حسنی مبارک کی حالت زار : دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت ہو

Share Article

وسیم راشد
۔جب انسان اپنی بے پناہ کامیابی کے بعد اس کامیابی کو تنکا تنکا ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تب کتنا بے بس اور لاچار محسوس کرتا ہوگا۔ حسنی مبارک اور ان کا خاندان اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ حسنی مبارک 11فروری 2011 تک دنیا کے چند بڑے حکمرانوں میں شمار ہوتے تھے۔ دنیا میں اس وقت 36 حکمراں ہیں۔ ان حکمرانوں کی دولت ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اثاثوں سے زیادہ ہے۔ حسنی مبارک اس فہرست میں پہلے نمبر پر تھے۔ ان کے پاس 70 بلین ڈالر تھے۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ بڑے بڑے ترقی پذیر ملکوں کے بجٹ 70 بلین سے کم ہوتے ہیں۔
حسنی مبارک نے یہ رقم مصر سے کمائی ہے۔ جوانی میں وہ مصری فضائیہ میں ایک عام افسر تھے۔ 14 اکتوبر 1981 میں مصر کے حکمراں بننے پر انہوں نے  اپنے قبلہ کا رخ امریکہ کی طرف کرلیا۔ اس اطاعت و فرمانبرداری کے نتیجے میں انہیں مصر کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا موقع ملا۔ یوروپ اور امریکہ سے ملنے والی امداد پر بھی ہاتھ صاف کرتے رہے۔ یوروپ اور امریکہ کو بھی معلوم تھا کہ ہر پھر کے یہ دولت سوئس بینکوں میں جانی ہے اور سوئس بینکوں میں جمع دولت آج تک کس کو ملی ہے، جو حسنی مبارک کو مل جائے گی؟ حسنی مبارک عالمی بینکوں کے قرضے میں سے بھی بڑا حصہ کھاتے رہے۔ بے شمار ہتھیاروں کے سودوں میں سے بھی بڑی رقم ڈکار گئے۔ بے شمار جعلی کمپنیاں بنائیں اور ان کمپنیوں کو سرکاری ٹھیکے دئے۔ مصر میں نئے شہر آباد کئے اس سے بھی بے شمار دولت اکھٹا کی۔ بے نام زمینوں پر قبضے کرتے رہے، بعد میں یہی زمینیں اربوں روپے میں فروخت کیں۔ مصر میں قحبہ خانے، کلب اور دوسرے فحاشی اور عیاشی کے اڈے قائم کیے۔ا س کا ایک مخصوص حصہ بھی ان کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا تھا۔ حسنی مبارک اپنی پارٹی کے نام پر امیروں سے بڑے بڑے چندے بھی لیتے تھے۔ یہ سرکاری عہدے بھی فروخت کرتے تھے۔ اپنی امریکہ سے وفاداری بھی فروخت کرتے تھے اور اس وفاداری کا معاوضہ بھی قبول کرتے تھے۔ یہ سارے کام وہ اکیلے نہیں کرتے تھے۔ ان کا خاندان بھی ان کی اس تجارت میں شامل تھا۔
حسنی مبارک کی اہلیہ سوزان مبارک فلاحی تنظیموں کے نام پر امراء سے بڑے بڑے چندے وصول کرتی تھیں۔ مہینے میں دو چار پارٹیوں میں امیروں کو مدعو کرکے فلاحی کاموں کے لیے کروڑوں کے چندے وصول کرتی تھیں۔ ان کے اس دھندوں میں دونوں بیٹے جمال مبارک اور علاء مبارک بیوی سوزان مبارک اور ان کی سیاسی جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور ا سکے جنرل سکریٹری صفوت الشریف شامل تھے۔ یہ سب حضرات کسی بھی سرکاری افسر کو برخاست کرسکتے تھے اور اس کی جگہ اپنا منظورِ نظر کا تقرر کرسکتے تھے۔ حسنی مبارک کی دولت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تھی۔ لندن، پیرس، دمشق اور دوسرے بڑے شہروں میں ان کی جائیدادیں تھیں۔ اکاؤنٹس سوئس بینکوں میں تھے۔ ان کی جائیدادوں کا کرایہ صرف 150 ملین ڈالر آتا تھا۔
30 سال کے اقتدار کے بعد حسنی مبارک نے شرم الشیخ میں پناہ لی۔ دونوں بیٹے اور بیوی بھی نظربندی کی حالت میں ہیں۔ حسنی مبارک پر کرپشن اختیارات سے تجاوز اور لوٹ کھسوٹ اور حریت پسندوں کے قتل عام کے الزامات ہیں اور فوج نے انہیں Prosecutor کے سامنے پیش کردیا۔ یہ Prosecutor ان کا اپنا مقرر کردہ ہے۔ لیکن آج حسنی مبارک اس کے سامنے ملزم کے طور پر پیش ہورہے تھے، جب حسنی مبارک کو ان کے جرائم کی فہرست پیش کی گئی تو ان کو دل کا دورہ پڑگیا۔ ڈاکٹروں نے طویل جد و جہد کے بعد ان کی جان بچالی۔ ان کے دونوں بیٹوں اور اہلیہ کو بھی شرم الشیخ پہنچا دیا گیا۔ حسنی مبارک کی پارٹی پر عدالت نے پابندی لگادی ہے۔ پارٹی کے سارے دفتر سیل ہوچکے ہیں۔ اکاؤنٹس سیز ہوچکے ہیں، پارٹی کے جنرل سکریٹری صفوت الشریف گرفتار ہوچکے ہیں، ان پر غیرقانونی دولت رکھنے، انقلابیوں کے قتل ، کرپشن اور طاقت کے بے جا استعمال کے الزامات ہیں۔ حسنی مبارک کی اہلیہ بھی زیر تفتیش ہیں، جب کہ ان سب کے سوئس اکاؤنٹس اور جائیدادیں سیز ہوچکے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ملک سے باہر نہیں جاسکتا، فوج ان لوگوں کو عوامی غیض و غضب سے بچانے کی کوشش کررہی ہے اور حسنی مبارک اپنی کامیابیوں کا بیڑہ غرق ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں،ا نہیں اس ذلت سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ حسنی مبارک جن حکمرانوں کی عبادت کرتے تھے، ان سب نے آنکھیں پھیرلی ہیں۔ جن کے اشاروں پر ہزاروں خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا تھا، وہ آج حسنی مبارک کو پہچانتے بھی نہیں۔ جن کی شہ پر مصر کو بے دردی سے لوٹا تھا، وہ آج حسنی مبارک کو جانتے بھی نہیں، ان کے لیے حسنی مبارک تاریخ کا ایک حصہ بن گئے ہیں۔
حسنی مبارک کا حال ان حکمرانوں کے مستقبل کی طرف اشارہ کررہا ہے، جو طاقت کے نشے میں چور ملکوں کے قومی خزانوں کو لوٹ رہے ہیں۔ سرکاری عہدے بیچ رہے ہیں۔ کرپٹ ترین لوگوں کو ظلم کے ساتھ مظلوم عوام پر مسلط کر تے ہیں۔ کاش آج کے کامیاب کہلانے والے لٹیرے حکمراں حسنی مبارک کا عسرت و یاس سے بھرا چہرہ دیکھیں۔ آج اس بیچارے کا کوئی مدد گار نہیں ہے۔ کاش ان حکمرانوں کو معلوم ہوجائے کہ ظلم سے ملکوں کو لوٹنے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ اقتدار وہ دولت وہ تکبر جو حسنی مبارک کے پاس تھا، اب کہاں ہے؟ کاش آج کے کرپٹ حکمراں سوچیں کہ یہ دولت شہرت کامیابی اقتدار کب تک رہے گا۔
اللہ تعالیٰ جب کسی کو اقتدار دولت و عزت دے تو اسے چاہیے کہ انصاف کرے، اگر تم انصاف نہیں کروگے تو تمہارے ساتھ جلد ہی انصاف کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ انصاف نہ کرنے والوں کو نشان عبرت بنادیتا ہے اور جو لوگ انصاف کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ابدی عزت عطا فرماتا ہے۔ آج کے ظالم حکمرانوں کو نیلسن منڈیلا نظر نہیں آتے۔ نیلسن منڈیلا 27 سال جیل میں رہے، جس میں سے 12 سال قید بامشقت اور 15 سال قید کے بعد جب رہائی ملی تو 5 سال اقتدار میں رہنے کے بعد اب ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے ہیں، فلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔ ضرورت مند غریبوں، بیماروں کے مسیحا ہیں۔ دنیا کا ہر انسان ان کی عزت کرتا ہے ان سے محبت کرتا ہے، جب وہ اپنی رہائش گاہ سے باہر آتے ہیں تو لوگ بہت مؤدب الفاظ میں ان سے سلام و دعا کرتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے ڈالر نہیں کمائے، جائیدادیں نہیں بنائیں سوئس اکاؤنٹ نہیں کھلوائے۔
آج کے بے انصاف ظالم لٹیرے حکمرانوں کو تاریخ کے ان لوگوں پر نظر ڈالنی چاہیے جو آج بھی تاریخ میں زندہ ہیں اور جن کا نام عزت سے لیا جاتا ہے۔ خلفاء راشدین، عمربن عبدالعزیز، مہاتما گاندھی، محمدعلی جناح وغیرہ ایسے نام ہیں جن کو احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
میں چاہتی ہوں کہ ایسے ظالم جابر لٹیرے ناانصاف حکمرانوں کو ایک انگوٹھی پہنا دی جائے جس پر لکھا ہو ’’یہ وقت زیادہ دیر نہیں رہے گا‘‘ یہ دراصل ایک حکایت ہے کہتے ہیں پہلے زمانے میں ایک نیک بادشاہ تھا۔ اس نے اپنے دانشور وزیرسے کہا کہ میرے انگوٹھی پر ایسی عبارت لکھواؤ جس کو پڑھ کر جب  میں پریشانی میں ہوں تو پریشانی کم ہوجائے اور جب زیادہ خوش ہوں تو خوشی زیادہ نہ رہے۔ اس کے دانشور وزیر نے اس کی انگوٹھی پر لکھوایا’’یہ وقت زیادہ دیر نہیں رہے گا‘‘ لیکن اقتدار کے نشے میں چور، ناانصاف، ظالم اور لٹیرے حکمرانوں کے لیے شاید یہ انگوٹھی بھی کارگر ثابت نہ ہو، کیوں کہ وہ لوگ تو اپنے آپ کو حکمراں سمجھنے لگتے ہیں۔
دراصل حکمرانی کا دعویٰ ہی خدائی دعویٰ ہے۔ فرعون نے بھی حکمرانی کا دعویٰ کیا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ نظام میں چلاتا ہوں، فرعون اور اس جیسے خدائی دعویٰ کرنے والوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کائنات کا خالق میں ہوں۔ اس کا دعویٰ صرف حکمرانی کا دعویٰ تھا اور یہی دعویٰ خدائی دعویٰ ہے۔ یہی دعوے آج کے حکمراں کرتے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *