وزیر اعظم صاحب، افواہوں پر فوراً روک لگوایئے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
میں یہ نہیں کہتا کہ وزیر اعظم صاحب کو، ملک میں کیا ہو رہا ہے، اس کی جانکاری نہیں ہوگی، لیکن اپنا فریضہ بنتا ہے کہ آگے آنے والے اچھے یا برے اشاروں کو ہم وزیر اعظم سے بھی بانٹیں۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ جس بات کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں، اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت نہیں حاصل ہوگی، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کے حامیوں میں کافی ایسے ہوں گے، جنہیں یہ لگتا ہوگا کہ اس ملک میں اب وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، نہ ان سے کوئی جواب مانگنے والا ہے، نہ کوئی انہیں روکنے والا ہے۔
سوشل میڈیا پر اور فیس بک پر ایک کیمپین چل رہا ہے۔ کیمپین ہے کہ اب پاکستان ہندوستان سے الگ ہوگیا، تو یہاں پر رہنے والے مسلمان پاکستان کیوں نہیں چلے جاتے اور وہ یہاں رہ کر ہماری ترقی میں حصہ داری کیوں کر رہے ہیں؟ اس کیمپین کا دوسرا بڑا حصہ ہے آزادی کے وقت اتنے ہندو تھے، اتنے مسلمان تھے اور اب اتنے ہندو ہیں، اتنے مسلمان ہیں اور کچھ اعداد و شمار پھیلائے جا رہے ہیں، جن اعداد و شمار کی سچائی پر کوئی دعویٰ نہیں کرتا، لیکن وہ اعداد و شمار پھیل رہے ہیں۔ تیسرا سب سے بڑا ذاتی کیمپین کا حصہ ہے کہ کہیں بھی گاڑیوں سے لوگ جاتے ہوئے رک جاتے ہیں، جہاں متوسط طبقہ اور ادنیٰ متوسط طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں، وہیں اتر کر بات کرنے لگتے ہیں کہ بھائی مسلمان یہاں کیوں ہیں، اب مسلمانوں کا یہاں کیا کام؟ زیادہ تر لوگ، دیکھا گیا ہے کہ ایسی باتیں سن کر اٹھ جاتے ہیں، لیکن ایک بھی بیٹھا رہا، تو ان افواہوں کو یا اس سوچ کو پھیلانے والا شخص اس ایک آدمی کو ہی سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ شمالی ہند کے زیادہ تر شہروں میں اچانک اس طرح کے واقعات پوشیدہ طور پر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ہم جسے سوشل میڈیا کہتے ہیں، جس میں فیس بک شامل ہے، وہ اس طرح کی باتیں پھیلانے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے دو تین لوگوں کی ٹیم اس طرح کے پوسٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ تب آخر دو دو، تین تین لوگوں کی ٹیمیں کس کے اشارے پر یہ کام کر رہی ہیں؟ کیوں اس ملک میں بھائی چارے کے تانے بانے کو منتشر کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی افواہوں کی شکل میں خبروں کو پھیلا رہی ہیں؟ اس کا صرف اور صرف ایک ہی مرکز ہے اور وہ مرکز ہے ملک کا مسلم سماج۔

سوشل میڈیا پر اور فیس بک پر ایک کیمپین چل رہا ہے۔ کیمپین ہے کہ اب پاکستان ہندوستان سے الگ ہوگیا، تو یہاں پر رہنے والے مسلمان پاکستان کیوں نہیں چلے جاتے اور وہ یہاں رہ کر ہماری ترقی میں حصہ داری کیوں کر رہے ہیں؟ اس کیمپین کا دوسرا بڑا حصہ ہے آزادی کے وقت اتنے ہندو تھے، اتنے مسلمان تھے اور اب اتنے ہندو ہیں، اتنے مسلمان ہیں اور کچھ اعداد و شمار پھیلائے جا رہے ہیں، جن اعداد و شمار کی سچائی پر کوئی دعویٰ نہیں کرتا، لیکن وہ اعداد و شمار پھیل رہے ہیں۔ تیسرا سب سے بڑا ذاتی کیمپین کا حصہ ہے کہ کہیں بھی گاڑیوں سے لوگ جاتے ہوئے رک جاتے ہیں، جہاں متوسط طبقہ اور ادنیٰ متوسط طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں، وہیں اتر کر بات کرنے لگتے ہیں کہ بھائی مسلمان یہاں کیوں ہیں، اب مسلمانوں کا یہاں کیا کام؟ زیادہ تر لوگ، دیکھا گیا ہے کہ ایسی باتیں سن کر اٹھ جاتے ہیں، لیکن ایک بھی بیٹھا رہا، تو ان افواہوں کو یا اس سوچ کو پھیلانے والا شخص اس ایک آدمی کو ہی سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ شمالی ہند کے زیادہ تر شہروں میں اچانک اس طرح کے واقعات پوشیدہ طور پر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

کیا یہ واقعات صرف آنے والے انتخابات میں ووٹ لینے کے لیے ایک ماحول تیار کر رہے ہیں یا اس کے پیچھے کوئی ایک بڑا سازشی منصوبہ کام کر رہا ہے؟ بڑا سازشی منصوبہ ایک ہی ہو سکتا ہے کہ ملک میں پھر سے ایک بار تاریخ کے سب سے بڑے فسادات کو دوہرانے کی کوشش کی جائے، تاکہ ووٹوں کا پولرائزیشن ہو سکے۔ جمہوریت میں ووٹ بہت ضروری ہیں، لیکن جمہوریت میں زندگی بھی بہت ضروری ہے، جمہوریت میں بھائی چارہ بھی بہت ضروری ہے اور جمہوریت میں ترقی بھی بہت ضروری ہے۔ اس طرح کی افواہیں، جو اِن دنوں فیس بک پر اور فیس بک کا جو دوسرا جدید طریقہ ہے وہاٹس ایپ، اس کے اوپر پھیلانے کی سازش آخر کہنا کیا چاہتی ہے؟ ہمارے یہاں ایک بھیڑ چال ہے، اسی لیے کہاوت بنی ہے کہ کوا کان لے گیا۔ جب ایک چیختا ہے کہ دیکھو کوا کان لے گیا، تو دس لوگ بجائے کان کی طرف دیکھنے کے لیے کہ وہ ہے بھی یا نہیں، کوے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ کوا کہاں کان لے کر گیا اور یہ نفسیات اس طرح کے حقائق کی تصدیق نہیں کرنے دیتی۔ صرف ایک چیز پڑھ کر اس کے اوپر ایک دَم سے یقین کر لینا، جو آخر میں جا کر ہمارے من میں ہی ایک شک کو جنم دے دیتا ہے۔
میں اپنی ایک مثال بتاتا ہوں کہ فیس بک پر کسی کا میسج آیا کہ راجستھان کے ایک ضلع کے چار لڑکے چنئی میں شدید ایکسیڈنٹ کے شکار ہو گئے ہیں اور وہ چاروں کے چاروں وہاں کے ایک اسپتال کے آئی سی یو میں بھرتی ہیں اور سبھی اس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، تاکہ ان کے گھر والوں کو پتہ لگ سکے۔ میں نے اس خبر کے اوپر، جو فیس بک پر آیا تھا، یقین کرکے فوراً ای ٹی وی کے لوگوں کو فون کیا اور ان سے گزارش کی کہ چونکہ راجستھان کا مسئلہ ہے، اس لیے آپ اس کو ایک اہم خبر کے طور پر دکھا دیں۔ ای ٹی وی والوں نے میری بات پر بھروسہ کرتے ہوئے اس خبر کو دکھا دیا۔ اس خبر کو دکھانے کے دس منٹ کے اندر ان لڑکوں کے گھر والوں نے ای ٹی وی کو فون کیا کہ یہ تو دو تین مہینے پرانا واقعہ ہے اور وہ لڑکے آ بھی گئے ہیں اور ان میں سے ایک لڑکے کی موت بھی وہاں ہو چکی ہے، لیکن یہ سب دو مہینے پہلے ہوا تھا۔ ای ٹی وی والوں نے مجھے فون کیا، میں نے ان سے معافی مانگی۔
میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ چیزیں وہاٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعے جب پھیلائی جا سکتی ہیں اور میرے جیسا آدمی جب ان کی تصدیق نہیں کرتا، تو اس ملک کے بہت سارے عام لوگ ان اعداد و شمار کی تصدیق کیسے کریں گے یا ان باتوں کی تصدیق کیسے کریں گے، جنہیں افواہ کی شکل میں فیس بک اور وہاٹس ایپ کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے؟
اس لیے ایک طرف سرکار کو بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے کہ وہ اس طرح کی پوسٹ کو، اس طرح کی افواہوں کو، جن میں وہاٹس ایپ اور فیس بک کا استعمال ہو رہا ہے، ان کو فوراً روکے، لوگوں کو گرفتار کرکے ان کے اوپر مقدمہ چلائے اور دوسری طرف وہ سارے لوگ، جو ملک کے تہذیبی اتحاد میں بھروسہ کرتے ہیں، وہ جب اس کو دیکھیں، تو اس کی مخالفت کریں۔ اکثر لوگ خاموش رہ جاتے ہیں اور وہ خاموشی ایک بڑے واقعہ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
اگر اس طرح کی افواہوں کو اندیکھا کردیں، تو یہ افواہیں دھیرے دھیرے لوگوں کے من میں سچائی کی شکل میں اپنی جڑیں جما لیں گی اور اس وقت ان لوگوں کا کام آسان ہو جائے گا، جو لوگ ملک میں عدم استحکام اور بدامنی چاہتے ہیں اور جنہیں لگتا ہے کہ صرف یہی ایک راستہ ہے، جن سے بنیادی مدعوں سے دھیان ہٹا کر لوگوں کو جذباتی طریقے سے بیدار کرکے اپنے حق میں ووٹ لے لیں۔ یہ فاشسٹ طریقے ہیں، جن کا استعمال کسی زمانے میں مسولینی اور ہٹلر کر چکے ہیں۔ اب انہی طریقوں کا استعمال اگر پھر سے ہوتے ہوئے ہم دیکھیں، تو ہمیں ہوشیار ہو جانا چاہیے۔
اسی لیے میں شری نریندر مودی سے گزارش کرتا ہوں کہ اب وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور ملک کا مکمل اتحاد ان کی آئینی ذمہ داری بھی ہے اور قانونی ذمہ داری بھی ہے۔ اس لیے انہیں اپنی مشینری کو ان سبھی لوگوں کے اوپر نظر رکھنے کے لیے کہنا چاہیے، جو لوگ نام تو ان کا لیں گے اور کام ملک سے غداری کا کریں گے، وہ لوگ نریندر مودی کے ہمدرد نہیں ہیں، نریندر مودی کے دشمن ہیں، کیوں کہ آج کی تاریخ میں نریندر مودی جی کی سب سے بڑی ذمہ داری اس ملک کو ایک رکھنا اور ترقی کی طرف لے جانا ہے۔ اس لیے اس کے اوپر نظر رکھنے کا کام افسروں کے ذریعے، اپنی پارٹی کے ذریعے، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ذریعے اگر کسی کی بنیادی ذمہ داری ہے، تو یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ذمہ داری ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *