Ms-Naila-Firdos
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ نفسیات کی ریسرچ اسکالر نائلہ فردوس نے حال ہی میں آندھرا یونیورسٹی، وشاکھاپٹنم میں انڈین اسکول آف سائیکالوجی ایسوسی ایشن کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی جہاں ان کے مقالہ کو عمدہ مقالہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ “Parenting Style on Self Efficacy of Adolescents” کے عنوان سے پیش کئے گئے مقالہ میں نائلہ فردوس نے بتایا کہ بچپن میں پرورش و پرداخت کے لچکدار طریقہ سے بچوں کی مجموعی شخصیت پر مثبت اثر پڑتا ہے جب کہ تحکمانہ یا آزاد طریقہ سے پرورش سے بچوں کے کردار و خیال پر منفی اثر پڑتا ہے اور ان کی نشو و نما غیرصحت مند ہوتی ہے۔ انھوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کی باتوں کو توجہ سے سننا چاہئے، ان پر نکتہ چینی نہیں کرنی چاہئے ، جسمانی تشدد سے گریز کرنا چاہئے اور انھیں ایسا ماحول فراہم کرنا چاہئے جس میں بچے بلاجھجھک اپنی باتیں والدین سے کہہ سکیں۔ نائلہ فردوس پروفیسر شاہ عالم کی نگرانی میں ریسرچ کررہی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here