھمکی بھی دی۔ پولیس افسر اور کانگریسکی ایم ایل اے کے بیچ بات چیت کی ریکارڈنگ اس سی ڈی میں ہے کہ کس طرح وہ کانگریس کے حق میںووٹ کرتی ہیں، تو ان کے اور ان کے شوہر کے اوپر جو کیس زیر التوا ہے، اسے اٹھالیاجائے گا، اس کے ساتھ ہی موٹی رقم بھی ملے گی۔ انھوںنے کہا کہ گورنر سے ملاقات کرکے انھوںنے پولیس افسر پر کارروائی اور برخاست کرنے کی مانگ کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی چیف الیکشن کمشنر سے راجیہ سبھا انتخاب ملتوی کرنے کی بھی مانگ کی ہے۔ اس سی ڈی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ راجیہ سبھاانتخاب میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے۔ خود وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے کانگریسی ایم ایل اے اور ان کے شوہر سے ملاقات کرکے پانچ کروڑ دینے کی بات کہی تھی، جبکہ ان کے سیاسی مشیر اجے کمار نے بھی کانگریسی ایم ایل سے ملاقات کرکے بی جے پی کو ووٹ دینے کے ساتھ ہی بہت سارے لالچ دیے۔
انھوںنے کہا کہ راجیہ سبھا انتخاب رد کرنے،وزیر اعلیٰ رگھوور داس کے استعفے اور پولیس افسر انوراگ گپتا کی برخاستگی کی مانگ کو لے کر ان کی پارٹی پوری ریاست میںبڑا آندولن چلائے گی، اس کا خاکہ جلد ہی تیار ہوگا۔
سی ڈی کے معاملے میں جانچ ضروری نہیں: شاہنواز
سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر شاہنواز حسین نے ریاست کے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل انوراگ گپتا کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ سی ڈی معاملہ کی جانچ ہو۔ انھوںنے اس سی ڈی کو جھوٹا اور فرضی بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی جھوٹ کی جانچ میں یقین نہیں کرتی ۔ انھوں نے کہا کہ سی ڈی میںجو بات چیت دکھائی گئی ہے، اسے سننے سے ہی یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اسے بنایاگیا ہے۔ انھوں نے راجیہ سبھا انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ سے صاف انکار کیا اور کہا کہ ارکان اسمبلی نے کسی بھی دباؤ میںووٹ نہیںکیا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ دوسری ریاستوں میںاسی طرح کی سی ڈی کو لے کر بی جے پی جانچ کرانے کی مانگ کرتی رہی ہے، تو انھوںنے کہاکہ کچھ چیزوں میںجانچ کی ضرورت نہیںہوتی ہے اور یہ سی ڈی تو من گھڑت ہے،در اصل مودی اور رگھوور سرکار کی مقبولیت کو دیکھ کر اپوزیشن پارٹیاں بوکھلا گئی ہیں اور کچھ لیڈروں کا ذہنی توازن بھی بگڑ رہا ہے اور اس مقبولیت کو دیکھ کر ہی اپوزیشن پارٹیاں سرکار پر بے معنی الزام لگا رہے ہیں۔ انھوں نے رگھوور سرکار کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہاکہ یہاں ترقی کا کام تیزی سے ہورہا ہے۔ قانونی نظام اور نکسلی مسئلے کا حل اس سرکارنے بہتر ڈھنگ سے کیا ہے۔
ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل کے خلاف ایف آئی آر درج ہو: ہیمنت
سابق وزیر اعلیٰ اور اسمبلی میںاپوزیشن لیڈر ہیمنت سورین راجیہ سبھاانتخاب میںہارس ٹریڈنگ کو لے کر کچھ زیادہ ہی پُرجوش ہیں۔ انھوںنے گورنراور چیف الیکشن کمشنر سے ریاست کے ایڈیشنل پولیس ڈائریکٹر جنرل انوراگ گپتا کو بلاتاخیربرخاست کرنے کی مانگ کرتے ہوئے اس معاملے کی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے۔ہیمنت سورین نے انوراگ گپتا پر ایس سی ،ایس ٹی کو دھمکانے ، ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے اور کانگریس کی ایم ایل اے نرملا دیوی کو دھمکانے کے معاملے میںایف آئی آر بھی تھانے میںدرج کرائی ہے۔انھوں نے کہاکہ ریاست میںافسر اب بے لگام ہوگئے ہیں اور اب ایم ایل اے تک کودھمکانے کا کام کررہے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا کہ ان کی پارٹی اس معاملے کو سڑک سے لے کر ایوان تک میں اٹھائے گی اور اب جب تک کہ راجیہ سبھا انتخاب سی ڈی معاملے کی جانچ نہیںہوجاتی ہے، تب تک وہ اسمبلی کے مانسون اجلاس کو چلنے نہیںدیں گے۔ انھوںنے کہا کہ جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے صدر بابو لال مرانڈی نے جو سی ڈی گورنر اور الیکشن کمشنر کو سونپی ہے، اس میںیہ صاف سنائی دے رہا ہے کہ کس طرح انوراگ گپتا، کانگریسی ایم ایل اے نرملا دیوی کو راجیہ سبھاانتخاب میںبی جے پی کے حق میںووٹ کرنے کے لیے لالچ اور دھمکی دے رہے ہیں۔ انوراگ گپتا نے نرملا دیوی سے یہ صاف طور پر کہا تھا کہ اگر وہ بی جے پی کے حق میں ووٹ دیتی ہیں، تو ان کے اور ان کے شوہر کے اوپر لگائے گئے الزام اور سبھی کیسوںکو اٹھالیںگے۔ ایسا نہیںکرنے پر بری طرح پھنسانے کا رعب دکھا رہے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ اس پولیسیا خوف کے سبب کانگریس کی ایم ایل اے تین بجے تک اپنا ووٹ دینے نہیں آسکی تھیں۔ بعدمیںاپنی گاڑی سے کانگریس کی ایم ایل اے کو اسمبلی لایاگیا۔ان کو اسمبلی آنے سے روکنے کے لیے پولیس نے پورے چاق و چوبند کے ساتھ انتظام کیا تھا۔
شری سورین کا ماننا ہے کہ وزیر اعلیٰ رگھوور داس کی شہ پر انوراگ گپتا بے لگام ہوتے جارہے ہیں، سرکار انھیں جلد برخاست نہیں کرے گی، تو جھارکھنڈ مکتی مورچہ پوری ریاست میں آندولن چلائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here