مسٹر ٹاٹ

Share Article

گلشن کھنہ
پنجاب کے ایک چھوٹے سے گائوں سے ہجرت کر کے وہ دہلی میں بس گیا تھا، اور محکمۂ صحت میں ملازمت کرتے ہوئے اسے دس سال بیت گئے تھے، وہ ایک کلرک تھا اور اسے ابھی تک کوئی ترقی نہیں ملی تھی اور نہ ہی اس کی مالی حالت پہلے سے بہتر ہوئی تھی۔ اس لیے ہر برس نئے نئے سوٹ سلواکر پہننے سے وہ قاصر تھا مگر اس کے دفتر کے دوسرے ساتھی اچھے اچھے کپڑے پہن کر آفس آتے تھے۔موسم سرما کے شروع ہوتے ہی گیبر ڈین ترویرا، ٹیریلین اورخالص اونی کپڑوں کے سوٹ تیار ہونے لگے تھے۔ مگر خستہ حالی کی وجہ سے اس نے آج تک نیا گرم سوٹ نہیں پہناتھا، اس کے پاس پٹی کاایک پرانا سوٹ تھا، جو اس نے دہلی میں نوکری ملنے پر سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی ایک دکان سے خریداتھا۔ پورے دس برس تک یہ پرانا سوٹ موسم سرما میں اسے سردی سے بچاتا آرہاتھا۔ مگر لگاتار استعمال سے وہ کوٹ اور پتلون گھس گھس کر بیکار ہوگئے تھے اوراس سوٹ نے اپنی چارگی کااعلان بھی کردیاتھا، مگراس نے اپنی گھسی ہوئی پتلون کو پیوند لگا لگا کر گزارہ کرنا شروع کردیاتھا، کوٹ کی حالت تو قابل رحم ہوچکی تھی اوروہ گھس گھس کر ایک ٹاٹ کی شکل اختیار کرگیا تھا، شاید اسی لیے اس کے دوستوں نے اسے مسٹرٹاٹ کہہ کر پکارنا شروع کردیاتھا، دفتر میں جب بھی کوئی دوست یا جان پہچان والا کوئی شخص اسے ایک نظر بھر کر دیکھ لیتا تو اسے جھر جھری سی ہونے لگتی اوراسے یوں محسوس ہوتا جیسے اس کے جسم پر کوئی بھی کپڑا نہ ہو، بلکہ وہ سب کے سامنے اکیلا ننگ دھڑنگ گھوم رہا ہو، ایسے موقع پر وہ نہایت پریشان ہوجاتا اور سخت سردی کے باجوداس کی پیشانی پرپسینے کی قطرے نمودار ہونے لگتے، اسے اپنی کمزوری کا شدت سے احساس ہونے لگتا، لوگوں کی طنزیہ نظروں سے بچنے کے لیے وہ غسل خانہ میںگھس جاتااور آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر بڑبڑانے لگتا۔ ’’کسی غریب پر رحم کھاناچاہیے مگر غریبوں کی کوئی نہیں سنتا، یہ ہمارا سیکشن آفیسر بھی کتنا بے رحم ہے، غرباء کے لیے کوئی بھلا نہیں کررہا۔‘‘ وہ بڑی سادگی سے یہ سوال اپنے آپ سے کرتا اور پھر دفعتاًایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر نمودار ہوجاتی اور وہ پھر بولنے لگتا۔ ’’واہ! تو بھی تو بے رحم ہی ہے، تواگر اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے تو یہ کوٹ پتلون بھی سوچتے ہوں گے کہ ہم بھی کیسے شریف آدمی کے پلے پڑے ہیں۔ ہمیں چھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتا۔‘‘ وہ یہ سوچتا ہوا غسل خانہ سے نکل کر گنگنانے لگتا اور اس کا دفتر قہقہوں سے گونج اٹھتا تو وہ گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگتا۔ چاروں طرف سے طنزیہ قہقہے اس کے کانوں میں گونجتے، اس کی بے بسی اور بے کسی کا مذاق اڑاتے اوروہ سہم کر رہ جاتا۔ پھر وہ سوچنے لگتا، اپنے بارے میں اپنے دوستوں کے بارے میں اپنے سیکشن آفیسر کے بارے میں۔

چاروں طرف سے طنزیہ قہقہے اس کے کانوں میں گونجتے، اس کی بے بسی اور بے کسی کا مذاق اڑاتے اوروہ سہم کر رہ جاتا۔ پھر وہ سوچنے لگتا، اپنے بارے میں اپنے دوستوں کے بارے میں اپنے سیکشن آفیسر کے بارے میں۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے سیکشن آفیسر کا بھڑکیلا اورشاندار لباس کہاں سے آیاتھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ بڑے بڑے لوگوں کی سفارش سے وہ سیکشن آفیسر بن گیا تھا، اسے اپنے ساتھیوں اورسیکشن آفیسر پر بہت غصہ آتا مگر یہ سوچ کر کہ وہ اپنے سیکشن آفیسر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، خاموش ہوجاتا۔

وہ جانتا تھا کہ اس کے سیکشن آفیسر کا بھڑکیلا اورشاندار لباس کہاں سے آیاتھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ بڑے بڑے لوگوں کی سفارش سے وہ سیکشن آفیسر بن گیا تھا، اسے اپنے ساتھیوں اورسیکشن آفیسر پر بہت غصہ آتا مگر یہ سوچ کر کہ وہ اپنے سیکشن آفیسر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، خاموش ہوجاتا۔
ایک صبح وہ آفس میں داخل ہوا، تو اس کے سیکشن کے ایک دوسرے کلرک روندر نے اسے دیکھتے ہی کہا ’’کیوں بھائی مسٹرٹاٹ یہ تمہارا کوٹ ہے یا ڈسٹ بن؟‘‘ اس کے ساتھ ہی ایک طنزیہ قہقہہ گونج اٹھا۔ پھر گوربخش نے جملہ کسا ’’معلوم ہوتا ہے مسٹرٹاٹ نے سارے شہر کا کوڑا کرکٹ اس میں ڈالنے کا فیصلہ کررکھا ہے۔‘‘ یکایک پھر سارا دفتر فلک شگاف قہقہوں سے گونج اٹھا مگرو ہ سرجھکائے کرسی پر بیٹھا رہا۔ وہ جانتاتھا کہ جب تک وہ اس کمرے میں بیٹھا رہے گا، دفتر کے سب ساتھی اس کی بے کسی اور مجبوری پر قہقہے لگاتے رہیں گے، اس کی بے بسی کا مذاق اڑاتے رہیں گے۔
دوستوں کے اس رویے سے وہ کافی تنگ آچکا تھا اوران سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ اس پرانے سوٹ کواتار پھینکے اورایک نیا سوٹ سلوالے۔ مگر خستہ حالی کی وجہ سے اس کے لیے ایساکرنا بھی ممکن نہ تھا۔ گرم کپڑے کی قیمتیں آسمان کو چھورہی تھیں اور آج کل تین سوروپیہ فی میٹر سے کم قیمت کا کپڑا ملنا بہت ہی مشکل تھااوراس بھائو کا کپڑا خرید نے کی اس میں سکت نہیں تھی۔ ایک اونی سوٹ تیار کروانے کے لیے کم ازکم پندرہ سو روپے درکار تھے اور وہ اتنی بڑی رقم اپنی تنخواہ سے زندگی بھر نہیں بچا سکتاتھا۔ وہ پھر سوچنے لگتااپنے بارے میں، اپنے گرم سوٹ کے بارے میں، اپنے ان دوستوں کے بارے میں جن کی ستم ظریفیوں کا وہ شکار ہوچکا تھا۔ جن کے زہر بھرے الفاظ اس کے کان بہرے کررہے تھے۔‘‘ یہ دوست مجھے چین سے جینے کیوں نہیں دیتے۔ کیا انہیں میری مجبوریوں کاذرا بھی احساس نہیں۔ ان کے طنزیہ جملے سن سن کر میرے کان بھی پک گئے ہیں۔ کوئی عجب نہیں کہ ان کی یہ زہر بھری باتیں سن کر میں پاگل ہوجائوں۔ ہا… ہا… ہا…‘‘ وہ سوچتے سوچتے ایسے قہقہے لگانے لگتا، جن سے حقارت اور تلخی کی بوآتی تھی۔
دوسرے دن جب وہ دفتر پہنچا تو سیکشن آفیسر نے اسے اپنے پاس بلالیا اور کہا۔ ’’دیکھو بھائی مسٹرٹاٹ، ور لڈہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے اگلے ہفتہ دہلی میں ایک نمائش لگ رہی ہے اورسینٹرل گورنمنٹ کے آرڈرز کے مطابق میںنے تمہارا بھی وہاں انتظام کردیاہے۔ ہر ہفتہ اوراتوار کو تمہاری ڈیوٹی وہاں ایک گیٹ کیپر کی حیثیت سے ہوگی۔ تمہیں وہاں پر سات روزکام کرنا ہے۔ ان سات دنوں میں تمہیں تقریباًبارہ سو روپے آمدنی ہوجائے گی اور…‘‘ ابھی سیکشن آفیسر نے اپنا جملہ ختم بھی نہیں کیاتھا اسسٹنٹ روندر بول اٹھا۔ ’’اور شاید اس طرح اس غریب سوٹ کو بھی تم سے چھٹکارا حاصل ہوجائے۔ یقین مانواس سوٹ نے کھڑکیوں اورروشندان سے جھانک جھانک کر یہ کہنا شروع کردیا ہے، مجھے آزاد کردو مجھے آزاد کردو۔‘‘ اس کے ساتھ ہی ایک زور دار قہقہہ گونجااور وہ خون کے گھونٹ پی کررہ گیا۔
اگلے ہفتہ اس نمائش پر جانا شروع کردیا۔ وہ صبح آٹھ بجے ہی گورنمنٹ آف انڈیا کے پویلین پر پہنچ جاتا اورشام کے آٹھ بجے تک وہاں کام کرتارہتا۔ کبھی کبھی تو وہ اس قدر تھک جاتا کہ وہ دن بھر کی بھاگ دوڑ سے گھبرانے لگتا۔ مگر اسی لمحے نئے سوٹ کا جذبہ اس کے اندر ایک نیاولولہ، ایک نیاجوش بھردیتا۔ شام کے آٹھ بجے جب وہ گھر لوٹتا تو دن بھر کی تھکان اسے لوری دے کر سلادیتی۔
نمائش کے اختتام پر جب تنخواہ کے علاوہ اس کی ہتھیلی پر سوسو کے بارہ نوٹ آئے تو وہ نئے نئے نوٹوں کوآنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس طرح دیکھنے لگا جیسے وہ کرنسی نوٹ نہ ہوں بلکہ کسی ولایتی اونی کپڑے کے تھان ہوں۔ وہ زائد رقم پاکر بہت ہی مسرورہوا تھا۔ اسی روز اپنی سائیکل لے کر دفتر سے وہ سیدھا چاندنی چوک جاپہنچا اور جس دکان پر سب سے پہلے اس کی نظر پڑی،، وہ اسی میں جا گھسا۔ اس دکان میں ایک اور شخص جس نے شاندار اونی کپڑے کا سوٹ زیب تن کر رکھا تھا، دکاندار سے محو گفتگو تھا۔ شیشے کی الماریوں میں لٹکے قسم قسم کے اونی کپڑے جھلملارہے تھے اوردکاندار اس گاہک سے کہہ رہا تھا کہ ‘‘ لیجئے جناب یہ امپورٹڈ گیبرڈین ہے، چاہے آپ کتنی باردھلوا کر اسے استعمال کریں مگر کیا مجال جو رنگ میں فرق پڑجائے۔ نہ یہ ڈرائی کلین سے خراب ہو اور نہ ہی سورج کی کڑی دھوپ اس کا کچھ بگاڑ سکے۔ا گر سالہا سال کے استعمال کے بعد اس کی کوالٹی میں فرق پڑجائے تو کپڑے اور سلائی کے دام واپس کردیے جائیں گے۔‘‘ دکاندار کی یہ باتیں سن کر وہ بہت خوش ہوا کیونکہ اسے ایسا ہی کپڑ ا درکار تھا۔ اس کے پہلے سوٹ کے کپڑے کا رنگ کسی پھلبہڑی کے مریض کی طرح چتکبرا ہوچکا تھا۔ اس لیے اس نے سوچا کہ ایسا کپڑا ہی اس کے سوٹ کے لیے موزوں رہے گا، اس کپڑے کو دیکھنے کے لیے اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ دکاندار نے ایک نظر اس کے لباس پر ڈالی اورناک چڑھاتا ہوا بولا ’’کیا چاہیے آپ کو؟‘‘
’’مجھے ایک سوٹ کا کپڑا چاہیے، کیا بھائو ہے اس کپڑے کا؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
’’یہ کپڑا آپ کے مطلب کا نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر دکاندار نے پھر پہلے گاہک کی طرف رجوع کیا۔ ’’ہاں جناب پھر دے دوں چارسوٹوں کا کپڑا۔ واہ صاحب واہ! آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ آپ کے پاس پیسے کی کیا کمی ہے۔ راجہ کے گھر میں موتیوں کا کال اور پھر ہم آپ سے پیسے مانگتے ہی کب ہیں۔ آپ جیسے حضرت کی خدمت کرکے ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے۔‘‘
’’اس کپڑے کا کیا بھائو ہے؟‘‘ بیٹھے بیٹھے مسٹرٹاٹ نے پھر پوچھا۔
’’جو مرضی آئے دے دینا۔‘‘ یہ کہہ کر دکاندار نے گھٹیا کوالٹی کے کپڑے کے تین چارتھان اس کی طرف پھینک دیے اور کہا ’’یہ دیکھ لیجئے اور بتائیے آپ کو کون سا کپڑا چاہیے؟‘‘
’’اس کپڑے کا کیا بھائو ہے؟‘‘ مسٹرٹاٹ نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ ’’بہت سستا ہے۔ صرف اڑھائی سوروپے فی میٹر۔ تین میٹر یعنی ایک سوٹ کے لیے صرف ساڑھے سات سوروپے۔‘‘
’’یہ لیجئے ساڑھے سات سوروپے۔ مجھے ایک سوٹ کا کپڑا دے دیجئے۔‘‘ مسٹرٹاٹ نے جیب سے رقم نکال کردکاندار کو دی تواس نے تین میٹر کاایک پیس کاٹ کر اس کی طرف بڑھادیا۔ وہ سوٹ کا کپڑا لے کر خوشی سے جھومتا ہوا گھر کی طرف ہولیا۔ راستے میں پہاڑگنج کے ایک ٹیلر ماسٹر سے سوٹ کی سلائی کے دام سن کر حیران رہ گیا۔ وہ کپڑے کی قیمت سے زیادہ سلائی کی اجرت مانگ رہاتھا، اس لیے وہ موتی نگر کی طرف ہولیا۔ وہاں اس کا ایک دوست رہتاتھا، جس سے وہ اکثر اپنے بچوں کے کپڑے سلوایا کرتاتھا۔ وہ سوٹ کا کپڑا لے کر سیدھااس کے پاس پہنچا اور ہفتہ میں سوٹ تیارہوجانے کا وعدہ لے کر گھر پہنچ گیا۔
ایک ہفتہ بعد اس کا نیا گرم سوٹ بن کر تیارہوگیاتھا۔ اس کی زندگی میں یہ پہلاسوٹ تھا، جواس نے خود بنوایاتھا۔ دوسری صبح جب وہ اپنا نیا سوٹ پہن کر دفتر پہنچا، تو حسب معمول اس کے دفتر کے دوسرے ساتھی کمرے میں نہیں نظر نہ آئے۔ آج وہ وقت سے پہلے آفس پہنچ گیا تھا۔ وہ بہت شاد اور مسرور نظر آرہاتھا۔ اسے اس بات کا یقین ہوچکا تھا کہ اب اسے کوئی مسٹرٹاٹ نہیں کہے گا۔ اب کوئی بھی بھری محفل اس میں اس کا مذاق نہیں اڑائے گا۔ اب دفتر کے چپراسی اسے دیکھ کر چہ میگوئیاں نہیں کریں گے بلکہ جھک کرادب سے سلام کریںگے۔ اسی اثنا میں جب اس نے اپنے ڈپٹی سکریٹری کو اپنی طرف آتے دیکھا تو وہ چوکناہوگیا۔ جب وہ آفیسر اس کے قریب آیا تواس نے اپنی گردن اونچی کرکے اسے ’’گڈ مارننگ‘‘ کہا۔ ڈپٹی سکریٹری نے مسکراکر اس کی طرف دیکھا اور پھر آگے بڑھگیا اس کی اس مسکراہٹ سے مسٹرٹاٹ کو یقین ہوگیا تھا کہ اس کے آفیسر نے اس کا نیا سوٹ پسند کر لیا تھا۔ وہ مسکراتا ہوا اپنی سیٹ پر جا بیٹھا۔ اتنے میں اس کا سیکشن آفیسر کمرے میں داخل ہوا اور اسے دیکھتے ہی بولا۔ ’’ہیلومسٹرٹاٹ۔ ارے بھائی آج تم اس قدر بدلے ہوئے نظر آتے ہو کہ پہچانے ہی نہیں جاتے۔‘‘ سیکشن آفیسر کا یہ جملہ تیر کی طرح اس کے سینے میں چبھ گیا۔ اسے مسٹرٹاٹ کے نام سے نفرت ہوچکی تھی۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ اپنے سیکشن آفیسر کا منھ نوچ لے۔
اسی لمحے اس کے دوسرے ساتھ بھی وہاں پہنچ گئے اوراسے دیکھتے ہی روندر نے فقرہ کسا۔ ’’ہیلو مسٹرٹاٹ۔ بھئی نیا سوٹ مبارک ہو۔ مگریہ تو بتائو کہ یہ سوٹ کس ترکھان نے کھاٹا اور کون سے موچی نے تیار کیا ہے۔ ہمیں بھی بتائو تاکہ ہم بھی ایسا ہی ایک سوٹ بنواسکیں… ہا… ہا…۔‘‘ پھر وہی جانا پہچانا طنزیہ قہقہہ گونج اٹھا اوراسے یوںمحسوس ہوا جیسے کسی نے گرم گرم سیسہ اس کے کانوں میں انڈیل دیا ہو۔ ابھی وہ سنبھلنے بھی نہ پایا تھا کہ رمیش بول اٹھا۔ ’’ واہ بھئی مسٹرٹاٹ۔ استادیہ کپڑا کہاں سے مارا۔ قسم خدا کی کپڑا تو واقعی لاجواب ہے اور کسی ایسٹ مین کلر فلم سے کم رنگین نہیں۔ دیکھو تواس میں کون سے رنگ کی کمی ہے۔‘‘
رمیش کے ایسے جملے سن کر وہ بہت سٹپٹایااوراس کی آنکھیں مارے غصہ کے سرخ ہوگئیں اور جب اس نے جھٹکا دے کر کوٹ کا کالر رمیش کے ہاتھوں سے چھڑانا چاہا تو کالر رمیش کے ہاتھوں میں ہی رہ گیااور دفتر کا کمرہ فلک شگاف قہقہوں سے گونج اٹھا۔ان قہقہوں کی تاب نہ لاکر وہ کمرے سے باہر ہوگیا اور برآمدے میںکھڑا ہوکر غصے کی آگ میں جلتا رہا ۔چند لمحے وہیں کھڑا اپنے دوستوں کو کوستارہا اور کسی کو بتائے بغیر دفتر سے گھر چلا گیا۔
گھر پہنچ کر اس نے اپنا سوٹ اتار کر مارے غصہ کے ایک کونے میں پھینک دیا اور پھر روتے ہوئے اپنے آپ کو اس طرح چارپائی پر گرادیا جیسے پت جھڑ کے موسم میں سوکھا پتہ زمین پر آگرے۔ وہ اونچی آواز میں رورہا تھا۔ اس کے رونے ارسسکیاں بھرنے کی آواز سن کر اس کی بیوی بھی باورچی خانے سے نکل کر اس کے پاس آگئی اور گھبرا ئے ہوئے لہجہ میں پوچھا۔ ’’کیابات ہے خیریت تو ہے نہ؟‘‘
’’ہاں۔ ہاں۔ خیریت ہے۔ تو کیا کہناچاہتی ہے۔ چلی جایہاں سے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں ساون بھادوں کی جھڑی لگ گئی تھی اورسسکیاں بھرتاہوا بولتا جارہاتھا۔
’’یہ دنیا والے بڑے ظالم ہیں۔ بے بس اور غریب لوگوں کی مجبوریوں پر قہقہہ لگاتے ہیں۔ ان کی بے کسی کامذاق اڑاتے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ اس ظالم دنیا کے تمام لوگوں کا گلا گھونٹ دوں۔ تمام دنیا کے گرم کپڑے اکٹھے کرکے آگ لگادوں تاکہ ہر بشر ننگ و دھڑنگ ہوکر چیختا پھرے اور پھر کوئی کسی کو مسٹرٹاٹ نہ کہہ سکے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے آنکھوں میں بہتی آنسوئوں کی دھار کو قمیص سے صاف کر ڈالا اورپھر زور کا ایک قہقہہ لگا یا۔ اس کا یہ طنزیہ قہقہہ کسی امریکی ایٹم بم کی طرح کمرے میں گونج اٹھا۔ اس کی چھوٹی بچی جو ساتھ والے کمرے میں سورہی تھی، سہم کر جاگ گئی۔ وہ اسی طرح بھیانک قہقہے لگاتاہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
اگر آپ بھی نئی دہلی گئے ہوں توشایدآپ نے وہاں کی سڑکوں پر ایک ننگ دھڑنگ انسان کو پاگلوں کی طرح چیختے چلاتے اور چکرلگاتے دیکھاہو، جو ہر اس شخص کو جس نے اونی کپڑے کا سوٹ پہن رکھا ہو دیکھ کر قہقہے لگانے لگتا ہے۔ یہ وہی مسٹر ٹاٹ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *